en-USur-PK
  |  
10

لعز ر کو زند ہ کرنا

posted on
لعز ر کو زند ہ کرنا
THE MIRACLES OF CHRIST

معجزاتِ مسیح

29-Miracle   

Jesus Raises Lazarus from the Dead

John 17:24-27

 

 

لعز ر کو زند ہ کرنا

۲۹ ۔معجزہ

انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا ۱۱باب ۱تا۵۴

مرحوم علامہ طالب الدین صاحب بی ۔ اے

؁ ۱۹۰۵ء

اس معجزہ کا بیان شروع کرنے سے پہلے یہ سوال برپا ہوتا ہے کہ اس کا کیا سبب ہے کہ اتنا بڑا معجزہ جو جناب مسیح کے تمام معجزات سے بڑھ کرتھا اور جس کے نتائج بھی بڑے بڑے تھے صرف ایک ہی انجیل میں جگہ پاتا ہے اور باقی تین انجیلوں میں اس کا کچھ پتہ نہیں ملتا ۔ اس سے بہت لوگوں کو اس معجزے کی حقیقت پر اعتراض کرنے کا موقع ملا ہے اس سوال کے جواب میں ذیل کے قیاس پیش کئے جاتے ہیں۔

(1)یہ کہ پہلے تین راوی انجیل شریف کے مصنفوں نے انجیل شریف کو ملک فلسطین میں تحریر کیا اور غالباً اس وقت لعزر اور اس کے بعض رشتہ دار جیتے تھے اور ان انجیل نویسوں نے مناسب نہ سمجھا کہ اپنی تحریر میں اس معجزے کو درج کرکے مخالفوں کو ان کی طرف متوجہ کریں اور یوں لعزر اور اس کے رشتہ دار وں کو ان کی ایذارسانی کا نشان بنائیں بعض مفسر اس خیال کے ثبوت میں (حضرت یوحنا 12باب 10آیت ) پیش کرتے ہیں جہاں لکھا ہے " پس سردار کاہنوں نے مشورت کی کہ لعزر کو بھی مار ڈالیں۔ " لیکن اس کے جواب میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ خیال اصل مشکل کی عقدہ کشائی نہیں کرتا کیونکہ حضرت متی کے سوائے باقی دونوں راوئ انجیل کی نسبت پختہ طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ضرور فلسطین میں لکھی گئی تھیں اور یہ خیال کہ اگر وہ اس کا ذکر اپنی انجیلوں میں کرتے تو وہ معرض خطرے میں پڑ جاتا وقعت کے لائق نہیں کیونکہ اس وقت مسیحیوں کا ذکر کسی کتاب میں کیا جاتا یا نہ کیا جاتا وہ بہر کیف دشمنوں کے سبب ہر وقت خطرہ میں مبتلا تھے۔ اور اگر بالفرض لعزر کو اس معجزے کے اندراج سے خاص خطرے میں گرفتار ہونا ہی پڑتا تو تو بھی وہ اپنے بچنے کے لئے اپنے مولا کے نام کی بزرگی اور جلال کے لئے کبھی سدراہ نہ ہوتا ۔ پس ان وجوہات سے خیال مذکورہ بالا بہت زور آور معلوم نہیں ہوتا۔

(2)دوسرا خیال یہ ہے کہ چونکہ پہلی تین انجیلوں کے مصنف ان معجزوں کا ذکر یروشلم یا اس کے گرد ونواح میں ہوئے اپنی انجیلوں میں نہیں کرتے ۔ اس لئے انہوں نے اس کو بھی چھوڑدیا۔ مذکورہ بالا خیالات میں بھی کچھ نہ کچھ صداقت پائی جاتی ہے مگر ہمیں رائل صاحب کا یہ خیال درست معلوم ہوتا ہے کہ ہر انجیل نویس نے وہی بات رقم کی جس کے قلمبند کرنے کی ہدائت اس کو خداوند سے ملی ۔ کوئی شخص یہ خیال نہیں کرتا کہ ہمارے انجیل نویس مسیح کی کامل تاریخ تحریر کرنے کا ذمہ لیتے ہیں۔ مسیح نے صرف وہی تین مردے زندہ نہیں کئے جن کا ذکر انجیل شریف میں آتا ہے۔ آپ نے کئی اور معجزے بھی اس قسم کے دکھلائے ہوں گے ۔ وہ اپنے کام کے شروع میں یوحنا بپتسمہ دینے والے کے جواب میں کہلا بھیجتے ہیں "مردے زندہ کئے جاتے ہیں (حضرت متی 11باب 5آیت )اور پھر حضرت یوحنا کہتے ہیں کہ "اور بھی بہت سے کام ہیں جو مسیح نے کئے اگر وہ جدا جدا لکھے جاتے تو میں سمجھتا ہوں کہ جو کتابیں لکھی جاتیں ان کے لئے دنیا میں گنجائش نہ ہوتی "(حضرت یوحنا 21باب 25آیت )پس مناسب ہے کہ ہم یہ مانیں کہ مسیح نے جیسا بہتر سمجھا ویسا ہر ایک انجیل نویس سے لکھوایا ۔ اور مسیح کے وہ کام او رکلمات جو یروشلم میں ظاہر ہوئے ان کا قلمبند کرنا حضرت یوحنا کے سپرد ہوا۔ اور وہی مقرر ہوا کہ عجیب وغریب معجزے کو تحریر کرے جس سے یہودیوں کی سخت دلی پورے پورے طور پر ثابت ہوگئی۔

ہماری دانست میں جو ضروری سوال ہے وہ یہ نہیں کہ اس  کوکیوں صرف ایک انجیل نویس تحریر کرتا ہے اور باقی نہیں کرتے ۔ سوال اصل یہ ہے کہ آیا یہ معجزہ ایک حقیقی تواریخی واقعہ ہے یا نہیں۔ غیر متعصب شخص کے لئے اس معجزے کی حقیقت اس معجزے کے بیان میں موجود ہے ۔ جس طرح اس معجزے کا دکھانا گویا ایک طرح سے یہودیوں کے لئے اخلاقی معیار تھا۔ اسی طرح اس کا بیان پڑھنے والے کے لئے بھی ایک کسوٹی ہے ۔ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے زندگی کی خوشبو اور تسلی کا باعث ہے ۔ پر جو ایمان نہیں لاتے ان کے لئے ٹھوکر کا باعث ۔سچی تشریح کے بر خلاف چار تاویلیں پیش کی جاتی ہیں۔ یہ کہ لعزر صرف غش کے عالم میں تھا۔ لیکن وہ مقامات جہاں لعزر کی موت کا صاف بیان کیا گیا ہے ۔ اس قیاس کی تردید کرتے ہیں۔ بہنیں کہتی ہیں اگر آپ یہاں ہوتے تو ہمارا بھائی نہ مرتا ۔ وہ سمجھتی ہیں کہ وہ مرگیا ہے اور آیت 39میں صاف اس کو مردہ کہا گیا ہے ۔ وہ چار دن سے ایک قبر میں پڑارہا جس کے منہ پر پتھر  رکھا تھا۔ یروشلم سے یہودی ماتم پرسی کے لئے آئے ۔ بہنیں اور ان کے ہمدرد مہمان اس کو مردہ سمجھ کر آنسو بہاتے تھے۔ ان سب لوگوں کو پورا یقین تھا کہ وہ مرگیا ہے ۔ پر وہ لوگ جو 17یا 18سو برس بعد تفسیریں لکھنے بیٹھتے ہیں  ان کو ان گواہوں کی بات کا یقین نہیں۔ ان کے زعم میں وہ ابھی نہیں مرا۔ بلکہ صرف غش میں پڑا ہے۔ (2)سٹراس صاحب اپنی کتاب "حیات المسیح " کی پہلی ایڈیشن میں یہ رائے پیش کرتے ہیں کہ یہ قصہ گویا قدیم عیسائیوں کی قوت واہمہ کا کھیل ہے جو شاعر انہ طرز میں ظاہر ہوا۔ مگر اسی کتاب کی دوسری ایڈیشن میں لعزر کے اس تاریخی بیان کو فکشن (کہانی ) بتاتے ہیں جو ان کے زعم میں حضرت لوقا کی تمثیل موسومہ " لعزر اور دولتمند " پر مبنی ہے ۔ ہم پوچھتے ہیں کہ اس آدمی کے قیاس کی کیا وقعت کی جائے جو خود اپنی رائے کی نسبت مستقل یقین نہیں رکھا۔ پہلی ايڈیشن میں کچھ رائے دیتا ہے اور دوسری میں کچھ اور ۔ ایسے آدمی کی ساری باتیں خود وہی قیاسات پر مبنی ہیں۔ اس کے وہم کی نسبت ہمیں انجیل نویس کا بیان زیادہ وقعت کے لائق معلوم ہوتا ہے ۔ وہ تاریخی بیان ہے اور سٹراس کی طرح قیاسی دعوے نہیں ہے ۔ (3)کہ یہ ایک تمثیلی بیان ہے جس میں مسیح موت پر غالب آنے والا ظاہر کیا گیا ہے تاکہ اس کا جلال ظاہر ہو۔ یہ خیال بھی درست نہیں۔ کیونکہ طرز بیان سے ہر گز ہرگز یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ ایک تمثیل  ہے انجیل مسیح کی تمثلیوں سے بھری ہوئی ہے کوئی تمثیل لو اور ا سکا مقابلہ اس بیان سے کرو فوراً معلوم ہوجائے گاکہ تمثیل کا طرز ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ مگر بیان زیر نظر سے صاف روشن ہے کہ لکھنے والا ہم پر یہ نقش کرنا چاہتا  ہے کہ جو کچھ میں تم کو بتلا رہا ہوں وہ ایک حقیقی تاریخی واقعہ ہے (4) یہ کہ سارا قصہ جھوٹ کا فساد ہے ۔ یا ملائم الفاظ میں یوں کہیں کہ یہ قصہ دیندارانہ فریب کا نتیجہ ہے ۔ کہ مسیح مریم اور مارتھا اور لعزر کے ساتھ مل جاتا ہے تاکہ اس فریب سے یہودیوں کو قائل کرے۔ ایسا خیال کرنا کیسی  شرارت ہے ۔ کیا بہنوں کے آنسو اس خیال کی تائید کرتے ہیں ؟ کیا لعزر چار دن تک قبر کے اندر جس پر پتھر دھرا تھا پڑا رہ سکتا تھا ؟ کیا مسیح کا سنجیدہ کلام اور اس  کے عظیم دعوے جو وہ اپنے کام اور اپنی شخصیت کی نسبت  اس بیان میں کرتا ہے اور اس کی دعا جو وہ باپ سے مانگتا ہے کیا یہ سب باتیں اس  فریب کے ساتھ موافقت رکھتی ہیں؟ یہ سب فضول دعوے اس خیال سے پیدا ہوئے ہیں کہ فوق العادت نا ممکن ہے معجزے کی تاریخی صحت اور صداقت بیان کی سادگی اور سچائی اور تفصیل سے ٹپکتی ہے ۔ اور مسیح اور اس کے شاگرد وں کی صداقت لعزر ا ور اس کی بہنوں کی دیانت داری سے متر شح ہے ۔ لوگ ہم کو یہ طعنہ دیا کرتے ہیں کہ ہم بڑے زور اعتقاد ہیں۔ مسیح کے معجزوں کو جلد مان لیتے ہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ منصف مزاج لوگ فیصلہ کریں کہ زوداعتقاد لوگ کون ہیں۔ عیسائی یا ان کے مخالف ؟ہماری رائے میں مذکورہ بالا قیاسوں کے ماننے کے لئے زیادہ رود اعتقادی کی ضرورت ہے ۔

