en-USur-PK
  |  
17

بدی کا چشمہ

posted on
بدی کا چشمہ

Source of Evil

Rev. Mawlawi Dr. Imad ud-din Lahiz 

(1830−1900)

بدی کا چشمہ

علامہ مولوی پادری ڈاکٹر عماد الدین لاہز        

 

                    یہ بیان اس لئے کیا جاتا ہے کہ تاکہ ہم سب اپنی بربادی کا باعث دریافت کرکے اس سے بچنے کی تدبیرکریں۔ واضح رہے کہ بدی کے بانی مبانی کے دریافت کرنے میں بھی سب لوگ باہم متفق  نہیں ہیں بلکہ تین مختلف  خیالات میں منقسم ہوتے ہیں۔

پہلا خیال

          نیکی اور بدی سب کچھ خدا کی طرف سے ہے اس نے آپ آدمیوں کی تقدیر میں لکھا کہ وہ فلاں کام کریں اور فلاں کام نہ کریں۔ پس دنیا میں جو کام ہوتےہیں  سب خدا کے ارادے اور اس کی  تجویز  سے ہوتے ہیں  لہذا انسان مجبور ہے ۔

          اگر کہو کہ خدا بدی کا خالق نہیں ہے تو اس کا کوئی اور خالق ہوگا اور خدا ہر شے کا خالق نہ رہیگا بلکہ بدی اور نیکی کے دو خالق  ہونگے حالانکہ  ہر چیز کا خالق ایک ہی خدا ہے۔ اس لئے بدی بھی خدا سے ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے مگر ادب کے طور پر بدی کو اپنی طرف اور نیکی کو خدا کی طرف منسوب کرنا چاہیے۔

شعر

گناہ اگرچہ نبود اختیار ماحافظ         دو در طریق ادب کوش کو گناہ نست

اس قول کی تردید

          ہم کہتے ہیں کہ  نہ تو بدی کا خالق خدا ہے اور اس کا خالق کوئی دوسرا خدا ہوسکتا ہے ۔ خدا ایک ہی ہے مگر بدی اس سے ہر گز سرزد نہیں ہوسکتی کیونکہ :

(۱)خدا جامع جمیع صفات کمال ہے یعنی ساری ناپاکی سےمبرا ہے اور اس کو بدی سے نفرت ہے نہ وہ بدی آپ میں رکھتا ہے نہ اپنے لوگوں میں دیکھ سکتا ہے۔

(۲)انسان اپنے ان افعال کی نسبت  جن پر سزا وجزا مرتب ہوتی ہے ۔ مجبور نہیں ہے ہاں ان امور میں مجبور ہے جن پر سزا وجزا مرتب نہیں ہوتی ہے ۔ مثلاً  عمر رنگ ، روپ اولاد غریبی امیری وغیرہ۔

(۳)اگروہ اپنے افعال میں مجبور ہوتا تو بدی پر نہ تواس کی تمیز اسے ملامت کرتی نہ الہام ۔

(۴)انسان دو مخالف کششوں میں پھنسا ہوا ہے ۔ اور بغیر اس کی مرضی کے کوئی کشش اس پر موثر نہیں ہوسکتی ہے جس سے اس کے فاعل مختار ہونا ظاہر ہے پس فاعل ہر گز مجبور نہیں ہوسکتا ہے۔

(۵)خدا کا جلال  اور انسان کی فاعل مختاری سے صاف ظاہر ہے کہ بدی خدا سے نہیں ہے ۔

(۶)بدی اور اس کی سزا اگر خدا سے ہے تو یہ الہیٰ محبت اور انصاف  کےبرخلاف ہے اور سارے گنہگار  مظلوم اور خدا ظالم ٹھہرتا ہے ۔

(۷)یہ عقیدہ نہایت برباد کن عقیدہ ہے۔ اور سب بدکاروں کو بدی پر ایسا ابھارتا ہے  کہ گویا وہ بدی میں خدا کی مرضی بجالاتے ہیں اور تمام نصحیت  کنندوں کو بے نیاز کرتا ہے۔

اس کی یہ دلیل کہ اگر بدی کا کوئی اور خالق ہے تو وہ خدا ثابت ہونگے دو وجہ سے باطل ہے ۔

