en-USur-PK
  |  
11

اسلام میں اسراریئت

posted on
اسلام میں اسراریئت

Occult in Islam

 

اسلام میں اسراریئت

دیباچہ

وہ لوگ جو اسلامی ممالک میں عین مسلمانوں کے درمیان رہتے ہیں ، انکی زندگی میں کم وبیشتر ایسے مواقع ضرور آتے ہیں جب انہیں اسلام میں موجود اسرارئیت سے پڑتا ہے۔ ہر وہ سچا ایماندار جو مسلمانوں میں خدمت کرنا چاہتایا چاہتی ہے نہ چاہتے ہوئے کو ایسی مخفی قوتوں سے برسرپیکار ہونا پڑتا ہے۔ ہم ابلیس اور اسکی محدود قوت کے منکر نہیں۔ لیکن ہمارے ایمان کا مرکز جنابِ مسیح کی بابرکت اور طاقتور ذات ہے۔ ہر وہ کام جو خداوند یسوع المسیح نے کیا اور کہا، ہم اسمیں برابر کے شریک ہیں۔ اور ہم یہ بھی قبول کرتے ہیں کہ جنابِ مسیح کو شیاطین اور بدارواح کا سامنا کرنا پڑا۔ پر انہوں نے ان سے کلام کیا اوراپنی الہی قوت کا استعمال و اظہار کر تے ہوئے انسانوں کو انکی غلامی سے آزاد کروایا ۔ ہم انکی (جناب ِ المسیح )فتحیابی کی منادی کرتے ہیں۔ صرف ان ہی کی ذات ِ واحد انسانوں کو اسراریت کے اثرات سے مکمل طور پر آزادی دلا سکتی ہے۔

اسرارئیت ہر جگہ

ہر وہ شخص جو اسلام میں اسرارئیت کے رجحانات کا مطالعہ کررہا ہے اس بات کی ضرور تائید کریگا کہ مغرب بھی اس کی رغبت میں گرفتار ہے۔ ایک مشہور جرمن میگزین Stern ("Star")کے مطابق ایک تہائی جرمن جاد و کو ایک حقیقت جانتے ہیں ۔ ایک پروفیشنل ماہر اسرارئیت کو جرمن ٹیلیویثزن پر مدعو کیاگیا جس نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ جادو کے ذریعے سے کسی کو جان سے مار سکتی ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز مقام ہے کہ مدعوبین حضرات میں سے کسی نے بھی اسکے خلاف شہادت دینے کی جرا ت نہ کی۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مغرب میں بھی جادو ٹونہ بڑھتا جارہا ہے جب کہ اس کہ مدمقابل منطق دم توڑتی نظر آتی ہے۔ ایک جم ِ غفیر ہے کہ جو غیرمرئی اور ناپاک قوتوں کو محسوس کرتا اور انکی قربت چاہتا ہے اور کئی طرح سے اس گھناو نے کام میں ملوث ہے۔

مشہور نازی راہنما ہٹلر کے دور میں (برلن )جرمن میں اتنے پروٹسٹنٹ اور کاتھولک مذہبی راہب اور پاسٹرز موجو د نہ تھے جتنے کہ ماہر اسرارئیت۔ ہم انکی صحیح تعداد بتانے سے قاصر ہیں اور یہ کہ اس کام میں کتنا پیسہ صرف کیا گیا۔

جب ہم جرمن اور عرب میں ایسے منفی رجحانات کا مطالعہ اور تحقیق کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات گرہ کے ساتھ باندہ لینے چاہئے کہ اگر ہم خدا تعالیٰ کو سامنے کا دروازہ دکھاتے ہوئے خیر باد کہتے ہیں ، تو پچھلے دروازے سے شیاطین ہماری زندگیوں میں شامل ہو جاتے ہیں ، (Professor Theilecke) ، کہ انکے مطابق انسان کبھی بھی کسی بھی حالت تنہا نہیں ہوتا۔ انسان خدا اور روح کے بغیر نہیں رہ سکتا، اسے ان دونوں میں سی کسی ایک کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔ وہ (انسان) جب کسی خطرے کو محسوس کرتا ہے تو اپنی حفاظت کے لئے کسی سے رجوع کرتا ہے اور اگر وہ زندہ خدا کے ساتھ رابطے میں نہیںتو وہ دوسری قوتوں سے رجوع کرتا ہے۔ اور اہل اسلام کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔

اہل اسلام ، اپنے تصور خدا کے ساتھ ایک ایسے معبود کے سامنے کھڑے ہیں جو انکی سمجھ سے بالآ تر ہے، وہ ایک مطلقِ العنان شخصیت جو چاہے وہ کرتا ہے ، وہ کسی کو جوابدہ نہیں۔ وہ ایک کو تو سیدھی راہ دکھلاتا ہے پر دوسرے کو جہنم واصل کرتا ہے۔ اسلام کا خدا ، مسیحت کے تصور خدا سے بالکل جدا ہے ، جہاں خدا ہر فرد واحد کے ساتھ اپنے مراسم رکھنا چاہتا ہے۔ ایک مسلمان کے لئے یہ بعید از قیاس ہے کہ وہ بغیر کسی بیرونی امداد کے خدا تعالیٰ کیساتھ اپنا رشتہ قائم کرسکے۔ وہ (مسلمان) خدا تعالیٰ کو باپ کہہ کر مخاطب نہیں کرسکتا۔ اسلام کا خدا بچانے کے ہنر سے واقف نہیں۔ اسلئے وہ مجبور ہے کہ دوسری قوتوں کی طرف رجوع کیا جائے تاکہ ایسی عفریتوں سے خلاصی حاصل کی جاسکے۔ اسرارئیت اسلام کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔

اہل مغرب ایسے خالی پن کا شکار Enlightenmentکے دنوں میں ہوئے ، جب انہوں نے قطعی طور پر اس بات کا فیصلہ کرلیا کہ انہیں اب خدا کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنی عقل کے ذریعے سے اپنے تمام مسائل کا حل تلاش کرلینگے۔ اسلام میں اس خلاءکا سبب ایک ایسے الہٰ کا وجود ہے جو بعید از قیاس ہے، جسے انسانوں کی فکر نہیں۔ جو اسے اپنے خدا سے دور رکھتی ہے اور ایسے خالی پن کا سبب بنتی ہے جسکا انجام اسراریئت کی طرف انسان کا راغب ہونا ہوتا ہے۔ ڈوبتے کو تو تنکے کا سہارا ہی کافی ہوتا ہے۔ اسلام میں تصور خدا ، ایک ایسا سبب ہے جو مسلمانوں کو روحانی طور پر ادھورے پن کا احساس دلاتی ہے اور مسلمان بہ حالت ِ مجبوری اس خلاءکو پر  کرنے کے لئے اسرارئیت کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

اسلام میں اسرارئیت پوری طرح سے حاوی ہے اسکا اندازہ اسلامی ممالک میں دیواروں پر چسپاں ہزاروں ایسے اشتہارات ہیں جن میں مسلمانوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے کسی سائل سے رجوع کریں، گاڑیوں کی پیچھے ایسے سلوگنز چسپاں ہوتے جیسے کہ ایک آنکھ میں سے ایک تیرگزرتا ہو ا دیکھا جاسکتا ہے، جسکا مقصد یہ ہے کہ آپکے دشمن کی حاسدانہ نظر بد سے بچا جائے۔ اسی طرح چھوٹے بچوں کو نظر بد سے بچانے کے لئے چھوٹے چھوٹے نیلگوں موتی پہنائے جاتے ہیں۔ عورتیں پر نیلے رنگ کے موتیوں کا استعمال اسی مقصد کے لئے کرتی ہیں کہ کسی طرح شیطانی نظر سے بچا جاسکے۔ انکے کے خیال کے مطابق اس طرح کی چیزیں پہننے سے شہوانی خواہشات پر قابو پایا جاسکتا ہے ،ایسی نظروں کا رخ کسی اور جانب موڑ دیا جائے۔ اہل عرب تو اس طرح کی واہیات ، لغویات سے بری طرح متاثر ہیں۔ افسوس سے کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسے رجحانات مسیحیوں کے درمیان بھی پائے جاتے ہیں۔ اور اگر آپ انہیں ان کاموں سے منع کرنا چاہیں تو یہ تقریباً ناممکن ہے۔ ان کا تما م تر انحصار و دارومدار ان پر ہے اور وہ یہ سب چھوڑنے کو تیار نہیں۔

اہل مشرق کی اکشریت نظر اور اس کے انسانی زندگی پر اثرات کی قائل ہے۔ اگر آپ کسی کو اسکی پیچھے کی جانب یا بائیں یا دائیں جانب سے دیکھ رہےہیں تو نہیں فوراً پتہ چل جاتا ہے اور وہ فوراً آپ کی جانب موڑ کر آپکی آنکھوں میں پریشان کن سے دیکھتے ہیں یا پھر شرما کر اپنی آنکھیں چرالیتے ہیں۔ اہل مشرق ، اہل مغرب کے مقابلے میں بہت زیادہ احساس واقع ہوئے ہیں۔ وہ نازک طبع، جلد متاثر ہونیوالے لوگ ہیںجبکہ اہل مغرب منطق کے غلام ہیں۔ اہل مشرق اس معاملے میں بہت احساس ہیں کہ کسی بھی طرح سے ایسی مخفی قوتوں کے اثرات سے بچا جائے۔ اسی لئے ایسی علامتیں (آنکھ) دنیا میں ہر جگہ پائی جاتیں ہیں۔

مندیل یا ’ کپڑوں سے ڈھانپ کر‘ جادو کرنا بھی اسرارئیت کی ایک قسم ہے۔ جسکا بنیادی مقصد راز کی باتیں جانناہے۔ ایک مرتبہ ایک اسکول میں ایک گھڑی چوری ہوگئی، ہیڈماسٹر نے کہا کہ کوئی بچی گھر نہیں جائیگی جب تک چوری کی ہوئی گھڑی مل نہیں جاتی، یہ سلسلہ دو دن تک چلتا رہا۔ تیسرے دن تک یہ سب والدین کی برداشت سے باہر جاچکا تھا۔ تمام والدین نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ سب بند ہونا چاہئے اور ہیڈ ماسٹر سے ملاقات میں یہ کہا کہ اس طرح کی سزا سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کی بچیاں چور ہیں، جو وہ کسی طور پر بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ اس سزا کے خلاف ڈٹ گئیں، کیونکہ وہ تمام والدین سمجھتے تھے کہ انکی بچیاں بے قصور ہیں۔ اس مسئلہ کا آسان حل یہ نکالا گیا کہ ایک قسمت کا حال بتانے والے کی مدد لیجائے جو کہ ایک قریبی گاو ں میں رہائش پذیر تھا۔ جو کہ یہ بتا سکتی تھی کہ گھڑی کہاں موجود ہے، کیونکہ کچھ عرصہ پہلے ہی اس نے دو چوری کئی ہوئی گائیوں کی بالکل صحیح جگہہ نشاندہی کی تھی جو کہ انکے مالک کے فارم سے پندرہ کلومیٹر دور واقع ایک مقام تھا۔ بہرحال اسکو ل کے ہیڈماسٹر نے یہ حل پسند نہ کیا۔