آیت نمبر ۱۔جس گھرانے کا ان آیات میں ذکر ہے اس کے یہاں ہمارے مالک اکثر فروکش ہوا کرتے تھے ۔ یہ لوگ نہ فقط آپ کو اپنے گھرمیں جگہ دیتے تھے بلکہ اپنے دلوں میں بھی آپ کی محبت رکھتے تھے۔ اورآپ  بھی ان کو بہت پیا ر کرتے تھے چنانچہ آیت 5میں آیا ہے اور " مسیح مارتھا اور اس کی بہن اور لعزر  سے محبت رکھتے تھے۔ "

بیت عیناکا گاؤں یروشلم سے تھوڑے فاصلہ پر واقعہ تھا کہتے ہیں کہ وہ پونے دومیل سے زیادہ نہ تھا۔ مسیح عالباً دن کے وقت اس مخالف شہر میں جاکر کام کیا کرتے تھے اور رات کے وقت بیت عینا میں مارتھا کے گھر (حضرت لوقا 10باب 38آیت )آکر پناہ گزین ہوتے تھے ۔ (حضرت متی 11باب 11تا 19آیت )یا یوں کہیں کہ اپنے اعدا کی مخالفت  اور ان لوگوں کی صحبت سے جو بار بار اس کے کلام کی تحقیر کرتے اور اس کے الفاظ کا مطلب بگاڑتے تھے فارغ ہوکر اس گھر میں آتے اور یہاں تازگی اور تفریح کے سامان پاتے تھے۔ یہاں مریم جس نے عطر ڈال کر اپنے بالوں سے آپ کے پاؤں پونچھے تھے آپ کے پاؤں کے پاس بیٹھ کر آپ کاکلام معجز نظام سنا کرتی تھی۔ یہاں مارتھا کبھی اپنی بہن کی طرح اس کی زندگی بخش باتوں کی طرف کان جھکاتی اور کبھی لوازمات مہمان نوازی بجالا کر اپنا حسن عقیدت دکھاتی تھی اور اسی طرح آپ کا دوست لعزر اپنی صدق دلی سے آپ کے دل کو شاد کیا کرتا تھا۔

لعزر بیمار تھا۔ اس خوش حال خاندان پر بھی تھوڑی دیر کے لئے غم کا بادل چھا گیا یعنی لعزر کسی مرض  میں گرفتار ہوا ۔ یاد رہے کہ اس دنیا میں مسیح کےدوست بھی غم اور تکلیف کے بادلوں سے جو بنی آدم کی زندگی میں ضرور آتے ہیں آزاد نہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ اوروں پر آئیں یا نہ آئیں ان پرضرور آتے ہیں۔ دکھ اور بیماری کے وسیلے مسیح اپنے بندوں کو پاک کرتے ہیں اور ان میں برداشت کا پھل پیدا کرتے ہیں۔ جب اس کے بندے دکھ اور ثابت قدم رہتے ہیں تو ثابت ہوجاتا ہے کہ وہ مسیح کو دنیاوی نعمتوں  اور جسمانی عیش وعشرت کی افرائش کے لئے پیار نہیں کرتے بلکہ اس لئے کہ وہ ان کا مالک ہے ۔ شیطان نے حضرت ایوب پر یہی الزام لگایاکہ وہ دینوی کشائش کے سبب خدا کی راہ پر چلتا ہے۔ اور مریم اور مارتھا پر بھی شائد یہی الزام لگتا اگر یہ دکھ ان پر نہ آتا۔

لعزر کی بیماری کی نسبت کچھ پتہ نہیں کہ وہ کیا تھی۔ مگر چونکہ بڑی تیزی کے ساتھ بڑھی اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ شائد وہ کسی سخت قسم کا بخار ہوگا۔ بعض مفسروں کا خیال ہے کہ لعزر سردی کے موسم اور ایسٹر کے درمیان کسی وقت بیمار پڑا۔

لعزر ۔ یہ الیعزر کی دوسری صورت ہے ۔ اس شخص کی نسبت بعض کی یہ رائے ہے کہ وہ وہ شخص تھا جو مسیح کے پاس یہ کہتا ہواآیا تھا کہ میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں۔ مگر مسیح کا جواب سن کر لوٹ گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ بعد میں وہ مسیح پر ایمان لایا۔ مگر یہ نتیجہ صرف قیاسی ہے ۔ تاہم اس شخص کے بارے میں بہت کچھ نہیں جانتے ۔

آیت نمبر ۳۔یہ وہی مریم تھی جس نے مسیح پر عطر ڈال کر اپنے بالوں سے آپ کے پاؤں مبارک پونچھے تھے۔

اس آیت میں یہ جملہ معترضہ مریم کی تخصیص کے لئے داخل کیا گیا ہے تاکہ وہ دوسری مریموں سے امتیاز کی جائے ۔ مسیح کے شاگردجانتے تھے کہ مسیح کے زمانہ میں کم از کم چار عورتیں اس نام سے موسوم تھیں (1)آپ کی والدہ ماجدہ(2)کلیوفس کی بیوی (3)مریم مگدلینی (4)مارتھا کی بہن مریم ۔

اس بات پر بڑی بحث ہے کہ یہ مریم کون تھی او رکہ ہمارے مولا پر کتنی دفعہ عطر ملا گیا ؟ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ ہمارے مولا پر تین دفعہ عطر ملاگیا۔ ایک مرتبہ حضرت لوقا 7باب میں ) شمعون فریسی کے گھر ایک مرتبہ بیت عینا میں شمعون کوڑھی کے گھر ۔ او ر پھر ایک مرتبہ بیت عینا میں مارتھا اور مریم کے گھر ۔ بعض کی یہ رائے ہے کہ عطر تین مرتبہ ملا گیا۔ مگر مارتھا کی بہن مریم نے دومرتبہ ملا۔

بعض یہ مانتے ہیں کہ صرف دو مرتبہ عطر ملا گیا۔ ایک دفعہ فریسی کے گھر (حضرت لوقا 7باب) اور ایک مرتبہ بیت عینا میں شمعون کوڑھی کے گھر جہاں مرتھا اور مریم اور لعزر رہتے تھے یہ معلوم نہیں کہ کیوں وہاں رہتے تھے شائد شمعو ن اس کا رشتہ دار تھا۔ بعض کا گمان ہے کہ وہ مرتھا کا شوہر تھا۔

بعض اشخاص کی رائے ہے کہ صرف ایک مرتبہ عطر ملاگیا۔ وہ کہتے ہیں کہ شمعون فریسی اور شعمون کوڑھی ایک ہی شخص کے نام ہیں اور کہ یہ واقعہ بیت عینا میں سرزد ہوا۔ ان کے خیال میں لوقا اس واقعہ کا بیان ترتیب وقت مطابق نہیں کرتے ۔ اس خیال میں یہ مشکل ہے کہ مریم اپنی پہلی زندگی میں بدکار اور گنہگار عورت ثابت ہوتی ہے۔ حالا نکہ جو کچھ اس کی خصلت کی بابت ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک نیک بخت اور خدا پرست عورت تھی رائل صاحب کی رائے میں اگر تین دفعہ عطر کا ملنا تسلیم کیا جائے تو تمام دقتیں دفع ہوجاتی ہیں۔ کم از کم دو دفعہ ماننا تو لازمی امر ہے ۔ مفصل بیان  کےلئے ان کی تفسیر کو دیکھنا چاہئیے۔

آپ کے پاؤں پونچھے تھے۔ آیت زیر نظر کو پڑھتے وقت ایسا خیال گذرتا ہے کہ گویا لعزر کے جلانے سے پہلے مسیح کے پاؤں عطرسے دھوئے گئے تھے۔ حالانکہ یہ واقعہ لعزر کے زندہ ہونے کے بعد وارد ہوا۔ اس کا حل یہ ہے کہ حضرت یوحنا اپنی انجیل ان دونوں واقعات سے بہت مدت  بعد تحریر کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سب مسیحی اس بات سے واقف ہیں کہ مریم نے مسیح کے پاؤں پر عطر ملا اور ان کو اپنے بالوں سے پونچھا۔ لہذا وہ اس وقوعہ کی طرف اشارہ کرکے اس مریم کو دوسری مریموں سے امتیاز کرتے ہیں۔

آیت نمبر ۳۔پس اس کی بہنوں نے آپ کو یہ کہلا بھیجا کہ اے مالک دیکھئیے جسے آپ عزیز رکھتے ہیں وہ بیمار ہے۔

اپنے بھائی لعزر کی تکلیف اور خطرے کو دیکھ کرانہوں نے مسیح کے پاس ایک قاصد بھیجا۔ مسیح غالباً اس وقت اپنے دشمنوں کی مخالفت سے پناہ گزین ہونے کے لئے یردن کے پار دوسری طرف چلے گئے تھے (حضرت یوحنا 10باب 39و40آیت مقابلہ کریں حضرت یوحنا 1باب 28آیت ) مگر مریم اورمارتھا کو وہ مقام جہاں آپ رہتے تھے معلوم تھا۔ اور چونکہ انہوں نے مسیح کو ہر موقعہ پر مدد کے لئے تیار اور لوگوں کے دکھوں کو دور کرنے پر مستعد د پایا تھا لہذا مریم اور مارتھا آپ کے پاس یہ پیغام روانہ کرتی ہیں " اے مالک دیکھئیے جسے آپ عزیز رکھتے ہیں وہ بیمار ہے "ان بہنوں کا ایمان کیسا مضبوط تھا اور وہ کیسا پکا بھروسہ اس پر رکھتی تھیں۔ وہ یہ نہیں کہتی ہیں کہ اے پیغام بر تو وہاں جاکے مالک کو بہت تاکید کرنا او رکہنا اے مالک میں تو آپ کو اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا ۔ وہ آپ کی محبت پر کامل بھروسہ رکھتی ہیں اور جانتی ہیں کہ اسے صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ جسے آپ عزیر رکھتے ہیں بیمار ہے " اور چونکہ بیت عبارہ بیت عینا سے صرف ایک دن کی راہ ہے لہذا انہیں امید تھی کہ آپ جو ان کو پیار کرتے ہیں۔ کبھی نہیں چھوڑتے جلد مدد کے لئے آئیں گے۔دیکھو وہ کیا نام اپنے بھائی کو دیتی ہیں۔ وہ یہ نہیں کہتی ہیں کہ ہمارا بھائی بیمار ہے ۔ او رنہ یہ کہتی ہیں کہ وہ جو آپ کو پیار کرتا ہے۔ بلکہ یہ کہ جسے آپ پیار کرتے ہیں وہ بیمار ہے (لعزر کانام گویا "جسے آپ پیار کرتے ہیں" ہے ۔

آیت نمبر ۴۔مسیح نے سن کر کہا یہ موت کی بیماری نہیں بلکہ خدا کے جلال کی ہے تاکہ اس کے وسیلے سے خدا کے بیٹے (سیدنا مسیح) کا جلال ظاہر ہو۔

