en-USur-PK
  |  
11

ملخس کے کان کو شفا بخشنا

posted on
ملخس کے کان کو شفا بخشنا

THE MIRACLES OF CHRIST

معجزاتِ مسیح

32-Miracle   

Jesus Heals a Servant's Severed Ear

Luke 22:50-51

 

 

ملخس کے کان کو شفا بخشنا

۳۲ ۔معجزہ

انجیل شریف بہ مطابق حضرت لوقا ۲۲باب ۵۰تا۵۱

مرحوم علامہ طالب الدین صاحب بی ۔ اے

؁ ۱۹۰۵ء

سب حواری اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ سردار کاہن کے نوکر کا کان تلوار سے کاٹا گیا۔ مگرمعجزہ کرنے کا ذکر صرف حضرت لوقا کرتے ہیں۔ یایوں کہیں کہ وہی اکیلے ہم کوبتاتے ہیں کہ مسیح نے ا س کے کان کو اپنی معجزانہ قدرت سے شفا بخشی۔ حضرت لوقا غالباً اس بات کا ذکر دو سببوں سے کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خود حکیم تھا اور چونکہ یہ ایسا معجزہ ہے کہ اسکا تعلق کسی قدر جراحی کے ساتھ بھی ہے لہذا وہ اس کو اپنی انجیل میں درج کرتاہے مسیح نے اب تک تلواروں کے زخموں کو اچھا نہیں کیا تھا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ وہ چاہتا تھاکہ مسیح کی نرمی اور برداشت اور کشادہ دلی کو اس معجزے کے وسیلے ظاہر کرتے تاکہ لوگ جانیں کہ جو شخص ا سکی جان کا خواہاں تھا۔ اس نے اس کے ساتھ رحیمانہ برتاؤکیا۔

مگر حضرت لوقا ہم کو یہ نہیں بتاتے کہ کان کاٹنے والا کون تھا۔ اور نہ حضرت متی اور حضرت مرقس ہم کو اس بات کی خبر دیتے ہیں ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے اس واسطے اس کا نام اپنی انجیلوں میں درج نہیں کیاکہ وہ ڈرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو وہ خطرے میں پڑ جائے ہم پختہ طور نہیں کہہ سکتے کہ یہ خیال صحیح ہے یا نہیں ۔ حضرت یوحنا ہمیں بتاتے ہیں کہ جس نے سردار کاہن کے نوکر کا کان کاٹا  وہ پطرس تھا اور اگر وہ بھی نہ بتاتا تو شائد ہمیں خود پطرس کی جلد بازی اور تیزی سے یہ نتیجہ نکالنا پڑتا کہ یہ کام ضرور پطرس کا ہوگاجو شائد  اس وقت اپنے مالک کو خطرے سے چھڑانا چاہتا تھا۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوحنا ہم کو بتاتے ہیں کہ وہ شخص جس کا کان کاٹا گیا تھا اس کا نام ملخس تھا۔ ممکن ہے کہ دوسرے حواریوں کو اس کا نام معلوم نہ تھا۔ مگر حضرت یوحنا جو سردار کاہن اور اس کے گھرانے سے واقفیت رکھتا تھا۔ اس کا نام جانتا تھا (حضرت یوحنا 18باب 15آیت )اس کی واقفیت سردار کاہن کے خانگی تعلقات تھے۔

آیت نمبر 49،50۔مسیح کےساتھیوں نے معلوم کیاکہ کیا ہونے والا ہے تو کہا اے مالک کیا ہم تلوار چلائیں۔ اور ان میں سے ایک نے سردار کاہن کے نوکر پر تلوار چلا کر اس کا دہناہاتھ اڑادیا۔

