en-USur-PK
  |  
22

دشتِ کربلا اور کوہ کلوری

posted on
دشتِ کربلا اور کوہ کلوری

Kerbela & Calvary

The Comparison of Sacrifice
Jesus Christ & Imam Hussein

By

The Late Allama Barakat Ullah (M.A)

دشتِ کربلا اور کوہ کلوری

زمانہ کی گردش میں اسلامی قمری مہینوں کے تقرر کی وجہ سے بہت سالو ں کے بعد ایسا اتفاق بھی رونما ہوجاتا ہے کہ ایک ہی ماہ کے اندر مشرقی ممالک میں واقعات ِ کربلا اور کلوَری کی یاد منائی جاتی ہے۔ اور اہل ِ تشیعہ قتلِ حسین کا ماتم اس وقت کرتے ہیں جب کل عالم کے مسیحی بھی اپنے نجات دینے والے کی زندگی کے آخری ہفتہ کی پُر غم داستان کو تازہ کرتے ہیں۔

(۱)

سانحہ کربلا کے واقعات مختصراً یہ ہیں کہ جب یزید تخت ِ حکومت پر بیٹھا  تو اس نے اہل ِ مدینہ کو بیعت کے لئے کہلا بھیجا ۔لیکن امام حسین نے انکار کردیا اور مکہ چلے گئے۔اہل ِ کوفہ نے آپ کو لکھا کہ آپ آل ِ رسول ہیں ۔ آپ کی موجودگی میں کسی کا حق نہیں کہ خلافت کا دعویٰ کرے۔کوفہ ان دنوں میں عظیم الشان شہر تھا ,اور اس میں اتنی طاقت تھی کہ جس کے ساتھ ہوجاتا اس کی فتح یقینی تھی۔بصرہ سے بھی پوری امداد کی توقع تھی ۔پس امام حسین نے کوفہ جانے کا قصد کرلیا۔عبدالله ابن زبیر اور عبدالله ابن عباس نے رائے دی کہ کوچ نہ کیا جائے۔ابن عمر نے سمجھا کہ خدا نے رسول عربی کو دنیا اور آخرت کے اختیار کرنے میں مختار کیا تھا۔انہوں نے آخرت کو اختیار کیا تھا آپ ان کے لخت ِ جگر ہیں۔آپ  بھی دنیا کو چھوڑ کر آخرت کو ہی اختیار کریں۔لیکن امام صاحب نے عراق کی طرف جانے کا مصمم ارادہ کرلیا اور 10ذی الحجہ 59ھ کے روز معہ اہل ِ بیت کے 72 افرد (مرد عورت اور بچے اور 140فوجی جوانوں کے عراق کی طرف کوچ کیا۔

ادھر یزید نے عراق کے گورنر عبیدالله ابن زیاد کو حکم دیا کہ امام حسین سے جنگ کرے ۔اس نے عمر بن سعد بن ابی وقاص کو جرنیل مقرر کرکے بھیجا ۔اہل ِ کوفہ خائف وہراساں ہوگئے اور جن لوگوں نے آپ کو خلیفہ بننے کی دعوت دی تھی وہی اب یزید کےلشکر میں شامل ہوگئے۔کہتے ہیں کہ جب امام صاحب آگے بڑھے تو عرب کا مشہور شاعر فرزوق آپ کو ملا آپ نے اس سے پوچھا کہ اہل کوفہ کا کیا حال ہے اس نے جواب دیاکہ ان کے دل آپ کے ساتھ ہیں ان کی تلواریں آپ کے دشمنوں کے ساتھ ہیں اور قضا کا فیصلہ آسمان کے ساتھ ہے۔

یزید ی لشکر نہ صرف کوفہ میں بلکہ اطراف کے تمام ناکوں اور گھاٹیوں پر پھیل گیا تھا۔تاکہ امام صاحب کوفہ میں داخل نہ ہوسکیں ۔جب امام کربلا کے ریگستان میں پہنچے جو کوفہ سے دس میل کے فاصلہ پر لب ِ محرات واقع ہے تو عمربن سعد آگے بڑھا۔اس نے امام حسین کو یہ کہہ کر سمجھا یا کہ آپ کےوالد سے بھی خلافت نہ ہوسکی ۔اور ان کی زندگی جھگڑوں اور خرشوں میں ہی کٹی، آپ یزید کی جرار فوج سے مقابلہ نہ کرسکینگے ۔یہ سن کر امام حسین نے جواب دیاکہ خونریزی سے بچنے کے لئے میں تین باتیں پیش کرتا ہوں یا مجھ  کو مکہ واپس جانے اور رہنے کی اجازت دی جائے تاکہ بقیہ زندگی عبادت ِ الہٰی میں صرف کروں۔یا کسی دوسرے ملک کو چلے جانے کی اجازت دی جائے ۔یا مجھ کو خود دمشق میں یزید کے پاس جانے کی اجازت ملے۔عمر بن سعد نے کہا میں ان باتوں کی اطلاع عراق کے گورنر کو کردیتا ہوں۔پس کئی روز تک دونوں لشکر آمنے سامنے پڑے رہے۔آخر ابن زیاد نے جواب دیا کہ جب تک حسین پہلے میرے ہاتھ پر یزید کی بیعت نہ کرلے۔ اس وقت تک گفتگو بیکار ہے ۔اور ساتھ ہی عمر بن سعد کو ڈانٹا کہ میں نے تجھے حسین کا سر لانے کے لئے بھیجا تھانہ کہ مصالحت کی گفتگو کرنے کے لئے ،اور یہ حکم بھی لکھ  بھیجا کہ دریائے فرات پر فوراً قبضہ کر لیا جائے ،اور حضرت امام حسین اور اس کے اہل ِ بیت کو پیاسا مارا جائے۔امام حسین نے اعمداء کو مخاطب کرکے کہا کہ میں یزید کی بیت کا انکار کرنے کی وجہ سے مکہ چلا گیا تھا وہاں سے تم نے خط پر خط لکھے اور وفد پر وفد بھیجے اور اصرا کرکے مجھے خلیفہ ہونے کے لئے کوفہ بلایا۔اور اب جو میں آگیا ہوں تم میری جان لینے کے درپے ہوگئے ہو اگر تم میری مدد نہیں کرتے تو نہ سہی مجھے راستہ دے دو تاکہ میں مکہ واپس چلا جاؤں۔قیامت کے روز تم کو خود معلوم ہوجائیگا کہ خلافت کا حق کس کا تھا۔پھر آپ نے ان لوگوں کو نام سے پکا را جنہوں نے آپ کو خط لکھے تھے اور جب انہوں نے خط بھیجنے سے صاف انکار کردیا تو آپ نے ان کے خطوط نکال کر بآواز بلند سنائے لیکن دشمنوں پر ذرہ بھراثر نہ ہوا۔

