en-USur-PK
  |  
16

خدا کی ذات وصفات

posted on
خدا کی ذات وصفات

Attributes of God

Rev. Mawlawi Dr. Imad ud-din Lahiz 

(1830−1900)

خدا کی ذات وصفات

علامہ مولوی پادری ڈاکٹر عماد الدین لاہز

           

                      لفظ کیا ذات پر دلالت کرتا ہے اور کیسا صفات پر ۔ مگر یہ نہایت  مشکل سوال ہوتا ہے ۔ خدا ہمیں غلطی سے بچائے اور اپنے صحیح  عرفان ہمیں عنایت کرے ۔

          یہ سوال اگر چہ نہایت ہی مشکل ہے مگر اس قدر نہیں کہ سمجھ میں نہ آسکے کیونکہ اگر وہ ہماری سمجھ میں نہیں آسکتا ہے تو گویا کہ ہم ایک وہمی خدا کی پرستش کرتےہیں اور اگر یہ کہیں کہ ہم خوب جانتے ہیں تب وہ خدا خدا نہ رہے گا جو ہمارے ذہن میں سمایا ہے مگر جس قدر جاننے کی طاقت خدا نے بندوں کو بخشی ہے اتنا جانتے ہیں ۔ ہاں کہاہو جاننا محال ہے اس لئے سب کہتے ہیں کہ ماَ عرَ فناکَ حقِ معرفتک َ لیکن ایک مافوق الفطرت  شخص جو الوہیت میں خدا کے برابر ہے وہ فرماتا ہے کہ اے باپ (یعنی پروردگار )میں نے تجھے جانا ہے اور دنیا نے تجھے نہیں جانا اور اس کا فرمانا بجا ہے کیونکہ وہ اوپر سے ہے ۔

سوال کا پہلا حصہ کہ خدا کیا ہے؟

          اس کی بابت  عقل صرف اتنا کہہ سکتی ہے کہ وہ  ایک واجب ہستی جو قائم بذاتہ وغیر مرئی ہے ۔

          کیونکہ ہر شے قائم بالغیر نظر آتی ہے اور ایک دوسرے پر موقوف ہے اور دو روتسلسل تو باطل ہی ہیں۔ اس لئے چاہیے کہ کوئی ہستی قائم بالذات ہو جس پر تمام سلسلہ متہی ہوجائے ۔

          لیکن اس کی نسبت  یہ سوال کرنا کہ وہ کیا ہے اور کیسا ہے اور کہاں ہے کوئی  کچھ نہیں جان سکتا اور نہ بتلا سکتا ہے آدمی کی عقل نے صرف اس کی ہستی پر گواہی دی ہے اور اس سےزیادہ  کچھ نہیں  بتلاسکتی ہے پس اس سوال کے جواب میں کہ خدا کیا ہے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے بجز اس کے کہ خدا ایک ہستی ہے جس کا ہونا ضروری ہے ۔ اور وہی مدار موقوف علیہ ہے سب موجودات  کا اور کوئی بالکنہ  نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے اور کیسا ہے ۔

سوال کادوسرا حصہ کہ کیسا ہے ؟

          اگر چہ ہم اس کی ماہیت  کے متعلق  کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں لیکن من وجہ کسی قدر بیان کرسکتے ہیں۔ مگر پہلے ذیل کے فقروں پر غور کرلینا چاہیے وہ یہ ہیں:

(۱)کہ حقائق اشیا ضرور ثابت ہیں یعنی چیزوں کی حقیقتیں  جہاں تک انسان کی عقل نے دریافت کی ہیں ضرور ثابت ہیں وہ وہمی یا فرضی نہیں ہیں۔ مثلاً  آگ ایک حقیقی چیز ہے جسے جلانے کی طاقت  ہے نہ ایک فرضی یا وہمی چیز۔

(۲)ہمار ے حواس اور ہماری قوت فکری بیکار شے نہیں ہے اور ہمارے صحیح تجربات یقینی ہیں۔

          پس جبکہ یہ بات ہے تو اب خدا کی نسبت بھی کچھ فکر کرسکتے ہیں کہ وہ کیسا ہے ۔

          بعض کہتےہیں کہ وہ نرِگنُ یعنی بے صفات ہے لیکن یہ بات تسلی بخش نہیں ہے کیونکہ دنیا کی ہر ایک چیز میں کوئی نہ کوئی صفت ہوتی ہے اور ہر ایک چیز  میں نئی صفت نظر  آتی ہے پس جبکہ مخلوقات میں صفات  موجود ہیں تو اس کے کیا معنی ہیں کہ خالق میں صفات نہ ہوں اس لئے  یہ خیال کہ خدا میں کوئی صفات نہیں ہے باطل ہے۔