مستقبل بینی اہل عرب کے روز کے مشعاغل میں سے ایک ہے۔ ایک مشہور واقعہ میں جسمیں ایک لڑکی اغوا ہو گئی تھی، ایک مستقبل بین کی مشورت سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیاگیا۔ تمام متعلقہ معلومعات حاصل ہوگئیں، بشمول اس شخص کے نام کے جس نے لڑکی کو اغوا کیاتھااور اس ملک کا نام جہاں اس لڑکی کو لیجایا گیا تھا۔ مشہور مستقبل بین سے استفادہ کرنیوالوں کی قطاروں میں مشہور جرنیلز، حکومتوں کے اعلیٰ عہدیدداران، کاروباری حضرات شامل ہوتے ہیں۔ وہ سب ان کے دروازوں کے باہر ، قطاروں میں اپنی باری کا انتظار کر تے ہیں۔

اسی طرح ایک اور مستقبل بینی کی قسم میں لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنی شادی کے سلسلے میں اپنے مستقبل کا حال جان سکیں۔ اس قسم میںایسی پیشن گوئیوں پر انحصار کیا جاتا ہے جن کے ذریعے سے کہ یہ معلوم کیاجاتا ہے کہ فلاں فلاں شخص یا خاتون شادی کے لئے موزوں ہے کہ نہیں۔اور یہ کہ وہ ان کے ساتھ خوش رہ سکتے ہیں کہ نہیں۔

مسلمان ممالک میں قرآنی آیات ، دعاو ں اور لعنتوں کو چھوٹے چھوٹے کاغذوں پر لکھا جاتا ہے تاکہ ان کے ذریعے آنیوالی مصیبتوں سے بچا جاسکے ، یا پھرکسی مخصوص شخص کو زیراطاعت کیا جاسکے۔ ایک مرتبہ ایک شیخ نے بتایا کہ وہ قرآنی آیات کو اس لئے لکھ رہا ہے تاکہ اس کا کاروباری سفر مبارک و کامیاب ہو۔ اسی طرح ایک شخص جو ایک لڑکی کو چاہتا تھا اس کے بستر کے نیچے قرآنی آیات رکھوانا چاہتا تھا تا کہ وہ لڑکی اسے چاہنے لگے۔ اسی طرح کئی کاروباری حضرات دوسروں کو کاروباری نقصانات پہنچانے کے لئے قرآنی آیات کا استعمال کرنے کا رجحان اہل عرب میں عام ہے۔

ایساممکن ہے کہ آپ کا سامنا بالواسطہ یا بلاواسطہ نوری علم یا جادو سے ہوجائے، جسکا بنیادی مقصد کسی جانی نقصان یا ایذا پہنچانا نہیں ہوتا، بلکہ اپنا مطیع بنانا مقصود ہوتا ہے۔ ایسے سحر سے عموماً لوگ مالی فائدہ اٹھانا چاہتے یا پھر کسی کا پیار پانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح، تصویریں، مخصوص نشانات اور مجسموںکو بھی گھروں میں نصب کیا جاتا ہے کہ بری آفات سے بچا جائے۔ مالکان کہتے ہیں کہ یہ بے ضرر چیزیں ہیں ، لیکن جب ان سے یہ کہا جائے کہ انہیں گھروں سے دور کرنا ضروری ہے تو ایک واویلا مچا دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ لاشعوری طور پر ایسی چیزوں کے غلام بن چکے ہوتے ہیں۔

تعلیم یافتہ مسلمان حضرات اس بات سے خائف ہوتے ہیں کہ بری اراوح انکی گفتگو نہ سن لیں ، اس سے بچنے کے لئے وہ لکڑیوں کو ٹھوک ٹھوک کر بجاتے ہیں۔ پرندوں کا انداز ِ پرواز بھی ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کوئی سیاہ فام پرندکسی گھر کے اوپر پرواز کرتا دکھائی دے تو نحوست کی علامت اور کسی کی فوتگی کی پیشگی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی پالتو پرندہ گھر سے فرار ہوجائے تو یہ بھی ایک طرح کی پیشن گوئی سمجھی جاتی ہے کہ گھر کا کوئی فرد راہِ فرار اختیار کریگا۔ علم نجوم کو بھی دوسروں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنیکے استعمال کیا جاتا ہے۔ انڈیا کے ہوٹلوں میں آپ کو کوئی نہ کوئی نجومی مل جاتا ہے ، جو آپ کی جنم پتری کے ذریعے آپ کے مستقبل کی خبر فراہم کرتا ہے۔

بہت سے اسلامی ممالک میں اولیاءاکرام کے مزار موجود ہوتے ہیں۔ مردوں اور عورتوں کا جم ِ غفیر ان مزاروں پر اپنے مسائل کے حل کے لئے حاضری دیتا ہے۔ مثا ل کے طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے مزاروں پر ، عورتیں اپنے پیٹ کو قبروں پر رگڑتی ہیں تاکہ انکے حمل ٹھہر سکے۔ انکے یہ عمل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اللہ پر انکے ایمان سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا بلکہ ان کا دامن ان روحانی فضائل سے خالی رہتا ہے جو ایک خدا پر ایمان رکھنے سے ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی زندگیوں میں شدید ہیجانی بحران کا شکار لگتے ہیں۔

انڈونیشیا میں ایک تقریب کے دوران ایک فرانسیسی رپورٹر نے دیکھا کہ لوگ لوہے کی میخیں اور برقی بلب کھا رہے ہیں۔ اسے بھی اس دعوت میں شرکت کی دعوت دی گئی اور کہا گیا کہ انکے کھانے سے نہ وہ زخمی ہوگا اور نہ ہی ا سے درد ہوگا۔بلکہ یہ سب انکے جسم میں تحلیل ہوجائیگا۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ اس فوٹو گرافر نے یہ سب تصویریں دیکھیں اور ایک باتفصیل کالم ایک مقامی اخبار کی نظر کیا، جسمیں اس نے اس بات کا اقرار کیا کہ دنیا میں کئی ایسی اجنبی چیزوں کا وجو د ہے جو خارجِ از حواس ہیں اور جوانسانی معاشرے کا حصہ بنتی جارہی ہیں۔