قصہ کوتاہ جنگ چھڑ گئی گھمسان کی لڑائی ہوئی ۔امام صاحب کے فوجی جوانوں نے میدان کارزار میں داد شجاعت دی۔لیکن وہ معدودے چند آدمی تھے۔یزید کی فوج کثیر تھی۔ایک ایک کرکے سب ہمراہی مارے گئے ۔جب کوئی جان نثار باقی نہ رہا تو امام صاحب کے بیٹے، بھتیجے اور بھانجے لڑائی کے لئے نکلے لیکن وہ بھی کام نہ آئے۔ اب اما م صاحب اکیلے رہ گئے ایک طرف جان نثاروں کی لاشیں پڑی تھیں دوسری طرف بھائی، بیٹے ،بھتیجے ،بھانجے، خون میں نہائے پڑے تھےخیمہ کی طرف عورتوں کی زبانیں پیاس کی شدت سے نکل پڑی تھیں کیونکہ ان کو پانی کا قطرہ تک نصیب نہ ہوا تھا۔گرمی کا موسم ریگستان میں دھوپ کی تیزی خیمہ کے گرد خندق کی آگ کی لپٹ بچو ں کا ایک ایک کرکے قتل ہوجانا بیچاری عورتیں ضبط نہ کرسکیں ان کی آہ   وبکا کی جگر پاش آواز امام صاحب پر نہایت شاق گزرتی تھی عورتوں اور بچوں کے پاس سے بلکنے اور رونے کی آواز کو سن کر ایک قسی القلب نے کہا "تم رسول ﷺ کی اولاد ہو اب کیوں تمہارے لئے آسمان سے پانی کا قطرہ نہیں ٹپکتا ؟"امام حسین سے  رہا نہ گیا۔آپ نے بیساختہ اس کے حق میں بددعا کی کہ یا الله اس کو پیاسامار ،غرض 10محرم کے روز امام صاحب نے زرہ پہنی اور سب کو گریاں اور نالاں چھوڑ کر میدان ِ جنگ میں آئے اور بیشمار لوگوں کو قتل کر ڈالا ۔آپ کے جسم پر بھی تلواروں اور نیزوں کے 45 زخم آئے۔اور تیروں کے 35 زخم لگے جن سے خون بہ رہا تھا۔بالا آخر آپ مارے گئے ۔آپ کا سرکا ٹ لیا گیا۔اور آپ کے جسم پر گھوڑے دوڑادئیے گئے۔کوفہ کا لشکر فتح کے شادیانے بجاتا ہوا کربلا سے چل دیا۔آگے آگے امام صاحب کا سر تھا جو نیزے پر ٹنگا تھا پیچھے پیچھے اونٹ تھے جن کی ننگی پیٹھوں پر عورتیں تھیں جو رسیوں سے بندھی اور جکڑی ہوئی تھیں۔

(۲)

آپ نے واقعہ کربلا کو مختصراً سن لیا۔اب کوہِ کلوری کی جانب نظر اٹھائیں جہاں کلمة الله یعنی جناب مسیح کو صلیب دی گئی۔یہ جانکاہ واقعہ یوں پیش آیا کہ سیدنا مسیح کی بعثت کے وقت اہل ِ یہود قیاصرہ روم کے زیر نگین تھے لیکن وہ ہر وقت اسی کوشش میں رہتے تھے کہ جس طرح بن پڑے وہ رومی سلطنت کے پنجہ سے چھٹکارا حاصل کریں۔پس ان کے علماء اپنی صحف ِ مقدسہ کی غلط تاویلیں کرنے لگے جن کی وجہ سے عوام الناس ایک ایسے مسیح موعود کی آمد کی انتظار کرنے لگ گئے جو تلوار قتال اور جہاد کے ذریعہ ان کے دشنموں کو موت کے گھاٹ اتار کر ایک خود مختاریہودی سلطنت کی بنیاد ڈالے جب انہوں نے جناب مسیح کی مقناطیسی شخصیت اور خوارق ِ عادت معجزات کو دیکھا تو ان کے حوصلے بند ھ گئے۔ان کو از سر نو سلطنت کے خواب آنے لگے اور ان کی تمام امیدیں آپ کی ذات بابرکات سے وابستہ ہوگئیں۔

لیکن کلمة الله کی تعلیم نے اہل یہود کےعلماء کی غلط کاریوں اور گمراہ کن تاویلوں کو طشت ازبام کردیا۔اہل ِ یہود نے کوشش کی کہ آپ کو پکڑ کر زبردستی بادشاہ بنادیں (انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت یوحنارکوع 6  آیت 15) لیکن آپ نے یہ قبول نہ کیا اور ہر فرد بشر سے محبت کرنے اور الٰہی ابوت اور انسانی اخوت مساوات، محبت اور ایثار نفسی کی بناء پر حکمِ خداوندی دنیا میں قائم کرنے میں تمام عمر مشغول رہے۔

اہل ِ یہود کے سر کردہ لیڈروں نے دیکھا کہ سیدنا مسیح عوام الناس کے جذبات کو مشتعل کرنے کی بجائے ٹھنڈا کرتے ہیں اور ان کو قتل وخون پر آمادہ کرنے کی بجائے یہ تلقین کرتے ہیں کہ "اپنے دشمنوں سے محبت کرو۔بے عزت کرنے والوں اور ستانے والوں کے لئے دعا مانگو۔اپنے اور اعداء کا بھلا کرو۔جو تم پر لعنت کریں ان کے لئے برکت چاہو ۔جو تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دو، جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ سلوک کریں ویسا ہی تم بھی ان کے ساتھ سلوک کرو۔۔۔اگر آدمی ساری دنیا کے جاہ وجلال اور سلطنت کو حاصل کرلے اور اپنی روح کا نقصان کرے تو اسے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔اے لوگو قیصر روم کے سالار حکومت چلاتے ہیں اور امراء اختیار جتاتے ہیں لیکن جو تم میں بڑا ہونا چاہے وہ سب کا خادم بنے اور جو تم میں اول ہونا چاہے وہ سب کا خادم بنے ۔۔اے لوگوجو قیصر روم کا حق ہے وہ اس کو ادا کرو اور جو خدا کا حق ہے وہ خدا کوادا کرو۔۔۔۔خبرداداگر تمہارا بھائی تمہارا گناہ کرے اور توبہ کرے تو اسے معاف کرو اگر وہ ایک دن میں سات دفعہ تمہارا گناہ کرے اور ساتوں دفعہ تمہارے پاس آکر کہے کہ میں توبہ کرتا ہوں تم اسے معاف کرو۔کیونکہ اگر تم آدمیوں کے قصور معاف نہ کرو گے تو پروردگار بھی تمہارے قصور معاف نہیں کریں گے"۔