(۱1)نیکی اور بدی کوئی شئے معتدبہ خارج میں موجود نہیں ہیں مگر ہو امر نیستی ہیں امور مناسبہ کو نیکی  کہتے ہیں امور غیر مناسبہ کو بدی ۔ پس جبکہ وہ اس قسم کی شئے ہیں تو ان کا مرتکب خدا کا ثانی کیونکر ہوسکتاہے ؟

(۲)بالفرض اگر وہ خیال میں کوئی شئے معتدبہ ہیں تو ان کا فاعل نہ اپنی ذاتی قوت سے ان کا موجد ہے بلکہ اسی قوت عطاکردہ الہیٰ کے بیجا استعمال سے ان کا فاعل ہوجاتا ہے پس وہ کیونکر  شریک ِباری  ہوسکتا ہے ۔ مثلاً  ایک باپ نے اپنے بیٹے کو کچھ روپے دیئے تاکہ وہ اس کے وسیلہ سے  عزت وآرام حاصل کرے مگر لڑکا ان روپیوں کو زناکاری عیاشی میں صرف کرتا ہے تو اب کیا باپ بدکار ہے یا بیٹا اور قوت زناکاری کس کی ہے بیٹے کی یا باپ ظاہر ہے کہ بیٹا بدکار ہے کیونکہ باپ کی عطا کردہ قوت کو بیجا استعمال کرتا ہے۔

نتیجہ

پس خدا ہرگز بدی کا بانی مبانی نہیں ہے بدی کو اس کی طرف  منسوب کرنابڑا گناہ ہے ۔

دوسرا خیال

          خدا ہرگز بدی کا بانی نہیں ہے اور شیطان کچھ چیز ہے جس کی طرف بدی کو منسوب کرتے ہیں بلکہ آدمی کا شیطان آدمی ہے۔ آدمی میں شرارت کرنے کی قوت موجود ہے اس سے بدی پیداہوتی ہے ۔

          اس قول میں کچھ کچھ سچائی بھی ہے اور کچھ کچھ غلطی بھی خدا میں بدی نہیں اور آدمی بدی کرتا ہے یہ سچ ہے مگر شیطان کے وجود کا انکار غلطی ہے چنانچہ تیسرے خیال میں اس کا ذکر آئیگا۔

          یہ تو سچ ہے کہ آدمی میں ایسی طاقت موجو دہے کہ اگر وہ چاہے نیکی  کرے اور اگر چاہے بدی کرے لیکن انسان اپنی قوت کے استعمال کرنے میں ایک رہبر کا محتاج ہے جس کی ہدایت  پر وہ نیکی  یا بدی کرتاہے ۔

          اب سوال یہ ہے کہ اگر آدمی دوسرے کو بدی سکھلائے تو یہ سلسل کس پر منتہی ہوگا۔ آج ہم اسی پر بحث کریں گے۔

          خدا تو بدی سے پا ک ہے ۔ اور آدمی اس بارہ میں دوسرے معلم کا محتاج ہے لیکن دوسرا معلم کون ہے عقل اس کے متعلق کچھ نہیں بتلاسکتی ہے اور نہ یہ کہ آدمی نے شرارت کہاں سے سیکھی ۔

          بدی کے لئے ایک ایسے معلم کی ضرورت ہے جو زیادہ ہوشیار اور قوت در ہو تاکہ انسان کو بدی کی طرف زيادہ ترغیب وتحریص دے سکے اور اس کی قوت بیجا طور پر  صرف کرائے ۔

          اس بات پر بھی فکرکرنا چاہیے کہ جیسے نیکی اور بدی امور نیستی ہیں   مناسبت اور غیر مناسبت  صرف امر عقلی نہیں ہیں کیونکہ عقل ہدایت کا کافی وسیلہ نہیں ہے مگر عقل والہام دونو مل کر کافی وسیلہ ہیں اس لئے مناسبت وغیر مناسبت  بھی عقل والہام سے ثابت ہوگی نہ صرف عقل سے ۔

          پس جبکہ نیکی وبدی کا ثبوت عقل والہام پر موقوف ہے تو مبدء  شرارت بھی عقل والہام سے ثابت ہونا چاہیے نہ صرف عقل سے ۔

تیسرا خیال

          مبدء شرارت شیطان ہے وہی شریر اول ہے اوروہ ایک زور آور اور ہوشیار روح ہے ۔ جو انسان کی جنس سے نہیں ہے  اسی کے بہکانے سے انسان نے اپنی قوت کا بیجا استعمال کیا ہے اور اب بھی کرتے ہیں۔