یہ فعل پطرس کی طبعیت سے عین مناسبت رکھتا ہے جس طرح وہ سب سے پہلے کلام کیا کرتا تھا اسی طرح اب اپنی معمولی تیزی اور جلد بازی کے مطابق سب سے پہلے تلوار بھی چلاتا ہے ۔ دوسرے شاگردوں میں بھی اس وقت اپنے مالک کی محافظت کے لئے تلوار چلانے کی خواہش پائی جاتی تھی پروہ پہلے مسیح سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ لیکن پطرس اجازت کا انتظار نہیں کرتا۔ وہ تلوار تو اس نے غرض سے چلائی ہوگی کہ سرسے پاؤں تک اس کے بدن میں سے پھر جائے اور اس کو دو ٹکڑے کر ڈالے مگر اتفاق سے وہ صرف ملخس کے کان پر لگی ۔ حضرت لوقا اور حضرت یوحنا ہم کو بتاتے ہیں کہ وہ کان جو کاٹا گیا دہنا کان تھا۔

آیت نمبر ۵۱۔مسیح نے جواب میں کہا۔ اتنے پر کفائت کرو اور اس کے کان کو چھوکر اس کو اچھا کیا۔

پطرس کی طرف مخاطب ہوکر جو الفاظ اس وقت مسیح نے بیان فرمائے وہ مختلف حواریوں نے مختلف صورتوں میں رقم کئے ہیں۔ مگر جو کچھ انہوں نے لکھا ہے اس سے کافی طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ کل کلام جو اس وقت خداوند کی زبان مبارک سے نکلا ا سکا کیا مطلب تھا۔ حضرت متی ان باتوں کو مسیح نے کہیں ذرا مفصل طور رقم کرتا ہے۔ چنانچہ وہ بتاتا ہے کہ " مسیح نے اس سے کہا اپنی تلوار کو میان میں کرلے۔ کیونکہ جو تلوار کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائیں گے ۔ آیا تو نہیں سمجھتا کہ میں اپنے باپ سے منت کرسکتا ہوں اور وہ فرشتوں کے بارہ تمن سے زیادہ میرے لئے ابھی موجود کردے گا ؟ مگر وہ نوشتے کہ یوں ہی ہونا ضرور ہے کیونکر پورے ہوں گے ۔"

حضرت متی کے ان الفاظ کو پڑھ کر اور ان کے ساتھ ان باتوں کو جو دیگر انجیل نویسوں نے تحریر کی ہیں دیکھ کر یہ خیال گذرتا ہے کہ اس موقعہ پر جبکہ مسیح کو گرفتار کرنے کی جلدی مچ رہی تھی اس کو کہاں اتنی لمبی تقریر کرنے کا وقت ملا ہوگا؟ اس دقت کو رفع کرنے کے لئے دو خیال پیش کئے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب مسیح ملخس کے کان کو چنگا کررہا تھا۔ اس وقت ان سے یہ باتیں کہتا جاتا تھا۔ دوسرا خیال یہ ہے کہ چونکہ اس کی یہ تقریر ا س کی حمائت کرنے والوں کو حملہ کرنے سے روکنے والی تھی اس لئے اس کے مخالفوں نے اس کی باتوں کو اپنے حق میں مفید سمجھ کر خاموشی اختیار کی اور اسے بولنے دیا۔ جو تلوار کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائیں گے۔ بعض لوگوں نے ان لفظوں کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ مسیح پطرس کی طرف مخاطب ہوکر کہتا ہے توکا ہے کو اپنی تلوار استعمال کرتا ہے۔ اس میان میں کرلے۔ یہ شخص تلوار لے کر مجھ پر چڑ ھ آئے ہیں۔ پر میں تجھے کہتا ہوں کہ انجام کار یہ خود تلوار سے ہلاک کئے جائیں گے ۔ کیونکہ جو تلوار کھینچتے ہیں  وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائیں گے۔