اس قسم کی تعلیم نے یہودی لیڈروں کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔سیدنا مسیح نے ان کی تاویلوں اور غلط کاریوں پر سے منافقت کا پردہ اٹھا کر ان کی خود غرضانہ چالبازیوں کا پول کھول دیا۔ پس انہوں نے آپ کے خلاف باہم مشورہ کیا اور کہا کہ ہم کیا کررہے ہیں، اگر ہم اسے یوں ہی چھوڑدینگے تو سب لوگ اس کی تعلیم پر ایمان لاکر ہمارے دشمنوں سے محبت کرینگے اور رومی بادشاہوں کا قبضہ ہمارے ملک اور قوم پر بدستور رہیگا۔بہتر یہی ہے کہ یہ شخص قتل کردیا جائے تاکہ اس کی تعلیم اور اس کا نمونہ ہماری خود مختار سلطنت کے قائم ہونے میں سدِراہ نہ ہوں "پس وہ موقعہ ڈھونڈھنے لگے کہ آپ کوکسی نہ کسی طرح خفیہ طور پر بغیر ہنگامہ کے فریب سے پکڑ کر قتل کر ڈالیں ۔پس سازش کرکے انہوں نے خفیہ احکام جاری کردئیے تاکہ اگر کوئی خبر پہنچادئے تو آپ کو چپکے گرفتار کرلیں۔

کلمة الله کے حواریوں میں سے ایک جو اہل یہود کے لیڈر وں کا ہم خیال تھا وہ ان کے ساتھ مل گیا۔ اس کو معلوم تھا کہ آپ آدھی رات کے وقت حسب ِدستور ایک باغ میں دعا کرنے میں مشغول تھے۔ جناب مسیح اس وقت جب خدا کی خلقت گہری نیند میں سورہی تھی اکیلے تن تنہا بارگاہِ الٰہی میں نہایت دلسوزی سے دعا مانگ رہے تھے کہ "اے پروردگار میری مرضی نہیں بلکہ آپ کی مرضی پوری ہو۔"دعا مانگتے وقت آپ کا مبارک پسینہ گویا خون کی بڑی بڑی بوندیں ہوکر زمین پر ٹپکتا تھا۔ ایک طرف آسمان سے ایک فرشتہ آپ کو دکھائی دیا جو آپ کو اس مشکل وقت میں تقویت دیتا تھا اور دوسری طرف آپ کا یہ شقی القلب حواری آپ کے دشمنوں کو لے کر وہاں پہنچ گیا ۔شور وغل کی آواز سن کر آپ کے حواری آپ کے گرد جمع ہوگئے۔ان میں سے ایک نے آپ کی اجازت حاصل کئے بغیر گرفتار کرنے والو ں کا مقابلہ کرنا شروع کردیا اور تلوار کا وار چلا کر ایک دشمن کا کان اڑادیا۔آپ نے اس کو تلوار کے استعمال سے منع کیا اور فرمایا کہ" تلوار کو میان میں رکھو کیونکہ جو تلوار کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائینگے۔ کیا تم نہیں سمجھتے کہ میں اپنے پروردگار سے منت کرسکتا ہوں اور وہ ستر ہزار سے زیادہ فرشتوں کی فوج میرے پاس ابھی موجود کردینگے"۔ یہ فرماکر آپ نے ازارہ ِ محبت زخمی کے کان کو اپنی طاقت اعجازی سے اچھا کردیا۔جب آپ کے حواریوں نے دیکھا کہ آپ گرفتار کر لئے گئےہیں تو وہ آپ کو اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئے۔یہود کے پیشواؤں نے گرفتاری کے بعد ہی رات کے وقت اپنی کونسل کا اجلاس منعقد کیا حالانکہ رات کے وقت ایسا اجلاس خلافِ شرع تھا۔وہاں انہوں نے یہ فیصلہ کیاکہ آپ پر بغاوت کا الزام لگایا جائے تاکہ رومی گورنر آپ کو قتل کرڈالے اور ساتھ ہی انہو ں نے آپ کوکافر قرار دے کر شرعی فتویٰ بھی لگادیا کہ آپ سزائے موت کے مستحق ہیں۔ حالانکہ فوری فتویٰ دینے کی شریعت میں سخت ممانعت تھی۔اگلی صبح انہوں نے آپ کو باندھ کر رومی گورنر کے سامنے پیش کیا اور آپ پر بغاوت کا الزام لگایا۔مقدمہ کی روئیداد سن کر گورنر نے آپ کو بے گناہ قرار دے دیا۔اس پر انہوں نے اس کو ھمکایا کہ اگر تو نے اس باغی کو چھوڑ دیا تو تیرے خلاف قیصر کے حضور شکایت کی جائے گی۔پس مجبور اور خائف ہوکر گورنر نے آپ کو صلیب دینے کا حکم صادر کردیا۔