یہ موت کی بیماری نہیں۔ یہ الفاظ مسیح نے قاصد کا پیغام سن کر اپنی زبان مبارک سےنکالے۔ اور اپنے شاگردوں کے روبرو بیان فرمائے۔ یہ الفاظ گویا بہنوں کے پیغام کا جواب تھے مسیح چاہتے ہیں کہ وہ قاصد لعزر کی بہنوں کے پاس آپ کا جواب لے جائے اور ان سے کہہ دے کہ مسیح نے کہا کہ " یہ موت کی بیمار ی نہیں " اس جواب نے ان کو سخت حیرانی اور تشویش میں ڈال دیا ہوگا۔ کیونکہ لعزر غالباً اس قاصد کے واپس آنے تک جیسا کہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے جان بحق ہوگیا تھا۔ اب وہ مسیح کے اس پیغام کو سن کر سوچتی ہوں گی کہ اس کا کیا مطلب ہے ۔ لعزر مرگیا ہے پر وہ کہتا ہے کہ یہ بیماری موت کی نہیں۔ کیا اس نے ہم کو فریب دیا یا خود فریب کھایا ہے۔وہ کہتی ہوں گی کہ اگر اس کا مطلب درحقیقت یہ تھاکہ لعزر نہیں مرے گا تو وہ خود کیوں نہ آیا ؟ اور اگر کوئی ضروری بات سدراہ تھی تو وہا ں سے کیو ں نہ کہہ دیاکہ وہ اچھا ہوجائے گا ؟ کیونکہ وہ تو اپنے کلام سے دور دور کے بیماروں کو شفا بخشتا ہے اور ہم نے خود اسے اجنبیوں کو اس طرح اچھا کرتے دیکھا۔ لعزر تو اس کا دوست تھا۔ جس طرح ہم خدا کے عجیب وعدوں کی نسبت اپنی کم اعتقادی سے یہ خیال کر بیٹھتے ہیں کہ وہ اب ہمارے حق میں پورے نہ ہوں گے اور جس طرح ہم اس کی محبت کی گہرائی اور قدرت کو نہیں پہچانتے بلکہ اسے محدود کردیتے ہیں۔ اسی طرح اس وقت شائد مسیح کے وعدہ کے ساتھ ہوا۔ انہو ں نے اس کے کلام  کی سچائی کو جب تک کہ واقعہ نے ا سکی تصدیق نہ کی نہ پہچانا پروہ شروع ہی سے انجام کو جانتے تھے اور لعزر کی بہنوں نے بھی بعد میں معلوم کیا کہ اس دیر کا کیا مطلب تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ لعزر نہ صرف جسمانی زندگی واپس پائے بلکہ اس کے ساتھ وہ اعلیٰ زندگی بھی اس کو نصیب ہو جو آگے اس کو نصیب نہ تھی۔ کیونکہ جب مسیح کہتے ہیں کہ " یہ بیماری موت کی نہیں بلکہ خدا کے جلال کی ہے " اور ا س کی شرح اس طرح کرتے ہیں کہ " اس کے وسیلے سے خدا کے بیٹے کا جلال ظاہر ہو " تو اس میں ضرور یہ خیال مضمر تھاکہ لعزر کی روحانی زندگی بھی زیادہ کاملیت حاصل کرے گی اور ایسا ہی ہوا۔ اب جس بات سے اس کی روحانی زندگی نے ترقی پائی اس نے دنیا کے سامنے مسیح کا جلال ظاہر کیا یایوں کہیں کہ خدا کے بیٹے کا جلال پہلے لعزر میں عیاں ہوا اور پھر اس کے وسیلے دنیا کے سامنے  اس کی بزرگی ظاہر ہوئی ۔(مقابلہ کرو حضرت یوحنا 9باب 2تا 3آیت )۔

آیت نمبر ۵۔اور جنابِ مسیح مرتھا اور اس کی بہن اور لعزر سے محبت رکھتے تھے ۔

اس آیت کو بعض نے آیات ماقبل سے ربط دیا ہے۔ تاکہ یہ معلوم ہو کہ کیوں ان بہنوں نے اس کے پاس پیغام بھیجا ۔ یعنی ان کو پیغام بھیجنے کی جرات اور اس کے قبول کئے جانے کا یقین اس لئے ہوا کہ وہ " مرتھا اور اس کی بہن اور لعزر سے محبت رکھتا تھا " پر بعض اسے چھٹی آیت سے ملاتے اور یہ معنی مستبنط کرتے ہیں کہ حضرت یوحنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں آئتوں میں جو دو خیال پائے جاتے ہیں اور ان میں جو مقابلہ پایا جاتا ہے وہ بخوبی ظاہر ہوجائے ۔ پانچویں آیت میں اس کی محبت کا اور چھٹی آیت میں ا سکی دیر کا ذکر ہے یا یوں کہیں کہ حضرت یوحنا ایک طرف تو یہ بتاتے ہیں کہ وہ بیت عینا کےمصیبت زدہ خاندان کو پیار کرتے تھے اور دوسری طرف یہ کہ باوجود اس پیار کے وہ ان کا پیغام سن کر دو دن تک دیر لگاتےہیں۔ گویا وہ چاہتے ہیں کہ پڑھنے والا ا س بات سے واقف ہوجائے کہ اس عجیب محبت میں جو اپنا کام کرنے سے پہلے اتنی دیرتک خاموش رہی کیاکچھ پایا جاتا ہے۔مگر بعض اس آیت کو مابعد کی دو آئتوں سے مربوط کرتے ہیں اور یہ معنی لیتے ہیں کہ " مسیح مارتھا ۔۔وغیرہ " کو پیار کرتا تھا پس جب آپ نے سنا کہ لعزر بیمار ہے تو آپ دودن جہاں تھے وہیں رہے مگر پھر اس کے بعد آپ نے شاگردوں سے کہا کہ آؤ یہودیہ کو پھر چلیں۔" اس آیت سے ظاہر ہے کہ تمام گھرانا مسیح کا پیرو تھا۔ یہ کیسا مبارک گھرانا تھا۔جو مسیح کے لطف او رکرم کا مورد ہے ۔ واضح ہو کہ پیار کے لئے جو لفظ تیسری آیت میں آیا ہے اور ہے ۔۔۔وہ متی 26باب 48آیت ،مرقس 14باب 44آیت ،لوقا 22باب 47آیت میں بوسہ یا چومہ ترجمہ کیا گیا ہے۔

آیت نمبر ۶،۷۔پس جب آپ نے سنا کہ وہ بیمار ہے تو جس جگہ تھے وہیں دو دن اور رہے ۔ پھر اس کے بعد شاگردو ں سے فرمایا کہ آؤیہودیہ کو پھر چلیں۔

جس جگہ تھے وہیں دو دن اور رہے ۔ اس تاخیر کا اصل مطلب یہ تھا کہ اسے ایک عجیب معجزہ دکھانے کا موقعہ ملے نہ یہ کہ وہ اس وقت کسی بڑے ضروری کام میں مصروف تھے (حضرت یوحنا 10باب 41،42آیت )جس کے سبب سے اپنے دوستوں کی دعوت کو قبول نہ کرسکا ۔ او ریہ آخری سبب اس واسطے درست نہیں کہ اگر بفرض محال وہ کام کی شدت سے خود نہیں آسکتے تھے تو کیا اپنے کلام سے بھی اسے شفا بخش نہیں سکتے تھے ؟ اگر کرسکتے تھے تو کیوں نہ کیا ؟ پس اس کا صحیح جواب یہی ہے کہ یہ دیر آپ نے دیدہ دانستہ کی تاکہ نہ صرف ایک مریض کو شفا دے بلکہ چا ر دنوں کے مردے کو زندہ کرکے ایک عظیم الشان معجزہ وجود میں لائے ۔ اور اب جب دیر مطلوبہ پوری جاتی ہے تووہ یہودیہ کی طرف  جانے کا ارادہ اپنے شاگردوں پر ظاہر کرتا ہے۔

آیت نمبر ۸-۱۰۔شاگردوں نے آپ سے کہا اے مولا ابھی تو یہودی آپ کو سنگسار کرنا چاہتے تھے اور آپ پھر وہاں جاتے ہیں ۔ مسیح نے جواب دیا کیا دن کے بارہ گھنٹے نہیں ہوتے ۔ اگر کوئی دن میں چلتا ہے تو ٹھوکر نہیں کھاتا کیونکہ وہ دنیا کی روشنی دیکھتا ہے ۔ لیکن اگر کوئی رات میں چلتا ہے تو ٹھوکر کھاتا ہے کیونکہ اس میں روشنی نہیں۔

جب شاگردوں نے دیکھا کہ مسیح پھر یہودیہ کو جانا چاہتے ہیں تو وہ آپ کو بتاتےہیں کہ وہاں کیسے خطرے موجود ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ انہیں خطروں کے سبب سے ابھی ابھی یہاں آئے تھے۔ یہودی آپ کو سنگسار کرنا چاہتے تھے لیکن اب پھر وہاں جانا چاہتے ہیں۔ شاگردوں کے الفاظ میں کچھ کچھ محبت اپنی جھلک دکھا رہی ہے مگر اس کے ساتھ ہی ذاتی حفاظت کا خیال بھی نہاں ہیں جو آیت 16میں توما کے الفاظ کے وسیلے ظاہر ہوتا ہے " پس توما نے جسے توام کہتے تھے اپنے ساتھ کے شاگردوں سے کہا کہ آؤہم بھی مسیح کے ساتھ مرنے کو چلیں " کیا آٹھویں آئت سے معلوم نہیں ہوتاکہ مسیح کے شاگردآپ کے حضور بڑی آزادی اور بے تکلفی سے رہا کرتے تھے ۔ اپنے خیالات کو بڑی آزادی سے بیاں کردیا کرتے تھے ؟ وہ اگر ان کے خیالات کو غلط پاتے تھے تو ان کی اصلاح کردیا کرتے تھے۔ دینی رہبروں کو اس خصوص میں مسیح کا نمونہ اختیار کرنا چاہئیے۔ مسیح ان کو جواب دیتے ہیں کہ کیا دن کے بارہ گھنٹے نہیں ہوتے اگر کوئی دن میں چلتا ہے وغیرہ " اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ دن میں پورے بارہ گھنٹے ہوتے ہیں اور ان میں سے کبھی کوئی گھنٹہ غیر معمولی طور پر مارا نہیں جاتا ۔ یعنی رات کبھی ایک یا دو گھنٹے پہلے آکر دن کے بارہ گھنٹوں میں سے کوئی گھنٹہ کم نہیں کردیتی ۔ اور لوگ ان میں سے ہر ایک گھنٹہ میں بے ٹھوکر کھائے چلتے پھرتے اور اپنا کام کرتے ہیں کیونکہ ان کو " دنیا کی روشنی " یعنی سورج روشن کرتا ہے ۔ اسی طرح میرے پاس بھی ایک دن ہے جسے کوئی بادل تاریک نہیں کرسکتا اور میں بھی اپنے باپ کی روشنی میں بے ٹھوکر کھائے چلتا اور اس کا کام بجالاتا ہوں اور جب تک دن کے بارہ گھنٹوں کی طرح وہ زمانہ جو میرے باپ نے میرے لئے مقرر کیا ہے ختم نہ ہوجائے اور جو کام مجھے کرنے کو دیا گیا ہے پورا نہ ہوجائے تب تک ٹھوکر کا کوئی خطرہ نہیں۔ میں ہر طرح محفوظ ہوں اور تم میری صحبت میں محفوظ ہو۔ (مقابلہ کروں حضرت یوحنا 6باب 4آیت کے ساتھ)۔

آیت نمبر ۱۱۔مسیح نے یہ باتیں کہیں اور اس کے بعد ان سے فرمایا کہ ہمارا دوست لعزر سوگیا ہے اور میں اسے جگانے جاتاہوں۔

اب مسیح اپنے شاگردوں کو اس مقصد سے آگاہ کرتے ہیں جس کے سبب سے وہ یہودیہ جاناچاہتے ہے لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ مسیح نے اس وقت کوئی ایسا تازہ پیغام بہنوں سے نہیں پایا تھا کہ لعزر مرگیا ہے اور اس کے دوستوں کا گھر ماتم کدہ بن گیا ہے بلکہ آپ نے اپنی روح کی قدرت سے جانا کہ آپ کا دوست کوچ کرگیا ہے۔ مگر وہ انہیں پہلے یہ نہیں کہتے کہ وہ مرگیا ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ وہ سوگیا ہے اور میں اسے جگانے جاتاہوں موت کو اکثر سونے سے تشبیہ دی جاتی ہے (توریت شریف کتاب استشنا 31باب 16آیت ،بائبل مقدس صحیفہ حضرت دانیال 12باب 2آیت ،حضرت متی 27باب 52آیت ،اعماالرسل 7باب 60آیت ،13باب 36آیت وغیرہ)غیر قوموں میں بھی یہ تشبیہ مروج ہے ۔ مگر فقط مسیحی ہی حقیقت میں جسمانی موت کو سونے سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔

ہمارا دوست لعزر ۔ اس سے وہ پیارا اور مبارک رشتہ ظاہر ہوتا ہے جو مسیح اور اس کے بندوں میں پایا جاتا ہے۔ وہ اس کے دوست ہیں نوکرنہیں۔ (مقابلہ کرو حضرت یوحنا 15باب 13تا 15آیت )غریب سے غریب مسیحی ایک دوست رکھتا ہے جو بادشاہوں سے زور آور اور دولتمندوں سے زیادہ دولتمند ہے۔ جو ابد تک اپنی دوستی نباہے گا۔ دیکھو مسیح کا دوست لعزر مرجاتا ہے مگر موت ان دونوں کو جدا نہیں کرسکتی چنانچہ وہ اب بھی دوست ہیں۔ نہ موت نہ زندگی نہ فرشتے نہ حکومتیں نہ قدرتیں اور نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں نہ بلندی اور نہ پستی او رنہ کوئی دوسری مخلوق ہم کو اس کی محبت سے جدا کرسکتی ہے ۔

آیت نمبر ۱۲۔پس شاگردوں نے آپ سےکہا ۔ اے مالک اگر سوگیا تو بچ جائے گا۔

ہمارے مولا نے جو کچھ کہا تھا کنایتہً کہا تھا۔ مگر وہ اسے معمولی بات سمجھے وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ سوگیا ہے۔ اور چونکہ بعض سخت سخت بیماریوں میں سونا عموماً صحت کا باعث یا نشان ہوتا ہے لہذا وہ سمجھتے ہیں کہ اگر سوگیا ہے تو بہت اچھا ہواکیونکہ یقین ہے کہ وہ بچ جائے گا۔ پر اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی اپنے دل میں کہتے ہوں گے کہ اب ضرور نہیں کہ ہمارا خداوند اپنی اور ہماری جان کو خطرے میں ڈالے کیونکہ اب لعزر مسیح کے گئے بغیر ٹھیک ہوجائے گا۔ توما کےکلام سے جو آیت 16میں درج ہے معلوم ہوتا ہے کہ خطرے کا اندیشہ ابھی تک ان کے دلوں میں جاگزین تھا۔

آیت نمبر ۱۳تا ۱۵۔مسیح نے تو ا س کی موت کی نسبت کہا تھا۔ مگر وہ سمجھے کہ آرام کی نیند کی بابت کہا۔ مسیح نے ان سے صاف فرمایا دیاکہ لعزر مرگیا۔ اور تمہیں تمہارے سبب سے خوش ہوں کہ وہاں نہ تھا۔ تاکہ تم ایمان لاؤ۔ لیکن آؤہم اس کے پاس چلیں۔

ان آيتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے مالک ان کی غلط فہمی کو دور کرتے ہیں اور ان کو صاف صاف طور پر بتادیتے ہیں کہ لعزر مرگیا ہے۔ مگر یہ خیال کرکے کہ مبادا میرے شاگرد مجھ سے یہ کہیں کہ اے مالک اگر آپ کو وہاں جانا ہی تھا تو اس وقت کیو ں نہ گئے جب کہ لعزر زندہ تھا اور کیوں اس وقت جاکر اسے شفا بخشی ۔ آپ ان کو فرماتے ہیں کہ "میں تمہارے سبب سے خوش ہوں کہ وہاں نہ تھا " وہ اس واسطے خوش تھے کہ آپ کی غیر حاضری کے سبب ایسا موقعہ پیدا ہوا جس میں خدا کا جلال زیادہ کثرت سے ظاہر ہونے پر تھا۔ اور اس کی نسبت معلوم ہونے کو تھا کہ وہ زندگی کا مالک اورمنبع ہے اور آپ کے شاگرد ایمان کے اعلیٰ سے اعلیٰ منزلوں تک پہنچائے جانے کو تھے۔ اگر آپ شروع میں وہاں ہوتے تو آپ کی ہمدرد اور رحیمانہ طبیعت آپ کو مجبور کرتی کہ لعزر کو مرنے نہ دیں۔

آیت نمبر ۱۶۔پس توما جسے توام کہتے تھے اپنے ساتھ کے شاگردوں سے کہا کہ آؤہم بھی مسیح کے ساتھ  مرنے چلیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے شاگردوں میں سے کم از کم ایک کے دل میں یہ خیال جاگیر ہورہا تھاکہ اگر ہم وہاں گئے تو ہر گز نہیں بچیں گے۔ بلکہ ہم میں سے ہر ایک موت کا لقمہ بنے گا۔ توما میں اعتقاد اور بے اعتقادی کی عجیب ترکیب اور آمیزش نظر آتی ہے ایمان اس بات میں جلوہ نمائی کررہا ہے کہ وہ اپنے پیارے مالک کو اکیلا چھوڑنا گوارا نہیں کرتا۔ بلکہ اس کے ساتھ مرمٹنے کو تیار ہے۔ مگر اس کے بالمقابل ایک قسم کی بے اعتقادی بھی دکھائی دے رہی ہے کہ وہ اس بات پر گرفت پیدا نہیں کرتا کہ جب تک اس کے خداوند کا کام تمام نہ ہو تب تک کوئی اس پر ہاتھ نہیں بڑھا سکتا۔ بلکہ برعکس اس کے وہ یہ مانتا ہے کہ اس کا کام انجام پائے یا نہ پائے ممکن ہے کہ کام کرنے میں وہ اور اس کے شاگرد جان سے مارے جائیں۔ شک کرنا اس کی طبعیت کا خاصہ تھا۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ  ہر بات کے تاریک پہلو کو دیکھا کرتا تھا اور یہ اس کے لئے مشکل تھا کہ جوکچھ وہ ایک مرتبہ اپنے ذہن میں جما چکا تھاا س کی نسبت اپنی رائے  کو تبدیل کرلے۔

آیت نمبر ۱۷۔پس مسیح کو آکر معلوم ہواکہ اسے قبر میں رکھے ہوئے چار دن ہوگئے تھے۔

لکھا ہے کہ مسیح کو آکر معلوم ہوا " ا سکا یہ مطلب نہیں کہ بیت عینا میں آنے سے پہلے مسیح کو خبر نہ تھی کہ لعزر کو جان بحق ہوئے چار دن گذر گئے ہیں۔ کیونکہ جو شخص یہ جانتا تھاکہ وہ مرگیا ہے اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اسے مرے ہوئے چار دن ہوگئے ہیں۔ حضرت یوحنا صرف عام طور پر ذکر کرتا ہے کہ جب مسیح یہاں آیا تو لوگوں نے اس کو خبری دی کہ لعزر کو مرے ہوئے چار دن ہوگئے ہیں۔

چار دن ہوگئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مریم اور مارتھا نے اسی وقت پیغام بھیجا جس وقت ان کا بھائی قریب المرگ ہوگیا تھا اور وہ غالباً اسی دن مرگیا جس دن قاصد گیا تھا۔ ورنہ چار دن کا شمار پورا ہونا مشکل ہے ۔ کیونکہ مسیح دو دن تک جہاں تھے وہیں رہے۔ پس ایک دن قاصد کے جانے میں لگا ۔ دو دن مسیح جہا ں تھے وہاں رہے او رایک دن میں بیت عبارہ سے بیت عینا کو آیا۔ اس طرح چار دن ہوئے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ جس دن وہ مرا اسی دن یہودی دستور کے مطابق دفن کیا گیا۔ وہ دستور یہ تھا کہ یہودی مردے کو مرنے کے بعد فوراً دفن کردیتے تھے اور لعزر کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہی ہوا کیونکہ آیت 39کے مقابلہ سے صاف ظاہر ہوجاتاہے کہ وہ جس دن مراسی دن دفنایاگیا۔ نیز مقابلہ کرو( اعمالرسل 5باب 6تا 10آیت )۔

آیت نمبر ۱۹،۱۸۔بیت عینا یروشلم کے نزدیک تخمیناً دو میل کے فاصلے پر تھا اور بہت سے یہودی مرتھا اورمریم کو بھائی کے بارہ میں تسلی دینے آئے تھے ۔

اب اس حقیقی تسلی دہندے کے آنے سے پہلے یروشلم سے کئی لوگ تسلی دینے کے لئے پہنچے تھے۔ یہودیوں میں دستور تھا کہ جب کوئی مرجاتا تھا اس کے پس ماندگان کو تسلی دینے اور ان کے ساتھ سوگ کرنے کے لئے لوگ جمع ہوجایا کرتے تھے۔ ماتم پرستی کے لئے آتے تھے اور دس دس دن تک ان کے پاس رہتے تھے (1تواريخ 7باب 22آیت )کہتے ہیں کہ سوگ کے تیس دن ہوتے تھے۔ ان میں سے پہلے تین دن رویا کرتے تھے پھر سات دن تک ماتم ہوا کرتا تھا اور باقی بیس دن میں سوگ کیا جاتا تھا۔

لیکن اس بیت عینا کے غم زدہ گھرانے میں ایک شخص آتا ہے جو حقیقی تسلی دے سکتا ہے اور غم زدوں کی آنکھوں سے غم کے آنسو پونچھ سکتا ہے۔ مگر چونکہ اس وقت یہاں ایسے لوگ موجود ہیں جو شائد اس کے سخت مخالف تو نہیں مگر تاہم اس سے ہمدردی نہیں رکھتے لہذا وہ ان ناموافق لوگوں کے درمیان اور اس غم کے عالم میں پہلی مرتبہ غم زدہ بہنوں کے ساتھ ملاقات کرنا پسند نہیں کرتا۔ پس باہر ٹھہر جاتاہے شائد کسی جگہ لعزر کی قبر کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور وہاں سے اپنے آنے کی خبر بہنوں کے پاس بھیج دیتا ہے۔ ہم نے کہا لعزر کی قبر کے پاس بیٹھ گیا یہ خیال مہمان یہودیوں کے قیاس سے پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ جب مریم مسیح کی ملاقات کے لئے نکلی اس وقت انہوں نے خیال کیاکہ وہ لعزر کی قبر کو جاتی ہے پس مسیح بھی کہیں اسی طرف اور غالباً جہاں لعزر مدفون تھا کہیں اسی جگہ کے پاس کھڑا تھا۔ یہودیوں کامریم اور مارتھا کو تسلی دینے آنا پختہ ثبوت اس بات کا ہے کہ لعزر مرگیا تھا۔ اگر وہ نہ مرا ہوتا تو یہ لوگ ہر گز ہرگز عیادت کے لئے نہ آتے۔

آیت نمبر ۲۰تا ۲۷۔ ان آیات میں مسیح  اور مرتھا کی ملاقات اور باہمی گفتگو کا ذکر مندرج ہے ۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ مارتھا کی بات کے جواب میں مسیح کیسی عظیم صداقتیں  اپنی ذات اور شخصیت کی بابت  بیان فرماتے ہیں۔

آیت نمبر ۲۰۔پس مارتھا مسیح کے آنے کی خبر سن کر ان سے ملنے کو گئی لیکن مریم گھر میں بیٹھی رہی ۔

