en-USur-PK
  |  
10

بےپھل انجیر کے درخت کا سوکھ جانا

posted on
بےپھل انجیر کے درخت کا سوکھ جانا

THE MIRACLES OF CHRIST

معجزاتِ مسیح

31-Miracle   

Jesus Withers the Fig Tree

Mark 11:12 to 14 and 20 to 24-34

 

بےپھل انجیر کے درخت کا سوکھ جانا

۳۱ ۔معجزہ

انجیل شریف بہ مطابق حضرت مرقس ۱۱باب ۱۲تا

۱۴اور ۲۰تا ۲۴آیت

مرحوم علامہ طالب الدین صاحب بی ۔ اے

؁ ۱۹۰۵ء

حضرت متی کے بیان کو پڑھ کر یہ خیال گزرتا ہے کہ جس وقت ہمارے مولا نے اس درخت کو سوکھ جانے کا حکم دیا وہ اسی وقت سوکھ گیا اور اسی وقت شاگردوں نے مسیح کےکلام کو پورا ہوتے دیکھا۔ لیکن حضرت مرقس کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتاہے کہ شاگردوں نے دوسرے دن کی صبح کو مسیح کے کلام کا نتیجہ مشاہدہ کیا۔ کیاان دونوں بیانوں میں اختلاف نہیں پایا جاتا ؟ نہیں ان میں اختلاف نہیں ہے۔ یہ معجزہ مسیح کی زندگی کے آخری ہفتہ کے پیر کی صبح کو واقع ہوا ۔ اتوار کے روز ہمارے مولاشاہانہ شوکت سے یروشلم میں داخل ہوئے۔ شام کے وقت بیت عنیا کو لوٹ آئے۔ پیر کی صبح پھر یروشلم کو گئے۔ راستہ میں یہ معجزہ سرزد ہوا ۔ مگر اس وقت مسیح نے اس درخت پر ا سکی بے ثمری کے سبب سےملامت  بھیجی ۔ اور اغلب ہے کہ اسی وقت سے اس کا مرجھانا او ر کملانا شروع ہوگیا ۔ لیکن مسیح اپنے شاگردوں کو ساتھ لے کر یروشلم کی طرف چلےگئے۔ اور جب شام کو بیت عینا کی طرف واپس آئے تو اندھیرا ہوگیا تھا اس لئے شاگرد اس درخت  کو اس وقت نہ دیکھ سکے ۔ مگر جب منگل کی صبح کو یروشلم کی طرف روانہ ہوئے تو راہ میں اس درخت کو جڑ تک سوکھا ہوا پایا۔

حضرت مرقس اس تمام ماجرے کو تفصیل وار بیان کرتے ہیں۔ مگر حضرت متی اس کے اندرونی مطلب کو دیکھتے ہیں اور چونکہ وہ اسی اندرونی مطلب کو بیان کرنا چاہتے ہیں لہذا وہ وقت کی تفصیل اور ترتیب کو چھوڑ کر کل ماجرے کو مسلسل  واقعہ کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔

انجیر کا ایک درخت راہ کے کنارے دیکھ کر اس کے پا س گئے ۔ اور پتوں کے سوا اس میں کچھ نہ پاکر اس سے کہا آئندہ تجھ میں کبھی پھل نہ لگے ۔ اور انجیر کا درخت اسی دم سوکھ گیا۔

انجیر کا ایک درخت ۔ غالباً یہی ایک درخت اس موقعہ پر موجود تھا۔ اور چونکہ سبز سبز پتوں سے بھرا پڑا تھا۔ لہذا آتے جاتے لوگوں کی نظر اسی پر پڑتی تھی۔