موت کا حکم صادر ہوتے ہی آپ کےدشمن شادیا نے بجانے لگے ۔کانٹوں کا تاج آپ کےمبارک سر پر رکھا گیا۔ آپ کو طمانچے اور مکے مارے گئے ۔ آ پ کے منہ مبارک پر تھوکا گیا۔ آپ کو ٹھٹھوں میں اڑایاگیا،اور ہر ممکن طور سے آپ کو بے عزت کیاگیا۔لیکن آپ نے سب کچھ نہایت صبروسکون اور محبت سے برداشت کیا۔ آپ کے جسم ِ اطہر پر کوڑے لگوائے گئے ۔یہاں تک کہ آپ کی پیٹھ قیمہ ہوگی۔ تب آپ پر صلیب لادی گئی اور کشاں کشاں آپ کو کلوری پہاڑ پر لے گئے ۔ آپ کے مبارک ہاتھوں اور پاؤں میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔جب آپ کےہاتھوں اور پاؤں میں کیلیں ٹھونکی جارہی تھیں تو آپ نے اپنی جان کے پیاسوں کو مغفرت کا کلمہ سنایا اور ان کے حق میں دعا ئے خیر کی اور فرمایا "اے پروردگار ان کو معاف کردیجیے کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کررہے ہیں ۔"بالا آخر آپ کو مجرموں کی طرح مجرموں کے درمیان صلیب پر لٹکایاگیا ۔ آپ چھ گھنٹے ایسے درد ناک عذاب میں مبتلا رہے جس کے خیال ہی بد ن پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس حالت میں ایک طرف تماشائی آواز کستے تھے کہ "اس نے اوروں کو بچایا اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا۔ اب صلیب پر سے اتر آئے تو ہم اس پر ایمان لائیں۔اس نے خدا پر بھروسہ رکھا ہے اگر وہ اسے چاہتا ہے تو اب اس کو چھڑائے " دوسری طرف مصلوب مجرم کے جگر خراش طعنوں کی آواز آپ کےمبارک کانوں میں پڑتی تھی۔لیکن آپ اس جان کنی کی حالت میں ہر ایک کو دعا ئے خیر ہی دیتے تھے آپ نے دم واپسین تائب  مصلوب مجرم کو نجات کی بشارت دی اور فرمایا کہ "آج کے دن تم میرے ساتھ فردوس بریں میں ہوگے۔"آپ کی زبان مبارک پر آخری کلمہ یہ تھا "اے پروردگار میں اپنی روح آپ کے ہاتھوں میں سونپتا ہوں۔"

(۳)

اگر دشت ِ کربلا اور کوہ ِکلوری کے واقعات کا مقابلہ کیا جائے تو ذیل کے امور ہم پر روشن ہوجاتے ہیں:

اول۔اسلامی مورخین اور بالخصوص شیعہ اصحاب نے واقعہ کربلا کو موثر بنانے کے لئے مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے ۔مرثیہ خواں اس واقعہ کو نہایت رقت آمیز الفاظ میں رنگتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات تاریخی واقعہ اور افسانہ میں تمیز کرنا نہایت مشکل ہوجاتاہے ۔ لیکن انجیل نویس جناب مسیح کے صلیبی واقعہ کو نہایت سادہ الفاظ میں لکھتے ہیں۔جو تصنع سے یکسر خالی ہیں۔ان الفاظ کی خوبصورت سادگی واقعہ کی تاریخی وقعت کو کو دوبالا کردیتی ہے ۔انجیل نویس شرح اور بسط کے ساتھ جناب مسیح کی زندگی کے آخری ہفتہ کے واقعات کو بیان کرتے ہیں۔لیکن ان کے الفاظ نہ تو جذبات کو مشتعل کرنے والے ہیں اور نہ ان میں مبالغہ آمیزی اور رنگ آمیزی پائی جاتی ہے۔ان میں نہ تو آہ وبکا ہے نہ نوحہ اور ماتم ہے نہ گر یہ وزاری ہے۔نہ اثر ریزی کی کوشش ہے۔باجود ان تمام باتوں کے کلوری کا سانحہ جانکا ہ پڑھ کر انسانوں کے دلو ں پر رقت طاری ہوجاتی ہے۔ یہ رقت نہ تو عبارت کی خوبی کا نتیجہ ہے اور نہ رنگ آمیزی کا اور نہ جذبات کی برانگیختگی کا نتیجہ ہے۔انجیل نویسوں کی سادہ عبارت اور عام الفاظ میں وہ جادو بھرا ہے کہ گنہگاروں کے دلوں کی شقاوت اور قساوت دور ہوجاتی ہے۔یہ تجربہ کسی ایک ملک، قوم یا زمانہ تک محدود نہیں،بلکہ ہر  ملک، ہر قوم اور ہر زمانہ میں کروڑوں گنہگار اس واقعہ کو پڑھ کر اپنے گناہوں سے تائب ہوکر پروردگار کی طرف رجوع لائے ہیں۔

دوئم۔امام حسین     کے قتل کی بناء حصول خلافت کی خواہش تھی۔سیدنا عیسیٰ مسیح کے مصلوب ہونے کی بناء یہ تھی کہ وہ دنیاوی بادشاہ ہونا نہیں چاہتے تھے۔آپ کے ہمعصر یہو دایک دنیا وی بادشاہ کی جستجو میں تھے۔جو ان کو رومی فاتحین کے ہاتھ سے آزاد کرے اور دشمنان  ِدین کو تلوار کے گھاٹ اتارے ۔جب انہوں نے آپ کی شخصیت اور معجزات کو دیکھاتوانہوں نے زبردستی آپ کو بادشاہ بنانا چاہا لیکن آپ نے صاف انکار کردیا اور انکو ہکا بکا چھوڑ کر وہاں سے چلے گئے۔(انجیل شریف راوی حضرت یوحنارکوع 6  آیت 15)آپ نے قیصرِ روم کو خراج اداکرنے میں کچھ ہرج نہ سمجھا اور یہ تعلیم دی کہ "جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو"(انجیل شریف راوی حضرت مرقس 12  آیت 17)۔

جب آپ پر یہودی شاطروں نے چالبازی سے رومی گورنر کے سامنے یہ الزام لگایا کہ آپ یہودیوں کے بادشا ہ ہیں تو آپ نے جواب میں صاف فرمایا "میری بادشاہت اس جہاں کی نہیں "(انجیل شریف راوی حضرت یوحنا 18 آیت 26)۔اہل ِیہود نے چالبازی سے یہ الزام لگایا تھا کہ یہ شخص رومی سلطنت کے حق میں خطرناک ہے ، لیکن اصل  بات یہ تھی کہ آپ یہودیوں کے منشا کے مطابق بادشاہ بننے سے انکار کرتے تھے،اور درحقیقت رومی سلطنت کے لئے خطرناک نہیں تھے۔ رومی گورنر بھی یہ بھانپ گیااور اسی نتیجہ پر پہنچا اور  فیصلہ دیا"میں اس شخص میں کچھ قصور نہیں پاتا۔"

