en-USur-PK
  |  
22

خاتمُ النبیِن

posted on
خاتمُ النبیِن

For all the Prophets and the Law prophesied until John.

Matthew: 11:13

The Last Prophet

By

The Late Rev. Buta Mall

خاتمُ النبیِن

من تصنیف

 از پادری بوُٹا مل

1938

اعلان

          رسالہ خاتم النبین ایک تازہ تصنیف اورنیا مسیحی حربہ ہے۔ بائبل شریف کے مشرح حوالوں سے نبی آخر الزمان کے مسئلہ پر معقول بحث کی گئی ہے ۔ سارے رسالہ میں حتی الوسع ناظرین کے علمی اور تاریخی اور مذہبی  مذاق کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔

          ہم نے اپنی بحث کا انحصار بائبل شریف اور صحیح واقعات  اور عقل پر رکھاہے۔ رسالہ خاتم النبین خلوص دلی اور نیک نیتی سے لکھا گیا ہے۔ اور تعصب اور دلِ آزاری کی بوُ سے مبرا ہے۔

                                      المعلن : پادری بوٹا مل

                                       مبُشر  انجیل

                                                          چکوال


تمہید

    انسان مکاشفہ کا محتاج ہے ۔ انسانی عقل بدوں مکاشفہ بیکار اورالہیٰ راز وحقائق  کی دریافت میں ناقص اوربے بس ہے۔ عقل خداداد جوہر اور فطری افعام تو ہے اور اس حیثیت  میں وہ مکاشفہ کی معاون اور مددگار بھی ہے۔ تاہم انسان کی عقل اپنے محیط دائرہ کی حد کے باہر بدوں ہدایت ورہنمائی  کشف آسمانی لاچار اوربے پر ہے۔ اوراپنے پرواز میں کمزور اور ناتواں ہے۔ ذات ِ واجب لامحدود اوربے انداز ہے۔ اوراس کی دانش اور علم ِنہایت  عمیق اوراس کے فیصلے ادراک سے پر ے اوراس کی راہیں بے نشان ہیں۔"رومیوں ۱۱: ۳۳تا ۳۶۔ مگر انسان اس کی ایک مخلوق اورادنیٰ صنعت اوراپنے اخلاق کے عمیق  علم او رمرضی کی مشورت اور اس کے بھیدوں  کے جاننے کے لئے مکاشفہ کا محتاج اور دست  انکار ماندن کامصداق ہے۔ انسان کی ضمیر  کشف ِ آسمانی کی ذرا سی تمہید اور صبح صادق کی دھیمی  سی روشن  کی مثال ہے۔ اور آفتاب کی آمد کی تیاری  کا جرس ہے اوراس کانام باطنی  شریعت ہے۔ رومیوں ۲: ۱۴تا ۱۵ ۔ انسان کی ضمیر  خدا کی ہستی کا ابتدائی  اقرار ہے۔ اوراس امر کی گواہ ہے کہ خدا ہے اوریہ کائنات  اس کی صنعت  اور کاریگری ہے۔زبور ۱۹ ۔ اس سے آگے کارخاتمہ  قدرت کا نظارہ ہے۔ قدرت کا یہ کارخانہ طلوع آفتاب کے وقت کی روشنی کے برابر ہے۔ اور دن کے پہلے پہر کی طرح صحیفہ فطرت  اورایک عارضی مکاشفہ ہے۔ مگر جس کامل نور آفتاب نصف النہار میں جلوہ گرہوتا ہے ۔ اسی طرح الہیٰ رازوموز اور حقائق ومعارف وحی آسمانی کی روشنی کے بغیر  جانے نہیں جاسکتے۔ محض ضمیر  کی گواہی اور نظارہ قدرت حق شناسی اور روحانی حقائق  کی دریافت کے لئے بس نہیں۔ اس بات کے لئے  کامل مکاشفہ یا وحی آسمانی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ  روحانی باتیں  روحانی روشنی سے پرکھی جاتی ہیں۔ اور روحانی باتوں کا روحانی روشنی سے مقابلہ کیا جاتاہے۔ ۱کرنتھیوں  ۲: ۱تا ۱۶۔ اس واسطے اس بھید کے مکاشفے کے بموجب جو ازل سے پوشیدہ رہا  خدا نے اپنے پاک نبیوں کے وسیلے سے سب قوموں پر ظاہر کردیا۔ تاکہ وہ خدا کے ا س انتظام کو پہچان  سکیں  جو اُن کی نجات  کے بارے  میں تھا۔ رومیوں  ۱۶: ۲۵تا ۲۷۔ خدا کی مرضی  کی مصلحت  کا کامل  اظہار  اس سلسلہ کشف میں پایا جاتا ہے۔ جو بتدریج  بنی آدم کو ان نبیوں کی معرفت  حاصل ہوا۔ جو دنیا کے شروع سے ہوتے آئے ہیں۔ عبرانیوں ۱: ۱ تا ۲۔ اعمال ۳: ۲۰تا ۲۱ اور وہ لوگ روح القدس کی تحریک سے کلام کرتے تھے۔ ۲پطرس  ۱: ۲۱۔ اور وہ کلام اپنے اپنے  اوقات نزول میں لسان بشری کی صنعت  کے ہاتھوں  بتدریج  ضبط  تحریر  میں آتا گیا۔ اوراپنے کمال کے بعد مصاحف کی صورت  میں مخصوص  اورملہم  ہستیوں  کے طفیل  جمع ہوکر خدا کے لوگوں کی امانت  اور حفاظت  اور تفویض  میں رکھا گیا۔  اور وہ لوگ  خدا کے کلام کے امین اوراس کے بھیدوں کے مختار  قرار دئیے گئے۔ رومیوں ۳: ۲ کرنتھیوں  ۴: ۱ اس مجموعہ کشف  آسمانی کا نام بائبل  مقُدس ہے۔

          بائبل ۶۶ صحیفوں پرمشتمل ہے جو عبرانی اور یونانی زبانوں میں  مختلف  وقتوں اورجگہوں  میں عنقریب چالیس نادر اورملہم ہستیوں کے ہاتھ سے لکھے گئے ۔ جو تعلیم اور الزام اصلاح اور راستبازی میں تربیت  کرنے کے لئے  فائدہ مند ہیں۔ ۲تمطاؤس ۳: ۱۶۔

          اس رسالہ میں مکاشفہ کی ابتدا اور ارتقا ء  اورانتہا  پر معقول  بحث کی گئی ہے اوراس حقیقت  کا برملا اظہار کیا گیا ہے کہ سلسلہ نبوت  کا منصب  اورحق حضرت  ابراہیم  خلیل  الله سے  حضرت اسحاق  اور حضرت  یعقوب کی نسل کو ہی بخشا گیا ہے۔ اور وحی آسمانی کی امانت  کے لئے  صرف بنی اسرائیل  ہی مخصوص  ہیں۔ اور خاتم النبین  کا ظہور بھی اسی  موعود نسل سے ہونے والا تھا۔ اور وہ آخری  نبی سیدنا عیسی ٰ مسیح ہے۔ یوحنا ۶: ۱۴،  ۴: ۲۵۔ اسی آخری نبی نے  سلسلہ نبوت اور الہام پر یہ کہہ کر مہر ُ کردی کہ تمام ہوا۔ یوحنا  ۱۹:  ۳۰ اور جو انتظام خدا نے زمانوں کے پورا ہونے کا کیا تھا ۔ مسیح میں سب چیزوں کا مجموعہ ہوگیا۔"افیسوں ۱:۹تا۱۰۔

باب اوّل

سلسلہِ نبوت

          اگلے زمانے میں خدا نے باپ دادوں سے حصہ بہ حصہ اور طرح بہ طرح نبیوں کی معرفت  کلام کرکے اس زمانہ کے آخر میں ہم سے بیٹے کی معرفت کلام کیا۔ عبرانیوں ۱: ۱ تا ۲۔ کشفِ آسمانی کا یہ سلسلہ انسان کی ابتداء کے ساتھ اوراس کے برابر کےعہد کا سلسلہ ہے۔ یہ کہنا کہ بائبل کل کی کتاب ہے۔ نہایت ناواقفی کی دلیل ہے۔ بائبل  کا مکاشفہ  موسیٰ کےعہد سے ہزارہا سال پیشتر کا ہے۔ اعمال ۳: ۲۰۔ بائبل کا اپنا دعویٰ ہے۔ کہ وہ خدا کا ازلی بھید ہے اورانسانِ اول کی پیدائش کے ساتھ اس کشف کی ابتدا ہوئی اور جن پر وحی آسمانی کا نزول ہوا وہ دنیا کی ابتدا میں بنی آدم کے ہادی  او ررہنما قرار دئے گئے ۔ اس عہد میں انسان کی اصلی  حالت  اوراس کی برگشتگی  اور گناہ  کی علت  اور نتائج  اور خدا کے رحم کے عارضی  انتظام  اور وسائل  کے استعمال کا بیان ہے۔

          نبوت اور الہام کا وہ سلسلہ آدم سے حضرت  نوح تک کا زمانہ ہے۔ اور یہ اشاروں  اور علامتوں  کا عہد ہے۔ اس عہد میں خدا نے انسان کی اوائل  عمری کے باعث الہیٰ راز اور حقائق  کو اشاروں اور علامتوں  میں پیش کیا۔ نبوت کا وہ حصہ الہام کی درس گاہ کی ابجد  کی پہلی جماعت ہے اور بہت قلیل تعداد کے انسان ا س مدرسہ علم الہیٰ  کے طالب علم تھے اور اس حصہ  میں صرف  آدم اورہابیل  اورحنوک اورنوح کا ذکر قابل غور ہے۔