کالے جادو کا استعمال بھی اسلام میں عام ہے جسکے ذریعے دوسروں کو تباہ و برباد کیا جاسکتا ہے۔ ایک مرتبہ بیروت کے ایک مایہ ءناز کالے جادو کے ماہر جو کہ اسرائیل کے وجود سے کافی پریشان تھے اپنے شاگردوں سے کہا کہ وہ اس بات پر دھیان گیان لگائیں کہ اسرائیل کو برباد کیا جاسکے۔ دوسری صبح ان کا ایک شاگرد انکے پاس ہانپتا کانپتا آموجود ہوا ۔ اسکے استاد نے اس سے پوچھا کہ اسے کیا ہوا ہے، تو شاگرد نے جواب دیا کہ میں نے کل رات میں خواب میں آپ کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھا ہے۔ اسی شخص کے ایک اور شاگرد نے اسے بتا یا کہ اس نے بھی اس سے ملتا جلتا خواب دیکھا ہے۔ استاد نے جان لیا کہ یہ دونوں شاگرد سچ کہہ رہے ہیں، کیونکہ اسے رویاءمیں ایک شخص دکھائی دیا جسنے اسے منع کیا کہ وہ اسرائیل کے لئے کوئی برا منصوبہ نہ باندھے۔ انہوں نے اسرائیل کے لئے بربادی کا منصوبہ باندھا، لیکن وہ ایک ایسے مقام پر لائے گئے جہاں انکی کالی قوتوں کا کوئی اثر و رسوخ نہیں تھا۔

ایک مرتبہ ہم بیروت کی سڑکوں پر اپنی کار میں رواں دواں تھے کہ اچانک ہمارے سامنے کچھ لوگوں کا ایک گروہ آن موجود ہوا، ہمارے لئے ناممکن تھا کہ ہم ان سے اپنا دامن بچا کر نکل پاتے۔ کچھ دیر ہی میں ہم پر یہ راز افشاں ہوا کہ ایک مسیحی مناد کو ان لوگوں نے گھیرا ہوا ہے۔ جس پر ایک لبنانی لڑکا یہ الزام لگا رہا تھا کہ اس مسیحی مناد نے اسے ایک ایسا کیک کھلایا ہے جس پر لعنت یا جادو کیا گیا تھا، جسکی وجہ سے وہ تین یا چار راتوں سے سویا نہیں۔ اس طالب علم کا کہنا تھا کہ وہ (مناد) اسے اس جادو سے آزاد کرے تاکہ وہ دوبارہ سے معمول کے مطابق اپنی نیند پوری کرسکے ورنہ وہ اس مناد کو جان سے ماردیگا۔ ہم فوراً اپنے بھائی (مناد) کی مدد کو پہنچے اور اسے ان لوگوں کے چنگل سے چھڑایا، اس نے ہمارے خداوند کو حاضر و ناضر جان کر کہا کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ لوگوں نے ہمارے قول پر اعتبار کرتے ہوئے مناد کو جانے دیا، بہرحال ا س طالب ِ علم کو حراست میں لے لیا گیا کیونکہ وہ اپنی گفتگو میں کئی بار کہہ چکا تھا کہ وہ اس (مناد ) کو قتل کردیگا۔ جب ہمارے دوست (مناد) کو قانون نے اس الزام سے بری کردیا تو وہ طالب علم جس نے ان پر یہ الزام لگا یا تھا ، جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہایت غصے کی حالت میں چیخنے چلانے لگا، اس کی کوشش تھی کہ وہ سلاخوں کو توڑ کر باہر نکل آئے اور اس مناد کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کردے۔ لیکن ہمارے مالک خداوند کی بدولت ہمارے دوست مناد کو خلاصی ملی اور وہ محفوظ رہے۔

اس واقعہ کی بدولت ہم مکمل طور پر یہ واضع نہیں کرسکتے کہ اسلامی ممالک میں کس طرح سے لوگ مسیحی خادمانِ دین کوجو مسلمانوں کے درمیان خداوند کے کلام کی منادی میں مصروف ہیں، کالے جادو کے ذریعے تباہ و برباد کرنیکی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ انہیں باتوں کو ملحوظ ِ خاطر رکھتے ہوئے ہم ا ن خادمان ِ دین کو مسلمانوں کے درمیان ہمارے منجی کو نجات بخش کلام پھیلانا چاہتے ہیں تاکید کرتے ہیںکہ وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر خداوند کے لہو میں چھپالیں اور اپنے لئے مدد ِ خاص کے لئے دعاکریںاور پھر اس عظیم کام کے لئے اپنے قدم باہر نکالیں۔ خداوند کے پاک خون کے علاوہ کوئی ہماری مدد نہیں کرسکتا۔ ہمارے خداوند کے پاک خون میں چھپائے ہوئے لوگوں پر شیطان کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔ اور تب آپ خداوند کا کلام اہل اسلام کے درمیان بے خوف و خطر پھیلا سکتے ہیں۔