سیدنا عیسیٰ مسیح نے صاف بتلادیا کہ آپ کی بادشاہت دنیاوی بادشاہت نہیں بلکہ خالص روحانی بادشاہت ہے (انجیل شریف راوی حضرت یوحنا18  آیت 36-37)اور یہ کہ بادشاہت جو روظلم ،تعدی اور استبدار جدال اور قتال پر مبنی نہیں بلکہ محبت اور ہمدردی، حق اور عدل، فروتنی اور انکساری، خدمت اور چاکری پر قائم ہے ۔  ( انجیل شریف راوی حضرت یوحنارکوع 18 آیت 36،حضرت متی11  آیت 4،رکوع 18 آیت 3، رکوع 20  آیت 25 وغیرہ )۔

سوم۔سیدنا عیسیٰ مسیح نے بادشاہِ وقت کے خلاف لشکر کشی نہ کی بلکہ اس کے برعکس آپ کی تعلیم یہ تھی کہ "شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تمہارے دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی ا س کی طرف پھیر دو ۔اپنے دشمنوں سے محبت کرو، جو تم سے عداوت رکھیں ،ان کا بھلا کرو جو تم پر لعنت کریں،ان کے لئے برکت چاہو، جو تمہاری بے عزتی کریں ان کے لئے دعا مانگو "(انجیل شریف بہ مطابق روای حضرت متی رکوع 5   آیت 24، انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت لوقا 6  آیت 27)۔

آپ نے فرمایا کہ ہم ظالم کے ظلم کا جواب ظلم سے دے کر اس کے ظلم کو دفع نہیں کرسکتے بلکہ اسکے ساتھ نیکی اور بھلائی کرکے اس کے ظلم کو مغلوب کرسکتے ہیں۔

 جب سیدنا عیسیٰ مسیح کو گرفتار کیاگیاتو آپ کے حواریوں نے اپنے آقا ومولا کی جان کی حفاظت کی خاطر تلوار کھینچی ۔ان میں سے ایک نے تلوار سے آپ کے ایک دشمن کا کان بھی اڑادیا ۔ آپ نے یہ دیکھ کر اپنے شاگردوں کو منع فرمایااور زبان مبارک سے ارشاد کیا "اپنی تلوار کو میان میں کرو کیونکہ جو تلوار کھینچتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جائینگے۔کیا تم نہیں سمجھتے کہ میں اپنے پروردگار سے منت کرسکتا ہوں اور وہ بہتر ہزار فرشتوں سے زیادہ میرے پاس ابھی موجود کردیں گے؟(انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت متی 26  آیت 51) جس سے ظاہر ہے کہ گرفتاری کے نازک موقعہ پر بھی آپ نے اپنے کامل نمونے سے اپنی تعلیم پر عمل کر دکھایا اور یہ ظاہر کردیا کہ مدافعت اور مقابلہ کی قدرت رکھتے ہوئے بھی مظلوم کو ظلم کے طریقے استعمال نہیں کرنے چاہئیں بلکہ ظالم کے جوروجفا کی برداشت خاموشی، صبر اور محبت سے کرنی چاہئیے۔ آپ نے حواریوں کو حکم دیا کہ خواہ وہ قطعاً حق بجانب ہو ں تاہم ظلم کے وقت غیظ وغضب کا اظہار ہر گز نہ کریں اور رشتہ صبر وسکون ہاتھ سے نہ دیں اور انتقام کی قدرت رکھتے ہوئے غصہ اور غضب کو مغلوب کرکے اپنےدشمن کے ساتھ نیکی اور محبت سے پیش آئیں۔

پس جناب مسیح نے لشکر کشی اور جنگ وجدال وقتال کرنے کی بجائے شریر کا مقابلہ نہ کیا ۔مداخلت اور مقابلہ کی قدرت رکھتے ہوئے آپ نے نہ تو خود تلوار کا استعمال کیا اور نہ کسی دوسرے کو کرنے دیا۔آپ نے اپنی سی وسالہ زندگی میں کبھی کسی ایسی جمیعت  کی تنظیم نہ فرمائی جو آپ کے ماتحت تلوار کے زور سے کسی سے جنگ کرے یا اپنی حفاظت کی خاطر یا اپنی جماعت کی حفاظت کی خاطر کسی دشمن کی مدافعت کرے ۔ اس بات میں آپ دنیا کے تمام ناموروں سے ممتاز ہیں۔ دیگر مذاہب اور اقوام کے پیشوا تلوار کا استعمال کرتے رہے خواہ وہ جارحانہ غرض کی خاطر ہو یا مدافعانہ غرض کی خاطر ، امام حسین نے بھی دشت ِکربلا میں تلوار کا استعمال کیا۔ لیکن جناب مسیح نے کوہ ِ کلوری پر صرف روحانی زرہ بکتر لگائی ( انجیل شریف خط ِ افسیوں رکوع 6  آیت 12)"اور ابلیس کے منصوبوں کے مقابلے میں قائم رہے ۔  آپ نے بدی کا مقابلہ نیکی سے کیا اور یوں شیطانی طاقتوں پر فتح حاصل کی ۔

یہ ایک ایسا سبق ہے جو جنا ب مسیح نے کل دنیا کی مظلوم قوموں اور جماعتوں اور افراد کو سکھایاہے ۔کربلا کا واقعہ ثابت کرتا ہے کہ جوتلوار چلاتے ہیں وہ سب تلوار سے ہلاک کئے جاتے ہیں خواہ تلوار جارحانہ غرض سے چلے یا خواہ مدافعانہ نیت سے چلائی جائے ۔امام حسین      نے تلوار کا استعمال کیااور آپ یزید کے سپاہیوں کے ہاتھوں مارے گئے ۔ اس کے انتقام میں عبدالله بن زبیر سلیمان اور مختار ثقفی نے ان یزیدی سپاہیوں کو جنہوں نے آپ کے ساتھ جنگ کی تھی ،چن چن کر قتل کر ڈالا ۔جناب مسیح کا اصول ایک قانونی فطرت ہے جس سے کوئی شخص مستثنیٰ نہیں رہ سکتا کیونکہ انتقام کے جذبہ کی فطرت میں یہ بات داخل ہے لیکن اگر ظالم کامقابلہ نہ کیا جائے اور اس کے ظلم کے جواب میں اس سے نیکی کی جائے تو اس کا ظلم مستقل نہیں ہوتا بلکہ اس پر گویا ٹھنڈا پانی پڑجاتا ہے اور ظلم فرو ہوجاتا ہے ۔ظالم کا دل جو پہلے پتھر تھا اب موم کی طرح نرم ہوجاتا ہے۔خدا مظلوم کی نیکی کے ذریعہ ظالم کو نیک بنادیتا ہے ۔ کوئی زمانہ تھا جب مسیحیت کی اس تعلیم پر اعتراض کیاجاتا تھا ۔ لیکن جب سے ہندوستان نے مہاتما گاندھی کی زیر سر کردگی اس بات کا خود تجربہ کرلیا ہےتب سے ہر مذہب اور ملت نے یہ امر تسلیم کرلیا ہے کہ زریں اصول یہی ہے کہ "شریر کا مقابلہ نہ کرنا جوکوئی تمہارے دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیردو۔اپنے دشمن سے محبت کرو، جو تم سے عدوات رکھیں ان کا بھلا کرو او جو تم پر لعنت کریں ان کے لیے برکت چاہو اور جو  تمہاری بے عزتی کریں ان کے لئے دعا ِ خیر مانگو ۔"