          طوفان نوح کے بعد نبوت کا ایک سلسلہ شروع ہوا ۔ اس سلسلہ   کا آغاز  ایک خاندان کے ابتدائی  حالات سے ہوا۔ یعنی خدا نے ایک  خاندان کو اپنے لئے مخصوص  کیا۔ اس خاندان  کا سراور اور سردار ابراہیم  ہے۔ جب نوح کی نسل بابل کے برُ ج بنانے میں ناکامیاب  رہ کر زمین  کے ہر حصے  میں پراگندہ  ہوگئی ۔ اور ان کی زبانوں میں اختلاف  پڑنے  کے باعث وہ لوگ نوح کے خدا کے بھول گئے اور مادی عناصر کی ہر شے کی پرستش  اور عبادت  بہ نسبت  اس خالق  کے جو ابد تک خدائے محمود ہے کرنے لگ پڑے۔ اور خدا نے بھی ان کو چھوڑ دیا کہ وہ اپنی اپنی راہ پر چلیں۔اعمال ۱۴: ۱۶۔ ابراہیم کی بلاہٹ  اس متروکہ دنیا کی تاریکی  کے وقتوں میں ہوئی جبکہ سب لوگ اندھیرے میں ٹٹولتے تھے۔ اس چھوڑی ہوئی دنیا اورجہالت  کے زمانے  میں ابراہیم کو ایک مشعل  قرار دیا گیا۔ ابراہیم کے ساتھ خدا نے بڑے  قیمتی وعدے کئے ۔ اور اس کو ساری  دنیا کے لئے برکت کا باعث بنایا۔

          عہدِابراہیم میں ختنہ کی رسم کی ابتدا ہوئی ۔پیدائش ۱۷: ۹تا ۱۴۔ قربانی کی عبادت کی رسم ابراہیم کو نوح کے عہد سے حاصل ہوئی ۔ جو سینہ بہ سینہ  نوح کے بیٹے سام کی نسل کے لوگوں کی معرفت  ابراہیم  کے عہد تک چلی آتی تھی۔ اس لئے ابراہیم  اپنی بلاہٹ  کے بعد اپنے سارے سفروں میں ہر کہیں  عبادت کا مذبح لیتا اورجہاں وہ اپنا ڈیرہ جماتا تھا وہاں قربانی کی رسم کے ساتھ خدا کی عبادت کرتا رہا۔ جو وعدے ابراہیم اوراس کی نسل  سے کئے گئے وہ ان لوگوں کی یاد سے  جاتے نہ رہے ۔ وہ ہمیشہ  ان وعدوں کے پورا ہونے کے دنوں کے انتظار  میں بیقرار رہے۔ نبوت کا یہ عہد چار سو سال کے عرصہ کا زمانہ ہے۔ ا س عرصے میں خدا نے ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے ساتھ آمنے سامنے  اور پردہ غیب اور فرشتوں کی وساطت  سے بھی کلام کیا۔ اورنبوت اورالہام کی برکت سے انہیں ایسا غنی اوربے نیاز  کیاکہ جو کلام ان کے منہ سے فرمایا گیا ان میں سے ایک بھی زمین  پر نہیں گری۔ پیدائش ۱۲: ۱تا ۴۔ ۲۷: ۲۹، ۴۷ پیدائش ۴۹ باب۔ ان چار سو سال کے ایام میں ابراہیم کی برگزیدہ نسل ختنہ اورقربانی کی رسموں کے علاوہ کسی اور شریعت کی قید اور پابندی نہ تھی۔ مصری غلامی کے دنوں میں تو وہ لوگ  قربانی کی عبادت  سے بھی محروم تھے۔ اس قسم کی عبادت کے فرض کے ادا کرنے میں وہ سخت  مجبور تھے۔ خروج ۸: ۲۶ ۔ اس زمانے میں بنی اسرائیل  کے پاس کوئی لکھی ہوئی کتاب یا صحیفہ نہ تھا۔ صرف خدا کے وعدوں کی یاد سینہ بہ سینہ  چلی آتی تھی۔ اور لوگ تقلید  کے طور پر یہوواہ کا نام لیتے تھے۔ نبوت کے اس حصے کو وعدوں کا زمانہ اور علم الہیٰ  اور الہام کی درس گاہ کی پرائمری  جماعتوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک خاندان کی برگزیدگی  کا بیان ہے۔ اور ابراہیم سے یوسف کی وفات تک لوگوں کا احوال اس عرصے میں پایا جاتا ہے۔ اس عہد کے بعد نبوت کے شرعی عہد کا آغاز  ہوا۔ اور اسے موسوی عہد نبوت کہا گیا ہے ۔ اس عہد کا آغاز موسیٰ کی بلاہٹ سے ہوا اور ملاکی نبی میں اس عہد کا خاتمہ ہوا۔ موسیٰ مصری غلامی کے ظلم کے ایام میں معجزانہ طور پر بچایا گیا۔ اور بنی اسرائیل  کے دشمنوں کے محلوں پر ورش پائی اور کامل تیاری کے ساتھ خدا کی اُمت کی رہائی کا وسیلہ بنا۔ حضرت موسیٰ نے کامل ایمان اور وفاداری کے ساتھ چالیس برس تک بنی اسرائیل  کی رہنمائی کی ۔ نبوت کا یہ عہد گیارہ سو سال کے عرصہ کا سلسلہ ہے۔ اس عہد میں موسیٰ کی مانند کوئی اور نبی بنی اسرائیل میں نہ اٹھا ۔ استشنا ۳۴: ۱۰۔ اس عہد میں ایک کامل شریعت  موسیٰ کی معرفت  کوہ سینا پر سے سنادی گئی جسے موسیٰ کی شریعت یا توریت کہا گیا ہے۔ جو پتھر کی لوحوں کے علاوہ مصاحف کی صورت میں تحریر  ہوکر بنی اسرائیل  کے کاہنوں اورلاویوں کے سپر د ہوئی۔استشنا ۳۱: ۹، ۲۴: ۲۶۔ خروج ۱۷: ۱۴، ۲۴: ۴تا ۷، ۳۴: ۲۷تا ۲۸۔ گنتی ۳۳: ۲۔استشنا ۲۸: ۶۱۔ اور ان کاہنوں اور لاویوں کو حکم ملا کہ اس شریعت  کوسارے لوگوں کو سکھائیں ۔ احبار ۱۰: ۱۱۔ استشنا ۳۴: ۹ تا ۱۳ ۔ موسیٰ کے بعد سب نبیوں نے ملا کی نبی تک موسیٰ کی شریعت کے ماتحت  اوراس کی حمایت میں نبوتیں کیں۔ ملاکی ۴: ۴۔ اس گیارہ سو سال  کے عرصہ میں کسی اور شریعت  اور آئین الہیٰ کا تذکرہ نہیں ہے۔سب کچھ موسوی شریعت  کے ماتحت تھا۔ توریت شریف کے ساتھ بہت سے صحیفے  بطور ضمیمہ کے کشف ِ آسمانی کی فہرست  میں درج ہیں۔ اس ضمیمہ  میں مزامیر اور نبیوں کے سب صحیفے شامل ہیں۔ نبوت کا عہد کئی حوادث سے پُر ہے اور پیشگوئیوں اور آئندہ  کی خبروں  سے بھرا پڑا ہے۔ اس عہد کے سب لوگ آگے کی طرف دیکھتے تھے۔ اور روحانی آرزوں کے لئے پیاسی  ہرنی کی طرح  جو میٹھے چشموں کی مشتاق  ہو تڑپ اور ترس رہے تھے۔ اس عرصے میں بنی اسرائیل  آخری نبی کے لئے دن رات  آسمان کی طرف نظر اٹھائے ہوئے  تھے۔ یوحنا ۱: ۱۹، ۲۱، ۲۵ ، یوحنا ۶: ۱۴۔ اور یہودی قوم کے علاوہ غیر قوم سامری بھی اس حقیقت کے قائل تھے کہ نبی آخر الزماں کی آمد قریب ہے یوحنا ۴: ۲۵تا ۲۶۔ نبوت کے اس سلسلے میں کمال  کی طرف بڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ کشف ِ آسمانی کا یہ حصہ الہام کے مکتب  میں مڈل  اورمیٹرک جماعتوں کے برابر ہے۔ اس مکتب  میں خدا نے گذشتہ  وقتوں اور زمانوں سے بڑھ کر اپنے طالبوں  کو نجات  کا علم اور ادراک بخشا اورلوگ خدا سے تعلیم پاکر اوپر چڑھنے کی تیاری کررہے تھے ۔ آخر میں نبوت کا دورِ جدید آگیا۔ سلسلہ نبوت کا دور جدید نئے عہد نامہ کے پاک فرشتوں کا زمانہ ہے اور یہ آخری  نبی کے ظہور اوراس کے اقوال اور افعال کا زمانہ ہے۔ اس عہد سے پہلے توریت  اور سب نبیوں  نے یوحنا تک  نبوت کی ۔ اوراس کے بعد خدا کی بادشاہت  کی بشارت  کی خوشخبری  کی ابتدا کی تب اس نے یہ کہا کہ وقت پورا ہوگیا ہے اورخدا کی بادشاہت  نزدیک آگئی ہے۔ توبہ کرو اورانجیل پر ایمان لاؤ۔ مرقس ۱: ۱۵۔ نبوت کا مسیحی عہد  الہام کا انتہائی  ارتقاء اور وحی آسمانی کی آخری منزل ہے عبرانیوں ۱: ۲۔ اور یہ عہد ِسلسلہ قدیم کا کمال اور خاتم ہے اور خدا نے مسیح میں ہوکے لوگوں سے کلام کیا۔اوراس کے حواری بھی اس کلام کے ماتحت  اسی سے الہام پا کر کلام کرتے اور خدا کی مرضی کا اظہار کرتے تھے ۔گلتیوں  ۱: ۱۱تا ۱۲۔ ۲پطرس ۱: ۲۱۔ آخر مسیح کے حواریوں نے اس سارے سلسلہ  الہام پر مہر کردی ۔ مکاشفہ ۲۲: ۱۸تا ۱۹۔ اور دنیا کے ایمان کی آزمائش کے لئے سیدنا مسیح کی دوسری آمد تک چھوٹے نبیوں کے لئے میدان خالی چھوڑ گئے ۔متی ۷: ۱۵، ۲۴: ۲۴تا ۲۵۔ ۲کرنتھیوں ۱۱: ۱۳تا ۱۵۔ نبوت کا یہ حصہ  انجیلی  بشارت کا عہد اور وحی آسمانی کا کالج او رکمال ہے جس میں الہیٰ  مکتب  کے کامل استاد نے وہ تعلیم دی جس سے فاضل یہودی  دنگ اور حیران رہ گئے  اورانہوں نے اقبال کرلیا کہ مسیح کا کلام بے مثل اور بے نظیر  کلام ہے۔ یہ حصہ الہام کی انتہائی  حد اور نجات کی ڈگری کی جگہ ہے۔