اس جگہ یہ دقت پیش آتی ہے کہ حضرت مرقس صاف بتاتے ہیں کہ ان دنوں انجیر کا موسم نہ تھا۔ مگر پھر بھی و ہ اور حضرت متی دونو ں یہ کہتے ہیں کہ مسیح جو اس وقت بھوکے تھے اس انجیر کے درخت کے نزدیک اس غرض سے گئے کہ اس سےپھل توڑ کر کھائے۔ اب سوال برپا ہوتا ہے کہ کیا مسیح نہیں جانتے کہ اس درخت میں پھل نہیں ہے ؟اور اگر جانتے تھے توکیا یہ تجاہل عارفانہ جو اس بیان سے مترشح ہے اس کی شان کے لائق تھا؟ ہمیں سب جوابوں سے بہتر اور مدلل یہ جواب معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مولا کی الہی شخصیت میں دو ذاتیں پائی جاتی ہیں۔ ایک الہی اور دوسری انسانی اور چونکہ وہ کامل انسان ہے اس لئے ا س کی انسانی ذات میں وہ تمام قیود انسانیت کی موجود ہیں جو بنی آدم سے خاص ہیں۔ اس کا بھوکا ہونا اور بھو کے سبب سے پھل کی تلاش کرنا جس طرح اس کی بشریت کے خلاف نہیں اسی طرح اس کے انسانی علم کا محدود ہونا بھی اس کی انسانی ذات  کے خلاف نہ تھا۔ اس کی انسانی دانائی بڑھتی گئی ( حضرت لوقا 12باب 52آیت ) ہاں وہ دانائی جو اس کی دوسری آمد کے دن اور گھڑی کو نہیں جانتی تھی۔ (حضرت مرقس 13باب 32آیت )ایک محدود دانائی تھی۔ اس میں شک نہیں کہ اس کو روح پاک بے اندازہ طور پر دی گئی تھی۔ تاہم یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم کبھی اس بات کو نہ بھولیں کہ اس میں انسانی ذات اپنی تمام خاصیتوں کے ساتھ پائی جاتی تھی اب رہی یہ کہ بات  جب حضرت مرقس صاف صاف کہتےہیں کہ انجیر کےپھل کا موسم نہ تھا۔ تو پھر مسیح کیوں پھل کی تلاش میں اس درخت کے پاس گئے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض ممالک  میں انجیر کا پھل پہلے پیدا ہوتا ہے اور پیچھے پتے لگت ہیں۔ پینی کہتا ہے کہ اس کے (یعنی انجیر کے درخت ) پتے پھل سے پیچھے نکلتے ہیں ۔ ایک اور عالم جس کا نام ٹرسٹرم  ہے یوں بیان کرتا ہے۔ کہ فلسطین میں "پھل پتو سے پہلے نکلتے ہیں۔ " ٹامسن صاحب کہتے ہیں کہ "پھل اکثر پتوں کے ساتھ نکلتے ہیں۔ " بلکہ پتوں سے بھی پہلے لگ جاتا ہے "پس مرقس کے یہ الفاظ کہ " دو رسے انجیر کا ایک درخت جس میں پتے تھے دیکھ کر گیا " یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پتوں کی موجودگی پھل کی موجودگی پر دلالت کرتی تپی۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے چند دن پہلے یریحو کے میدان میں جو بحرہ  اعظم سے بہت نیچے ہونے کے سبب سے بہت گرم تھا اور جہاں گرمی کے سبب سے پھل کسی قدر پہلے لگ جاتا تھا انجیر کا پھل کھایا تھا۔ اور اگرچہ ابھی اس پہاڑ پر انجیر کا موسم نہ تھا۔ تاہم یہ درخت جو تنہا ایک طرف کو کھڑا تھا مستشنیٰ تھا۔ جس میں وقت سے پہلے پتے لگ گئے تھے اور پھل کی خبر دے رہے تھے۔ ٹامسن صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے لبنان پر مئی کے مہینے میں انجیریں کھائی ہیں۔ واضح ہو کہ یروشلم میں لبنان سے ایک ماہ پہلے یہ پھل پکتا ہے۔ پس نا ممکن نہیں کہ کوہ زیتون کے کسی گر م حصے میں اپریل کے شروع ہی میں کسی خاص قسم کی انجیر کے درخت میں پھل لگ گیا ہو یا پتے نکل آئے ہوں اور پھلوں  کی خبر دیتے ہوں۔

