en-USur-PK
  |  
04

مسیح قرآن شریف میں

posted on
مسیح قرآن شریف میں

عیسیٰ مسیح نے منفرد انداز سے تاریخ کو متاثر کیا۔مسیحی اورمسلمان دونوں اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ جوہیں وہ مسیح موعود ہیں۔(انجیل شریف یوحنا 1باب 41آیت ۔4باب 25سے 30آیت ۔اعمال الرسل 3باب 20آیت اور خط افسیوں 2باب 12سے 13آیت ۔ اوراسی طرح قرآن شریف میں بھی آیا ہے (سورہ 3آیت 45۔سورہ 4آیت 171 سے 172تک)۔یہ بہت اہم امر ہے کہ یہ بات سمجھی جائے کہ حضرت مسیح کون تھے۔اورجب آپ نے مسیح موعود ہونے کا کردار ادا کیا تواصل میں آپ نے کیا ہونے کا دعویٰ کیا۔

عبرانی اور ارامی زبان میں مسیح کامطلب" مسح کیا ہوا" ہے۔ آج بھی اہل یہود مسیح کے آنے کا انتظار کررہے ہیں۔لیکن مسلمان اورمسیحی یہ بات جانتے ہیں کہ مسیح کون ہے۔ وہ عیسیٰ ابن مریم ہیں۔

مسیح تمام انبیاء کرام میں لاثانی ہیں۔اورصرف آپ ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے مسح کئے ہوئے ہیں۔کسی اورنبی کو اس طرح کا الہٰی مسح نصیب ہی نہیں ہوا۔یہاں تک کہ حضرت یحییٰ اصطباغی نے بھی یہ بات ارشاد فرمادی " میرے بعد کا آنے والا جِس کی جُوتی کا تَسمہ مَیں کھولنے کے لائِق نہیں۔ (انجیل شریف ۔یوحنا 1باب 27آیت ۔آئیے چلے دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف مسیح کی کیا خوبیاں بیان کرتاہے۔

       حضرت عیسیٰ کنواری مریم سے پیدا ہوئےتھے۔

حضرت عیسیٰ المسیح کنواری مریم بتولہ سے پیدا ہوئے تھے۔ آپ کا کوئی جسمانی باپ نہیں تھا۔ وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ ترجمہ: اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفّت کو محفوظ رکھا۔ تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا(سورہ 21آیت91)۔

(مزید دیکھئے سورہ 3کی آیت 45 اور47۔ سورہ 4کی آیت 171 اور انجیل شریف ۔متی 1باب 23آیت اور صحیفہ حضرت یسعیاہ 7باب 14آیت)۔

 

          حضرت عیسیٰ گناہ سے پاک تھے۔

سورہ 3کی آیت 46 میں یوں مرقوم ہے" وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ ترجمہ: اور ماں کی گود میں اور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا۔

سورہ 3کی یہ 46ویں آیت بیا ن کررہی ہے کہ عیسیٰ المسیح بچپن سے لے کر اپنی تمام عمر تک گناہ سے پاک ہی رہے۔یعنی دوسروں لفظوں میں  آپ نے نعوذ باللہ کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔بائبل مقدس آپ کی تائید میں یہ فرماتی ہے کہ آپ نے کھلم کھلا اپنے فریقین  کو چیلنج کیا کہ تم میں سے کون ہے جومجھ پر ایک گناہ بھی ثابت کردے۔

انجیل شریف ۔یوحنا 8باب کی 46ویں آیت میں یوں مرقوم ہے۔" تُم میں کَون مُجھ پر گُناہ ثابت کرتا ہے؟ اگر مَیں سچ بولتا ہُوں تو میرا یقِین کیوں نہیں کرتے؟۔(مزید دیکھئیے صحیفہ حضرت یسعیاہ 53باب کی 9آیت۔ خط عبرانیوں 4باب کی 15آیت ۔7باب کی 26آیت۔ 1پطرس 1باب کی 19آیت اور 2باب کی 22آیت اور مکاشفہ 19باب کی 11آیت)۔