          یہ قول اسی الہام کا ہے جس نے ہماری تمام مشکلات  میں ہماری مدد کی ہے اور جس کے کل انسان محتاج ہیں۔

          لیکن بہت لوگ ایسے ہیں جو اس کی بابت شک کرتے ہیں اور اس کا عقلی ثبوت مانگتے ہیں اس لئے چند دلائل اس کی بابت پیش کرنا مناسب ہے۔

(۱)کیا نہ ممکن ہے کہ اس عالم مادی کے علاوہ ایسا عالم بھی ہو جو غیر  مادی اور غیر مرئی  ہو۔ ہرگز نہیں پس جب اس قسم کا عالم غیر ممکن نہیں ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم وجود ملائکی او ر ارواح خبیثہ سے انکار کریں۔

(۲)خدا کا ثبوت اور ہماری روحوں کی ہستی کا ثبوت صرف ہمارے اور خدا کے کاموں سے ملتاہے تو کیا شیطان کی روح کے ثبوت کے لئے شیطانی کام کافی نہ ہونگے ۔

(۳)انسان کے اندر دو مختلف  ترغیبوں کی آواز سنائی دیتی ہے  ایک تو یہ کہ تنگ  راستہ پرچلو دوسری یہ کہ کشادہ راستہ پر چلو ۔ پس گراں بحکمت ورزاں بعلت پر سوچنے  سے ہم کو خدا اور شیطان صاف دکھائی دیتے ہیں۔

(۴)خدا کی روح جن میں آتی ہے ان کی حرکات اور سکنات سے ان کے مختلف زبانیں  دفعتاً بولنے سے اور ان کی عجیب قوت ودلیری وپاکیزگی کے حصول سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ان میں الہیٰ روح ہے پس جب الہیٰ روح کا دخول ممکن ہے تو کیا ناپاک روح کا داخل ہونا نا ممکن ہے ؟

(۵)پاک اور ناپاک روحوں کا دخول وخروج تو صاف ظاہر ہے مگر ہماری انانیت  دونوں سے صاف جدا معلوم ہوتی ہے یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ غیر روح ہماری روحوں میں اثر انداز ہے ۔

(۶)انسانی تجربہ اس پر گواہ ہے کہ لوگ اپنی بد خواہشوں کے ایسے مغلوب ہیں کہ باوجود سخت  کوشش کرنے کے بھی اس سے نہیں نکل سکتے ہیں تو کیا انسان اپنی طاقت  سے آپ ہی مغلوب ہیں اور اپنی طاقت  کو اپنے اختیار میں نہیں رکھ سکتے پس صاف ظاہر ہے کہ  ضرور کوئی دوسری خاری قوت ہے جو ان کی قوت سے زیادہ ہے اور ان کو مغلوب رکھتی ہے  اور یہ بھی  ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری خارجی  قوت انہیں  چھڑ ا بھی سکتی ہے ۔

(۷)جب میں نیکی کرنا چاہتاہوں تو بدی مجھ سے سزد ہوتی ہے ۔ حالانکہ میں تو ہر گز بدی کا خواہاں نہیں ہوں پس ضرور کوئی خارجی  تاثیر میری روح کی بربادی کے درپے ہے ۔

(۸)اگر بنظر غور دیکھا جائے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ ہماری جسمانی اور روحانی نیک اور بد خواہشیں  بغیر دو بالا خارجی تاثیرات  کے ہر گز بروئے کار نہیں آسکتے ہیں۔

          پس یہ ساری باتیں  انسان کے اندرونی  حالت پر غور کرنے سے پاک روح اور بدروح وناپاک روح کے وجود پر دلالت کرتی ہیں۔

          پس اگر شیطان کوئی زور آور روح نہیں ہے تو وہ کون ہے جس نے انسانی روح کو اس بری طرح  سے مغلوب کر رکھا ہے اور طرح طرح  کے مکروفریب سے خدا کے وصال سے دور رکھا ہے ۔

          پس یہ مقدمات  ظاہر کرتے ہیں کہ ضرور کوئی روح جوا نسان کی روح سے زور آور ہے اور خدا کی مخالف ہے آدمیوں کو ورغلارہی ہے ۔

