en-USur-PK
  |  
02

خدا تعالیٰ کی مقُدس کتاب

posted on
خدا تعالیٰ کی مقُدس کتاب
 Thursday, May 02, 2013

خدا تعالیٰ کی مقُدس کتاب

ڈاکٹر ارنسٹ ہان

The Holy Word of God

Rev Ernest Hann

                        ایک روز فاطمہ کی ماں  سموئیل کی ماں سے ملنے آئیں ۔ سموئیل کی ماں بہت ہی خوش معلوم ہوتی تھیں کیونکہ ان کو اپنا وہ زیور مل گیا تھا جوکچھ دن پہلے کھوگیا تھا۔

        فاطمہ کی ماں۔ آج صبح آپ بہت خوش معلوم ہوتی ہیں۔بتائیے کیا بات ہے؟

            سموئیل کی ماں۔ بیشک میں خوش ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ اب میرے پاس زیادہ زیور نہیں ہیں۔ میرے کم سن لڑکے سموئیل کو میرا ایک زیور مل گیا تھا وہ اس سے کھیلتا رہا اوراس نے اسے کھودیا۔ میں نے اسکے بارے میں اس سے پوچھا لیکن اس کو معلوم نہ تھا کہ وہ کہاں ہے۔ میں بہت دن سے اسکی تلاش میں تھی۔ جب میں نے آج گھر میں جھاڑودی تووہ مجھے کونے میں پڑا ہوا ملا۔اس وقت سموئیل کی ماں باورچی خانہ کو چائے لینے کے لئے گئیں۔ان کے جانے کے بعد فاطمہ کی ماں نے میز پر ایک کتاب پائی اوراُسے غور سے دیکھنے لگی۔ سموئیل کی ماں جلدی ہی چائے اورکچھ بسکٹ لے کر واپس آگئیں۔

            فاطمہ کی ماں۔میں آپ کی یہ کتاب دیکھ رہی تھی جوشاید میرے آنے سے پہلے آپ پڑھ رہی تھیں یہ کیا کتاب ہے؟

            سموئیل کی ماں۔ یہ انجیل شریف ہے ۔ آپ توانجیل کو جانتی ہیں نا؟ جب میں گھر جھاڑ رہی تھی اورمجھے اپنا زیور ملا تو فوراً مجھے میرے آقاو مولا سیدنا مسیح کی ایک تمثیل یاد آگئی کہ خدا توبہ کرنے والے گنہگاروں سے کتنا خوش ہوتاہے۔ کیا میں اسے پڑھ کر آپ کو سناؤں؟

            " یاکون ایسی عورت ہے جس کے پاس دس درہم ہوں اورایک کھوجائے تووہ چراغ جلا کر گھر میں جھاڑونہ دے اورجب تک نہ مل جائے کوشش سے ڈھونڈھتی نہ رہے؟ اورجب مل جائے تواپنی دوستوں اور پڑوسیوں کو بلاکرنہ کہے کہ میرے ساتھ خوشی کرو کیونکہ میرا کھویا ہوا درہم مل گیا ۔ میں تم سے کہتاہوں کہ اسی طرح ایک توبہ کرنے والے گنہگار کے باعث خدا کے فرشتوں کے سامنے خوشی ہوتی ہے"(انجیل شریف راوی حضرت لوقا رکوع 15: آیت 8تا 10)۔سیدنا مسیح اس تمثیل کے ذریعے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خدا ہم سے اتنی محبت رکھتاہے کہ وہ خود ہم گنہگاروں کی جوگناہ کے سبب سے بھٹک گئے ہیں۔ تلاش کرتاہے۔ جب ہم اس کو مل جاتے ہیں یعنی جب ہم اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تووہ بہت خوش ہوتاہے۔