بہت سے مسلمانوں کا یہ یقین ہے کہ اللہ وتبارک تعالیٰ کے تمام انبیاء گناہ سے مبرا تھے۔لیکن جب قرآن شریف کا بہت احتیاط سے مطالعہ  کیا جائے تویہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ایسا نہیں ہے۔بہت سے انبیاء کرام نے گناہ کرکے اُن سے توبہ کی ہے۔

·        حضرت آدم (سورہ 2آیت 33 سے 37۔ سورہ 7آیت 23 ۔  189سے 190۔ سورہ 20آیت119سے 121۔)

·        حضرت نوح(سور 11کی آیت46سے 48)۔

·        حضرت ابراہام (سورہ 2آیت 260۔سورہ 6آیت 75- 79۔ سورہ 21آیت 57-65۔سورہ 26آیت 69-82)۔

·        حضرت موسیٰ (سورہ 26آیت 18-21۔سورہ 28آیت 15سے16)۔

·        حضرت ہارون(سورہ 7آیت 150-151۔ سورہ 20آیت 92-94)۔

·        حضرت محمد (سورہ 4آیت 105-106۔سورہ 40آیت 55۔سورہ 47آیت 19۔ سورہ 48آیت1-2)۔ صحیح بخاری جلد 8 حدیث نمبر 319 اور 407۔

البتہ قرآن شریف عیسیٰ المسیح کے گنہگار ہونے کا تذکرہ تک نہیں کرتا۔

          سورہ 19کی آیت 19 میں یوں مرقوم ہے" قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا

ترجمہ: انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں۔(مزید دیکھئیے سورہ 3کی آیت 36 اور صحیح بخاری کی جلد چار حدیث نمبر 506۔641۔651۔652)۔

          لفظ راستباز کا مطلب  پاکیزہ ہے۔ مسیح کو بے گناہ رکھنے کا خدا تعالیٰ کا مقصد کیا تھا؟ مسیح کو پاکیزہ ہونے کی ضرورت کیوں لاحق ہوئی؟ ان سوالات کا جوابات جاننے کے لئے ہم انجیل شریف میں پڑھتے ہیں مسیح لوگوں کو اُن کے گناہوں سے بچانے کے لئے تشریف لائے تھے(متی 1باب 20سے 21آیت )۔

       عیسیٰ المسیح نے بہت سے معجزات دکھائے۔

          سورہ 5کی آیت 110 میں مرقوم ہے کہ مسیح نے کوڑھیوں  کو اندھوں کو شفا بخشی مردوں کو زندہ کیا۔

       عیسیٰ المسیح  تمام بنی نوع انسان کے لئے خدا کا نشان ہیں۔

          دیکھئے سورہ 21کی آیت 91۔ سورہ19کی آیت 21 اور سور 43کی آیت 61)۔

       عیسیٰ المسیح اس دنیا میں بھی تاب دار ہیں اور آخرت میں بھی۔

          دیکھئے سورہ 3کی آیت 45 إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ ترجمہ:(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ ابن مریم ہوگا (اور) جو دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا ۔

غور کیجئے ۔قرآن اس بات کو آشکارا کرتاہے کہ عیسیٰ المسیح دنیا اورآخرت میں تاب دار ہیں باآبرو ہیں ۔آپ  کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سرفراز کیا گیا ہے۔

عیسیٰ المسیح کلمتہ اللہ ہیں اور  روح اللہ ہیں۔دیکھئے دوبارہ سور 3کی آیت 45 اور غور کیجئے کہ اس دفعہ آپ کو کلمتہ اللہ کہا گیا ہے  اور اگر کوئی خدا کا کلمہ ہے تواس کا کیا مطلب ہے؟