          مریم کے گھر میں بیٹھے رہنے سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہئیے کہ وہ بیٹھنا پسندکرتی تھی۔ اس کے بیٹھنے کا ذکر دو جگہ آتا ہے ایک اس جگہ اور ایک لوقا 10باب 39آیت )میں اس آخری مقام میں جو اس کے بیٹھنے کا ذکر پایا جاتا ہے اس کا سبب یا اس کی کشش یہ تھی کہ وہ مسیح کی زندگی بخش باتیں سننا چاہتی تھی نہ یہ کہ وہ چلنے پھرنے سے تنگ آئی ہوئی تھی۔ اور حضرت یوحنا کے اس مقام سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ مارتھا جو اپنی طبعیت کے مطابق غالباً اس غم اور سوگ کے عالم میں بھی مہمانوں کی تواضع میں لگی ہوئی تھی اور اس سبب سے اندر باہر آتی جاتی تھی اس نے مسیح کے آنے کی خبر پہلے پائی اور پاتے ہی اس سے ملنے چلی گئی اور مریم جو جو اندر بیٹھی تھی پہلے معلوم نہ ہوا۔ اور اگر ہوتا تو فوراً مسیح سے ملنے جاتی جیسا کہ بعدمیں خبر پاکر گئی (دیکھو آیت 29)۔

آیت نمبر۲۱۔مارتھا نے مسیح سے کہا اے مالک اگر آپ یہاں ہوتے تو میرا بھائی نہ مرتا ۔

          جب ہم ۲۳آیت کو پڑھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتاہے کہ جب مریم مسیح کے پاس آتی ہے تو اس کے پاؤں پر گر پڑتی ہے ۔ لیکن مرتھا کی نسبت  نہیں کہا گیا کہ وہ بھی اس کے پاؤں پر گری۔ نا ممکن نہیں کہ وہ بھی گری ہو مگر کلام میں ذکر نہیں کیا گیا بعض وقت کلام کی خاموشی بھی پر مطلب اور پر لطف ہوتی ہے۔ مگر گومرتھا کے سجدہ کی نسبت کچھ نہیں لکھا گیا ۔ پر جو لفظ اس نے کہے وہ " مرقوم ہیں اور و ہ وہی ہیں جروم نے بھی کہے ۔ پہلی بات جو مرتھا کی زبان سے نکلتی ہے یہی ہے کہ اے مالک اگرآپ یہاں ہوتے تو میرا بھائی نہ مرتا "معلوم ہوتا ہے کہ جن خیالات سے ان کے غم کا پیالہ لبریز ہورہا تھا ان میں سے سب سے بڑی بات یہ تھی کہ جب لعزر بیمار تھا اس وقت مسیح پاس نہ تھا۔ کیونکہ وہ خیال کرتی تھیں کہ اگر وہ موجود ہوتے تو ہماراگھر آج ماتم کدہ نہ ہوتا۔ بلکہ بھائی کی مہلک بیماری سے شفا پانے کے سبب عشرت کدہ دکھائی دیتا ۔

آئت نمبر ۲۲۔اور اب بھی میں جانتی ہوں کہ جوکچھ خدا سےمانگے گا وہ تجھے دےگا۔

مرتھا اب بھی امید رکھتی ہے کہ مسیح جو چاہے سوکرسکتا ہے ۔ لیکن اس امید میں کسی قدر کمزوری بھی پائی جاتی ہے ۔ اس کے تصور میں مسیح کی نسبت اعلیٰ اور ادنے ٰ دونوں طرح کے خیالات مشتمل ہیں۔ ایک طرف وہ اس بات کی قائل ہے کہ مسیح اپنی دعا کے وسیلے سب کچھ کرسکتا ہے مگر دوسری جانب اس میں یہ نقص نظر آتا ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھتی کہ جو کچھ وہ دعا کے وسیلے پاتا ہے وہ درحقیت باپ کے ساتھ ایک ہونے کے سبب اسی کے اختیار میں ہے ۔ پس جو چاہے سو اپنی قدرت سے کرسکتا ہے ۔مارتھا کی یہ خوبی غور طلب ہے کہ وہ دعا کی تاثیر کی قائل ہے اس سوال کے جواب میں " مسیح نے اس سے کہا کہ تیرا بھائی جی اٹھے گا " آیت 23)ہمیں اب معلوم ہے کہ مسیح کا کیا مطلب تھالیکن لعزر کے مردوں میں سے جی اٹھنے سے پہلے مرتھا کے لئے یہ الفاظ ایک طرح ذو معنی تھے۔ پس ان لفظوں نے یہ آرزو کہ لعزر جی اٹھے اس کے دل میں پیدا کردی مگر یہ یقین اس کو نہ آیا کہ وہ ابھی مردوں میں سے جی اٹھے گا۔ بلکہ اس نے خیال کیاکہ بے شک جب اور سچے اسرائیلی قیامت کے دن اٹھیں گے اس دن وہ بھی جی اٹھے گا۔ مگر اسمیں میرے لئے کیا تسلی ہے چنانچہ وہ کہتی ہے ۔

"میں جانتی ہوں کہ قیامت میں آخری دن جی اٹھے گا " (آیت 24)۔یہ یقین تو اسے تھا کہ ایک دن آئے گا۔ جب میرا بھائی مردوں سے جی اٹھے گا۔ لیکن یہ خیال اس کے لئے بہت تسلی دہ نہ تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ ابھی جی اٹھے مگر اس کے ساتھ یہ بھی سوچتی تھی کہ یہ نا ممکن ہے۔ چنانچہ مسیح اسے فرماتے ہیں کہ تو یہی خیال کرتی ہے کہ جب قیامت آئے گی تب تیرا بھائی زندہ ہوگا۔ اور نہیں جانتی کہ۔

"قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مرجائے تو بھی جیتا رہے گا اور جوکوئی جیتا ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا ۔کیا تو ایمان اس پر رکھتی ہے (آیت 25،26)۔

گویا مسیح اسے یہ کہتے ہیں کہ جو قدرت  موت کو مغلوب کرنے والی ہے وہ مجھ میں پائی جاتی ہے وہ مجھ سے دور نہیں ہے جیسا تو خیال کرتی ہے کہ قیامت میں وہ قدرت نمودار ہوگی۔ اور نہ  وہ مجھ سے جدا ہے جیسا تو خیال کرتی ہے کہ میں دعا کے وسیلے اسے کسی غیر سے پاتاہوں نہیں" قیامت اور زندگی میں ہوں " یہ چیزیں مجھ میں ہیں اور مجھ سے جدا نہیں۔میں ہی موت کو فتح کرنے والاہوں اور ہمیشہ کی زندگی مجھ ہی میں پائی جاتی ہے۔ اگر تو ایمان لائے توتجھے وہ برکت ملے گی جو موت کو موت نہیں بلکہ نفح سمجھتی ہے۔ میں موت کو فتح کرنے والا ہوں اور جسموں کا نجات دہندہ ہوں۔ میں زندگی کا سرچشمہ ہوں پس ابدی اور روحانی اورجسمانی زندگی مجھ ہی سے نکلتی ہے۔ ایک بات ان لفظوں سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ الفاظ سوائے اس کے جو اپنے تیئں خدا جانتاتھا اور کوئی استعمال نہیں کرسکتا تھا۔

قیامت ا وہ زندگی ہے جو موت کا مقابلہ کرتی ہے اور اس پر غالب آتی ہے۔ یہ زندگی کی موت ہے ۔ یہ زندگی گویا موت کا مقابلہ اس صورت میں کرتی ہے جو اس کی سب بھیانک صورتوں میں زیادہ بھیانک ہے ۔ جب بدن سڑجاتا ہے اور عناصر جدا جدا ہوجاتے ہیں اور موت فتح مندوں کی صورت اختیار کرکے یہ کہتی ہے کہ اب میرے قبضے سے میرے شکار کو کون چھڑاسکتا ہے اس وقت جو قدرت اس پر غالب آتی ہے وہی قیامت ہے وہ اسے چکنا چور کرتی ہے مگر ہم کو ابھی اس زندگی کا بیعانہ ملا ہے ۔ ابھی فنا کو بقا نےنگلا نہیں۔ ابھی ساری چیزیں اس کے پاؤں کی چوکی نہیں بنی ہیں (خط اول کرنتھیوں 15باب 25تا 26آیت )پس کیا ہم یہ کہیں کہ ہم کو اس سے کیا فائدہ؟ کیونکہ یہ صداقت بھی ایسی ہے جو بے قیاس مدت کے بعد وقوع میں آنے والی ہے ۔ ہم ایسا خیال نہ کریں کیونکہ وہ جو مردوں کی قیامت ہے زندگی بھی ہے۔ وہ زندوں کی بھی زندگی ہے وہی اکیلا زندگی کا سرچشمہ ہے "کیونکہ جس طرح باپ اپنے میں زندگی رکھتا ہے اسی طرح اس نے بیٹے کو بھی یہ بخشا کہ اپنے آپ میں زندگی رکھے " (حضرت یوحنا 5باب 26آیت )پس جو اس زندگی کے چشمے سے زندگی نہیں پاتے وہ نہ صرف جسمانی موت کے پنجہ میں گرفتار ہیں بلکہ روح کی زندگی سے بھی محروم ہیں۔

اب جنابِ مسیح یہ بتاکر کہ میں کیا ہوں اور جو مجھ پر ایمان لاتے ہیں وہ کیا بن جاتے ہیں ۔ اس سے پوچھتے ہیں "کیا تو اس پر ایمان رکھتی ہے ؟ کیا تو اس بات کو قبول کرتی ہے کہ میں ہی زندگی اور موت کا بادشاہ اور مالک ہوں میں جو تیرااستاد ہوں خدا ہوں اور زندگی اور موت کی کنجیاں اپنے ہاتھ میں رکھتا ہوں۔ کیا تو یہ مانتی ہے یا صرف مجھے ایک نبی جانتی ہے ؟کیا تو مانتی ہے کہ موت کے بعد قیامت اور زندگی کے متعلق جو صداقتیں پائی جاتی ہیں ان کا مرکز میں ہوں؟ اس کے جواب میں "اس نے مسیح سے کہا ہاں اے مالک میں ایمان لاچکی ہوں کہ آپ خدا کے بیٹے مسیح  جو دنیا میں آنے والے تھے آپ ہی ہیں۔ (آیت 27)۔

آیت نمبر ۲۹تا ۳۲۔وہ سنتے ہی جلد اٹھ کر اس کے پاس آئی مسیح ابھی گاؤں میں نہیں پہنچا ۔ بلکہ اس جگہ تھے جہاں مرتھا انہیں ملی تھی جو یہودی گھر میں اس کے پاس تھے اور اسے تسلی دے رہے تھے کہ یہ دیکھ کر کہ مریم جلد اٹھ کر باہر گئی۔ اس خیال سے اس کے پیچھے ہولئے کہ وہ قبر پر رونے جاتی ہے جب مریم اس جگہ پہنچی جہاں مسیح تھے اور اسے دیکھا تو ان کے پاؤں پر گر کر کہا ۔ اے مالک اگرآپ یہاں ہوتے تو میرا بھائی نہ مرتا۔

یہ خبر سنتے ہی وہ اس طرف جدہر مسیح تھے روانہ ہوئی ۔ اور اسے جاتے دیکھ کر ان لوگوں نے جو اسے تسلی دے رہے تھے یہ نتیجہ نکالا کہ وہ اپنے بھائی کی قبر پر رونے چلی ہے ۔ کیونکہ یہودی عورتوں کے درمیان یہ دستور تھا وہ اپنے سوگ کے پہلے چند ایام میں رشتہ داروں کی قبروں پر جا کر رویا کرتی تھیں۔ لہذا وہ لوگ بھی اس کے پیچھے ہولئے مگر درحقیقت ان کا جانا انتظام ربی کے مطابق تھا کیونکہ خدا کومنظور تھا کہ یہ عجیب معجزہ بہت سے گواہوں کے روبرو وقوع میں آئے ۔

جب مریم اس جگہ پہنچی جہاں مسیح تھے تو آپ کے پاؤں پر گرکرکہنے لگی ۔ اے مالک اگر آپ یہاں ہوتے تو میرا بھائی نہ مرتا " یہ وہی الفاظ ہیں جو اس کی بہن مرتھا نےمسیح کودیکھتے ہی کہے تھے اور دونوں بہنوں کے ایک ہی بات کہنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چاردنوں کے عرصہ میں  یہی بات ان کے وردزباں ہورہی تھی۔ انہوں نے بار بار ایک دوسرے سے کہا ہوگا کہ اگر مالک یہاں ہوتے تو ہمارا بھائی نہ مرتا ۔ اور چونکہ یہ خیال ان کے دل اور زبان پر چڑھا ہوا تھا اس لئے مریم نے بھی اسے دیکھ کر یہی کہا " اے مالک اگر آپ یہاں ہوتے تو میرا بھائی نہ مرتا " ۔