چنانچہ لاہور کے مشہور اسلامی روزنامہ "زمیندار "نے ذیل کے الفاظ رقم کئے تھے "محکوموں کے پاس ضبط اور انضباط کے ساتھ ایثار وقربانی کی متحدہ طاقت کا مظاہرہ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے آگے بڑی  سےبڑی جاہ وجلال اور غرورونحوت والی حکومت گھٹنے ٹیک دیتی ہے اور نیاز مندانہ محکوموں کے آگے کھڑی ہوکر ان کی آرزؤں کا پورا کرنا تخت وتاج کی بقاء کے لئے ضرور سمجھتی ہے ۔"(17 نومبر  1929ء)

یہی وجہ ہے کہ جناب مسیح نے پکار کر فرمایا "اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے تو اپنی خودی سے انکار کرے۔"

چہارم۔دشت ِ کربلا میں ایک طرف یذید کی فوج ہے اور دشمنوں کے پرے کے پرے کھڑے ہیں ۔کوہ ِکلوری پر بھی ایک طرف قیصر روم کی فوج ہے اور دشمنوں کے جھنڈ کے جھنڈ کھڑے ہیں۔ لیکن جہاں ایک طرف کربلا میں امام حسین     اپنے دو سو بارہ جان نثاروں اور اہل ِ بیت کے ساتھ کھڑے ہیں وہاں دوسری طرف جناب مسیح اکیلے صلیب اٹھائے چلے آرہے ہیں۔کربلا اور کلوری دونوں جگہوں میں دشمنوں کے جگرخراش طعنے سنائی دیتے ہیں۔اگر کربلا میں ایک قسی القلب دشمن کہتا ہے کہ تم تو رسول کی اولاد ہو کیوں تمہارے لئے آسمان سے پانی کا قطرہ نہیں ٹپکتا ۔توکلوری سے بھی جناب مسیح کی آواز سنائی دیتی ہے کہ" میں پیاسا ہوں" جس کے جواب شقی القلب دشمن سر ہلا ہلا کر کہتے ہیں اس نے اوروں کو بچایا اپنے آپ کو نہیں بچاسکتا۔ لیکن کربلا سے ان طعنوں کے جواب میں دشمن کے حق میں دعا بد نکلتی ہے ، کہ "یا الله اس کو پیاسا مار ۔"روایت ہے کہ اس شخص پر تشنگی کا عذاب ہوا،اور اس کی یہ حالت ہوگئ کہ جتنا پانی پیتا تھا اتنی پیاس اور بڑھتی تھی ،اور العَطش العَطش کہتا مرگیا۔ لیکن کلوری کے پہاڑ سے طعنوں کے جواب میں جان کے پیاسے دشمنوں کے حق میں جناب مسیح کے منہ مبارک سے دعائے خیر نکلتی  ہے "اے پروردگار ان کو معاف فرمادیجئے کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں۔"( انجیل شریف راوی حضرت لوقا طبیب رکوع 23  آیت 34)۔صلیب پر آپ تائب چور کو تسلی دے کر فرماتے ہیں کہ " آج ہی تم میرے ساتھ فردوس بریں میں ہوگے "( انجیل شریف راوی حضرت لوقا طبیب رکوع 23  آیت 43)سخت دل رومی سپاہی جناب مسیح کے وطیرہ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اقرار کیا کہ بے شک آپ پروردگار کے محبوب ہیں ۔( انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت متی    رکوع 27   آیت 54)۔

امام صاحب کے نمونہ پر چل کے شیعہ حضرات چودہ سوسال سے آج تک دشمنان ِ حسین پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ یذیر کا نام"یذید لعین ،یذید پلید "پڑگیا ہوا ہے۔ لیکن مسیحی جنابِ مسیح کے نمونہ پر چل کر ان لوگوں کو بھول کر بھی کبھی برا بھلا نہیں کہتے جو آپ کی موت کے ذمہ وار تھے۔

پنجم۔دشت ِ کربلا میں امام حسین      کی موت ایک بہادر شجاع کی موت تھی جو دشمنوں کے نرغہ میں پھنسکر میدان ِ جنگ میں بہادری اور شجاعت کے حیرت انگیز کارنامے کرتا ہوا ماراگیا۔لیکن کوہ ِ کلوری پر جناب مسیح کی موت ایک حقیقی شہید کی موت تھی جنہوں نے اپنے اصولوں پر دلیرانہ قائم رہنے کی خاطر موت بلکہ صلیبی موت اختیار کی۔ آپ کی روحانی بادشاہت کی بنیاد جدال وقتال پر نہیں تھی بلکہ ایذا سہنے ایثار نفسی اور صلیب برداری پر مبنی تھی (انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت متی رکوع رکوع 10 آیت 38  ، انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت مرقس رکوع 9    آیت 23)۔