            فاطمہ کی ماں۔ یہ توبہت ہی اچھی تمثیل ہے۔ کیا سچ مچ خدا ہم کو اس حد تک پیار کرتاہے۔ درحقیقت میں نے اس بات پر کبھی کافی طور پر غور نہیں کیا۔ میں تویہ جانتی ہوں کہ خدا مہربان اوررحیم ہے۔ لیکن یہ کہ وہ ہم گنہگاروں کوخود تلاش کرتاہے ۔ (ایک تھوڑا سا خاموشی کا وقفہ گزرنے کے بعد) اچھا جو کتاب  آپ پڑھ رہی ہیں کیا وہ اصلی انجیل ہے؟

            سموئیل کی ماں۔ ہاں بیشک یہ اصلی انجیل شریف ہے۔

            فاطمہ کی ماں۔ لیکن مجھے یاد ہے کہ ہم کو بتایا گیا ہے کہ مسیحی لوگوں کے پاس اب اصلی انجیل نہیں ہے اورہمیں سکھایا گیا ہے کہ مسیحیوں نے اس میں تحریف کی ہے اور بہت سی باتیں بدل دی ہیں۔ مجھے کبھی کسی مسیحی آدمی سے اسکے بارے میں بات چیت کرنے کا موقع نہیں ملا ہے۔ اس لئے مجھے آپ سے باتیں کرنے میں خوشی ہورہی ہے۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ مسیحی لوگوں نے ایسا کیوں کیا؟

            سموئیل کی ماں۔ یہ ایسا سوال ہے جوہمیں آپ سے ہی پوچھنا چاہیے کہ ہم مسیحی لوگوں نے انجیل کو کیوں بدلنا چاہا ہوگا؟

            فاطمہ کی ماں۔ کیا اس لئے کہ وہ حوالہ جات جوحضرت محمدسے متعلق ہیں نکال دئیے جائیں؟

            سموئیل کی ماں۔ نہیں یہ ممکن نہیں ہے۔ آپ کومعلوم ہے کہ ہم مسیحی بھی توریت زبور اور نبیوں کے صحیفوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ یہی وہ کتابیں ہیں جن پر یہودی لوگ بھی ایمان رکھتے ہیں۔ سیدنا مسیح نے اکثر ان کتابوں سے اپنے متعلق حوالے دئیے ہیں اگرچہ یہودیوں نے مسیح کو اپنا نجات دہندہ نہیں مانا لیکن وہ کبھی ان حوالوں کواپنی کتابوں سے نہیں نکال سکتے۔ جنکی طرف سیدنا مسیح نے اشارہ کیا تھا۔ یہودی لوگ اپنے مقدس صحیفوں کا بہت احترام کرتے ہیں اس لئے وہ قصدً کبھی ان میں تبدیلی نہیں کرینگے۔ جن جن حوالوں کے متعلق مسیح نے اشارہ کیا ہے ان کو آج بھی دکھایا جاسکتاہے ۔ یہی وہ باتیں ہیں جن پر یہودی اورمسیحی دونوں ایمان رکھتے ہیں۔ اورآج تک استعمال کررہے ہیں ۔ میں یہ حوالے آپ کو کسی اور وقت دکھاسکتی ہوں۔

            فاطمہ کی ماں۔ خیر! کیا انجیل اپنی زبان میں آپ کے پاس ہے؟ یہ اصل میں اردو میں نہیں اتاری گئی۔ کیا یہ صحیح نہیں؟

            سموئیل کی ماں۔نہیں انجیل ابتدا میں اردومیں نہیں لکھی گئی چند ہفتے پہلے میں اور سموئیل کے باپ پادری صاحب کے مکان کوگئے ۔ مجھے یاد نہیں کیوں اور کیسے ۔لیکن پادری صاحب نے ہمیں اصلی زبان میں مقدس انجیل دکھائی اوراُنہوں نے ہم کو بتایا کہ مقدس انجیل کی اصلی زبان یونانی ہے۔ جیسے قرآن شریف کی اصلی زبان عربی ہے۔پادری صاحب نے کہا کہ جب وہ پادری ہونے کے لئے تعلیم پارہے تھے تواس وقت اُنہوں نے انجیل کا مطالعہ اسکی اصلی زبان میں کیا۔میں سمجھتی ہوں آپکے مولوی صاحبان بھی اسی طرح قرآن شریف کا مطالعہ اسکی اصلی زبان میں کرتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے؟