          اس کے بعد جب ہم الہام پر نظر کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ شیطان خاص خاص  موقعوں پر ظاہر ہوا ہے ۔ اول آدم پر جو خدا کے خلیفہ ہونے کی حیثیت  سے اس دنیا میں پیدا ہوا اور اس کی شان وشوکت اس بدروح کے مکروفریب سےبرباد ہوئی۔

          دوسرے مسیح کے وقت میں جوآدمیوں  کو نجات دینے کے لئے آیا تھا شیطان کی عجب مخالفت نظر آتی ہے ۔

          اس کے کام کے شروع ہی میں شیطان کا ایک بڑا حملہ اس پر ہوا لیکن اس نے فتح نہ پائی ۔

پھر مسیح کے کام کے آخر میں اس کی انتہا مخالفت ظاہر ہوئی لیکن مسیح نے اس کے سر کو کچل کر اس پر فتح پائی۔

          حالانکہ اس وقت یوں معلوم ہوتا تھا کہ شیطان بڑی طاقت والا ہے اور بڑا مکار ہے اور اس کے پاس بہت فوج ہے جو مسیح کی مخالفت پر ملک یہودیہ میں ظاہر ہوئی۔

          اس کے سوا خدا کی بادشاہت  جہاں جاتی ہے وہاں شیطان کابڑا زور نظر آتا ہے  کہ آدمی کچھ ہوجائے  دنیا پر واہ نہیں کرتی مگر عیسائی ہو جائے تو اس پر چاروں طرف سے شیطان کے شاگردوں کا ہجوم اور بلوہ ہوتا ہے اس سے ظاہر ہے کہ ضرور مسیحی دین خداکا دین ہے اور اس کی مخالف کوئی روح ہے جو انسانوں کو ابھارتی ہے اور وہی شیطان ہے ۔

حاصل کلام

          شریر اول اور مبدا شرارت شیطان ہے لیکن اس کی شرارت  آدمی کی مرضی سے آدمی میں تاثیر کرتی ہے ۔

          آدمی کو چاہیے کہ اپنی حفاظت کرے اور اس سے بچنے کے لئے خدا سے پناہ مانگے۔

سوال

شیطان کس کی طاقت سے شرارت کرتا ہے ؟

جواب

          شیطان بھی ایک مخلوق ہے اور وہ بھی مجبور نہیں بلکہ فاعل  مختار پیدا کیاگیا تھا اس نے اپنے اختیار کو بیجا استعمال کیا اور مبداء شرارت  ہوکر ابدی سزا کا سزاوار ہوا اور اپنی نجات سے  مطلق مایوس  ہوا کیونکہ  خدا کی درگاہ سے اس پر قطعی سزا کافتویٰ لگ چکا ہے ۔ اس لئے وہ نیکی  کادشمن اور بدی کا دوست ہوگیا ہے۔اب اس کا مزہ اسی میں ہے کہ بہت سی روحوں کو اپنے ساتھ جہنم میں لے جانے کے بمصدق مرگ انبوہ جشنے وارد۔ اس نے قسم قسم کے جال دنیا میں پھیلائے ہیں اور آدمیوں  کو اپنی بدی پر نیکی کا ملمع لگا کے لبھاتا ہے اور یوں  پھنسا کے برباد کرتاہے۔

          جولوگ اس کے منکر ہیں وہ زیادہ تر خطرہ میں ہیں کیونکہ ان کے دل میں اس کا خوف نہیں رہتا اور نہ وہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں لہذا اس قسم کے لوگ نہایت آسانی کے ساتھ اس کے دام میں پھنس جاتے ہیں۔

          اور وہ خدا کی صفات متضاد ہ والا جان کر اپنی بد خواہشوں کو بھی  صفات متضادہ کا مظہر قرار دیا کرتے ہیں اور پھر گناہ کو گناہ نہیں جانتے اور بدی میں خوب کھیلتے ہیں۔

          پس بھايئو یقین جانو کہ تمہاری جانوں کا دشمن ایک شخص ہے جس کا نام شیطان ہے اور وہ بہت ہی زور آور روح ہے  اور بہتوں کو اس نے اپنا مغلوب کیا ہے اس سے بچنے کی اور کوئی راہ نہیں ہے  مگر ایک ہی راہ ہے اور وہ صرف مسیح ہے ۔ جو لوگ مسیح کے پاس شیطان سے پناہ لینے کو آتے ہیں  وہ بچائے جاتے ہیں۔ فقط۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا | Tags: | Comments (0) | View Count: (8511)

Post a Comment

English Blog