باب دوم

عہدہ ِ نبوت

          نبوت اور الہام کا منصب خدا کی طرف سے ایک افضل انعام ہے۔ قبل از طوفان ِ نوح ہم خاص دو شخصوں کو اس منصب پر ممتا ز پاتے ہیں اور دونوں کے حق میں یہ لکھا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ ساتھ  چلتے تھے۔ پیدائش ۵: ۲۲، ۶: ۹۔ پہلا شخص  آدم کی ساتویں پشت سے حنوک  نبی تھا۔ اس مردِ خدا کے حق میں توریت  شریف میں صرف اتنا بیان آیا ہے کہ وہ عمر بھرخدا کی رفاقت  میں رہا اور تین سو برس  نبوت کی خدمت  بجا لا کر اس دنیا سے غائب ہوگیا۔ پیدائش  ۵: ۲۵۔ حضرت حنوک کے بارے میں ایک اور بیان انجیل شریف میں اسی طرح آیا ہے کہ اس نے نبی آخرالزمان  کی جلالی آمد کی خبر دی۔ اور یہ فرمایا کہ دیکھو وہ ولاکھوں  مقدسوں کے ساتھ آتا ہے۔ یہوداہ ۱: ۱۴ آیت دوسرا شخص حضرت نوح نبی ہے جو آدم کی دسویں پشت سے پیدا ہوا ۔ انسان کی بدی کے انتہائی  دور میں  خدا کی طرف سے اس نبی کوبلاہٹ  ملی اوراس نے ۱۲۰ برس تک بدکار دنیا میں منادی کی ۔ اور خدا کے غضب کے اشتہار کے ساتھ خدا کے فضل اور رحمت کے وسیلے کو بھی پیش کیا۔ اس نے اپنی نبوت کے دنوں میں ایک کشتی تیار کی جس میں اس بدکار زمانے میں صرف نوح ہی کا خاندان داخل ہوکر طوفان سے بچ نکلا۔ اور نوح طوفان کے بعد ۳۵۰ برس زندہ رہا۔ ان آخری دنوں میں نوح کی نبوت کا بہت تھوڑا  بیان توریت میں ملتا ہے۔ اور وہ اس کے تینوں بیٹوں کے حق میں اس کا آخری پیغام ہے جو دنیا کے آخر تک  قائم رہیگا ۔ اور وہ بیان بائبل  کی صداقت  پر الہیٰ  مہر ہے۔ پیدائش ۹: ۲۵تا ۲۷۔ نوح کی وفات  کے بعد نئی اور تاریک دنیا میں نبوت کا عہدہ سام کی نسل سے حضرت  ابراہیم کو پہنچا اوراس نے  ۷۵برس  کی عمر میں  اس منصب  کو حاصل کیا۔اس سے پہلے وہ ملک ارام میں اپنے بُت پرست  خاندان میں بسر اوقات  کرتا تھا۔ ابراہیم کی اوائل  عمری کے حالات بہت کم روشنی میں آئے ہیں۔ اورجو قصے  اور فسانے اس کے حالات کے ساتھ منسوب  کئے جاتے ہیں  وہ ناقابل  اعتبار نہیں  اوروہ بیانات  الہامی بیان سے مطابقت  نہیں رکھتے اورجو حالات  توریت شریف  میں الہام  سے حاصل ہوئے  ۔ انہی پراعتبار اور وثوق  قائم کیا جاسکتا ہے۔ ابراہیم  اوراس کے خاندان اور برگزیدہ  نسل کے حالات  بائبل کی پہلی کتاب مسمی بہ پیدائش  کے بارہویں  باب سے شروع ہوتے ہیں ۔ یہ شخص ۸۶برس کی عمر تک بے اولادرہا۔ اوراس عمر میں اس کی بیوی  سائرہ کی کنیزہ حاجرہ سے ایک لڑکا ابراہیم  کی صلب سے پیدا ہوا اوراس کا نام اسماعیل  رکھا گیا۔ اسماعیل  کی پیدائش  جسمانی تدبیر اور انسانی مشورت سے ہوئی ۔ اس لئے یہ تجویز  ابراہیم  کے خاندان کے حق میں مفید ثابت  نہ ہوئی ۔ بلکہ اس ناقص تجویز  کے باعث  ابراہیم  کے خاندان میں پھوٹ  اور نااتفاقی  پیدا ہوگئی ۔ آخر خدا کے حکم اور اجازت  سے سائرہ کی باندی ہاجرہ اور اس کا بیٹا ابراہیم  کے گھر سے نکال دئے گئے ۔ اور ابراہیم کا موعود بیٹا اسحاق جو اس کی ۱۰۰برس کی عمر میں حضرت سائرہ سے پیدا ہوا۔ ابراہیم کی سب  چیزوں کا وارث بنا۔ اسحاق کی پیدائش کے وقت  سائرہ کی عمر ۹۰برس کی تھی۔ اس عمر میں  عورتوں کی معمولی عادت نابود ہوجاتی ہے اور سائرہ کا بھی یہی حال تھا۔ اس صورت میں اسحاق  موعود کی پیدائش معجزانہ تھی۔ اور وہ ابراہیم کے بعد سلسلہ  نبوت کا ولی عہد مقرر ہوا۔ پیدائش ۱۷: ۱۹تا ۲۱۔ ۲۱: ۱۲۔ اسحاق کی سوختنی  قربانی سے خدا نے ابراہیم  کے ایمان کی آزمائش کی اور وہ آزمائش  میں کامل نکلا اور ۱۷۵ برس کی عمر پاکر  ابراہیم نے رحلت فرمائی ۔ اورنبوت کی خلافت کا رتبہ اپنے موعود فرزند اسحاق کو سونپ گئے۔ اور نبوت  کی گدی ہمیشہ کے لئے اسحاق کی برگزیدہ نسل کی میراث  ہوگئی ۔ اور ابراہیم نے اپنا تمام مال اورمتاع بھی اسحاق کو دے دیا۔ پیدائش  ۲۵: ۵تا ۱۱۔ اسحاق نہایت سعادت مند انسان اور مردِ خدا تھا۔ اورخدا کے وعدوں پر اسے پورا بھروسہ اور اعتماد تھا۔ وہ اپنی تمام حیات  کے دنوں  میں خدا کی ہدایت  پر چلتے رہے۔ اور خدا نے ابراہیم کی طرح اس کے ساتھ بھی بڑے  قیمتی  وعدے کئے اور زمین کی ساری نسلوں کے لئے اس کو برکت  کا باعث ٹھہرایا ۔ پیدائش ۲۶: ۳تا ۵، ۲۴: ۲۵۔ اسحاق  نے اپنے جیتے جی اپنے بیٹے یعقوب کو برکت دی اوراسے حق وراثت  کا شرف بخشا ۔ حضرت ابراہیم  کی طرح اسحاق کے بھی دو فرزند تھے ۔ جو ربقہ کے بطن سے توام تولد ہوئے اور اسحاق  کے پلوٹھے کا نام عیساؤتھا۔ عیساؤ نے روحانی  نعمتوں کی قدر نہ کی جس کے باعث وہ روحانی حق ِ وراثت سے محروم رکھا گیا۔ اورپلوٹھے ہونے کے حق سے گرادیاگیا۔ اور حضرت یعقوب برگزیدگی کے طفیل اپنے آباؤ اجداد کی نبوت کی گدی پر قائم ہوگیا۔ اور الہام ِنبوت کے جلیل  عہدہ پر ممتاز کیا گیا یعقوب کی ساری حیات میں خدا اس کے ساتھ رہا۔ اوراسے بڑی برکت دی۔ اوراس کے ساتھ بھی اس کے باپ اور دادا کی طرح بڑے بڑے  وعدے کئے ۔ اس کو اسرائیل  کا خطاب ملا۔اور وہ ایک بڑی امت کا باپ بنا۔ اور اس کی نسل سے انبیاء  کا ظہور ہوا۔ اس نے اپنی وفات  سے پہلے  خدا سے الہام پاکر اپنے بیٹوں کے حق میں وہ باتیں  بیان کیں جو دنیا کے آخر تک  سب پشتوں اور ہر زمانے میں پوری ہوتی آئی ہیں ۔ اور کئی  ایک باتیں  ایسی ہیں جو ہنوز  ظہور میں آنے والی ہیں ۔ پیدائش  ۴۹باب ۔ بوقت  وفاتِ حضرت  یعقوب ملک مصر میں مسافر تھے اور آخر ۱۴۷برس کی عمر پاکر  اس دارِفانی  سے کوچ کیا اور اپنی اولاد کو اپنے عزیز  بیٹے یوسف کے سپرد کر گئے ۔ اور حضرت یوسف نے بھی دیر تک  مصر میں حکمران رہ کر ۱۱۰ دس برس کی عمر میں اپنے باپ داددوں کی راہ اختیار کی اور وفات پاگئے ۔ یوسف کی وفات  کے بعد بنی اسرائیل  کئی پشتوں  تک مصر میں رویا اورہدایت ِ آسمانی  کے بغیر رہے۔ اس عرصے میں بنی اسرائیل  مصری غلامی  کی آگ  میں جھونکے گئے ۔ آحر خدا نے ان کے دکھو ں کو یاد کیا ۔ اور حضرت موسیٰ  کو ان کی رہائی کا وسیلہ بنایا جو بڑی  تیاری کے ساتھ نبی کے عہدہ پر بحال کیا گیا اورچالیس سال نبوت کا کام کرتا رہا۔ حضرت موسیٰ  اسی برس کی عمر میں عہدہ نبوت پر مقرر ہوا۔ اوران کی معرفت  کوہِ طور  پر ایک  کامل شریعت  بنی اسرائیل  کو دیگئی اور حضرت موسیٰ نے  خدا سے الہام پاکر ایک بڑا ہم کا انجام دیا اور دنیا کی ابتدا سے اپنی وفات تک حالات کو قلمبند کیا۔ اس مجموعہ الہامات کا نام توریت شریف ہے۔ اپنی عمر کے آخری چالیس  سال حضرت موسیٰ خدا اور بنی اسرائیل  کے درمیان وکالت اور شفاعت  کے کام میں لگا رہا۔اوراپنی حین حیات  ہی میں یشوع بن نون کو اپنا جانشین مقرر کرکے  اور کوہ ِ پسکاہ پر سے  ملک موعود کا نظارہ پاکر  اپنے آباؤ اجداد  میں جاملے۔ استشنا ۳۴:۵۔ یشوع بن نون  کا تقرر اور مخصوصیت  الیفر کاہن اور بنی اسرائیل  کی ساری جماعت  کے روبروحضرت موسیٰ کے ہاتھ رکھنے  سے ہوئی اور موسیٰ نے یشوع کی تقرری  کے وقت خدا کے حکم اور ارشاد کے مطابق  ایک ضروری  اورمناسب  وصیت  بھی کی تاکہ  وہ اپنے عہد ہ نبوت  کی ذمہ داری  کو وفاداری  سے پورا کرے ۔ گنتی ۲۷:  ۱۹تا ۲۷۔ یشوع نے ۲۶سال تک نبوت کا کام انجام دیا اورملک  کنعان کی فتح اور تقسیم کے بعد سکم میں بنی اسرائیل  کو آخری نصیحت  فرما کر دنیا کو چھوڑ گئے۔اس کی ساری عمر  ۱۱۰ برس کی تھی ۔ یشوع ۲۴: ۲۹۔ یشوع کی وفات سے ملاکی نبی تک قریباً ایک ہزار سال کا عرصہ ہے۔ اس عرصے میں بنی اسرائيل  کے درمیان بہت سے نبی یکے بعد دیگرے  مبعوث ہوتے رہے۔ اوراپنے اپنے عہدہ  نبوت میں  بڑی سرگرمی  اور وفاداری  سے خدا کے پاک پیغام بنی اسرائیل  کو دیتے رہے۔ اور بعض  موقعے  ایک ہی وقت میں بہت سے نبی اکٹھے اورہم عصر رہے اور یہوداہ اور بنی اسرائیل کی سلطنتوں  میں علیحدہ  علیحدہ  نبوت کرتے رہے ۔ ان نبیوں میں سے بعض  کی کتابیں  بعد تحقیق  کے الہامی سلسلے میں شامل ہیں اور کئی  ایک کی نبوتیں  بنی اسرائیل  اور یہوداہ کے بادشاہوں کی الہامی تاریخ میں درج ہیں اور ان تاریخ کی کتابوں کو بھی ان میں سے بعض نبیوں ہی نے خدا  سے الہام پاکر لکھا۔ نبیوں کے اس بڑے  سلسلے میں  داؤد اور سلیمان بادشاہت  کے منصب پر  بھی ممتاز تھے۔ حضرت داؤد کی نبوت کا الہامی  مجموعہ مزامیر  کی کتاب ہے اور حضرت سلیمان کے نوشتے بھی خدا کی ازلی دانش اورحکمت کے جواہر ریزے  ہیں۔ ملاکی نبی کی وفات کے بعد  عنقریب ۴۰۰ سو سال تک بنی اسرائیل  میں الہام اور کشف  ِ آسمانی کا سلسلہ بند رہا اور نبوت  کے فیض اور انعام سے بنی اسرائیل  محروم ہے۔ اس عرصہ میں بنی اسرائیل  فارسی حکومت  سے نکل کر یونانیوں اور رومیوں کی حراست میں تھے۔ گواس عرصہ میں بنی اسرائیل  غیر اقوام سے سخت ستائے گئے تو بھی وہ نبوت  کے دور جدید کے دنوں کے انتظار میں بڑے بیقرار تھے۔ اور آسمان کی طرف آنکھیں اٹھائے ہوئے  آخری نبی کا انتظار کرتے تھے۔ لوقا ۱۰: ۳۴۔ اس عرصہ کے آخری دنوں میں ایک ایسا شخص یہودیہ کے بیابان میں آکھڑا ہوا۔ جس کی نسبت  بعضوں نے گمان کیا کہ وہ مسیح موعود اور آخری  نبی ہے۔ مگراس نے خود اپنے حق میں یہ گواہی دی کہ میں اس کے آگے بھیجا گیا ہوں۔ اورکتُبِ مقُدسہ کے  الہامی  پیغام کے مطابق  اس کاایک  رسول اور بیابان میں پکارنے والے کی آواز ہوں یہ شخص  نبوت کے دور  قدیم کا خاتمہ اور نبوت کے دور جدید کی تمہید قرار دیا گیا۔ یہ زکریا کاہن کا اکلوتا بیٹا اور ہارون  کی نسل  سے تھا۔ اس شخص کی نسبت  سیدنا مسیح کی یہ گواہی ہے کہ توریت  اور سب نبیوں نے یوحنا تک نبوت کی ۔ متی ۱۱: ۱۱ یہ نبوت کے عہد قدیم کے سب نبیوں سے افضل مانا گیا۔متی ۱۱: ۱۳ اور جبرائیل کے قول کے مطابق اس نے اپنی نبوت کے ایام میں آخری نبی کے لئے ایک بڑی جماعت تیار کی ۔لوقا ۱: ۱۶ اس کا نام یوحنا بپتسمہ دینے والا ہے۔