            فاطمہ کی ماں۔ ہاں میرے پاس ایک عربی قرآن شریف بھی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے میں عربی سے واقف نہیں ہوں۔ لیکن جب میں مدرسے میں تھی توکسی قدر عربی پڑھنا سیکھا تھا۔ اب تو قرآن شریف کا اردو ترجمہ بھی ملتاہے۔ فاطمہ کے باپ ایک اردو ترجمہ لینا چاہتے ہیں۔ اُنہوں نے ذکر کیا تھا کہ اردو ترجمہ عربی سے کیا گیا ہے۔

            سموئیل کی ماں۔ ہمارے پادری صاحب نے بتایا کہ اسی طرح اردو کی مقدس انجیل بھی اصل یونانی زبان سے ترجمہ کی گئی ہے۔ وہ اکثر یونانی مقدس انجیل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ قابل علماء نے سخت محنت کرکے بہتر اور صحیح ترجمہ پیش کیا ہے۔

            فاطمہ کی ماں۔ کیا آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اردو انجیل کا ترجمہ انگریزی انجیل سے نہیں کیا گیا ہے۔

            سموئیل کی ماں۔" نہیں جس طرح انگریزی انجیل کا ترجمہ یونانی سے کیا گیا ہے۔ اس طرح اردوانجیل کا ترجمہ بھی براہ راست یونانی سے کیا گیا ہے۔ آپ نے غالباً بائبل سوسائٹی  کے بارے میں سنا ہوگا کہ یہ ادارہ تمام دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ بائبل سوسائٹی کے ایک پرچے میں لکھا ہوا تھا کہ ایک ہزار ایک سوپچاس زبانوں میں مقدس انجیل کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ ہے ناتعجب کی بات ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کی تمام تحریری زبانوں میں انجیل کا ترجمہ ہونا چاہیے تاکہ تمام لوگ اپنی اپنی زبانوں میں خدا کاکلام پڑھ سکیں۔ کیونکہ خدا چاہتاہےکہ ہم اس کے کلام کو پڑھیں اورسمجھیں ۔ یہ کتنی بڑی برکت ہے کہ ہم خدا کے پیغام اور اسکی دی ہوئی عجیب وغریب نجات کا حال اپنی مادری زبان میں پڑھیں اورسمجھیں۔جب میں سیدنا مسیح کے معجزات۔ تعلیمات تمثیلات (جیسی میں نے آپ کو ابھی پڑھ کر سنائی ) کے بارے میں سوچتی ہوں اورخاص کر یہ بات کہ خدا نے سیدنا مسیح کو دنیا میں ہمارا نجات دہندہ بننے کے لئے بھیجا تومیرا دل تعجب اور شکرگزاری سے بھر جاتاہے۔ اس کا پیغام ایسا سادہ او ر دلکش ہے کہ میری جیسی سادہ لوح عورت بھی سمجھ سکتی ہے۔

            فاطمہ کی ماں۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ مسیحی لوگ انجیل میں تحریف اور تبدیلیاں نہیں کرتے۔

            سموئیل کی ماں۔ آپ یقین کیجۓہم ایسا نہیں کرتے۔ آپ کیسے یقین کرسکتی ہیں کہ ہم مسیحی اتنے بے ایمان ہیں کہ ایسی حرکت کریں۔ میں مکاشفہ 22: 18تا 19۔ پڑھ کر سناتی ہوں"۔ میں ہر آدمی کے آگے جواس کتاب کی نبوت کی باتیں سنتاہے۔گواہی دیتاہوں کہ اگر کوئی آدمی ان میں کچھ بڑھائے توخدا اس کتاب میں لکھی ہوئی آفتیں اس پر نازل کرے گا۔ اور اگر کوئی اس نبوت کی کتاب کی باتوں میں سے کچھ نکال ڈالے توخدا اس زندگی کے درخت اور مقدس شہر میں سے جن کا اس کتاب میں ذکر ہے اس کا حصہ نکال ڈالے گا۔