آئندہ  تجھ میں کبھی پھل نہ لگے ۔ حضرت مرقس بھی یہی کہتے ہیں پطرس اسے لعنت کہتا ہے (حضرت مرقس 11باب 21آیت )یادر ہے کہ مسیح نے اس جگہ غصہ  میں آکر یہ لعنت نہیں بھیجی تھی۔ ایسا خیال کرنا نہ صرف بے ادبی بلکہ بڑی حماقت ہے۔ مسیح  ہر چیز سے صداقتوں کو توضیح کے لئے مثال نکال لیتے تھے۔ مثلا ًکھانے او رپانی سے کپڑے کے پیوندوں اور مے کی بوتلوں سے ۔بونے اور کاٹڑے سے موسموں کے تبادلہ اور دن کے گھنٹوں سے  ۔جانوروں اور پھولوں سے پودوں اور درختوں سے تمثیلیں اخذ کیا کرتے تھے ۔ اس کے ہاتھ میں ہر چیز کچھ نہ کچھ سبق سکھاتی تھی۔ اور اس موقعہ پر جب آپ نے دیکھا پتے تو ہیں پھل بالکل نہیں توایک عجیب سنجیدہ سبق اپنے شاگردوں کو سکھانا چاہا۔ اور اس سبق کو اس درخت کی حالت کے وسیلے ان کے دلوں پر نقش کردیا ۔ یہ درخت اپنے پتوں کے وسیلے یہ ظاہر کررہا تھا کہ مجھ میں پھل لگا ہوا ہے حالانکہ اس میں ذرا پھل نہ تھا۔ یہ بات اس اقرار کی مثال ہے  جو ایمان اور دینداری کا دعویٰ کرتا ہے مگر درحقیقت  اس میں ایمان اور دینداری کے پھل نہیں ہوتے ۔

اس میں شک نہیں کہ مسیح کا اشارہ اس جگہ یہودی قوم کی طرف ہے ۔ جوخارجی رسوم پر نازاں تھے اور اپنی دینداری پر فخر کیا کرتے تھے مگر درحقیقت سوائے رسم پرستی کے ان میں اور کچھ نہیں پایا جاتا تھا۔

بعض مفسروں کا یہ خیال ہے کہ یہودیوں میں ابھی پھل نہیں لگا تھا کیونکہ ابھی پھل کا وقت نہیں تھا۔ ان کے پھل دار ہونے کا وقت مسیح کا زمانہ تھا۔ پر جب مسیح جو ان کو پھلداری بنانے والا تھا آیا تو انہوں نے اس کو رد کیا کیونکہ وہ اپنے بڑے بڑے اقراروں کے وسیلے یہ دعوے کرتے تھے کہ ہم میں تو پھل پہلے ہی سے لگا ہوا ہے۔

پر اس میں نہ صرف یہودی قوم کے لئے سبق ہے بلکہ عیسایئوں کے لئے بھی اور وہ یہ کہ مسیح محض اقرار سے خوش نہیں ہوتے بلکہ اقرار کے ساتھ پھل طلب کرتے ہیں۔ پتے اپنی جگہ پر لازمی ہیں۔ ان کی اشد ضرورت ہے پر اگر پتے ہی پتے ہوں او رپھل نہ ہوں تو درخت  اپنے اصل مدعا کو پورا نہیں کرتا ۔ یہ درخت پتے دکھا کر جھوٹ موٹ پھل کا دعویٰ کرتا تھا کیونکہ ہم اوپر دکھا آئے ہیں کہ انجیر میں پھل پتوں سے پہلے لگتا ہے ۔ پس اس لعنت کے وسیلے جو اس پر بھیجی گئی وہ درخت ان سب کے لئے جو انجیل سنتے ہیں ایک علامت ہے ۔ ایک سنجیدہ سبق سکھا رہا ہے اور سکھاتا رہے گا۔