          نبوت کے دور ِجدید میں یوحنا بن زکریا اور ایلیاہ نبی کا مثیل تھا اور مسیح موعود کے آگے راہ تیار کرنے کے لئے خدا کی طرف سے  نبوت کے جلیل  منصب پر ممتاز ہوا ۔وہ مسیح کے حق میں یہ گواہی دے کر کہ وہ مسیح موعود اور نبی آخر الزمان ہے ایک ادومی حاکم ہیرودیس کے حکم سے قتل ہوگیا۔ اور یوحنا کے قتل کے بعد اس کے سب پیرو مسیح کے دربار میں حاضر ہوگئے ۔ اوراپنے  استاد کی گواہی کے مطابق  سیدنا مسیح کے مسیح موعود ہونے کے قائل  ہوکر اس کی تعلیم اور کاموں کے آگے  جھک گئے ۔ اورانہوں نے  اقرار کیا اورایمان لائے۔ کہ سیدنا مسیح مسیح موعود اورآخری نبی ہے۔ بائبل کے سارے سلسلے میں نبوت کا کمال اور خادم سیدنا مسیح ہے۔  وہ پیدائشی  مسیح اور نبی ہے اور سب انبیاء سے قدیم ہے۔ یوحنا ۸:  ۵۸ اور ازل سے  اس عہدہ نبوت کے لئے  خدا کا ممسوع ہے۔ یسعیاہ ۶۱: ۱تا ۲ ۔ اور سلسلہ قدیم کے سب نبیوں  نے اس سے الہام حاصل کیا۔ ۱پطرس  ۱: ۱۰ تا ۱۱ ۔ اور خدا کا کلام اس کے منہ میں تھا۔ استشنا ۱۸:  ۱۵تا ۱۹۔ یوحنا ۷: ۱۶۔ ۸: ۲۸۔ ۱۲: ۴۹۔ ۱۴: ۱۰تا ۲۴۔

          اور جو پردہ پرانے عہد نامہ کے پڑھتے وقت لوگوں کے دلوں پرپڑا رہتا تھا۔ وہ مسیح کی نبوت کے کمال میں اٹھ گیا۔ ۲کرنتھیوں ۳: ۱۵تا ۱۶۔ افسیوں ۳: ۱تا ۵۔سیدنا مسیح کے صعود کے بعد اس کے مقُدس حواری اس سے الہام پاکر اس کے کلام کو روح القدس کی تحریک سے پیش کرتے تھے۔ ۲پطرس  ۱: ۲۱۔ اورجس طرح  نبوت کے دورِ قدیم میں سب نبی  موسوی عہد کے ماتحت  نبوت کرتے تھے ۔ اسی طرح  نبوت کے مسیحی دور میں مسیح  کے حواری اوران کے علاوہ  اور لوگ  بھی عیسوی  نبوت  کے کمال کے زیر سایہ  نبوت  کی خدمت  انجام دیتے تھے۔ اعمال  ۱۱:  ۲۷تا ۲۸۔ افسیوں ۴: ۱۱۔ اعمال ۱۳: ۱۔۲۱ رومیوں  ۱۲: ۶ کرنتھیوں ۱۴: ۱۔ اور آخری مقدس حواریوں کی موت کےساتھ عہدہ  نبوت کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ اورہمیشہ کے لئے حکم آگیاکہ اب نبوت ختم ہے۔ مکاشفہ ۲۲: ۱۸تا ۱۹۔