            فاطمہ کی ماں۔ میں نہیں جانتی تھی کہ مقدس انجیل میں تحریف کرنے والوں کے لئے ایسے سخت عذاب کا ذکر ہے۔

            سموئیل کی ماں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ ہم انسان خدا کا کلام کوکیسے بگاڑ سکتے ہیں؟ آپ سمجھ سکتی ہیں کہ خدا اتنا قادر اور رحیم ہے کہ اپنے کلام کی خود حفاظت کرے۔ بفرض محال اگر بعض مسیحی بگاڑنے کی کوشش کریں بھی توکیا باقی دوسرے مسیحی ہندوستان میں مخالفت نہ کریں گے؟ اگرہندوستان کے تمام مسیحی مل جائیں اور تبدیلی کرنا چاہیں توکیادنیا کے باقی تمام مسیحی خاموش رہیں گے؟ وہ ضرور اسکی سخت مخالفت کرینگے ۔یہ ناممکن ہے کہ تمام دنیا کے وہ بڑے بڑے سائنسدان جنہوں نے ہمیں حیرت ناک ایجادیں دی ہیں اوردیگر بڑے علماء ایسے بیوقوف ہیں کہ وہ بغیر جانچ پڑتال کئے جھوٹی انجیل کو حقیقی انجیل مان لیں۔ نہیں بہن یہ ممکن نہیں ہے ۔ہم اس کو خدا کا تحفہ سمجھتے ہیں جس کے ذریعے خدا ہم سے آج کلام کرتاہے۔یہ وہ کتاب ہے جس نے مجھے سکھایا کہ سیدنا مسیح نے کس طرح صلیب کے ذریعے خدا کی بنی آدم سے محبت کو واضح طورپرظاہر کیا ہے اور کہ وہ کس طرح میرے دل میں رہ کر میری زندگی کو پاکیزہ  بنانا چاہتے ہیں تاکہ میں دھوکا دغا اور فریب وغیرہ جیسے گناہوں سے بچوں۔ہم مسیحی اس کتاب کو کیسے بدل سکتے ہیں ۔ جس کا پیغام ہماری زندگیوں میں موثر ہوکر خدا کے حضوراسکی پاک مرضی کے مطابق زندگی  بسر کرنے میں مدد دیتاہے۔

            فاطمہ کی ماں۔" اب میں مقدس انجیل کے بارے میں آپ کے خیالات سمجھنے لگی ہوں۔ آپ کی باتوں میں بڑا لطف آیا۔میں اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہتی ہوں یہ کہاں ملے گی؟

            سموئیل کی ماں۔میرے پاس انجیل کا ایک نسخہ ہے۔ آپ اسے استعمال کرسکتی ہیں۔ اگرآپ خریدنا چاہیں تومیں آپ کے لئے منگوادونگی یاآپ خود" بائبل سوسائٹی"سے خرید سکتی ہیں۔ آپ اسے احتیاط اورکشادہ دلی سے پڑھیں۔ ہم پھر ملیں گے اوراس کے پیغام کے بارے میں باتیں کرینگے۔ مجھے یقین ہے کہ جس طرح یہ میری زندگی میں مفید ثابت ہوئی ہے۔ آپ کے لئے بھی مفید ثابت ہوگی۔

            فاطمہ کی ماں۔ شکریہ۔ اب مجھے اجازت دیجئے۔

        سموئیل کی ماں۔ خدا حافظ۔

Posted in: بائبل مُقدس, اسلام, غلط فہمیاں | Tags: | Comments (0) | View Count: (9697)

Post a Comment

English Blog