ہمیں کسی بھی شیطانی قوت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یسوع المسیح خداوند ہیں۔ انکے نام کا مطلب ہے ’ طاقت‘ وہ ہماری پناہ ہے۔ اسکے باوجود وہ خادم جوخود کو خداوند کے خون میں نہیں چھپاتے، گو کہ وہ خداوند کی فرزندیت میں ہوں ایسی تمام مشکلات میں گھِر سکتے ہیں جنکا ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں۔ جو جھوٹ سے شروع ہو کر ، غیر شرعی جنسی تعلقات ، غرور اور ایسی ہی دوسری اغلاط کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ وہ پیسے کے لین دین میں بے ایمانی کے مرتکب بھی ہوجاتے ہیں۔ یہ اس لئے نہیں ہوتا کہ وہ ان سب چیزوں کا اعادہ کئے ہوئے ہوتے ہیں بلکہ ، انہوں نے اپنے آپ کو مکمل طور پر خداوند کے سپرد نہیں کیا ہوتا۔ کچھ نیم دلانہ ایماندار ایسی مشکلات کی وجہ سے نہ صرف اپنے مقصد سے دور ہو جاتے ہیں بلکہ ایسی مشکلات کا شکار ہوگمنامی کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں، اور آخری دم تک اس بات سے بے خبر رہتے ہیں کہ ان سب وجوہات کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔ کچھ لوگ گاڑیوں کے حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں اور کچھ اسی طرح کے دوسرے حادثات کا شکار ۔ اسلئے یہ از حد ضروری ہے کہ خداوند ہماری زندگیوں میں مکمل طور پر حکمران ہو۔ کیا آپ اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ جہاں یہ کہہ سکیں کہ ’ میرا سب کچھ خداوند یسوع مسیح کے لئے ، میرا اب کچھ نہیں‘، اگر ایسا ہے تو پھر آپ کی زندگیوں میں خداوند کا آرام داخل ہو جائیگا۔ چاہے حالات کیسے بھی کیوں نہ ہوں۔ کوئی بھی شخص اپنا ایک پاو ں لفٹ کے اندر اور دوسرا لفٹ کے باھر رکھ کر اگلی منزل پر جانیکی کوشش نہیں کرتا ہے وہ دو حصوں میں تقسیم کٹ کر رہ جائیگا۔ اسلئے یہ ضرور ی ہے کہ ہم مسیح میں ہوں اور مسیح ہم میں۔

قرآن شریف میں کالاجادو

حضرت محمدکا خوف زدہ ہونا

ہمارے مضمون کا اصل نکتہ اس سوال پر منحصر ہے کہ اسرارئیت سے رغبت کی اصل وجہ کیا ہے، اور اسکی جڑیں ہمیں قرآن میں کس مقام پر ملتیں ہیں ؟ اس سلسلے میں ہمیں قرآن کی سورة الفلق۵۔ ۱: ۳۱۱ ضرور پڑھنی چاہئے :

کہو کہ میں صبح کے پرودگار کی پناہ مانگتا ہوں

ہر چیز کی بدی سے جو اس نے پیدا کی

اور شب تاریکی سے جب اس کا اندھیرا چھاجائے

اور گنڈھوں پر (پڑھ پڑھ کر) پھونکنے والیوں کی برائی سے

اور حسد کرنے والی کی برائی سے جب حسد کرنے لگیں

اس سورة میں ہم حضرت محمد کو پریشان اور ڈرا ہوا پاتے ہیں۔ تما م عمر وہ خوف زدہ رہے کیونکہ انہوں نے اپنے دشمنوں کا ناحق خون بہایا، اور اپنے دوست و احباب کو بھی اس کام پر اکسایا۔ اکثر و بیشتر قاتل اپنے مقتولوں کو خوابوں میں دیکھتے ہیں۔ حضرت محمد پر شیطان کا خوف مسلط تھا اور وہ اسکی موجودگی کو محسوس کرتے تھے۔ وہ (حضرت محمد) خدا تعالیٰ کی صنعت سے بھی خوفزدہ رہتے تھے کیونکہ اسمیں انہیں شیطانی عکس دکھائی دیتا تھا۔ وہ رات کی تاریکی سے خوفزدہ تھے اور وہ سب کچھ جو رات کے اندھیروں میں بستا ہے۔ وہ (حضرت محمد) ا ن جادوگرنیوں سے خوفزدہ رہتے تھے جو گانٹھیں باندھ کر ان پر سحر پھونکتی تھیں۔ اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ جو ان پر حسد کرتے ہیں ، بری اراوح ان پر مسلط ہیں۔ ان کے خوف کی وجہ قرآن میں مندرج ہے جو آخرکار اللہ سے خوف کھانے پراختتام پذیر ہوتی ہے۔

ہمارےمالک جناب یسوع المسیح ، حضرت محمد سے کتنی مختلف شخصیت کے مالک ہیں۔ ہمارے مالک کا ارشاد ہے کہ :

میں تمہیں اطمینان دئے جاتاہوں

اپنا اطمینان تمہیں دیتا ہوں

جس طرح دنیا دیتی ہے میں تمہیں ا س طرح نہیں دیتا

تمہار ا دل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے۔

  ( یوحنا ۷۲:۴۱)

اسکے برعکس حضرت محمد ایک خوفزدہ آدمی تھے، انکا دل شدتِ خوف سے نڈھال تھا، وہ طبیعتاً ایک پریشان اور ناخوش انسان تھے۔ جادوگرنیوں کا خوف، رات کا اندھیرااور اس سے متعلقہ ہر چیز ان کے دل کی گہرائیوں میں اتر چکی تھیں۔وہ اپنے چاروں اطراف خوف کی علامات دیکھتے تھے۔ سورة الناس ۵۔ ۱: ۴۱۱ میں مذکور ہے :

کہو کہ میں لوگوں کے پروردگا ر کی پناہ مانگتاہوں

(یعنی ) لوگوں کے حقیقی بادشاہ کی

لوگوں کے معبود برحق کی

(شیطان) وسوسہ انداز کی برائی سے جو (خدا کا نام سن کر)پیچھے ہٹ جاتا ہے

جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔

اس سورة میں ہم خوف کی تین وجوہ سے آشناس ہوتے ہیں، (اول) انسان۔ (دوئم) شیطان۔ (سوئم) شیطاتین۔حضرت محمد ان تینوں انواع میں واضح تفریق رکھتے ہیں اور اللہ کی پناہ کی درخواست کرتے ہیںجو ان تینوں چیزوں کا خالق ہے۔ وہ (ابلیس) سے پناہ مانگتے ہیں جس کی رسائی انکے (حضرت محمد) کے قلب کے پوشیدہ حصوں تک ہے۔ انہیں (حضرت محمد) آوازیں سنائی دیتیں تھیں ، لیکن وہ یہ تمیز نہیں کرسکتے تھے کہ وہ آواز یں اللہ تعالی کی جانب سے ہیں یا پھر ابلیس کی جانب سے۔ انکے الہام کی بھی یہی حالت تھی، مثال کے طور پر سورة النجم ملاحظہ فرمائیے۲۲۔ ۰۲: ۳۵ :