ششم۔جناب ِ مسیح نے خود اپنی موت کو اختیار فرمایا تھا (انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت متی رکوع 16  آیت 21، انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت مرقس    رکوع 10آیت 32  وغیرہ)لیکن امام حسین کی حالت میں کچھ ایسے اسباب پیدا ہوگئے جن کی وجہ سے آپ مقتول ہوگئے ۔ پس امام حسین کی موت ایک اتفاقیہ واقعہ تھا ۔اگر اما م صاحب کو معلوم ہوجاتا کہ اہل کوفہ آپ کے ساتھ غداری کرینگے تو آپ یقینا ً    مکہ سے باہر قدم نہ رکھتے۔ یہ محض ایک سوئے اتفاق تھاکہ انہوں نے عزیز واقارب کے مشورہ دینے کے باوجود اہل کوفہ پر اعتماد کرلیا اور ان کے خطوط اور سفارتوں پر بھروسہ رکھ کر مکہ سے نکل پڑے اور کربلا میں دشمنوں نے ان کو گھیر کر ان کا کام تمام کردیا اگروہ کوفہ کی طرف نہ جاتے تو ان کی موت کا حادثہ پیش نہ آتا۔

لیکن جناب ِ مسیح کی موت ایک اتفاقیہ امر نہ تھا۔اہل ِیہود کے پیشواؤں نے آپ کو اس وجہ سے مصلوب کروایا کیونکہ آپ اپنے اصولوں پر ثابت قدم تھے اور ان سے ایک رتی بھر جنبش نہیں کرتے تھے ۔ آپ کی موت کوئی اتفاقیہ امر نہیں تھی بلکہ وہ ایک ناگزیر امر تھا۔ ہاں اگرآپ اپنی جان بچانے کی خاطر اپنے اصولوں کو ترک کردیتے تو آپ صلیبی موت سے بچ سکتے تھے ۔ جس طرح آپ کے دشمن طعنہ دے کر کہتے تھے کہ اس نے اوروں کو تو بچایا لیکن اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا ۔ آپ نے اپنے آپ کو نہ بچایا کیونکہ آپ نے اپنے اصولوں کو نہ چھوڑا آپ نے سچ فرمایا تھا کہ  " آسمان اور زمین ٹل جائیں گے لیکن میری باتیں ہر گز نہ ٹلینگی ۔"( انجیل شریف راوی حضرت متی رکوع 24 آیت 35)پس آپ کی جوان مرگ کوئی اتفاقیہ بات نہ تھی بلکہ یہ ایک ایسا امر تھا جسکا وقوع میں آنا ضروری اور لازمی اور لابدی تھا۔

ہفتم ۔جناب ِ مسیح کی وفات لابدی اور ضروری امر تھا کیونکہ آپ  کی صلیبی موت نے خدا کی بادشاہت کا دروازہ تمام جہان کے عاصیوں کے لئے کھول دیا (انجیل شریف راوی حضرت مرقس رکوع 14  آیت 22-25)۔  آپ نے ارشاد فرمایا کہ "  میں اس لئے آیا ہوں کہ اپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیہ میں دوں"( انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت متی  رکوع  20   آیت 28) کوہ کلوری پر آپ کی صلیبی موت اور کل بنی نوع آدم  کی نجات میں علت ِ ومعلول کا رشتہ ہے (انجیل شریف  خط ِ اہل رومیوں رکوع  5   آیت 6-10 ،انجیل شریف  خط ِ دوئم اہل ِ کرنتھیوں  رکوع 5  آیت 14 ،انجیل شریف خط ِ اول حضرت پطرس  رکوع 3  آیت 18)تمام بنی نوع انسان کا مستقبل واقعہ صلیب سے وابستہ ہے کیونکہ اس صلیب سے ایسی طاقت اور قوت نکلتی ہے جو تمام شیطانی طاقتوں کو مغلوب کردیتی ہے۔مسیح مصلوب سے فضل اور توفیق حاصل کرکے ہر ملک قوم اور زمانہ کے کروڑوں گنہگار گناہ اور گناہ کی طاقت سے نجات اور رہائی پاکر خدا کے ساتھ از سر نو رفاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنی زندگیاں اپنے ہم جنسوں کی خدمت کی خاطر وقف کردیتے ہیں۔ حقیقت المسیح نے دنیا کی کایا پلٹ دی ہے۔ تاریخِ عالم دو حصوں میں تقیم ہوگئی ہے، یعنی زمانہ قبل از مسیح اور زمانہ بعد از مسیح ۔ لیکن دشت ِ کربلا میں امام حسین کی موت کا بنی نوع انسان کی دائمی بہبودی اور روحانی عروج اور گناہوں سے مخلصی پانے کے ساتھ کسی قسم کا واسطہ نہ تھا۔اہل یہود کے ایک نبی کے الفاظ کل دنیا کے شہدا میں سے صرف جناب ِ مسیح کی موت پر ہی لفظ بلفظ صادق آتے ہیں " وہ مرد غمناک اور رنج کا آشنا تھا ۔۔۔۔۔اس کی تحقیر کی گئی اور ہم نے اس کی کچھ قدر نہ جانی پھر بھی اس نے ہماری مشقتیں اٹھالیں اور ہمارے غموں کو برداشت کیا۔۔۔۔۔وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کیا گیا اور ہماری بدکرداری کے باعث کچلا گیا ۔ہماری ہی سلامتی کے باعث اس پر سیاست ہوئی تاکہ اس کے مارکھانے سے ہم شفا پائیں ۔ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ سے پھرا پر پروردگار نے ہم سب کی بدکرداریاں اس پر لادیں۔ وہ ستایاگیا تو بھی اس نے برداشت کی اور منہ نہ کھولا جس طرح برہ جسے ذبح کرنے کولے جاتے ہیں اور جس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والے کے سامنے بے زبان ہے اسی طرح وہ خاموش رہا۔ وہ ظلم کرکے اور فتوےٰ لگا کر اسے لے گئے پر اس کے زمانہ کے لوگوں میں کس نے خیال کیا کہ وہ زندوں کی زمین سے کاٹ ڈالا گیا؟میرے لوگوں کی خطاؤں کے سبب اس پر مار پڑی حالانکہ ا س نے کسی طرح  کا ظلم نہ کیا تھا۔اور اس کے منہ میں  ہر گز چھل نہ تھالیکن پروردگار کو پسند آیا کہ وہ قربان  ہوں ۔اس نے اسے غمگین کیا ۔۔۔۔۔اس کی جان گناہ کی قربانی کے لئے گزرانی جائیگی ۔۔۔۔خدا کی مرضی اس کے ہاتھ سے پوری ہوگی  اپنی جان کا دکھ اٹھا کر وہ اسے دیکھے گا اپنے ہی عرفان سےمیرا صادق خادم بہتوں کو راستباز ٹھہرائیگا  کیونکہ وہ ان کی بدکرداریاں  خود اٹھالیگا۔۔۔۔اس نے اپنی جان موت کے لئے انڈیل دی۔اور وہ خطا کاروں کے ساتھ شمار کیا گیا تو بھی اس نے بہتوں کے گناہ اٹھالئے  اور خطاکاروں کی شفاعت  کی۔"(کتاب مقدس صحائف  انبیا ء صحیفہ حضرت یسعیاہ  رکوع 53)۔