باب سوم

نبی آخری الزمان کے حق میں پیشگوئیاں

          توریت اور نبیوں کی کتابوں میں جو خبریں  آخری نبی کے حق میں آئی ہیں ان کے مفصل  بیان کے لئے ایک ضیغم کتاب درکار ہے۔ان میں بعض خبریں علامتوں اور پیش نشانیوں کے طور پر مقدس نوشتوں میں پائی جاتی ہیں قربانی کی رسم ونوح کی کشتی ۔ بیابان میں من کابرسنا  چٹان سے پانی کا نکلنا۔ فتح کا برہ ، بادل کا ستون، سات شمعدان یہودی مقدس پیتل کا سانپ وغیرہ سب آنے والی حقیقتوں کی علامتیں او رپیش نشانیاں تھیں۔اور بعض پیشگوئیوں کی صورت میں کلام الله کے متن میں موجود ہیں اور نبی آخرالزمان کے حسب نسب  اور پیدائش اور اس کے اقوال اورافعال کے متعلق  صاف اور صریح خبریں ہیں۔ اور وہ ایسی روشن اورنمایاں نبوتیں  ہیں جو مزید تاویل اور تشریح کی محتاج نہیں آدم اورنوح اور ابراہیم اوراس کی نسل سے جوعدہ کئے گئے ۔ اورجن کا نمایاں  صریح بیان توریت شریف میں پایاجاتاہے۔ان سب کا تعلق آخری نبی یا مسیح موعود کے ساتھ ہے۔ دیکھو پیدائش  ۳: ۱۵، ۹: ۲۷، ۱۲: ۱تا ۳۔ ۱۲: ۱۸، ۲۶: ۴، ۲۸: ۱۴، ۴۹: ۱۰ ، ۲۱: ۱۲ وغیرہ ۔

          حضرت موسیٰ نے نبی آخر الزماں کے حق میں یہ خبردی کہ وہ میری مانند ایک نبی ہوگا۔ اور خدا کاکلام اس کے منہ میں ہوگا۔ اور اس کامنکر اور جو اس سے منحرف ہوگا وہ ہلاک کیا جائیگا۔ استشنا ۱۸: ۱۵تا ۱۹۔ موسیٰ سے یحییٰ تک سب نبیوں نے مسیح کے حق میں نبوتیں کیں متی ۱۱: ۱۳۔ اور جیسا نبیوں نے پیشتر مسیح کے حق میں خبریں  دیں بعینہ اسی طرح پوری ہوئیں۔ لوقا ۲۴: ۲۷، ۴۴ ۔آخری نبی کی پیدائش  کی جگہ اورمعجزانہ  تولد کا بیان میکاہ اور یسعیاہ نبی نے اپنی نبوتوں  میں کیاہے ۔ میکاہ ۵: ۲۔ یسعیاہ ۷: ۱۴۔ یسعیاہ نبی نے مسیح کے کمال کو اس طرح پیش کیا ہے کہ ہمارے لئے  ایک لڑکا تولد ہوتا ہے اورہم کو ایک بیٹا بخشا گیا ہے اور سلطنت  اس کے کندھے پر ہوگی اوراس کا نام عجیب مشیر خدا کے قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شہزادہ ہے۔ یسعیاہ  ۹: ۵تا ۶ ۔ لڑکا تولد سے تعلق رکھتاہے۔ یہ مسیح کی انسانیت  کا بیان ہے۔ بیٹا بخشا گیا ہے بیٹا ازلی مولود ہے۔ یہ بیان مسیح کی الوہیت  سے تعلق رکھتاہے۔ مسیح کے کاموں اور اس کے دکھوں کا بیان حضرت داؤد نے زبور میں اور یسعیاہ اور زکریا اور دانی ایل  نے کیا ہے ۔ وہ مسیح ناصری ابن مریم کےسو ا کسی اور شخص  پر عائد نہیں ہوسکتا  اورنہ ہی دنیا کی کوئی تاریخ  کسی اورایسے شخص کا پتہ دیتی ہے جس پر یہ حادثہ واقع ہوا ہو۔ یسعیاہ ۵۳با ب زبور ۲۲ دانی ایل  ۹: ۲۴تا ۲۷۔ زکریا  ۱۳: ۷۔یسعیاہ  نبی کو یہودی  عہد کا انجیلی  مبشر کہا گیا ہے۔اس نے مسیح موعود کو ایسے  طور سے پیش کیا ہےکہ وہ گناہ کےفدیہ میں موت  کے گھاٹ اتارا گیا ۔ مسیح موعود  یا آخری نبی کی تمام سوانح حیات  کتُب ِ عہد عتیق  میں پائی جاتی ہے۔ اور سیدنا مسیح نے اپنے جی اٹھنے  کے بعد اپنے حواریوں کے سامنے  تمام پاک  نوشتوں  کی تفسیر  اور تشریح  کردی اوران پر یہ ظاہر کردیاکہ کشف ِ آسمانی کا سارا بیان  میرے حق میں لکھا گیا تھا۔ لوقا  ۲۴:  ۲۷، ۴۵، ۴۷۔ اوراپنی موت سے پہلے بھی سیدنا مسیح  نے کئی دفعہ  یہودی عالموں اور اپنے حواریوں  اور سب پیروؤں کو علانیہ  کہہ دیا تھاکہ  موسیٰ اور سب  نبیوں  نے میرے حق میں خبریں دی ہیں۔ یوحنا ۵: ۴۵تا ۴۶۔ اورایسا ہی مسیح کے حواریوں  نے بھی اس کے صعود کے بعد دنیا کے سامنے یہ گواہی دی کہ یہودی  کتُب مقُدسہ  کا سارا بیان  مسیح کے حق میں ہے۔ اعمال  ۳: ۲۰ تا ۲۱۔ اعمال ۱۰: ۴۲۔ ۱پطرس ۱: ۹ تا ۱۱۔ اورانہوں نے  خود اسی یقین کے ساتھ مسیح ناصری کو نبی آخری الزماں مان کر قبول کیا تھا۔ یوحنا ۱: ۴۵۔ توریت  اورنبیوں کی ان خبروں کو بعض محمدی عالموں نے حضرت محمد عربی پر عائد کرنے کی ہرممکن کوشش کی ۔مگر اس بحث میں علمائے  محمدیہ نے سخت ندامت اٹھائی  اوربڑی شکست  کھاکر  خاموش رہ گئے ۔ اورانجیل میں مسیح کے یہ الفاظ پڑھ کر مسلمان بڑے خوش ہوئے کہ دنیاکا سردار آتا ہے۔ یوحنا ۱۴: ۳ ۔ مگر جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ خبر شیطان کے بارے میں ہے تو چپ کر گئے ۔ یوحنا ۱۲: ۳۱ ۔ آخری نبی کی خبروں کے متعلق  مسلمان  عالموں کی ملمع سازیوں کی حقیقت  بے نقاب ہوگئی ۔ اور اس بحث کا نہایت  عمدہ نتیجہ نکلا کہ یہودیوں اور مسیحیوں  کی کتابوں میں محمد صاحب کا نام اور نشان  بھی نہیں ہے۔ محمد صاحب سے چھ صدیاں پہلے  سیدنا مسیح کا اپنا دعویٰ ہے کہ توریت اور نبیوں کاسابقہ سارا بیان میرے حق میں ہے۔ اور آئندہ  کے لئے اس کا تاکیدی  فرمان ہے کے جھوٹے  نبیوں  سے خبردار  رہنا۔ متی ۷: ۱۵۔ مسیح کے قول کی صداقت  کے سامنے کسی  اورانسان کا کیا اعتبار ہے کیونکہ  وہی صادق  القول اور سچا گواہ ہے ۔ مکاشفہ ۱: ۵، ۳: ۱۴۔ ۱۹: ۱۱، ۲۲: ۶اوراس کے مقدس حواریوں نےاس کے اس سچے قول کی تصدیق میں یہودی قوم کےسرداروں  کے سامنے  اس حقیقت  کا علانیہ  اقرار اور اظہار کیاکہ مسیح ناصری ہی  خاتم  النبین ہے ۔ اعمال ۳: ۲ اعمال ۱۰: ۴۲۔ ۱پطرس ۱: ۹تا ۱۱۔ پس ہماری تحقیق  نے ہمیں مجبور کیا ہے کہ ہم دنیا میں اس بات  کا علانیہ  اظہار کریں کہ توریت اور نبیوں اورانجیل مقدس میں سیدنا مسیح اوراس کے حواریوں کے بعد کسی سچے نبی کی آمد کی کوئی خبر نہیں ہے۔ اس لئے مسیح  اوراس کے حواریوں  کے بعد کسی کا دعویٰ  ِنبوت حق اور قابل ِوثوق نہیں ہے پس ساری باتوں کو آزماؤ  اور بہتر کو اختیار کرو۔(۱تھسلنکیوں ۵: ۲۱)۔

 

باب چہارم

نبی آخری الزماں کے ظہور کازمانہ

          آخری نبی کے ظہور کے وقت اور زمانہ کے بارے میں  بھی تو ریت  اور نبیوں کی کتابوں  میں صاف صاف  اور صریح بیان پایا جاتا ہے۔ اس مضمون کے متعلق پہلی خبرتوریت  شریف کے پہلے صحیفے میں اس طرح  آئی ہے کہ درمیان سے جاتا رہیگا ۔جب تک شیلاع نہ آئے۔ اور قومیں اس کے پاس اکٹھی ہوں گی ۔ پیدائش  ۴۹: ۱۰ عبرانی زبان میں  شیلاع مسیح موعود کا ایک لقب ہے۔ اور ساری دنیا کے یہودی ہر زمانہ اس اعتقاد میں متفق ہیں۔ کہ اس آیت میں مسیح موعود کی جو یہودیوں کا آخری نبی ہے آمد کی خبر ہے۔ اس خبر میں  یہ بتلایا گیا ہے ۔ کہ یعقوب  کے بیٹے یہوداہ  کی سلطنت  مسیح کی آمد سے پہلے جاتی رہے گی اور مسیح کی  آمد کے وقت  یہودی قوم دوسری قوموں  کی خراج گزار ہوگی ۔ اور ان کے پاس صرف  برائے نام حکومت  رہ جائے گی ۔ یہوداہ کے گھرانے میں سلطنت  داؤد کے وقت  سے شروع ہوئی ۔ اوربابل کےبادشاہ  نبوکد نصر  کی سلطنت  کے آٹھویں  برس ۶۰۶ قبل مسیح میں یہودی سلطنت  کا زور اور اقبال ٹوٹ گیا۔اور ساڑھے چار سو سال تک یہودی سلطنت ملک موعود میں قائم اوربحال رہی ۔اور ستر برس کی اسیری کے بعد اس سلطنت کوپھرکبھی وہ عروج حاصل نہ ہوسکا جو اسرائیل کو اسیری سے پہلے حاصل تھا۔ اسیری سےواپسی کے بعد فارسیوں اور یونانیوں اور رومیوں  کےعہد میں  صرف حاکم  ان کے پاؤں کے درمیان برائے نام حکمران تھے اورملک موعود رعایا کے طور پر دیگر اقوام کی نئی آباد ی بن چکی تھی۔ اور سیدنا مسیح کی پیدائش  کے وقت قیصر روم  کی طرف سے یہودی قوم کو صرف حق نوآبادیات  ہی حاصل تھا۔  اورایک ادومی حاکم  ہیرودیس  نامی یہودیوں  کا برائے نام بادشاہ تھا۔  جوظاہر میں یہودی او رباطن میں بے ایمان تھا۔ اس پیشین گوئی  کے مطابق  آخری نبی کا ظہور  قیصران روم کے زمانے میں ہوچکا تھا۔