          اس خیال فاسد کا حاصل یہ ہے کہ  گویا خدا ایک بے جان مادہ ہے اور دنیا کا کار خانہ عبث ۔

اس خیال میں الہام کی روشنی کی ذرا سی بھی آمیزش نہیں ہے اس لئے یہ خیال نہایت  بے ہودہ اور ہلاک کن ہے ۔

لیکن جن کو الہام سے کچھ بہرہ ملا ہے وہ کہتے ہیں کہ

          خداواجب الوجود ہے اور جامع جمیع صفات کمال ہے یعنی قدم حیات  قدرت علم سمع بصر ارادہ اس میں ہے اور وہ تمام عیوب سے پاک ہے مکان زمان جو ہر عرض جہات وغیرہ سے مبرا ہے۔

          یہ سارا بیان درست اور اچھا معلوم ہوتاہے کہ خدا ضرور ایسا ہی ہے مگر یہ خیال عقل اور الہام کی آمیزش سے نکلا ہے نہ صرف عقل سے ۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب عقل الہام کی پیروی کرتی ہے تو باعث فلاح دارین بنتی ہے ۔ اور جب الہام سے علیحدہ ہوجاتی ہے تو دونوں دنیا میں برباد کرتی ہے اہل اسلام یہاں تک تو ہمارے ساتھ متفق ہیں مگر آگے چل کر الله بیلی ہے ۔

          بیان بالا میں جو خدا کی نسبت  ہے اگرچہ  الفاظ مناسب  استعمال ہوئے ہیں لیکن تعریف  کا مفہوم ادا نہیں کرتے ہیں ۔ پس اقتضا ء روح کیونکر  پورا ہوسکتا ہے اور معرفت  جس سے تسلی ہو کہاں کس طرح حاصل سکتا ہے ۔

          اقتضاء روح صرف اسی سے پورا نہیں ہوسکتا ہے کہ ہم خدا کی نسبت  یہ الفاظ سنیں بلکہ اس سے زیادہ  وضاحت  کی ضرورت ہے پس نہ تو عقل کی آ نکھ سے کچھ دیکھا نہ جسم کی آنکھ سے مگر یہی  سنا کہ  کچھ ہے ۔ اب روح کی سیری کیونکر  ہو روح تو دیدار کی مشتاق ہے اور ان باتوں سے جو اوپر مذکور ہیں  دیدار تو کہاں کچھ مفہوم بھی تسلی بخش خیال کی آنکھ کے سامنے  نہیں گذرسکتا۔

          پہلے اس بات کو معلوم کرنا چاہیے کہ انسان کی روح خدا کے دیدار کی مشتاق ہے اور یہ اس کی ایک خواہش ہے جو خالق کی طرف سے اس میں رکھی گئی ہے اور یہ عمدہ اور پاک اور اچھی خواہش ہے مگر لوگوں نے بیجا طور پر اس کی تکمیل اپنی مرضی سے کرنے کا ارادہ کرکے کیاکیا کچھ نہیں کیا۔

          بہتوں نے اوتار ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا یا لوگوں نے انہیں اوتار فرض کرکے چاہا کہ اپنی اس خواہش کو بجھائیں اور بہتوں نے بت پرستی اسی منشا سےنکالی کہ اپنے خالق  کو سامنے دیکھیں۔

          ہمہ اوست والوں نے چاہا کہ موجودات پر نظر ڈال کےسمجھیں کہ خدا سب کچھ ہے اوریوں روح کی پیاس بجھائیں  اور منکر ان ِ خدا نے بھی اسی لئے ان کار کیا کہ  نہ عقل کی آنکھ سے نہ جسم کی آنکھ سے کسی طرح  اسے نہیں دیکھ سکتے جسے دیکھنا چاہتے ہیں۔

          اور اہل اسلام نے بھی اپنی اس خواہش کے سبب کہ روح کچھ دیکھنا چاہتی ہے مراقبہ اور حضوری کی قلب ،قیامت میں دیدار الہیٰ کی امید اور قبلہ سازی یا فنانی الشیخ  اور فنانی الرسول اور بعض  نے حسن پرستی وغیرہ حیلوں سے اس پیاس کو بجھانا چاہا پر کسی کی کچھ تسلی نہیں ہوسکتی ہے ۔

          حاصل تقریر آنکھ ضرور روح میں اقتضا ہے کہ ہم اپنے خدا کو دیکھیں اور آدمی اپنی تجویز سے اس خواہش کے پورا کرنے میں سب طرح سے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں  اور ذہنی فرضی خدا اپنے  خیالات  میں جمع کرلیتے ہیں اس لئے ان کا دل ناپاک ہوجاتا ہے  اور رفتہ رفتہ  مردہ لیکن خدا اس اقتضا سے واقف ہے اور پورا کرنے پر بھی قادر ہے ۔