اور تیسرے منات کو

(مشرکو!)کیا تمہارے لئے تو بیٹے اور خداکے لئے بیٹیاں

یہ تقیسم تو بہت بے انصافی کی ہے

نوٹ: اصول قرآن کے مطابق قرآن کی دوسری آیات کریمہ سے اس بات میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ حضور اپنے الہام کی صداقت کے سلسلے میں ہمیشہ شش و پنج میں مبتلا رہے، مثال کے طور پر سورة الحج۳۵۔۵۲:۲۲ ملاحظہ کیجیے

ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجامگر(اسکا حال یہ تھاکہ)جب وہ کوئی ّآرزو کرتا تھاتو

شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ)ڈال دیتا تھا۔ تو جو(وسوسہ)شیطان ڈالتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے۔

پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوظ کر دیتا ہے۔ اور خدا علم اور حکمت والا ہے۔

غرض اس سے یہ ہے کہ جو (وسوسہ)شیطان ڈالتا ہے اس کو ان لوگوں کے لئے جنکے دلوں میں بیماری ہے

اور جن کے دل سخت ہیں ذریعہ آزمائش ٹھہرائے، بے شک ظالم پرلے درجے کی مخالفت میں ہیں۔

انیسویں صدی کے مشہور مناظر سلطان القلم اپنی شہرہ آفاق کتاب تاویل القران کے صحفہ نمبر ۷۵ میں فرماتے ہیں : قرآن مجید نہ جامع ہے نہ مانع یعنی جس قدر نازل ہوا تھا وہ سب محفوظ نہیںرہا اور جو قرآن نہیں تھاوہ قرآن میں داخل ہوگیا۔ قرآن موجودہ غلطیوں اور کاتب کی بھولوں سے بھرا ہوا ہے ۔ پیغمبر خدا ﷺ کی کبھی ایسی حالت ہوگئی تھی کہ کہنا کچھ چاہتے تھے اور زبان مبارک سے اور کچھ نکل جاتا اور یہ سبب مسحور ہونے کے خود نہ جانتے تھے کہ میں کیا کہتا ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے بتوں کی تعریف قرآن پڑھنے کی حالت میں مشرکین کے سامنے کی۔ خدا کی بعض آیتوں میں بندوں پر توارد ہوا۔

یہ ماجرا ’ اسباب نزول القران‘ کے صحفہ نمبر ۸۹۲ میں کچھ یوں درج ہے :

مفسرین کا قول ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی قوم نے آپ سے پیٹھ موڑ لی ۔ آپ ﷺ پر ان کی اس دن سے دوری جو دین آپ ﷺ ؒ لائے تھے ، آپ پر ﷺ سخت شاق گزری۔ آپ ﷺ نے دین میں یہ تمنا کی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی بات پیدا ہو جو آپ ﷺ اور اور آپ ﷺ کی قوم کے درمیان قرب پیدا کرے۔ یہ آپ ﷺ کی اس حرصکے باعث تھا جو آپ ﷺ کے دل میں ان کے ایمان لانے کے موجود تھا۔ آپ ﷺ ایک دفعہ قریش کی مجلسوں میں سے ایک مجلس میں بیٹھے جہاں بہت زیادہ لوگ تھے۔ آپ ﷺ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی بات پیدا نہ ہو جس سے یہ لوگ بدک جائیں۔ آپ ﷺ نے ا س بات کی تمنا کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے سورة ’ تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے‘ نازل کی۔ آپ ﷺ نے یہ سورة پڑھی۔ جب آپﷺ ’اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہو سکتے ہیں )‘ پر پہنچے تو شیطان نے آپ ﷺ کی زبان پر آپ ﷺ کے نفس میں پیدا ہونے والی بات اور آپ ﷺ کی تمنا آپ کی زبان پر جاری کرادی ....

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بنی رزیق کے ایک یہودی لبید نامی نے رسول اللہ پر جادو کیا تھا جسکی وجہ سے آپ خیال کیا کرتے تھے کہ میں کوئی کام کررہا ہوں حالانکہ وہ کام نہ کرتے تھے ۔ حضرت ِ محمدﷺ شیطایناور اراوح ِ بد کی قوتوں کے سامنے بہ سر تسلیم خم تھے۔ اور انہی الفاظ کے ساتھ قرآن اختتام پذیر ہوتا ہے۔ کوئی تسلی پذیر ، باعث ِ تشفی انجام نہیں۔ بلکہ خدا کی پناہ کے لئے زور کا واویلا ہے۔ ا س اللہ کے سامنے جو مدد کا کوئی وعدہ نہیں کرتااور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی یقین دلاتا ہے۔ ہر وہ شخص جو دل کی گہرائی سے اس مسئلہ پر سو چ و بچار کرتا ہے وہ حضرت محمد کی قابل ِرحم حالت کے لئے ہمدردانہ جذبات رکھتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے حضرت محمدﷺکو مایوسی اور خوف کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیا گیا ہو۔ وہ ﷺ اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ شیطان اور اس کی تاثریں ہردم انکا ﷺ پیچھا کرتی ہیں۔ انہیںﷺ اس بات کا تجربہ ہو ا کہ اللہ تعالیٰ کی محافظت حاصل ہونیکے باوجود ، شیطان انسان پر اپنا حق جتاسکتا ہے۔