آیت نمبر ۳۳،۳۴۔جب مسیح نے اسے اور ان یہودیوں کو جو اس کے ساتھ آئے روتے دیکھا تو دل میں رنجیدہ ہوا اور گھبرا کر کہا تم نے اسے کہاں رکھا ہے۔ انہوں نے کہا اے مالک آکر دیکھیں۔

لکھا ہے کہ جب مسیح نے مریم کو اور اس کے ساتھ بعض یہودیوں کو روتے دیکھا تو دل میں رنجیدہ ہوا۔ یونانی لفظ جس کا ترجمہ "رنجیدہ ہوا " کیا گیا ہے اصل میں معنی خفا ہونے کے رکھتے ہیں۔ اور کبھی اظہار غم کے لئے نہیں آتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس موقع پر مسیح  غصہ ہوئے؟ اس کے جواب میں کئ باتیں بتائی گئی ہیں۔ (1)یہ کہ وہ اس موقع پر اپنے آپ سے غصہ ہوا کیونکہ کو روتے دیکھ کر اس کے دل میں ایک قسم کی رقت پیدا ہوئی ۔ مگر ا س نے اس رقت کو اپنی شان کے بر خلاف سمجھا اور اپنے ساتھ غصہ ہوا۔ مگر یہ خیال قبول کرنے کے لائق نہیں۔ مسیحی مذہب یہ نہیں سکھاتا کہ ہم روئیں نہیں یاکہ ہمدردی کے خیالات کا اظہار بذریعہ آنسو کے نامناسب ہوتا ہے۔ بلکہ ہم کو یہ حکم دیتا ہے کہ جو روتے ہیں ان کے ساتھ روئیں۔ جس بات کی ہدائت کی گئی ہے وہ ایک بزرگ کے الفاظ میں یوں ادا کی جاسکتی ہے  کہ " ہم یہ نہیں چاہتے کہ غم کادریا بالکل خشک ہوجائے بلکہ اسے باندھ کر کناروں کے اندر رکھنا چاہتے ہیں "(2)دوسرا قیاس یہ ہے کہ مسیح اس واسطے رنجیدہ ہوئے کہ آپ نے دیکھ لیا کہ یہودی جو حاضر تھے وہ اس کے معجزے  کو مخالفت کی نظر سے دیکھیں گے اور کبھی قبول نہ کریں گے ۔ (3)اس لئے غصہ ہوا کہ اس نے مریم اور مرتھا وغیرہ کو دیکھا کہ وہ رونے سے باز نہیں آتے ہیں اور اس طرح ظاہر کرتی ہیں کہ گویا وہ اسے مردوں سے زندہ نہیں کرسکے گا۔ پر یہ خیال بھی درست نہیں کیونکہ ان کے آنسوؤں میں کوئی ایسی بات نہ تھی جس سے وہ ناراض ہوتا۔ بلکہ ہم دیکھتے ہیں مسیح خود روئے۔ سب سے زیادہ اور صحیح خیال یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے یہاں گناہ کے نتیجہ کو دیکھا اور اس بربادی کوجو گناہ کے سبب دنیا میں آئی  ہوئی ہے معائنہ کیا۔ اور اپنے دل میں اس سے جو اس بربادی اور غم کا موجد تھا غصہ ہوا۔ بے شک وہ اس وقت لعزر کو زندہ کرنے پر تھا۔ پر وہ جانتا تھا کہ لعزر کو یہ تلخ پیالہ پھر پینا پڑے گا۔ اس کی بہنوں کے آنسوں اب پونچھے جائیں ۔ مگر چند دن کے بعد پھر بہینگے ۔ صحیح خیال یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبرانی محاورہ ہے جو غم اور ہمدردی کے موقعہ پر دلی حالت کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ پس یہ گھبراہٹ غم کی گھبراہٹ تھی (مقابلہ کرو 1سموئیل  30باب 6آیت ،2سموئیل 12باب 18آیت ) پس مسیح اس وقت گناہ کے بانی سے غصہ ہیں اور اب زیادہ دیر کئے بغیر اس کے ساتھ مقابلہ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں اور پوچھتے ہیں تم نے اسے کہاں رکھا ہے ۔ وہ کہتے ہیں اے مالک آکر دیکھیں۔

آیت نمبر ۳۵۔مسیح کے آنسو بہنے لگے ۔

 پرانے ترجمہ میں " مسیح روئے " 23آیت میں جو لفظ رونے کے لئے آیا ہے وہ اور ہے۔ اس میں چلانا اورنالہ کرنا بھی شامل ہے۔ مگر جس لفظ کا ذکر اس آیت میں ہے اس سے مراد آنسو بہانا ہے ۔ اس ہمدردسردار کاہن کی آنکھوں سے ان کی مصیبت اور غم کو دیکھ کر آنسو نکل آئے۔ وہ سچی ہمدردی کے جوش کو روک نہ سکا۔ ہم اوپر دکھا آئے ہیں کہ اس طرح ہمدردی کو ظاہر کرنے میں کوئی بات اس کی شان کے بر خلاف نہ تھی بلکہ ان آنسوؤں میں یہ آئت دو لفظوں سے مشتمل ہے ۔ پر کیسے بیش قیمت  خرانے اس میں نہاں ہیں۔ حالانکہ مسیح جانتے ہیں کہ میں ابھی لعزر کو زندہ کروں گا تاہم وہ ان کے موجودہ غم میں شامل ہوتے ہیں پر اس کا اظہار غم اعتدال کے ساتھ ہوتا۔ وہ نالاں نہیں ہوتا۔ ایک اور بات اس سے ظاہر ہوتی ہے او ریہ کہ الہی اظھار سے پہلے انسانی ذات کا اظہار اپنا جلوہ دکھاتا ہے  پہلے روتا اور پھر لعزر کو زندہ کرتا ہے  غور کیجئے جو انجیل مسیح کی الوہیت کے ثبوت میں لکھی گئی وہی ا سکی انسانیت  کابڑے سے بڑا ثبوت پیش کرتی ہے ۔ پر صحیح خیال یہی معلوم ہوتا ہے کہ بہ سبب ہمدردی کے روئے۔

آیت نمبر ۳۶تا۳۷۔پس یہودیوں نے کہادیکھو وہ اس کو کیسا عزیز  تھا۔ لیکن ان میں سے بعض نے کہا کیا یہ شخص جس نے اندھے کی آنکھیں کھولیں یہ نہ کرسکا کہ وہ مرتا بھی نہیں ؟

یہودیوں میں جو اس وقت حاضر تھے دو طرح کےلوگ تھے۔ ایک وہ جو مسیح کے آنسوؤں اور ہمدردی کو دیکھ کر نیک نیتی سے اس کی اس محبت پر جو وہ لعزر سے رکھتا گواہی دیتے ہیں۔ دوسرے وہ جو عیب جوئی کی راہ سے یہ کہتے ہیں کہ یہ شخص جواب آنسو بہارہا ہے اور جس نے اندھوں کو آنکھیں دیں کیا اس کو مرنے سے بچا نہ سکا ؟ اگر کوئی پوچھے کہ انہوں نے اندھوں کی آنکھیں کھولنے کی مثال کیوں دی ۔ او ریہ کیوں نہ کہا کہ یہ شخص جس نے مردوں کو زندہ کیا کیا لعزر کو مرنے سے نہیں بچاسکتا تھا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے مسیح نے ایک جنم کے اندھے کی آنکھیں جیسا ہم پڑ ھ چکے ہیں یروشلم میں روشن کی تھیں۔ اور اس معجزے کے سبب سے یہودیوں کی طرف سے بڑی تحقیقات ہوئی تھی۔ لہذا یہ یہودی یروشلم کے رہنے والے تھے اس واقعہ کو نہیں بھولے تھے۔ پر مردوں کو زندہ کرنے کے معجزے جو گلیل میں سرزد ہوئے ان کی یاد میں ایسے تازہ نہ تھے۔ پس جس معجزہ کا حال ان کو بخوبی یاد ہے ۔ اس کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ اور ان کا ایسا کرنا ایک پختہ ثبوت اس بات کا ہے کہ انجیل نویس چشم دیدواقعہ تحریر کررہا ہے ۔ کیونکہ یہ انجیل اگر دوسری یا تیسری صدی میں تحریر کی جاتی تومصنف ضرور مردوں کو زندہ کرنے کی مثال لاتا۔ او ریو ں کہتا کہ " ا ن میں سے بعض نے کہا کہ یہ شخص جس نے مردوں کو زندہ کیا یہ نہ کرسکا کہ وہ مرتا بھی نہیں۔

آیت نمبر ۳۸۔مسیح اپنے دل میں پھر رنجیدہ ہوکر قبر پر آئے ۔ وہ ایک غار تھا اور اس پر پتھر دھرا تھا۔

اب مسیح قبر پر آتے ہیں۔ پھر ایک مرتبہ وہی رنجیدگی جس کا بیان اوپر کیا ہے ان کےدل میں ہے وہ قبر جس میں لعزر مدفون تھا شہر کے باہر ایک غار میں تھی کبھی اس قسم کی غار قدرتی ہوتی تھی (توریت شریف کتاب پیدائش 23باب 9آیت )اور کبھی مصنوعی یعنی لوگ اپنی محنت سے چٹان میں اسے تراشا کرتے تھے (یسعیاہ 22باب 16آیت اور حضرت متی 27باب 60آیت )کبھی باغ میں ہوتی تھی ( حضرت یوحنا 19باب 41آیت )کبھی کسی کھیت میں جو کسی خاندان کے قبضہ میں ہوتا تھا ۔ بعض بعض جگہ ان قبروں کا منہ زمین کی سطح سے ہموار ہوتا تھا۔ اور بعض جگہ سیڑھیوں کے وسیلے نیچے اتر کر قبر تک جانا پڑتا تھا۔ ان قبروں کےمنہ پر پتھر اس لئے رکھا جاتا تھاکہ درندے اور خصوصا ً گیدڑ اندر نہ جانے پائیں۔ کیونکہ خطرہ تھاکہ کہیں وہ قبر میں گھس کر مردے کو پھاڑ نہ ڈالیں۔ اور یہ پتھر ایسے قدآور ایسے وزن کا ہوتا تھاکہ اسے آسانی سے ہلا نہیں سکتے تھے (حضرت مرقس 16باب 3آیت )۔

آیت نمبر ۳۹۔مسیح نے کہا کہ پتھر اٹھاؤ۔ اس مرے ہوئے شخص کی بہن مرتھا نے مسیح سے کہا ۔ اس میں سے تو اب بدبو آتی ہے کیونکہ چار دن ہوگئے۔