          اگر کوئی کہے کہ عقلاً حلول منع ہے یعنی الوہیت  کا انسانیت میں آجانا عقلاً ناجائز ہے ۔ یہ تو سچ ہے مگر قبول منع نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ  انسانیت  کو الوہیت  اپنے اندر لے لے اور یہ اس لئے  ہے کہ  انسانیت  میں اتنی  طاقت  نہیں ہے کہ غیر متناہی خدا کو اپنے اندر لے ۔ مگر غیر متناہی  خدا میں یہ طاقت ہے کہ انسانیت  کو جو متناہی ہے قبول کرلے دیکھواتھانا سیس کے عقیدہ کا یہ فقرہ کہ نہ الوہیت  انسانیت سے بدل گئی مگر انسانیت  کو الوہیت  نے لے لیا ۔ پس اس مقام پر حلول کی بات جمانا ہی ناجائز ہے ۔ یہاں حلول نہیں ہے یہاں قبول ہے اور اس قبول میں یا کسی صورت میں جب خدا ظاہر ہو تو اس کی صفات  کا ملہ میں ہرگز کچھ نقصان لازم نہیں آتا مگر اس کی عزت  اور بھی زيادہ  ظاہر ہوتی ہے ۔

          اس بھید کو بھی کماحقہ صرف بائبل ہی نے دکھلایا یا بائبل نے خدا کی صفات اور تعریف  مذکور کی نفی نہیں کی بلکہ سب سے زیادہ  تاکیدہ کے ساتھ جلال اور قدوسی وغیوری اور ہمہ دانی وغیرہ صفات  کے ساتھ  خدا اور تشخیص  کو بھی خوب دکھلایا ہے (مثلاً توریت شریف کتاب ِ پیدائش رکوع 3 آیت 8 ) خدا آدم پر پھرتا ہوا  ظاہر ہوا ۔ (رکوع 17 آیت 1)اور جب ابراہیم ننانوے برس کا ہوا تب پروردگار ابراہیم کو نظر آیا اور اس سے کہا کہ میں خدائے قادر ہوں تو میرے  حضور میں چل اور کامل ہو(رکوع 26 آیت 2)۔ پھر پروردگار نے اسحاق  پر ظاہر  ہو کہ کہا مصری کو مت جانا (رکوع 32 آیت 30)یعقوب نے کہا کہ  میں نے خدا کو روبرو دیکھا اور میری جان بچ رہی ۔(کتابِ خروج رکوع 3 آیت 6)بوٹے میں سے خدا بولا کہ میں ابراہیم اسحاق یعقوب کا خدا ہوں۔ (یشوع رکوع 5 آیت 15)۔ یشوع  سے کہا یہ مکان جہاں تو کھڑا ہے مقدس ہے ۔ (قاضی رکوع 13 آیت 8)۔ منوحہ سے کہا کہ میرا نام عجیب ہے ۔ (1 سموئیل رکوع 3 آیت 10)سموئیل کو بیت الله میں آکر پکارا (ایوب رکوع 42 آیت 5)ایوب سے کہتاہے کہ  میں نے تیری  خبر اپنے کانوں سے سنی تھی پر اب میری آنکھیں  تجھے دیکھتی ہیں (یسعیاہ رکوع 6 آیت 10)میں کہتا ہے کہ میں نے خداوند کو ایک بڑی بلندی پر اونچے تخت پر بیٹھے دیکھا (دانیال رکوع 3 آیت 25)۔ نبوکد نصر کہتا ہے کہ چوتھے کی صورت خدا کے بیٹے کی سی ہے ۔ یہ حال تو پرانے عہد نامے کا ہے لیکن نئے عہد نامہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے جو آپ کو ابن الله اور الله بتلاتاہے اور ساری صفات کاملہ جو الوہیت میں ہیں اپنے اندر صاف دکھلاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ  خدا انسان کی صورت میں ہے۔

          خدا کوئی قوت نہیں ہے مثل حرارت ، یبوست ، رطوبت برودت وغیرہ  کے مگر وہ ایک شخص ہے جس میں تمام صفات کمال موجود ہیں اور وہ مخلوقات  سے الگ ہے  اور حاضر وناضر اور ہر جگہ اپنے علم اور قدرت سے موجود ہے مگر اپنی ذات پاک سے ممتاز ہے اور وہ ذوالجلال والا کرام ہے اس کی ستائش اور بزرگی ابد تک ہو مسیح خداوند کے وسیلہ سے آمین ۔ فقط۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا | Tags: | Comments (0) | View Count: (8489)

Post a Comment

English Blog