ہشتم۔امام حسین کی موت کی یادگار ہر سال نوحہ اور ماتم کرنے سے کی جاتی ہے لیکن جناب ِ مسیح کی صلیبی موت کی یادگاری شکر گزاری کے ساتھ کی جاتی ہے ۔ جناب مسیح نے اپنی موت کی دائمی یادگار میں وہ رسم مقرر کی جس کو کلیسانے "عشائے ربانی ،پاک شراکت یا پاک شکر گزاری "کا نام دیا ہے۔ جناب مسیح کی  موت کی یادگاری کے وقت تمام جہان کے مسیحی آہ فغان ،نالہ اور زاری ،نوحہ اور ماتم نہیں کرتے بلکہ  جناب میح کی موت کی یاد کرکے پروردگار کا شکر بجالاتے ہیں او راپنے مولا کی موت کی قربانی کے لئے اور اس فضل اور توفیق کے لئے  جو آپ کی صلیبی  موت سے ہم کو حاصل ہوتے ہیں پروردگار کا شکر کرتے ہیں اور آپ کی یادگاری سے اپنی روحوں کی تقویت اور تازگی پاتے ہیں  اور پروردگار کے رحم پر جو جناب مسیح کے وسیلے ہوتا ہے زندہ ایمان رکھ کر جناب مسیح کی موت کو شکر گزاری کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

نہم ۔امام حسین جب دشت ِ کربلا میں مارے گئے تو ہر فرزند آدم  کی طرح وہ سپر د خاک ہوگئے۔ اور روز حشرتک وہ سپرد خاک رہینگے۔ لیکن جنا ب مسیح  وفات کے بعد تیسرے روز مردوں میں سے جی اٹھے ۔ آپکی ظفریاب قیامت دنیا جہان کے تمام افراد سے نرالی ہے ۔ آفرینش  عالم سے لے کر روز حشر تک بنی نوع انسان کے لئے یہ قاعدہ کلیہ  ہے کل من علیھا  فان ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والا کرام کہ ہر فرد بشر جو مرگیا وہ مرگیا۔ اس قاعدہ کلیہ  سے سوائے جناب مسیح کے کوئی شخص مستثنیٰ  نہیں ہوا خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو۔تمام مذاہب  کے پیشوا انبیا اور اولیا اور امام مرگئے لیکن مر کر دوبارہ زندہ نہ ہوئے صرف جناب مسیح ہی ایک ایسے بشر ہیں جو مرگئے اور مر کردوبارہ زندہ ہوگئے۔

دہم۔چونکہ جناب مسیح زندہ ہیں اور ابدالاباد  زندہ رہینگے  لہذا وہ نہ صرف منجی عالمین ہیں بلکہ شفیع المذنبین  بھی ہیں۔ یہ امر ثبوت کا محتاج نہیں کہ جو شخص مرگیا اور مر کر سپرد خاک  ہوچکا ہے وہ کسی زندہ کی مانند نہیں ہوسکتا خود قرآن میں لکھا کہ جس طرح نابینا  اور بینا برابر نہیں اور اجالا اندھیرے کے برابر نہیں اسی طرح زندہ مردے کی برابر نہیں ہوسکتا۔پس کل دنیا کے انبیائے عظام، اولیا کرام اور امام ِہمام  جناب مسیح کے برابر نہیں ہوسکتے۔

جوکہ رتبہ ہے اس کو خدا سے ملا کسی اور نبی کوملاہی نہیں

وہ سب بحکم کل نفیس ذایقة الموت مرگئے لیکن مر کر دوبارہ زندہ نہ ہوئے۔ جناب مسیح ہی صرف ایک واحد ہستی ہیں او ریہ بظاہر ہے کہ صرف ایک زندہ ہستی ہی مدد کرنے پر قادر ہوسکتی ہے ۔پس جناب مسیح ہماری آزمائیشوں  کے وقت اپنے فضل کی توفیق  سے امداد بہم پہنچا کر ہر گز گنہگار  کی مشکلات کو حل کرنے پر قادر ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ گنہگاروں کے مددگار ہیں ۔آپ نے فرمایا  کہ" اے سب لوگو! جوگناہ  کے بوجھ سےدبے ہوئے ہو میرے پاس آؤ میں تم کو آرام دونگا"۔  آپ کے سوا کوئی  دوسرا شخص  گناہگار  کی مدد نہیں کرسکتا کیونکہ آپ کے سوا کوئی دوسرا شخص  ابدالآباد  زندہ نہیں ہے۔ پس آسمان  کے نیچے سوائے اسم اعظم  جناب مسیح کے بنی نوع انسان کو کوئی دوسرا نام نہیں بخشا  گیا جس کے وسیلے سے نجات حاصل ہوسکے (انجیل شریف اعمال ارسل رکوع 4  آیت 12)۔ جو اشخاص آپ کے وسیلے سے خدا کے پاس آتے ہیں خدا ان کو پوری پوری نجات دے سکتا ہے کیونکہ وہ انکی شفاعت  کے لیے ہمیشہ زندہ ہیں( انجیل شریف  خطِ عبرانیوں رکوع 7 آیت  28)۔ہر قوم، ملت ،قبیلہ ،ملک اور زمانہ کے لاتعداد  انسانوں کا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ میں مسیح میں جو مجھے طاقت عطا فرماتے ہیں سب کچھ کرسکتا ہوں۔

عشرہ کاملہ

ہم منجی عالمین کی پر جلال موت اور ظفریاب قیامت کے لیے خدائے واحد کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ا س کی عظمت ،حشمت ،سلطنت ،قدرت اور اختیار  اور جلال جیسا ازل سے ہے اب بھی ہو اور ابدالآباد رہے۔ آمین ۔

 


Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, نجات, اسلام | Tags: | Comments (0) | View Count: (7190)

Post a Comment

English Blog