پر بعض مفسروں کو یہ شرح بہت موزون معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ ان لفظوں سے جن میں مسیح نے پطرس کو یہ کہا کہ اگر میں چاہوں تو بار ہ تمن فرشتوں کے میری مدد کے لئے حاضر ہوسکتے ہیں۔ مطابقت نہیں رکھتے۔ پس ان لفظوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کا یہ مطلب تھا کہ پطرس اس بات کو محسوس کرے کہ اس کا مالک اپنے چھٹکارے لئے اس کی تلوار کی مدد کا محتاج نہیں۔ پس اصل شرح یہ ہے کہ ہمارا مالک اس قدیم شریعت یا قانون کی طرف اشارہ کرتا ہے جو خون بہانے کے معاملے میں ان لفظوں سے ظاہر ہے "جو کوئی آدمی کا لہو بہاوے ۔آدمی ہی سے اس کا لہو بہایا جائے گا ۔

آیا تو نہیں سمجھتا کہ میں نے اپنے باپ سے منت کرسکتا ہوں۔ اور وہ فرشتوں کے بارہ تمن سے زیادہ میرے پاس ابھی موجود کردے گا ۔ (حضرت متی 26باب 53آیت)۔

ان لفظوں کو پڑھ کر وہ نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے جو 2سلاطین 6باب 17آیت میں درج ہے وہاں ہم پڑھتے ہیں کہ جب شاہ ارام کے لشکر نے دو تین کا محاصرہ کیا اور الیشع صبح کے وقت باہر نکلا تو مخالف کے لشکروں کو دیکھ کر ڈرگیا اور جب واپس آیا تو نبی کو اس خطرے سے مطلع کیا۔ مگر نبی نے اس کے لئے دعا کی اور اس کی آنکھیں کھل گئیں اور اس نے اردگرد کے پہاڑ کو آتشی رتھوں اور گاڑیوں سے بھرا ہوا دیکھا۔ اب وہ الیشع سے بڑا تھا اپنے مغموم اور دہشت زدہ شاگرد کوبتاتا ہے کہ میں تیری مدد کا محتاج نہیں کیونکہ اگر میں چاہوں تو بارہ تمن فرشتوں کے ابھی میری مدد کے لئےحاضر ہوجائیں۔

معلوم ہوتاہے کہ ان لفظوں میں کچھ وہی خیال عکس دےرہا ہے جو آزمائش کے وقت اس کے دل  میں گھسنا چاہتا تھا۔ یعنی یہ خیال کہ وہ باپ کی مدد کو استعمال کرے اور تمام مخالفتوں کو دور کر ڈالے۔ مگر جو ں ہی یہ خیال اس کے دل میں پیداہوتا ہے دوں ہی رد کیا جاتا ہے ۔ اور یہ خیال کہ جو باپ کی مرضی ہے سوپوری ہوجاگزین ہوتا ہے ۔ چنانچہ وہ سوچتا ہے کہ اگر میں فرشتوں کے  بارہ تمن اپنی مدد کے لئے حاضر کرلوں تو پھر وہ" نوشتے جن کا یوں ہی ہونا ضرورہے کیونکر پورے ہونگے "(حضرت متی 26باب 54آیت )۔

وہ نوشتے کہ یو ں ہی ہوناضرور ہے کیونکر پورے ہوں گے ۔ مسیح کا مطلب یہ ہے کہ اگر فرشتوں کی مدد استعمال میں لائی جائے تو پھر خدا کا وہ ازلی ارادہ باپ کی وہ مرضی جس کاذکر کلام میں پایا جاتاہے ۔ اور جس کا اظہار الفاظ"یوں ہی ہونا ضرور ہے " کے وسیلے کیا گیا ہے کس طرح پوری ہوگی ؟(مقابلہ کروزکریا 13باب 7آیت  کےساتھ)حضرت یوحنا کی انجیل میں فرشتوں کی مدد کو ترک کرنے اور باپ کی مرضی بجالانے کومسیح ایک اور صورت میں ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ "جو پیالہ باپ نے مجھ کو دیا کیا میں اسے نہ پیوں"یہ محاور جو رضامندی کے اظہار کے لئے استعمال کیا گیا ہے کلام میں اکثر آیا ہےاور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو پیالہ پینے کے لئے دیا گیا ہے خواہ وہ کیسا ہی تلخ کیوں نہ ہو تا ہم پینے والا اسے پیتا ہے تاکہ جس نے پینے کو دیا ہے اس کی مرضی پوری ہو۔ (حضرت متی 20باب 22تا 23آیت ،26باب 29آیت سے مقابلہ کریں۔)