ایک اور بات غورطلب ہے اور وہ یہ ہے کہ اکثر اوقات یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے یہ درخت ایک بے جان اور غیر ذی عقل شے تھا۔ پس اس کو مسیح نے کیوں لعنت دی ؟ اگر یہ اعتراض اس بنا پر کیا جاتا ہے کہ اس نے درخت کو سکھا کر کسی شخص کا نقصان کیا تو اس کا یہ جواب ہے کہ یہ درخت لب سڑک واقع تھا۔ لہذا یہ کسی خاص شخص کی ملکیت نہ تھا۔ اگر ہوتا تو یہ بھی اعتراض کی جگہ نہ تھی۔ کیونکہ اگر درخت کے سوکھ جانے سے ایسا سنجیدہ سبق سکھایا جائے جیسا کہ مسیح نے سکھایا تو درخت کا سوکھ جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ ماسوائے اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ مسیح اپنی شاہانہ مرضی اور اختیار کے مطابق قریباً ہر روز درختوں کو بیُج وبن سے اڑاتا اور طرح بطرح ہمارے مال کے نقصان کے وسیلے ہم کو تنبیہ  کرتا ہے۔ کیا ہم اسی طرح کا اعتراض اس کی باقی کارروائی پر بھی کیا کرتے ہیں؟

اور پھر یہ اعتراض بھی کیا جاتاہے کہ چونکہ وہ درخت ذی عقل مخلوق نہ تھا لہذا اپنے پھل کے لئے ذمہ دار نہ تھا اور اس واسطے اس پر لعنت بھیجنا فضول کام تھا۔ ہم اس اعتراض کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ گویا یہ درخت ذی عقل مخلوق نہ تھا مگر جیسا ہم اوپر بیان کر آئے ہیں ذی عقل اور ذی روح انسان کو جو درختوں اور جانوروں سے ہزارہا درجہ بہتر ہے ایک عمدہ اور روحانی سبق سکھانے کے لئے سکھا یا گیا۔ اور ماسوائے اس کے یہ بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ یہ درخت بھی اپنے ظاہر وباطن میں یکسا نہ تھا۔ اس میں پتے لگے ہوئے تھے اور وہ پتے ظاہر کرتے تھے کہ اس میں پھل بھی ہے مگر در حقیقت اس میں پھل نہ تھا۔ پس یہ درخت اپنی زندگی کے اصول وقواعد کے مطابق اپنی ذات میں سچا نہ تھا۔ اور نہ اس سے یہی امید تھی کہ درخت اس سے پیدا ہوں اور وہ ان کے وسیلے اپنے تیئں محفوظ رکھے۔ کیونکہ اس میں پھل نہ تھا اور پھل نہ ہونے کی وجہ سے بیج نہ تھا اور ہم جانتے ہیں کہ نوع کو قائم رکھنے کے لئے بیج ضروری شے ہے ۔ مسیح کا فتویٰ یا لعنت گویا ایک اظہار حقیقت ہے جو کسی شے یا بشر کی اس تباہی کو ظاہر کرتا ہے جو بہ سبب  اس کے ذاتی نقصوں کے اس پر حادث ہوتی ہے۔

قدیم بزرگوں نے کہا ہے کہ مسیح نے دو کو چھوڑ کر باقی سب معجزے اپنی رحمت اور فضل کو ظاہر کرنے کے لئے دکھائے۔ انہیں دو سے اس نے اپنی سختی کو ظاہر فرمایا تاکہ لوگ یہ نہ سوچیں کہ وہ سزا دے ہی نہیں سکتا۔ تاہم یہ دو معجزے بھی ایسے تھے جو بنی آدم پر حادث نہیں ہوئے بلکہ ان میں سے ایک سوروں پر اور دوسرا ایک درخت پر تھا۔

اور انجیر کا درخت اسی دم سوکھ گیا۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ سارا درخت اسی وقت سوکھ گیا۔ اور نہ یہ کہ منگل کی صبح کو سوکھا جب شاگردوں نے اسے دیکھا۔ بلکہ صاف ظاہر ہے کہ جب منگل کے روز شاگردوں نے اس کو دیکھا وہ اس سے پہلے سوکھ گیا تھا۔ پس جو کچھ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں وہ اس مشکل کا اصل حل ہے۔ جب مسیح نے اس درخت کو سوکھنے کا حکم دیا وہ اسی وقت سوکھنے لگ گیا۔ اور شاگردوں نے کچھ کچھ آثار اس کے سوکھ جانے کے اسی وقت دیکھے مگر پورے طور اس کی بربادی منگل کے روز صبح کے وقت دکھائی دی۔