سوال برپا ہوتا ہے کہ مرتھا کا ذکر آگے کئی مرتبہ آچکا ہے۔ اب یہ بتانا کہ وہ مرے ہوئے کی بہن تھی کیا ضرورت تھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تشریح اس واسطے کی کہ پڑھنے والے کو معلوم ہوجائے کہ جب مسیح نے پتھر ہٹانے کا حکم دیا اس وقت اوروں کی نسبت جو اس اس کے رشتہ دار نہ تھے اس کو جو اس کی بہن تھی زیادہ صدمہ گزرا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ چہرہ جو زندگی کے زمانہ میں صحت اور تندرستی کے سبب سے چمکتا اور خوب صورت معلوم ہوتا تھا مگر اب موت کے سبب سے سڑنے اور گلنے لگ گیا تھا اور بد صورت ہوگیا تھا۔ لوگوں کی نظروں کے سامنے لایا جائے ۔معلو م ہوتا ہے کہ وہ اب تک پورے طور پر نہیں سمجھتی کہ مسیح اسے مردوں میں سے جلانے لگا ہے۔ بلکہ یہ خیال کرتی ہے کہ شائد مسیح پتھر ہٹوا کر اس کا منہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ سووہ انہیں پتھر ہٹوانے سے منع کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اسے تو مرے ہوئے چار دن ہوگئے ہیں۔ گرم ممالک میں اتنے عرصہ کے اندر سراہٹ اپنا عمل جاری کردیتی ہے ۔ دو تین باتیں یاد رکھنے کے قابل ہیں (1)یہ کہ جب ہم مارتھا کی زبان سے یہ سنتے ہیں کہ اس میں سے تو اب بدبو آتی ہے تو ہم یہ نتیجہ نہ نکالیں کہ اس سےپہلے مرتھا نے کسی وقت اس کو خود آکر دیکھا تھا اور اپنے تجربہ  سے معلوم کیا تھا کہ اس میں سے بدبو آرہی ہے ۔ بلکہ وہ یہ نتیجہ اس کے چارن دن تک قبر میں رہنے سے نکالتی ہے ۔ کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اس عرصہ میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے۔ (2)ضرورت نہیں کہ اس نے جو اسے اٹھانے والا تھا اپنی الہٰی قدرت سے اس کے جسم کو اس سڑاہٹ سے محفوظ رکھا ہو۔

آیت نمبر ۴۰۔مسیح نے اسے فرمایا کیا میں نے تجھ سے نہ کہا تھا کہ اگر تو ایمان لائے گی تو خدا کا جلال دیکھے گی۔

ان لفظوں سے صادر ہے کہ مسیح مرتھا کی کم اعتقادی کو دھمکاتے اور دباتے ہیں ۔ اس آیت کےمتعلق بھی ایک بات دریافت طلب ہے اور وہ یہ کہ مسیح کونسی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جس میں سے اس نے یہ الفاظ مرتھا کی طرف مخاطب ہوکر اپنی زبان مبارک سے بیان فرمائے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اسی گفتگو کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اوپر قلمبند ہے ۔ گو اس میں یہ الفاظ تو نہیں پائے جاتے پر یہ مطلب پایا جاتا ہے کیونکہ وہ گفتگو ایمان کی اس طاقت کےمتعلق ہے جو ان برکتوں کوجو مسیح میں موجود ہیں لیتا ہے اور یوں خدا کا جلال ظاہر کرتا ہے۔ یہ سن کر مارتھا خاموش ہوجاتی ہے۔

آیت نمبر ۴۱،۴۲۔پس انہوں نے اس پتھر کو اٹھایا پھر مسیح نے آنکھیں اٹھاکر کہا اے پروردگار میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تونے میری سن لی۔ اورمجھے تو معلوم تھا کہ تو ہمیشہ میری سنتا ہے مگر ان لوگوں کے باعث جو آس پاس کھڑے ہیں میں نے یہ کہا تھا کہ وہ ایمان لائیں کو تونے ہی مجھے بھیجا ہے۔

اب جب کہ کم اعتقادی کی رکاوٹ دور ہوگئی اور مرتھا کے سکوت سے ظاہر ہوا کہ وہ پتھر کے ہٹانے سے نارضا مند نہیں تو مسیح نے اپنی آنکھیں اٹھائیں او رکہا "اے باپ میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تونے میری سن لی ۔مگر اس خیال سے کہ مبادا اس شکر گزاری کی دعا کوجواجابت الہٰی کے صلہ میں ادا کی گئی سن کر اس کےشاگرد اور ان کے بعد کلیسیا جس کے پاس یہ الفاظ میراث کے طور پر پہنچنے کو تھے یہ نتیجہ نکالے کہ ممکن تھا خدا اس کی دعا نہ سنتا  یا وہ یہ الفاظ اضافہ کرتا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ تو میری ہمیشہ سنتا ہے اور اب جو میں نے تیرا شکر یہ ادا کیا وہ اس لئے کہ وہ جو موجود ہیں ان کو معلوم ہو جائے کہ مردوں کو زندہ کرنےکی طاقت جومجھ میں پائی جاتی وہ سحر یا جادو کی جانب سے نہیں۔ بلکہ تیری طرف سے ہے او ریہ جان کر وہ ایمان لائیں کہ تونے ہی مجھے بھیجا ہے ۔ ہمارے مالک پر جیسا ہم دیکھ آئے ہیں ان کے دشمن یہ الزام لگایا کرتے تھے کہ وہ اپنے معجزے بعل زبول کی مدد سے کرتا ہے۔ اب مسیح جب آسمان کی طرف آنکھ اٹھا کر خدا سے دعا کرتے ہیں تو اس فعل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جو طاقت مجھ میں اور میرے وسیلے کام کرتی ہے وہ الہٰی طاقت ہے ممکن ہے کہ اس وقت مسیح کو وہ یہودی جو یروشلم سے آئے ہوئے تھے مدنظر تھے۔ اس میں شک نہیں کہ اس قسم کےمعجزات  سے اس کے شاگرد وں کا ایمان ضرور مضبوط ہوتا تھا۔

آیت نمبر ۴۳۔یہ کہہ کر مسیح نے بلند آواز سے پکارا کہ اے لعزر نکل آ۔

بعض بزرگوں کا مثلا ً کری ساسٹم صاحب کا خیال ہے کہ جب مسیح دعا مانگ رہے تھے اس وقت لعزر میں جان آگئی تھی۔ مگر کلام کےمطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کا جی اٹھنا خدا کے بیٹے کی آواز سے مربوط کیا گیا ہے مثلا حضرت یوحنا 5باب 28آیت میں آیا ہے۔ وہ وقت آتا ہے کہ جتنے قبروں میں ہیں اس کی آواز سن کر نکلیں گے اور پھر 1تھسلنکیوں 4باب 16آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے مسیح کی "للکا ر" اور پھر مردوں کا جی اٹھنا وجود میں آئے گا ۔ او رنا ممکن نہیں کہ 1کرنتھیوں 15باب 53آیت کا " آخری نرسنگا " بھی خدا کی آواز پر دلالت کرتا ہو جو موت کے تمام احاطہ میں سنائی دے گی ۔ پس وہ زندگی بخش طاقت جس کے طفیل سے لعزر اٹھ کھڑا ہوا ۔ خدا کے بیٹے کی آواز یا حکم میں موجود تھی۔

آیت نمبر ۴۴۔جو مرگیا تھا وہ کفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے نکل آیا۔ اور اس کا چہرہ رومال سےلپیٹا ہوا تھا۔ مسیح نے ان سے کہا اسے کھول کر جانے دو۔

بعض بزرگوں (مثلاً بزرگ میسل) نے یہ خیال کیا ہے کہ یہاں ایک نیا معجزہ وجود میں آیا یعنی مسیح نے پہلے لعزر کو زندہ کیا اور پھر اسے جو کفن میں ایسا لپیٹا ہوا تھا کہ باہر نہ نکل سکتا تھا اپنی معجزانہ قدرت سے باہر آنے کی طاقت عطا فرمائی ۔ مگر ایسا قیاس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ کفن کا کپڑا ڈھیلا ہو اور حرکت کرنے کونہ روکتا ہو۔ یا ممکن ہے کہ وہ مصری دستور کے مطابق دفنایا گیا ہو۔ وہ دستور یہ تھاکہ مصری اپنے مردوں کے ایک ایک عضو کو علیجدہ کپڑے سے لپیٹتے تھے۔ حتیٰ کہ چھلنگیا پر بھی ایک جدہ ٹکڑا کپڑے کا لپیٹا کرتے تھے۔

آیت نمبر ۴۵،۴۶۔ پس بہترے یہودی جو مریم کے پاس آئے تھے اور جنہوں نے مسیح کا یہ کام دیکھا تھا اس پر ایمان لائے بعض نے فریسیوں کے پاس جاکر مسیح کے کاموں کی خبردی۔

رسول ہم کو اس خوشی اور خورمی کی بابت جو لعزر کے جی اٹھنے کے بعد اس کے خاندان کو حاصل ہوئی کچھ نہیں بتاتا۔ ہم خود قیاس کرسکتے ہیں کہ وہی گھر جہاں ماتم اور نوحہ کا بازار گرم تھا اب جشن کی جگہ بن گیا ہوگا۔ رسول ہم کو اس عجیب وغریب معجزے کے نتائج کی خبر دیتا ہے کہ لوگوں پر اس کا کیا اثر ہوا اور آخر کار کس طرح یہودیوں کی دشمنی اور بغاوت میں متنج ہوا ۔وہ بتاتا ہے کہ کس طرح یہاں ان واقعات میں کڑی کی طرح جا لگا جن کا انجام خدا کے ازلی ارادے کےمطابق یہ ہوا کہ سیدنا مسیح ہمارے عوض میں کائفا کے پر مطلب کلام کے مطابق امت کے بدلے صلیب پر چڑھایا گیا۔

اس معجزے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض یہودی ایمان لائے " کہ سیدنا عیسیٰ مسیح موعود " ہے لیکن بعض نے جاکر یروشلم میں فریسیوں کو خبر دی کہ مسیح نے ایسا معجزه دکھایا ہے۔ سوال برپا ہوتا ہے کہ انہوں نے کس نیت سے ان کو خبردی ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے انہوں نے اس ارادے سے خبر دی کہ وہ بھی اس پر ایمان لائیں جس نے ایسا عجیب معجزہ  دکھا کر ثابت کردیاکہ میں منجانب الله ہوں لیکن حضرت یوحنا کا بیان اس خیال کی تائید نہیں کرتا ۔ کیونکہ وہ ہم کو بتاتے ہیں کہ یہودی مریم کے گھر میں آئے ہوئے تھے ان میں سے کئی ایمان لائے "مگر ان میں سے بعض نے " کن میں سے ؟کیا ان میں سے جو ایمان لائے تھے "بعض نے فریسیوں کے پاس جاکرمسیح کے کاموں کی خبردی " اور ان کا مطلب یہ تھا کہ مسیح کے جانی دشمنوں کو برانگیختہ کریں اور انہیں اکسائیں کہ وہ سرگرمی سے اس کی مخالفت پر آمادہ ہوں۔ اور کارروائی فریسیوں نے ان سے خبر پاکر کی اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے نیک نیتی سے ان کو خبر نہیں دی ۔

۴۷تا۵۳آیت تک ان آیات سے ہم کومعلوم ہوتا ہے ۔ کہ یہ خبر پاکر وہ لوگ گھبراگئے انہوں نے دیکھ لیا کہ ا س عجیب معجزے کا اثر لوگوں کے اوپر پڑا ہوگا (اور یہ قیاس ان کا غلط نہ تھا )دیکھو حضرت یوحنا 12باب 10تا 11آیت اور 17تا 19آیت )۔

آیت نمبر ۴۷و۴۸۔ پس سردار کاہنوں اور فریسیوں نے صدر عدالت کےلوگوں کو جمع کرکے کہا ہم کیا کریں۔ یہ آدمی تو بہت معجزے دکھاتا ہے ۔اگر ہم اسے یوں ہی چھوڑدیں تو سب اس  پر ایمان لے آئیں گے۔ اور رومی آکر ہماری جگہ اور قوم دونوں پر قبضہ کرلیں گے ۔