ان تفصیلات سے اپنے قارئین کو آگاہ کرنے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ وہ لوگ جو صدق ِ دل سے اپنی نجات کے لئے گریہ و زاری کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کے صدقے ان کی شفاعت ممکن ہے، یا قرآنی آیات کے ورد سے ان کے مصائب کا خاتمہ ممکن ہے ، وہ اس خام خیالی سے باہر نکل آئیں ، اسلام کا ہرگز یہ دعویٰ نہ تھا۔ ابتدائی مسلمان مورخین بھی بات سے بخوبی واقف تھے، اس لئے اپنی تصنیفات میں انہوں نے حضور ؓ کی روحانی زندگی کے نشیب وافراز میں سے کچھ بھی نہ چھپایا۔

لیکن جب ہم جناب سیدناِ المسیح کی زندگی سے متعلق ابتدائی شہادتوں کے مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پر یہ حقیقت روز ِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ان کے خیالات و اقوال کو شیطان کبھی بھی مس نہ کرپایا۔ حتیٰ کہ موت بھی سیدنا المسیح کے اوپر اپنے مضبوط دروازے بند نہ رکھ سکی۔

اہل مکہ کے سوالات اور حضرت محمدﷺ

اہل مکہ سے متعلق قرآن کریم میں ایک منفرد مجموعہ ِ کلام موجود ہے۔ انکے (اہل مکہ ) جناب حضرت محمدﷺ ذہنی طور پر ایک مضطرب، پاگل شخص تھے، اور وہ انہیں مجنون(جس پر آسیب کا سایہ ہو) کہہ کر پکارا کرتے ، کیونکہ انکے (اہل مکہ) کے مطابق ایک جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ ایسی حرکات و سکنات کے مرتکب ہوتے تھے جو کسی بھی طور پر داعیِ رسالت کے لائق نہ ہوتیں۔ حسب ذیل قرآنی آیات میں یہ گفتگو موجود ہے ، سورة الصافات ۶۳۔ ۵۳:۷۳، سورة الدخان ۴۱۔ ۳۱: ۴۴، سورة الطور ۰۳۔ ۲۹:۲۵، سورة القلم ۲:۸۶، سورة التکویر۲۲:۱۸۔

علاوہ ازیں انﷺ کے پڑوسی ا س بات پر بھی خوفزدہ تھے کہ حضرت محمدﷺ ایک جادوگر تھے اور جادو کے ذریعے لوگوں کواپنے جھوٹ کے جال میں پھنساتے اور اپنا پیرو  کار بناتے ہیں، سورة یونس ۲:۰۱، سورة الحجر ۵۱:۵۱؛ سورة ۴:۸۳۔

اور کچھ حضرات کے مطابق جناب حضرت محمد ﷺ سحر زدہ تھے اور آسیب کے ماتحت ، شیاطین اور بد اراوح اور انسانو ں کے مابین ایک ذریعہ تھے۔ سورة ۰۵:۷۱، سورة ۸:۵۲؛ سورة ۴۱:۴۴؛ سورة ۵۲۔ ۴۲:۱۸ ....

کئی ایک انہیں کاہن (رمال، نجومی) تصور کرتے تھے ان کے نزدیک حضرت محمدﷺ جناب کے توسط سے عالم غیب کی خبریں حاصل کرتے تھے۔ سورة الطور ۹۲:۲۵؛ سورة الحاقتہ ۲۴:۹۶ ....

اس کے علاو ہ انہیں شاعر بھی کہا جاتا تھا، کیونکہ انکے ہمعصروں کے نزدیک کوئی خاص جن تھا کہ جس کی بدولت حضرت محمدﷺکے حاصل شدہ الہام میں شاعروں کا سا وزن تھا۔ سورة الصافات ۵۳۔ ۶۳:۷۳؛ سورة الطور ۹۲۔ ۰۳:۲۵؛ سورة الحاقة۲۴۔ ۳۴:۹۶ ....

ابن ہشام جنکا ابتدائی مورخین میں ایک خاص مقام ہے ، وہ حضرت محمد ﷺ کی سوانح حیات میں اس با ت کو قبول کرتے ہیں کہ جب تک اہل مکہ مغلوب نہ ہوئے اور اسلام قبول نہ کیا ، وہ حضرت محمد ﷺ کےلئے ایسی زبان استعمال کرتے رہے جو قرآن میں مندرج ہیں۔

حضرت محمدﷺ کے پیرو وکاروں نے کئی مرتبہ ان ﷺ سے حضرت جبرائیل ؑ سے انکی ﷺ ملاقات کا احوال پوچھا، تو وہ ﷺ کہ ’ کہ و ہ ( حضرت جبرائیلؑ جب میرے پاس آتے ہیں، تو مجھے ایسی آوازیں سنائی دیتیں ہیں جیسے کہ گھنٹیاں بج رہی ہوں یا پھر کسی دھات کو پیٹا جارہا ہو۔ تب میں فوراً اپنے گھوڑے یا اونٹ کی سواری سے اتر جاتا ہوں اور اوڑھنی اوڑھ لیتا ہوں، تب و ہ مجھے اتنے زور کے بھینچتا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ میرا دم نکل جائیگا۔ اور جب وہ (حضرت جبرائیلؑ ) مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے تو میں اسکے کوئی الفاظ بھول نہیں پاتا ، اور تمہیں جوں کے توں سنا دیتا ہوں۔ اور عینی شاہدین نے یہ سب خود دیکھا کہ جب ان پر وحی نازل ہوتی تو انکی حالت بگڑنے لگتی، انکے چہرے کا رنگ زردیا سرخ ہوجاتا اور انکے ہونٹ بغیر آواز نکالے محو حرکت ہوتے، اور کبھی کبھار وہ مکمل طور پر اپنے ہوش و حواس کھو بیھٹتے۔