آیت نمبر ۲۰۔شاگردوں نے یہ دیکھ کر تعجب کیا او رکہا یہ انجیر کا درخت کیونکر ایک دم میں سوکھ گیا؟

حضرت مرقس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس درخت کا سوکھ جانا ان پر منگل کے روز ظاہرہوا  حضرت متی اس اثر کا ذکر تا ہے جو اس سانحہ کو دیکھ کر شاگردوں پر طاری ہوا۔ وہ وقت کا ذکر نہیں کرتے اور نہ حضرت مرقس کے بیان کی تردید کرتے ہیں۔

کیونکر ایک دم میں سوکھ گیا؟ مراد ہے ۔ کس طرح اتنی جلدی چوبیس گھنٹے کے اندر یہ درخت بیج وبن سے جاتا رہا ۔ ایک دم سے دفعتہ مراد نہیں۔ ایک ہرے بھرے درخت کا چوبیس گھنٹے کے اندر اندر سوکھ جانا انسانی محاورے کے مطابق ایک دم سوکھ جانا ہے۔ مسیح نے یہ نہیں کہا تھا کہ درخت دفعتہ سوکھ جائے گا بلکہ یہ کہ اس میں آگے کو کبھی پھل نہیں لگے گا ۔ (حضرت مرقس 11باب 21آیت سے معلوم ہوتاہے کہ پطرس ہی نے سب سے پہلے اس بات کی طرف توجہ کھینچی ۔ مگر مسیح نے جواب سب کو دیا۔

آیت نمبر 21،22۔مسیح نے جواب میں ان سے فرمایا ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر ایمان رکھو اور شک نہ کرو۔ تو نہ صرف وہ کروگے جو انجیر کے درخت کے ساتھ ہوا بلکہ اس پہاڑ سے ۔۔۔۔۔۔تو یہ ہوجائے گا اورجوکچھ دعا میں ایمان کے ساتھ مانگو گے وہ سب تمہیں ملے گا۔

مسیح شاگردوں کے سوال کا جواب دیتے ہیں۔ وہ انہیں بتاتے ہیں کہ اگرم تم ایمان رکھو اور شک نہ لاؤ تو اس سے بھی بڑے بڑے کام کروگے۔ اور جوکچھ دعا میں مانگو گے سو پاؤ گے۔

پہاڑ سے مراد غالباً کوہ صیہون اور سمندر سے مراد تو بحیرہ اعظم ہے اور بحیرہ مرادر ۔ جب مسیح یہ مثال دیتےہیں تو اس کا یہ مطلب  ہے کہ اس ایمان کے لئے جو شک وشبہ سے منزہ ہے بڑے سے بڑا معجزہ بھی ناممکن نہیں (حضرت لوقا 17باب 6آیت ) میں اسی قسم کے خیال ظاہر کرنے کے لئے تو کے درخت کےہلنے اور سمندر میں جالگنے کی مثال پائی جاتی ہے۔

مگر ہمارے مالک ایمان کی اس قدرت سے جو معجزات دکھانے میں کام کرتی ہے گذر کر ایمان کی اس قدرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو عام طور پر اجابت دعا میں ظاہر ہوتی ہے۔ (حضرت مرقس 11باب 24آیت) میں آیا ہے " یقین کرو کہ ہم کومل گیا اور تمہارے لئے ہوجائے گا۔" ہم کو مل گیا یہ غور طلب الفاظ ہیں۔ مطلب ہے کہ جب تم نے دعا میں مسیح سے کوئی برکت مانگی تو یہ یقین کرو کہ وہ تم کومل گئی اور اگر یہ یقین صادق اور راست ہے تو جو کچھ تم چاہتے ہو وہ ہوجائے گا۔