یہ کونسل مسیح کے برخلاف منصوبے باندھنے کے لئے کی گئی۔ غور کا مقام ہے کہ وہ یہ بات دریافت نہیں کرتے کہ آیا وہ شخص جس کے بر خلاف ہم سازش کررہے ہیں۔ سچ مچ خدا کی قدرت سے ایسے عجیب معجزے دکھاتے ہیں۔ یا نہیں وہ اپنی زبان سے اقرار کرتے ہیں وہ تو بہت سے معجزے دکھاتے ہیں مگر اس پر ایمان نہیں لاتے ۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں اس کے منجانب الله ہونے کی اتنی پروا نہیں جتنی فکر اس بات کی ہے کہ اگر یہ شخص مسیح ماناگیا تو ہمارے حلوے مانڈے میں فرق آجائے گا۔ پس وہ کہتے ہیں کہ " اگر ہم اسے یوں ہی چھوڑدیں تو سب اس پر ایمان لے آئیں گے اور رومی آکر ہماری جگہ اور قوم دونوں پر قبضہ کرلیں گے " اب غور طلب بات یہ ہے  کہ اگر مسیح کو وہ لوگ اپنا مسیح قبول کرلیتے تو اس سے کس طرح رومی طاقت مخالفت پر آمادہ ہوتی ؟ کونسل کا یہ مطلب تھا کہ " اگر یہ شخص مسیح مانا گیا تو ضرور ہے کہ وہ قوم کا پیشوا بنے یا لوگ اسے جبر اً اپنا بادشاہ بنائیں (حضرت یوحنا 6باب 15آیت )اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ رومی بادشاہت کی مخالفت کی جائے گی تاکہ غیر قوم کا جوا اتارا جائے ۔ لیکن اس بغاوت کو دیکھ کر رومی اپنے لشکر لےکر چڑھ آئیں گے اورجتنی آزادی اور رتبہ اور قدرت ہم کو اور ہماری قوم کو اب حاصل ہے وہ بھی چھین لئے جائینگے یا اگر لوگ اس مسیح کے ماتحت بغاوت پر کمر بستہ نہ بھی ہوں تو بھی اندیشہ ہے کہ اس کو فقط مسیح ماننا ہی رومیوں کےدلوں میں ظن پیدا کردے گا۔ اور وہ اسے بغاوت سمجھ کر ہماری جگہ اور قوم دونوں پر قبضہ کرلیں گے "بزرگ آگسٹن اس کا مطلب اور ہی طرح بیان کرتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اس وقت اس بڑی بغاوت کے جوڑ توڑ میں لگے ہوئے تھے۔ جو کچھ عرصہ بعد واقع ہوئی تاکہ رومی سلطنت  کے جوئے تلے ہوئے سے نکل آئیں۔ مگرمسیح کی صلح جو اور امن آفرین تعلیمات ان کی مرضی کے مطابق نہ تھیں لہذا انہوں نے کہا کہ اگر ہم اسے اپنا پیشوا بنائیں  تو ہم اس قصد کو کبھی پورا نہیں کرسکیں گے ۔ واضح ہو کہ صرف آگسٹن صاحب اس خیا ل کو مانتے تھے اور باقی سب مفسر خیالی مذکورہ بالا کو ترجیح دیتے ہیں۔

آیت نمبر ۴۹،۵۰۔اور کائفا  نام ایک شخص نے جو اس سال سردار کاہن تھا اس نے کہا تم کچھ نہیں جانتے اور نہ سوچتے ہو کہ تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ ایک آدمی امت کے بدلے مرے نہ کہ ساری قوم ہلاک ہو۔

اس کونسل میں لوگ طرح طرح کی تجویزیں پیش کرتے ہوں گے ۔ کوئی کہتا ہوگا کہ اس کی بات بالکل نہیں سننی چاہیئے۔ اور کوئی کہتاہوگا کہ جو کوئی اسے مسیح کہے وہ خارج کیا جائے (حضرت یوحنا 9باب 22آیت )مگر کائفا جو سردار کاہن تھا کہتا ہے کہ تم کچھ نہیں جانتے  یہ سب باتیں جو تم کہہ رہے ہو ہم آزما چکے ہیں او رہم نے دیکھا کہ کوئی خاطر خواہ نتیجہ ان سے برآمد نہیں ہوا۔ بلکہ یہ سب باتیں ناکام نکلی ہیں جواصل طریقہ اس کے اثر اور کام کو روکنے کا ہے وہ تم نہیں سوچتے ۔ "تمہارے لئے بہی بہتر ہے کہ ایک آدمی امت کے بدلے مرے نہ کے ساری قوم ہلاک ہو۔ " پس میری رائے یہ ہے کہ ہم قوم کی بہبودی کے لئے اس کو جان سے مار ڈالیں اور یوں ایک کے ہلاک ہونے سے ساری قوم کو ہلاکت سے بچائیں۔

جو اس سال سردار کاہن تھا۔ کائفا جو یہ صلاح دیتا ہے صدوقی تھا (اعماالرسل 5باب 17آیت )اور دس برس تک سردار کاہن رہا۔ مگر حضرت یوحنا کے ان الفاظ سے کہ وہ " اس سال سردار کاہن تھا " یہ مغالطہ پڑتا ہے کہ گویا سردار کاہن کا عہدہ صرف ایک سال کے لئے ہوتا تھا۔ حالانکہ یہ عہدہ عمر بھر کے لئے ہوتا تھا اور موروثی ہوتا تھا۔ پر اس مشکل کا حل یہ ہے کہ رسول یہاں ا س عہدہ کی مدت کی نسبت کچھ نہیں کہتے بلکہ الفاظ" اس سال" سے تخصیص اس برس کی کرتا ہے جس میں مسیح کے مصلوب ہونے کا عدیم المثال واقعہ سرزد ہوا۔ یعنی وہ کہتا ہے  کہ جس سال مسیح مصلوب ہوا اس سال کائفا سردار کاہن تھا  ممکن ہے کئی سال آگے سے سردار کاہن مقرر کیا گیا ہو اور کئی سال بعد تک رہا ہو۔

آیت نمبر ۵۱،۵۲۔ مگر یہ اس نے اپنی طرف سے نہیں کہا مگر اس سال کا سردار کاہن ہوکر نبوت کی کہ مسیح اس قوم کے واسطے مرے گا ۔ اور نہ صرف اس قوم کے واسطے مرے گا بلکہ اس واسطے بھی کہ خدا کےپراگندہ فرزندوں کو جمع کرکے ایک کردے ۔

مگر یہ اس نے اپنی طرف سے نہیں کہا مگر اس سال کا سردار کاہن ہوکر نبوت کی " ان لفظوں میں ایک دقت ہے جس کا حل ذرا مشکل معلوم ہوتا ہے اور یہ کہ حضرت یوحنا کہتے ہیں کہ کائفا نے یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی بلکہ یہ اس نے نبوت کی تھی یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ برے لوگ بھی نبوت کرسکتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدانے برے لوگوں کے وسیلے نبوتیں کروائی ہیں۔ مثلا بلعام نیک شخص نہ تھا مگر خدا نے اسی کے وسیلے سے اپنے بندوں کی اقبالمندی وغیرہ کی خبر لوگوں کو پہنچائی۔ مگر مشکل اس امر میں ہے کہ آیا سردار کاہن کے عہدے کے ساتھ نبوت لازمی تھی یا نہ تھی۔ کلام سے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کام بھی سردار کاہن کے عہدے سے متعلق تھا۔ البتہ یوریم اور تھومیم کے وسیلے ان کو نزدیک معاملات یا واقعات پر خبر کسی قدر ملا کرتی تھی مگر پہلی ہیکل  کے تباہ ہونے پر یہ حق بھی ان سے لے لیا گیا تھا۔ اور ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ہمارے خداوند کے زمانہ میں سردار کاہن کسی وسیلہ سے آئندہ کی خبر دے سکتا تھا۔ پس سوال یہ ہے کہ حضرت یوحنا کے ان الفاظ کا کیا مطلب ہے کائفا نے "اس سال کا سردار کاہن ہوکر نبوت کی " اس کا مطلب کچھ کچھ اس طرح ادا کیا جاسکتا ہے ۔

مگر یہ اس نے اپنی طرف سے نہیں کہا " اس نے یہ بات ایک عجیب قدرت سے مغلوب ہوکر بیان کی گووہ اس وقت نہ جانتا تھا کہ مجھ سے کون یہ بات کہلوارہا ہے ۔ یہ بات جو اس کی زبان سےنکلی اس مطلب سے جو اس نے سوچا تھا کہیں گہرا مطلب رکھتی تھی۔

بلکہ اس سال کا سردار کاہن ہوکر نبوت کی " یہ الفاظ جو اس کی زبان سے نکلے نبوت کے طور پر  تھے جیسا کہ بعد میں واقعہ کےسرزد ہونے سے ثابت ہوا۔ اور چونکہ یہ اس کی زبان سے اس وقت نکلے جب کہ وہ سردار کاہن تھا اس لئے پیچھے جب یا دآتے تھے تووہ اور بھی عجیب معلوم ہوتے تھے۔

"کہ مسیح اس قوم کے واسطے مرے گا " ا س نے واقعی یہ نبوت کی کہ مسیح قوم کی بھلائی کے واسطے مرے گا۔ گو یہ نبوت اس کے خیال اور ارادے کے بالکل بر خلاف پوری ہوئی۔

"نہ صرف اس قوم کے واسطے بلکہ اس واسطے وغیرہ" اور اس نے اس بات کی نبوت بھی کہ جو بعد میں وقوع میں آئی گو اس کا وجود میں آنا کبھی اس کے خیال سے بھی گذرا تھا۔ اور وہ نبوت یہ تھی کہ مسیح نہ صرف یہودی قوم کے لئے مرے گا بلکہ خدا کے تمام فرزندوں کے (مراد غیر قوم ) جو دنیا میں تتر بتر تھے۔

نصیحتیں اور مفید اشارے

1۔وہ گھرانا کیسا مبارک گھرانا ہے جہاں مسیح کی آمدورفت ہے ۔ اس گھرانے میں خدا کی عجیب قدرت طرح بطرح دکھائی دیتی ہے۔ اس پر اگر دکھ آتا ہے تو وہ ہلکا کیا جاتا ہے ۔اگر آزمائشیں آتی ہیں تو وہ بھی دور کی جاتی ہیں اگر موت کا غم وارد ہوتا ہے تو وہ قیامت کے یقین سے دفع کیا جاتا ہے ۔

2۔پر ہم یا درکھیں کہ خدا کے بندے تکلیفوں اور دکھوں سے مستثنیٰ نہیں۔ بیمار ہونا خدا کی فرزندیت کے خلاف نہیں مسیحیوں کے دکھ بڑا کام کرتے ہیں ۔ وہ خدا اور اس کے بیٹے کا جلال ظاہر کرتے ہیں ۔

3۔لعزر کی بہنیں مسیح کووہ محبت یادلاتی ہیں جو وہ لعزر کے ساتھ رکھتا ہے۔ ہماری دعائیں اسی وقت عمدہ اور درست ہوتی ہیں جب کہ وہ اس محبت پر مبنی ہوتی ہیں۔

4۔وہ جو لعزر کے مرنے اور اس کی بہنوں کے غم سے واقف تھا۔ اب بھی آسمان پر سے اپنے بندوں کی تکلیفوں کو جانتا ہے ۔

5۔موت مسیح کے بندوں کے لئے نیند ہے ۔ مسیح کے پاس آنے سے نیچرل موت ایک نئی صورت اختیار کرتی ہے۔ وہ نیند سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے بندے پھر جاگ اٹھیں گے ۔

6۔مسیح کے آنسو ظاہر کرتے ہیں۔ دوست کی موت کا غم مسیح کے دل میں موجود ہے۔

7۔یہ سبق بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جن کے جی اٹھنے کی ہم امید نہیں رکھتے ممکن ہے کہ وہ مسیح کی نظر میں زندہ ہونے کے قابل ہوں۔ مسیح آخرتک بچاسکتے ہیں۔ ہم کسی گنہگار سے نا امیدنہ ہوں۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا, معجزات المسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (13110)

Post a Comment

English Blog