حضرت لوقا کی آیت میں ہم نے یہ الفاظ پڑھے تھے۔ "اتنے پر کفائت کرو۔ " یہ الفاظ غالباً شاگردوں کی طرف مخاطب ہوکر فرمائے گئے تھے۔ اورمطلب  مسیح کا یہ تھا۔ کہ اے شاگردجو کچھ تم مقابلہ کی صورت میں اب تک کرتے رہے ہو اس سے باز آؤ۔اور اس راہ میں قدم نہ بڑھاؤبعضو نے یہ خیال کیا ہے کہ مسیح نے یہ الفاظ اپنے مخالفوں کی طرف مخاطب ہوکر بیان فرمائے تھے اورمقصد یہ تھا کہ ان کو جتائے کہ جو کچھ تم اب تک میرے گرفتار کرنے میں کرچکے ہو اس کو کافی سمجھو اور آئندہ  اپنی ناسزا حرکتوں سے باز آؤ۔پر یہ خیال درست معلوم نہیں ہوتا۔ لہذا اغلب ہے کہ یہ الفاظ شاگردوں ہی کوکہے گئے تھے۔ اور جب وہ باتیں کہہ چکے توملخس کی طرف متوجہ  ہوئے اور اس کے کٹے ہوئے کان کواچھا کیا۔ اور اس فعل کے وسیلے اس تعلیم کا جو آپ نے دشمنوں کو پیار کرنے اور نفرت کرنے والوں  کی بھلائی چاہنے کے بارے میں دی تھی ایک عمدہ نمونہ دیا۔

نصیحتیں اور مفید اشارے

1۔مسیح اس معجزے میں کس طرح نظر آتے ہیں؟(1)آپ کی شانتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ خطرے کے وقت میں وہ اوسان باختہ نہیں ہوئے۔ (2)اس مخالفانہ حملے کے وقت بھی اس کی برداشت کرنے والی محبت میں فرق نہیں آیا۔ (3)اس بپت کے وقت بھی شاگردوں کو سکھانا اور ان کی اصلاح کرنا نہیں چھوڑا۔

2۔آپ کے نمونہ سے ہم سیکھتے ہیں کہ تاریکی کی طاقتوں کا مقابلہ کس طرح کرنا چاہیے۔

3۔بعض اوقات ہم کئی کام حضرت پطرس کی طرح ایسے کر بیٹھتے ہیں کہ ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم خدا کی مرضی بجالا رہے ہیں۔ حالانکہ وہ خدا کی مرضی نہیں ہوتی بلکہ ہماری مرضی ہوتی ہے۔

4۔ہتھکڑیاں پہننے سے پہلے اس کے ہاتھوں کو دیکھو۔ جب تک وہ آزاد رہتے ہیں نیکی کے کام نہیں چھوڑتے ۔ہاں وہ اپنے دشمنوں سے بھی نیک سلوک کرتے ہیں۔

5۔دیکھو ا سکی خود انکاری کو دشمن اس کے مبارک بدن کی تحقیر وتکفیر میں لگے ہوئے ہیں۔ اور وہ دیکھتا ہے کہ فرشتوں کے تمن مدد کے لئے موجود ہیں۔ مگر تاہم وہ اس مدد کو کام میں نہیں لاتا۔ کیونکہ باپ کی ازلی مرضی کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے وہ اپنے حقوق کو بھی ترک کردیتا ہے۔ کون اس کی جلالی فرمانبرداری کودیکھ کر اس کے پاؤں پر نہ گرے گا اور بوسے دے دے کر اپنے آنسوؤں سے نہ دھوے گا؟

Posted in: مسیحی تعلیمات, یسوع ألمسیح, خُدا, معجزات المسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (11783)

Post a Comment

English Blog