پر ہم یاد رکھیں کہ کلام کے پڑھنے سے ہم کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہی دعائیں قبول ہوتی ہیں جو خدا کی مرضی کے مطابق ہوتی ہیں۔ اس مضمون پر حضرت یوحنا 14باب 13آیت ،15باب 16آیت ،16باب 24آیت ) کو بھی دیکھنا چاہئیے۔

یہ بھی یاد رہے کہ حضرت مرقس (11باب 25آیت )یہ بھی بتاتا ہے کہ اگر ہم خدا سے معافی مانگتے ہیں تو لازم ہے کہ ہم ان کو معاف کریں جنہوں نے ہمارا قصور کیا ہے اور یہ وہی حکم ہے جو حضرت متی اپنی انجیل کے 6باب 14آیت میں مسیح کی دعا کے متعلق درج کرتے ہیں۔

نصیحتیں اورمفید اشارے

1۔یہ معجزہ کیا سکھاتا ہے (1)یہ کہ اقرار بے عمل بے فائدہ ہوتا ہے۔ (2)اقرار بے عمل نہ خدا کو اور نہ انسان کو خوش آتا ہے (3)خطرہ ہے کہ جو اقرار بے عمل ہے وہ ہمیشہ بے پھل اور بے عمل رہے ۔(4)مگر یہ لازمی نہیں کہ اگر عمل ہو تو اقرار جاتا رہے۔ بلکہ جہاں عمل ہے وہاں اقرار ضرور ہوتا ہے۔ جہاں پھل ہے وہاں خوبصورت پتے ضرورت ہوتے ہیں۔

2۔دیکھیں جو اس درخت کا قصور یانقص تھا وہی اس کی سزا ٹھیرا۔ وہ بے پھل تھا اور یہی سزا اس کو دی گئی کہ ہمیشہ بے پھل رہے ۔ افسوس اگر کسی شخص کے گناہ کی سزا اس کو یہی دی جائے کہ وہ اس میں چھوڑا جائے تاکہ اس کا زیادہ مرتکب ہو۔

3۔پھل اس لئے طلب کیا جاتا ہے کہ اس میں زندگی ہوتی ہے ۔اس میں بیج ہوتا ہے جو اپنے میں زندگی رکھتا ہے۔ اور یہ زندگی اپنے نوع  کو قائم رکھتی ہے۔ ہر ایماندار کو اس دنیا میں پھلدار بننا چاہئیے تاکہ وہ زندگی کا بیچ جو اس میں قائم ہے اوروں کو زندگی بخشے۔ اور یوں کثرت سے پھل پیدا کرے۔

4۔ہر مومن کی یہی دعا ہونی چاہئیے کہ اے مالک مجھے بےپھل رہنے سے بچائیے۔

5۔یہ معجزہ مسیح کی الوہیت اور انسانیت دونوں ذاتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف اس کی عدالت کرنے والی خاصیت اور اس کی الہٰی قدرت عیا ں ہیں دوسری طرف اس کی بھوک اس کی انسانیت پر دال ہے۔

6۔مسیح پر محبت معجزوں کے بعد منصفانہ فتویٰ کو ظاہر کرنے والا ایک معجزہ بھی دکھاتا ہے تاکہ ظاہر کرے کہ وہ بنی آدم کی عدالت کرنے والا ہے۔ اور گنہگاروں کو جو اپنی زندگی کے مقصد کو پورا نہیں کرتے سزا دینے کااختیار رکھتا ہے۔ مگر یہ معجزہ کسی انسان کے اوپر وارد نہیں ہوا بلکہ بے جان چیزپر۔ ہم اس کی محبت کی تعریف کریں پر یہ جان کرکہ وہ جو محبت کرتا ہے وہی عدالت بھی کرنے والا ہے ہم اس کی تعظیم بھی کریں۔ اور سچا خوف ہمارے دلوں میں پایا جاتا ہے۔
Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا, معجزات المسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (12825)

Post a Comment

English Blog