          دوسری خبر نبی آخرالزماں کے ظہور کے وقت کی شاہ بابل نبوکدنظر  کے خواب کی تعمیر  میں بتلائی جاچکی ہے۔ بادشاہ کے خواب کی تعبیر دانی ایل  نبی نے خدا سے الہام پاکر شاہی  دربار میں کی ۔ جس کے باعث  دانی ایل نبی حکماء بابل میں اول درجہ کا حاکم مقرر کیا گیا۔

          اس خواب کی تعبیر  میں خدا نے دانی ایل نبی کی معرفت  یہ خبردی کہ سلطنت  بابل کا اقبال  اور حشمت  اور زور مٹنے والا ہے اور فارسی  سلطنت  بابل کے بعد دنیا میں  پھیل جائے گی۔ اور فارسیوں کے بعد یونانی قوم   دنیا میں حکمران ہوگی۔ اوراس کے بعد روم کا ستارہ اقبال آفتاب نصف النہار کی طرح چمکیگا۔ اور رومی حشمت اورعروج کے ایام خدا کی بادشاہت کا نمود ہوگا۔ اور تھوڑےہی عرصہ کے اندر سلطنت  روم کو جڑ بنیاد سے اکھاڑ کر دنیا سے ان کا نام ونشان مٹادے گی۔ اور خود ساری  دنیا میں پھیل جائے گی۔ اور وہی تاابدر قائم رہے گی ۔ دانی ایل  ۲: ۴۴تا ۴۵۔

          یہ پیشین گوئی  مزید تاویل کی محتاج نہیں۔ دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ یہ چار سلطنتیں یکے بعد دیگرے  دنیا میں برپا ہوئیں۔ اور ایک دوسری کے بعد دنیا سے  مٹ گئیں۔ اور مسیح کی آمد اوراس کی بادشاہت کے عروج کی تاب نہ لا کر ساری سلطنتوں  کا صفایا ہوگیا۔ سلطنت  بابل ۶۰۶ قبل مسیح میں بڑے عروج پر تھی۔ اور اس کے چھ سو برس بعد رومی سلطنت  ساری معلومہ دنیا پر حکمران تھی۔ اور تیسری صدی مسیحی میں روم کی بڑی سلطنت  کا شیرازہ  بکھرگیا۔ اورکھلیان کی بھوسی کی مانند ہوا میں اڑ گئی ۔ اور پھر اس کا پتہ نہ ملا۔ دانی ایل ۲: ۳۴تا ۳۵۔

          تیسری مشہور خبر آخری نبی کی آمد کے مقررہ وقت کے بارے میں  دانی ایل ۹: ۲۴تا ۲۷ میں ہے۔ بابل کی اسیری کے آخری ایام میں جب حضرت دانی ایل اپنی قوم بنی اسرائيل  کے گناہوں اور خطا کاریوں کے اقرار کے ساتھ ان کی رہائی اور آبائی  اقبال کی بحالی کے لئے  دعا میں لگا ہوا تھا۔ تو اس کی دعا کے جواب کے لئے جبرئیل فرشتے  کو خدا نے دانی ایل نبی کے پاس بھیجا۔

          جبرئیل  خدا کی حضوری کا پاک فرشتہ ہے۔ اور خدا اورانسان کے درمیان پیغام رساں ہے۔ لوقا ۱: ۱۹ جبرئیل  نے بحکم باری تعالیٰ  دانی ایل نبی کو مسیح کی آمد کا ایک ایسا صاف حساب  بتلایا ۔ جس کے مطابق  مسیح کی صلیبی  موت تک ۴۹۰ برس کا عرصہ بنتا ہے۔ اور وہ ستر ہفتوں کا حساب ہے۔ دانی ایل  ۹: ۲۴تا ۲۷۔ ۴۵۷قبل مسیح میں یروشلیم کےد وبارہ تعمیر  کا حکم نکلا۔اور ۳۴ء میں مسیح کی موت واقع ہوئی ۔

          اس نبوت میں پہلے سات ہفتے جو ۴۹ سال کا عرصہ ہے۔ ۴۰۸ قبل مسیح میں ختم ہوا۔ اس عرصہ میں عزرا  اور نحمیاہ  نے شہر  یروشلیم کی تعمیر  کے کام کو تمام کیا۔ اور اپنی قوم کی مناسب  اصلاحیں کیں۔ اور دوسرا عرصہ ۶۲ ہفتوں یعنی ۴۳۴سال کازمانہ ہے۔ اور ۲۷ء میں ختم ہوتا ہے ۔ اس عرصہ میں دانی ایل  نبی کی دیگر  رویتوں کے مطابق  یہودی  قو م یونانی  بادشاہوں  کے عہد میں انتہائی  ظلم اور ایذا کا شکاررہی ۔

          تیسرا عرصہ ایک ہفتے کا قلیل  زمانہ ہے۔ اور سات سال کا عرصہ ہے۔ اور سیدنا مسیح کی زمینی زندگی کے آخر ی ایام سے تعلق  رکھتاہے۔ اور ۳۴ء میں انجام پاتاہے۔ اس ہفتے  میں بدکاریوں  کی بابت  کفارہ کیاگیا ہے اور ابدی راست  بازی قائم کی گئی ۔ اور اس نبوت اور رویت پر مہر کی گئی ۔ دانی ایل ۹: ۲۷۔

          اس نبوت اور الہامی تفسیر  اور تاویل  کے مطابق  خاتم النبین کا ظہور قیصر اگستس کے عہد  میں ہونا چاہیے۔ اور ٹھیک جس وقت  سیدنا مسیح یہوداہ کے شہر بیت الحم  میں پیدا ہوئے۔ اس وقت روم کا قیصر اگستس  ہی ساری رومی دنیا کا شہنشا ہ تھا۔ لوقا ۲: ۱تا ۱۱۔

          حضرت دانی ایل کی کتاب کی نبوت اور رویتوں کے مطابق  حجی اور زکریا اورملاکی نبی کے وقتوں میں مسیح کی انتظاری میں یہودی قوم بڑی بے صبر اور بے قرارہورہی تھی۔ خدا نے صاف طور پر ان نبیوں کی معرفت  اس امت کو یہ تسلی دی کہ طلوع ِ آفتاب  کا وقت قریب ہے۔ اور ساری  قوموں کی مرغوب چیزیں میسر ہونے والی ہیں۔ اور وہ عہد کارسول اپنی ہیکل  میں ناگہاں آنے والا ہے اور ایلیاہ نبی کا مثیل بھی بہت جلد اس کے آگے  راہ تیار کرنے کے لئے آرہا ہے۔ اوراس کی آواز بیابان میں سنائی  دیتی ہے۔ یسعیاہ  ۴۰: ۱تا ۳۔ حجی ۴: ۷۔ ملاکی ۴: ۲تا ۵۔

          آخری خبر نبی آخر الزمان کے ظہور کے وقت  عہد ِ عتیق  کی آخری کتاب ملاکی نبی کے ۴: ۵تا ۶ میں پائی جاتی ہے۔ ملاکی نبی کا زمانہ یہودی قوم کے لئے بڑی بے صبری اوربے قراری کا زمانہ تھا۔ ان دنوں ہنوز فارسی بادشاہوں کا عہد ِ معدلت تھا اور یہودی نبوت کا دور قدیم قریب  الاختتام تھا۔ اور امت اسرائیل اپنے بادشاہ اور آخری نبی کے ظہور کے دن کے لئے ترس اور تڑپ رہے تھے۔ کیونکہ  وہ ہیکل کی تعمیر اور یروشلیم کی مرمت  سے اب فارغ ہوچکے تھے۔ اورجس گھر میں وہ عہد کا رسول تشریف لانے والا تھا۔ وہ تیار تھا ۔ملاکی  ۳: ۱۔