سورہ 66 کی 12آیت وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ ترجمہ:اور (دوسری) عمران کی بیٹی مریمؑ کی جنہوں نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اپنے پروردگار کے کلام اور اس کی کتابوں کو برحق سمجھتی تھیں اور فرمانبرداروں میں سے تھیں ۔(مزید دیکھئے سورہ 21کی آیت 91 اور سورہ 4کی آیت 171 اور صحیح بخاری جلد 4 حدیث نمبر 644)۔

          خدا تعالیٰ کی روح سے کیا مراد ہے؟ کیا کسی اور بھی کلمتہ اللہ روح اللہ کہا گیا ہے؟ یہ بہت ہی منفر د اور لاثانی القاب صرف مسیح کے علاوہ اور کسی  نہیں دئیے گئے۔

عیسیٰ المسیح نے وہی سکھایا جس کے بارے میں محمد کو قرآن میں حکم دیا گیا تھا کہ وہ توراۃ اور انجیل پر ایمان رکھے۔

سورہ 2کی آیت 285 اور سورہ 4 کی آیت 136 میں محمد اور تمام مسلم امہ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ صحیفوں پر ایمان لائیں۔خدا نے محمد سے پہلے بہت سے انبیاء بھیجے تھے ۔ اور تم اُن کو بغیر پڑھے اور جانے اُن پر کیسے ایمان لاسکتے ہو؟

          سورہ 5کی آیت 43 اور 47میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ یہودی توراۃ سے اورمسیحی انجیل کو سامنے رکھ کر اپنے فیصلے کریں۔اگر انہوں نے یہ کتابیں نہیں پڑھیں تو وہ کیسے مسیحیوں کو اندازہ لگاسکتے ہیں۔

          سورہ 3کی آیت 50 میں یوں مرقوم ہے" وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ  وَجِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ترجمہ:اور مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی اس کی تصدیق بھی کرتا ہوں اور (میں) اس لیے بھی (آیا ہوں) کہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو تمہارے لیے حلال کر دوں اور میں تو تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو ۔(مزید دیکھئے سورہ 2کی آیت 41۔ سورہ 2 کی آیت 97۔ سورہ 3کی آیت 3۔ سورہ 6کی آیت 92۔ سورہ 43کی آیت 61سے 63 اور سورہ 46کی آیت 12)۔

          سورہ 3کی آیت 50 میں مسیح فرماتے ہیں کہ میں توراۃ کی تصدیق کرنے آیا ہوں۔ مسیحیوں کے پاس بائبل مقدس میں توراۃ شریف موجود ہے اوروہ اُ س کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگیاں گزاریں ۔کیا آپ توراۃ پڑھتے ہیں؟ کیا مسیح کا حکم مانتے ہیں؟ کیا آپ مسیح کی تعلیم کو جانے بغیر اس کے حکم پر چل سکتے ہیں؟

          اگر خدا کو واحد مان کر صرف اُسی کی پرستش کرنے کا حکم موسیٰ کے زمانے میں توراۃ شریف میں پایا جاتاہے (استشنا 6باب کی 4آیت) تو عیسیٰ المسیح کونسی نئی تعلیم لے کر آئے تھے۔ اورمسیح کی تعلیم کو آپ کہاں پاتے ہیں؟

          اللہ تعالیٰ نے مسیح کے ماننے والوں سے جنت کا وعدہ کیا ہواہے۔(سورہ 3کی آیت 55) إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ  ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

ترجمہ:اس وقت خدا نے فرمایا کہ عیسیٰ! میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کر دوں گا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (وغالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کردوں گا ۔

          یہ آیات ہمیں دوچیزوں کی تعلیم دیتی ہے:

          اول: مسیح جنت میں ہیں (دیکھئیے سورہ 19کی آیت 31سے 33)۔

          دوئم: جوبھی مسیح کی پیروی کرے گا وہ خدا کی نظر میں اولین درجہ پر ہوگا۔

مسلمان حضرات اس بات  پر واثق یقین رکھتے ہیں کہ عیسیٰ المسیح جنت میں ہیں۔ وہ اس کے علاوہ اورکسی کے بارے میں پراُمید نہیں ہیں  یہاں تک کہ حضرت محمد بھی یہ بات نہیں جانتے تھے کہ اللہ اُن کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھیں گے۔

          صحیح بخاری کی جلد پنجم کی حدیث نمبر 266 ضرور پڑھئیے۔

          المسیح کے پیروکار

          مسیح کے حواری آپ کی تابعداری کرتے ہوئے فرماتے ہیں  فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ  قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ [٣:٥٢]

جب عیسیٰؑ نے ان کی طرف سے نافرمانی اور (نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرف دار اور میرا مددگار ہو حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار اور آپ کے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں۔(سورہ 3کی آیت 53)۔

نتیجہ:

مسلمان حضرات دن بہت مرتبہ ایک دعا دہراتے ہیں۔ اورو ہ ہے سورہ الفتح جوکہ پہلی سورہ ہے ۔ جہاں پر وہ سیدھے راستے کی تلاش میں اللہ سے گڑگڑاتے ہیں کہ ہمیں سیدھی اور سچی راہ دکھلا۔جب کہ مسیح نے انجیل میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ وہی سچی راہ ہے۔

انجیل  شریف یوحنا 14باب کی 6آیت میں مسیح نے فرمایا ہے کہ راہ اور حق اور زِندگی مَیں ہُوں ۔ کوئی میرے وسِیلہ کے بغَیر باپ کے پاس نہیں آتا۔

صرف ایک ہی ایسی ذات ہے جو آسمان میں ہے اور وہ ہے المسیح ۔البتہ حضرت محمد کوبھی اس بات کا یقین  نہیں تھاکہ وہ کہاں جائیں گے۔ اگر مسیح راہ ہیں توآپ کو اُنہیں کی پیروی کرنا ہے۔ ورنہ آپ کا انجام کیا ہوگا؟یہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے۔

سورہ 43 کی 61سے 62آیت " وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ  هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ    وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ  إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ   وَلَمَّا جَاءَ عِيسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُم بِالْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ  فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ  هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ترجمہ: اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔ تو (کہہ دو کہ لوگو) اس میں شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو۔ یہی سیدھا رستہ ہے اور (کہیں) شیطان تم کو (اس سے) روک نہ دے۔ وہ تو تمہارا اعلاینہ دشمن ہے اور جب عیسیٰ نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ میں تمہارے پاس دانائی (کی کتاب) لے کر آیا ہوں۔ نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو تم کو سمجھا دوں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے۔

یہاں جو موضوعات ہیں ممکن ہے کہ وہ آپ کے ذہن میں کچھ سوالات اٹھائیں گے۔ مسلمانوں کو یہ حکم ہوا کہ وہ اُن صحیفوں  پر ایمان رکھیں جو اللہ وتبارک تعالیٰ نے بنی اسرائیل اور مسیحیوں پر اُتارا ہے۔ اوراگرآپ نعوذ باللہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ بدل چکے ہیں ۔توکیا خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اس  کا کلام لاتبدیل ہے۔ (سورہ 6 کی آیت 115۔ سورہ 10 کی آیت 64۔سورہ 18کی آیت 27۔ سورہ 48کی آیت 23)۔اگرآپ کتاب مقدس کی حقانیت کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو مندرجہ ذیل دی ہو ئی معلومات پر ہم سے رابطہ کریں۔شائد آپ کو توراۃ شریف اورانجیل شریف درکار ہو توبرائے مہربانی ہم سے ضرور رابطہ کریں۔


Posted in: یسوع ألمسیح, نجات, اسلام, تفسیر القران | Tags: | Comments (0) | View Count: (12275)

Post a Comment

English Blog