          یہودی قوم اس وقت اپنی پہلی حشمت  اور اقبال مندی اور داؤد  کے تخت  کی یروشلیم  میں دوبارہ بحالی  اور شان کود یکھنے کے بڑے منتظر  اور مشتاق  بیٹھے تھے۔ ان کی اس بے قراری  کی حالت میں خدا نے ملاکی نبی کی معرفت  ان کویہ تسلی دی۔ کہ آفتاب ِ صداقت  کے طلوع  کا وقت قریب ہے۔ جس کے پنکھوں  میں شفا ہے۔ ملاکی ۴: ۲ اوراس کے ظہور سے پیشتر ایک اور شخص کی آمددرکار ہے۔ اوروہ ایلیاہ نبی ہے۔ ملاکی ۴: ۵ ۔ ایلیاہ نبی ملاکی نبی کی نبوت کے ایام سے پانچ سو برس پیشتر ایک آتشی رتھ میں سوار  ہوکرآسمانی فضا میں  غائب ہوگئے  اور اس وقت  کے بہت سے انبیاء زادوں نے اس کی بڑی سرگرمی سے تلاش کی۔ کیونکہ وہ یہ سمجھے کہ وہ معمول کے مطابق کسی وادی میں غائب ہے۔ مگر وہ ان کو نہ ملا۔ اوریہودی لوگ اس نبی کے بھی دوبارہ ظہور کے قائل  اور معتقد تھے۔ اورجب خدا نے ملاکی  نبی کی معرفت  یہ خبردی۔ کہ مسیح کی جلالی آمد سے پہلے ایلیاہ  کا آنا ضرور ہے ۔ تو یہودی قوم اور بھی اس اعتقاد  میں راسخ اور مضبوط ہوگئی ۔ یہودی قوم کے عالم کلام کے ظاہری معنوں پر بڑا زور دیتے تھے اور اپنی اس عادت کی تائید  میں کتُب مقُدسہ کے علاوہ  رویات  اور احادیث  پر بہت بھروسہ  رکھتے تھے۔ ایلیاہ  نبی کی دوبارہ  آمد کے متعلق  بھی ان کا یہی حال تھا اورمسیح کے حواریوں میں بھی اس اعتقاد  کی رمز موجود تھی۔ متی ۱۱: ۱۰۔ یہودی عالم ملاکی  نبی کی نبوت  کے مفہوم سے ناآشنا ر ہ کر مسیح سے منکر  اوراس سے منحرف  رہے۔ کلام الله کا اصلی مفہوم جبرئیل  فرشتے نے  زکریا کاہنپر ان الفاظ  میں ظاہر کردیا۔ کہ وہ یعنی یحییٰ نبی ایلیاہ  کی روح اور قوت میں مسیح موعود  کے آگے آگے چلے گا۔لوقا ۱: ۱۷۔

          جبرئیل  خدا کی حضوری کا فرشتہ ہے۔ اور نبوت اورالہام کی عالیٰ خدمت  میں خدا اور انبیاء کا درمیانی ہے۔ اس نے ملاکی نبی کی پیشین  گوئی  کی الہامی تفسیر یہ کی ۔ کہ دراصل  ایک اور شخص  ایلیاہ  نبی کا مثیل  آنے والا تھا۔ اور وہ یحییٰ  بن زکریا کاہن ہارون  کی اولاد سے ہے۔اور سیدنا مسیح نے بھی اس صداقت  کی تصدیق کی ۔ اوراپنی زبان مبارک سے یہ فرمایا۔ کہ ایلیاہ  جو آنے والا تھا وہ آچکا ہے۔ اور وہ زکریا کا بیٹا یحییٰ ہے۔ متی ۱۷: ۱۱۔

          تاکستان کی تمثیل  میں سیدنا مسیح نے یہودی قوم کو صاف صاف جتلادیا کہ نوکروں سے مراد انبیاء اسرائیل ہیں۔ اور بیٹے سے مراد آخری نبی یا مسیح موعود ہے۔ متی ۲۱: ۳۳تا ۴۱۔

          عام لوگ جو مسیح کے معجزوں کو دیکھ کر اس پر ایمان لائے ۔ وہ سیدنا عیسیٰ ہی کو آخری نبی مانتے تھے۔ یوحنا ۶: ۱۴، ۷: ۴۰۔ کیونکہ یہ لوگ کشفِ آسمانی کی روشنی سے بخوبی  منور ہوچکے تھے۔ سامری لوگ  جو غیر قوم او یہودی اُمت کی نظر میں نہایت نفرتی اور حقیر اور اچھوت تھے۔ اور توریت  کے الہامی ہونے کے معتقد تھے۔ وہ بھی مسیح ناصری کو آخری نبی اور ساری قوموں کی آرزو قرار دیتے تھے۔ یوحنا ۴: ۲۵، ۴۶۔

          یہودیوں اور سامریوں کے علاوہ دیگر دنیا کے لوگ اورعلم ہیئت کے ماہرین بھی ایک یہودی  نبی کو ہی دنیا کاآخری  نبی تسلیم کرتے تھے۔ اس لئے کہ  اس کی پیدائش کے وقت اس کی خبر ستاروں کے حساب سے پاکر وہ الٹے یہودہ دیس میں سجدہ کرنے کوآئے ۔اور اس کے حضور ہدئیے گزرانے ۔ متی ۲: ۱، ۲: ۱۰تا ۱۱۔

          یہودی قوم نے مسیح کو رد کردیا۔ اورالہیٰ ارشاد کے بموجب وہ سخت سزا کا شکار ہوئے۔استشنا  ۱۸: ۱۸تا ۱۹۔

          ۷۰ء میں یہودی اُمت کی رومیوں کے ہاتھ سے تباہی اور یروشلیم اورہیکل کی بربادی اوراس قوم کی موجودہ خستہ حالی اس بات کی بین دلیل ہے کہ ان کا آخری نبی اور مسیح موعود سیدنا عیسیٰ ہی تھا اوران کا اب تک اس کی جلالی آمد کے انتظار میں رہنا بھی دلیل اس امر کی ہے کہ آخری نبی اسرائیلی اور ابن داؤد ہی ہے۔

باب پنجم

"کامل شریعت "

خداوند  تعالی ٰکی توریت  کامل ہے ۔ زبور ۱۹: ۷

          یہ شریعت  موسیٰ کی معرفت دی گئی ۔ یوحنا ۱: ۱۷۔ فرشتوں کے وسیلے سے ایک درمیانی کی معرفت کوہ ِ طور پر سے سنائی گئی ۔ خروج ۲۰باب اعمال ۷: ۵۳ ، گلتیوں ۳:۱۹۔

          اس شریعت کا نزول نہایت  شاندار تھا۔ خروج ۱۹: ۱۶تا ۲۵۔ استشنا ۳۳: ۱تا ۳۔ اور وہ نظارہ ایسا ڈراؤنا تھا۔ کہ بنی اسرائیل اس کی تاب نہ لاسکے۔ اورانہوں نے موسیٰ سے درخواست کی کہ تو ہی ہم سے بول پر خدا ہم سے نہ بولے ایسا نہ ہو ہم مرجائیں ۔ خروج ۲۰: ۱۸تا ۲۱۔عبرانیوں ۱۲: ۱۸تا ۲۱۔

          جو شریعت موسیٰ کی معرفت دی گئی وہ کامل شریعت تھی ۔ اور اس میں خدا کی مرضی کا کامل اظہار تھا۔ اس شریعت  میں دس احکام اخلاقی شریعت کا اختصار ہے۔ اور ان میں خدا کی طرف سے انسان کی نسبت  فرماں برداری کاکامل مطالبہ ہے۔ اس شریعت میں خدا اور انسان کے ساتھ  کامل محبت  رکھنے کی مزید تاکید فرمائی گئی ہے ۔ احبار  ۱۹: ۱۸۔ استشنا ۶: ۵ ۔ لوقا ۱۰: ۲۷ ۔ یہی شریعت  دنیا کے آخر تک انسان کے لئے  واجب العمل  اورا س کی سب روحانی حاجتوں کے لئے درکار ہے۔ او ر چال چلن  کی آرائش  اور خوبصورتی  کے لئے بمیثل  اور بے نظیر  قانون ہے۔ اس شریعت  کی موجودگی  میں کسی نئی شریعت  کی حاجت نہیں۔ اورموسیٰ  کے بعد سب نبیوں نے اسی شریعت پر عمل کرنے کی تلقین اور تبلیغ  کی اور سب  نبی اسی شریعت  کے ماتحت  اورا سکی حمایت  میں نبوت کرتے تھے۔اور حضرت داؤد  نے زبوروں میں اس شریعت  کی کاملیت  کی گواہی دی ۔ زبور ۱۹: ۷۔ملاکی ۴: ۴ زبور کی کتاب میں ۱۱۹ زبور سب سے بڑا باب اس کتاب کاہے۔ اوراس میں ۱۷۶آیتیں ہیں۔ اوراس سارے زبور میں خدا کی شریعت  کی بڑائی  اوراس کے محاسن  کا بیان ہے۔ اور نبوت  کے عہد قدیم کے آخر میں ملاکی  نبی نے خدا کی طرف سے بنی اسرائیل کو یہ ہدایت  کی کہ تم میرےبندے موسیٰ کی شریعت  کو یاد رکھو۔ جسے  میں نے سارے بنی اسرائيل  کے لئے حورب  میں اپنے قوانین اور احکام سمیت  سنادیا۔ ملاکی ۴: ۴ او ریہی توریت  نبیوں کے صحیفوں  سمیت ہر زمانے میں یہودی عبادت خانوں میں پڑھ کرسنائی جاتی تھی۔ اعمال ۱۳: ۱۵۔ سیدنا مسیح نے بھی اس شریعت اور نبیوں کی  کتابوں کی تصدیق کی ۔اوراس پر عمل کرنے کی مزید تاکید فرمائی تھی۔ متی ۱۵: ۱۷تا ۲۰۔ مسیح نے اس شریعت کے انتہائی  مقصد کو ایسے طور سے پیش کیا کہ اگر کوئی  قول اور فعل کے علاوہ خیال میں بھی اس شریعت  کا عدول  کرتے تو وہ مستوجب سزا ہے۔

          مسیح کے پہاڑی وعظ میں اس شریعت کی الہامی تفسیر ہے اور وہ تفسیر  شریعت کے مقصد  کا کھلا اظہارہے۔ اس شریعت  کی موجودگی  میں نہ کسی اور شریعت کی حاجت ہے اور نہ کسی نئی شریعت لانے والے کے  لئے جگہ  خالی ہے۔ متی ۷: ۱۲۔ کیونکہ  جس کی معرفت  شریعت دی گئی ۔ اورجس نے اس شریعت کی تصدیق کی وہ آپس میں مشبہ اور مشبہ  بہ ہیں۔ اور ان دونوں ہستیوں سے منحرف ہونا ایک نہایت  ہولناک بات ہے۔ عبرانیوں  ۱۰: ۲۸تا  ۳۱۔

          اس اخلاقی  شریعت کے ساتھ رسمی اور قومی آئین بھی خدا نے بنی اسرائیل  کی عبادت اورملکی  انتظام کے لئے  عنایت فرمائے ۔ رسمی شریعت اخلاقی شریعت کا خول اور چھلکے کی مثال ہے۔اورپھل اور گودے کی حفاظت کے لئے رکھی گئی ۔ اخلاقی شریعت مذہب کی جان اور اصول ہے۔ اور رسمی آئین فروعات میں شامل ہیں۔ جوتعلق  درخت  کی زندگی میں جڑ اور پتوں کا ہے ۔ وہی تعلق  اخلاقی اور رسمی شریعت کاآپس میں ہے۔ جڑ ہمیشہ قائم رہنے والی ہے اور پتے ہر موسم میں نئے مہمان ہیں۔ گو رسمی شریعت دوام میں اخلاقی  شریعت سے کم قدر ہے۔ تاہم اس میں عبادت  کے تمام لوازمات شامل ہیں۔ قربانی اور عیدیں اور ختنہ  اور طہارت کی سنجیدگی عبادت کی روح کو بھڑکانے والی رسومات ہیں۔ اس شریعت میں بعض آیتیں  " آب آمد تمیم برخاست " کی مثال تھیں اورآنے والی نعمتوں کا عارضی  اظہار اور سایہ تھیں۔ عبرانیوں ۱۰: ۱تا ۱۲۔ کلیسیوں ۲: ۱۶تا ۱۷۔ وعبرانیوں ۹باب۔ ختنہ اور قربانی کی رسم اور عیدیں اور نئے چاند اور لت وحرمت کے متعلق  احکام اسی رسمی شریعت  کی قسم سے تھے۔ اس شریعت  میں بھی کسی طرح کی کمی نہ تھی ۔ خدا نے موسیٰ کی معرفت  سب کچھ بتادیا کہ کون کون سی باتیں  لت وحرمت  میں شامل ہیں اورکون  کون سی باتیں عبادت  میں موثر اور مفید ہیں۔

          پس رسمی  شریعت  کی خوبصورتی میں بھی بائبل  کا دین کامل ہے  اورکسی ترمیم  کا محتاج نہیں۔

          تیسری قسم کی شریعت  جس کا توریت  شریف میں رُعب دار بیان ہے۔ وہ قومی شریعت ہے۔ اس شریعت میں فوجداری  اور دیوانی مقدمات  کے قواعد  وضوابط  کی تنظیم ہے۔ یہ شریعت  حکام اور رعایا کے متعلق ہے۔ اور عدل وانصاف  اورامن عامہ کی خاطر  تعزیرات ہے۔ چونکہ کفر اور الحاد اور ظلم اور زیادتی اور نا انصافی کے جرائم اخلاقی  شریعت کی شان اور عظمت  کی ہتک  اور توہین کا ارتکاب  ہیں۔ اور قومی شریعت  ایک ایسی  تعزیرات  ہے جو اخلاقی  شریعت کے توڑنے والوں کو مجرم گردان کر سزا وار ٹھہراتی ہے ۔تاکہ لوگ اخلاقی شریعت  کے دائرہ عمل میں  رہ کر خدا کی عبادت کریں۔ اور اس کے عدول سے خداکی تحقیر  اور تکفیر  کا باعث نہ بنیں۔رومیوں  ۲: ۲۱تا ۲۴۔

          اس شریعت  میں بھی کسی بات کی کمی  نہ رہی اور نہ ہی اس میں ترمیم اور تبدیلی کی ضرورت رہی ۔ اس کے لئے بھی کسی نئے الہام اورنئے نبی کی ضرورت نہ تھی۔کیونکہ اب تک تمام بنی نوع انسان کی حکومت  میں ایسی شریعت کا رواج اور نفاذ موجودہے۔ پس جو شریعت موسیٰ کی معرفت دی گئی ۔ اورجس کی سب نبیوں نے تلقین کی ۔ اورجس کی سیدنا مسیح نے تصدیق کی وہ کامل اور غیر متغیر اور لاتبدیل شریعت ہے۔ اس کی موجودگی میں غیر کی آواز پر کان لگانا خدا تعالیٰ اور انبیاء کی ہتک اور توہین ہے۔

بنی اسرائيل اور آخری نبی

          دنیا کی روحانی فضا میں بنی اسرائیل  روشنی کے بلند مینار کی مانند ہیں اور جس طرح نظام شمسی میں آفتاب سیاروں کا مرکز ہے۔ اور اس نظام کے سیارے آفتاب ہی سے منور ہیں۔ اسی طرح  اُمت  اسرائیل دنیا کی سب قوموں کے لئے الہیٰ روشنی کا مرکز اور کشف ِ آسمانی کی شعاعیں  ہیں۔ یسعیاہ ۴۹: ۱تا ۶۔

          اور خدا نے بنی اسرائيل  کےنبیوں کو یہ حق اور اختیار بخشا کہ وہ قوموں اور بادشاہتوں کو اکھاڑیں اور گراویں اور بناویں اور بچاویں ۔ یرمیاہ ۱:۱۔ ۱۰: ۵۰۔

          بنی اسرائیل  خدا کی موعود اُمت اور برگزیدہ لوگ ہیں۔ جو وعدے ان کے آباؤ اجداد سے ان کے حق میں کئے گئے ۔ خدا ان سب میں وفادا رہا۔ جب وہ شاہ ِ مصر فرعون کے بس اور اختیار میں آگئے اور غلامی کی آگ میں جھونکے گئے ۔ اس وقت خدا نے اپنی بڑی قدرت اور بڑھاتے ہوئے بازو سے ان کی پشت وپناہ کی ۔ اور ان کو مصریوں  کے ظلم اور ایذا سے نجات بخشی۔ اور موعود  سر زمین کے بُت پرست  بادشاہوں کو اس سرزمین سے فارغ کرکے انہی کو اس ملک کا ہمیشہ  کے لئے وارث بنایا۔ اوران کے دشمنوں  سے ان کی جگہ آپ جنگ کرتارہا۔اور الہام اور نبوت کے انعامات اورمنصب ِجلیلہ پرا ن کو ممتاز کیا۔ اوردنیا کی سب قوموں پر ان کو فضیلت بخشی۔ اور مذہب اور روحانی باتوں کےباب میں بڑے عظیم الشان کارنامے  اسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اوربڑے بڑے  ممتاز اور معزز  انبیاء کا انہی میں سے ظہور ہوا۔ ابراہیم اور اسحاق  اور یعقوب اور یوسف وموسیٰ ، یشوع ، سیموئیل اور داؤد اورسلیمان اورالیاس اور دانی ایل وغیرہ انہی کے آباؤ اجداد  اور فخر اورناز تھے۔ اور لے پالک  ہونے کا حق اور جلال اورعہود اور شریعت اور عبادت  اور وعدے انہیں کے ہیں۔ اور قوم کے بزرگ  انہیں کے ہوئے ہیں۔ اورجسم کی روسے مسیح بھی انہی میں سے ہوا۔ جوسب کے اوپر اورابد تک خدا ئے محمود ہے۔آمین۔ رومیوں ۹: ۴تا ۵۔ یعنی آخری نبی کا جسمانی رشتہ اور تعلق  اسی ہی قوم کے ساتھ  تھا۔  نبی آخری الزمان کا ظہور  یہوداہ کے فرقے داؤد کے خاندان سے خدا کی ازلی مشورت میں قرار پاچکا تھا۔ اوراس کے بے پدر  پیدائش اورجائے تولد کی خبر اسرائيلی  نبیوں ہی کی معرفت  دی گئی ۔ یسعیاہ ۷: ۱۴۔ میکاہ ۵: ۲۔ یسعیاہ ۱۱: ۱تا ۹۔ یرمیاہ ۲۳: ۵تا ۶ ۔ یسعیاہ ۹: ۲تا ۵۔

          سیدنا مسیح نے مسرف بیٹے کی تمثیل  میں بنی اسرائيل  کو بڑا بیٹا قرار دے کران کی فضیلت  پر غیر معمولی  اضافہ کردیا۔ لوقا ۱۵باب اور ایک صورفینکی عورت کی درخواست  کے جواب میں مسیح نے یہودی قوم کو فرزندیت  کا رتبہ دے کر دیگر اقوام کو ان کے درکا گدا بنادیا۔ متی ۱۵باب ۲۵تا ۲۷۔

          بنی اسرائیل  کی موجودہ خستہ اور تباہ حالی میں بھی ان کاصیہونی جوش تعریف کے قابل ہے۔ ان کا ایمان ہے کہ وہ کسی ملک موعود میں جوان کا آبائی وطن ہے پھر آباد ہوں گے اور وہاں دائمی صورت میں اپنی بادشاہت  قائم کریں گے اور داؤد کاتخت  یروشلیم میں پھر بحال ہوگا ۔ اور مسیح ابن داؤد کا بادشاہ  ہوگا۔ اس کی سلطنت  ابدی سلطنت  ہوگی ۔ ہوسیع  ۳: ۴۔ یسعیاہ  ۹: ۷ ۔ دانی ایل  ۷: ۱۴۔ وہ اپنی آخری  بحالی کی  امید پر دنیا میں ہر قسم کی تکلیف  اور آزمائش  کی برداشت صبر سے کررہے ہیں۔ اوراسی امید پر دنیا میں زندہ  ہیں۔ وہ ضرور  اپنی گمراہی  اور سخت دلی سے ایک د ن تائب ہوں گے اور غير اقوام کی میعاد کے پورا ہونے کے بعد سب  نجات یافتہ ہوں گے ۔ اور نبی آخر الزمان  کی آمد ِ ثانی  کے وقت  وہ اپنی کھوئی ہوئی حشمت  اور اقبال کو دیکھ کر شادماں ہوں گے ۔

          چنانچہ لکھاہے کہ  چھڑانے والا صیہون سے نکلیگا ۔ اور بے دین کو یعقوب سے دفع کرے گا ۔یسعیاہ  ۵۹:  ۲۰تا ۲۱۔ رومیوں ۱۱: ۲۵تا ۲۶۔

 

پادری بوٹا مل مبشر انجیل (مرحوم)

 

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, اسلام, مُحمد, غلط فہمیاں | Tags: | Comments (0) | View Count: (8619)

Post a Comment

English Blog