ان تمام معلومعات کے طفیل ہم اختصار اور تنقیدی نقطہ ءنگاہ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب کبھی بھی حضرت محمد ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی انکی حالت غیر ہو جاتی، وہ مضطرب دکھائی دیتے ، بلکہ کسی ایسے شخص کی مانند جو آسیب زدہ ہو، بہت سے لوگ ان باتوں کی وجہ سے ان سے خوف کھانے لگے۔

کئی ماہر علوم ِشرقیہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ حضرت محمدﷺ پر مرگی کے دورے پڑا کرتے تھے۔ لیکن مسلمان حضرات سختی سے اس بات کو رد کرتے ہیں۔ اور بغیر کسی حیل وحجت کے داعی ہیں کہ حضر ت جبرائیلؑ براہ راست حضرت محمد ﷺ کو پیغام الہیٰ پہنچایا کرتے تھے، جو ۲۲ سال کے عرصہ پر محیط ہے۔

چاہے مسلمان یہ اصرار کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت محمدﷺ پر وحی نازل فرماتے رہے، لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ جو آوازیں (گھنٹیوں) کی وہ ﷺ وحی کے نزول کے وقت سنا کرتے، وہ کسی طو ر پر بھی حقیقی الہٰی وحی کی نہیں ہو سکتیں۔ ہمارے خداوند یسوع مسیح کے آسمانی پدر کبھی بھی ۰۰۶ سال بعد از مسیح مکہ میں ایک شخص پر وحی بھیج کر پچھلا الہٰی کلام رد کرسکتے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں۔ قرآن میں ۰۲ سے زائد بار اسی ایک بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں۔ چاہے جب تک مسلمان حضرات یہ کہتے رہیں کہ یہ (قرآن) آیات الہٰامی ہیں ہمارا جواب نہ ہی رہیگا!یہ تمام کلام الہٰی نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا منبع ایک شیطانی روح ہے جس نے عربی میں خداتعالیٰ کے نام کا غلط استعمال کرتے ہوئے یہ ابہام پھیلایا۔ جب تک مسلمان یہ بات مانتے رہیں کہ جنابِ سیدنا مسیح صلیب پر نہیں موئے، ہم یہ مانتے رہینگے کہ یہ کلام ، کلامِ خداوندی نہیں ہوسکتا جو حضرت ِ محمدﷺ پر نازل ہوا۔ یہ ایک شیطانی کلام ہے جو ایک بد روح سرانجام دی رہی ہے۔ اور خود کو خدا کہتی ہے۔ ہم مسیحیوں کو یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ مسلمان اور مسیحی ایک خدا کو نہیں مانتے۔ دونوں مذاہب کے درمیان یہ یہ فرق الہٰی ذات کے لئے دو مختلف ناموں کا نہیں ، بلکہ دو مختلف تصور ِ خدا ہیں۔ جو ایکدوسرے کی عین ضد ہیں۔ اناجیل اربعہ میں موجود تصورِ خدا ، قرآن میں موجود خدا کے تصور سے بلکل جدا ہے۔ حضرت محمدﷺ مخالف مسیح ہیں۔ ان میں مسیح کا روح نہیں۔ اگر اس سلسلے میں کسی کو ئی شکوک و شبہات ہیں تو وہ سورة توبہ ۰۳:۹پڑھ لے، مسلمان آیت کا صرف وہ حصہ پڑھ کر سناتے ہیں جہاں یہ لکھا ہے کہ ’ ر عیسائی کہتے ہیں مسیح خدا کے بیٹے ہیں‘ جبکہ آیت کا اختتام کچھ یوں ہوتا ہے، ’ خدا ان کو غارت کرے، یہ کہاں بہکتے پھرتے ہیں‘۔

شیطانی آیات

جب حضرت محمد اور انکے پیرو وں کاروں کو سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں حبشہ کی جانب ، انہیں ایک مسیحی سلطنت میں جان کی امان ملی۔ جب حضرت محمد کو اپنی قوم سے ترک ِ موصلات اور دباو  کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں ﷺ نے اللات ، منات اور عزہ کو اللہ کے برابر جگہہ دیدی۔ اس واقعہ کا ذکر سورة النجم بھی آیا ہے۔ سیلمان رشدی نے شیطانی آیات کے حوالے سے اس واقعہ کو خوب اچھالا او ر ایک غیر معیاری انداز سے واقعہ کو کچھ اس طرح سے بیان کیا کہ جب حضرت محمدﷺ اور انکے پیرو وکار لوگوں کے رحم و کرم پر تھے تو حضور ﷺ نے برملا یہ اظہار کر ڈالا کہ اللہ تعالی کی ایک بیوی بھی ہے ۔ اسی لئے اہل اسلام کے لئے یہ کسی توہین رسالت سے کم نہیں۔

جب اہل مکہ نے حضرت محمد ﷺ کی زبان سے اپنی دیوتاو ں کے متعلق کلام سنا جن کے بت کعبہ میں موجود تھے تو انہوں نے حضرت محمد پر کعبہ میں جانے کےلئے عائد پابندی فوراً اٹھا لی۔ جب یہ خبر ان مہاجرین تک پہنچی جنہوں نے حبشہ میں سکونت اختیار کر لی تھی کہ حضور نے اہل مکہ کے دیوی دیوتاو ں کے حق میں کلام کیا ہے اور ان پر عائد پابندیاں اٹھا لی گئیں ہیں تو وہ تمام مہاجرین واپس مکہ کو لوٹنے لگے۔ لیکن جب وہ واپس مکہ پہنچے تو انہیں یہ سن کر حیرانی ہوئی کہ حضور اپنے بیان سے پھرِ چکے ہیں اور خیال کیا کہ حضور کی زبان سے غیر دانستہ طور پر شیطانی کلام ادا ہو گیا تھا۔ اسی لئے اہل اسلام کی نظر میں سورة النجم ۳۲، ۰۲:۳۵ شیطانی آیات کہلاتی ہے جو بعد ازاں منسوخ کردی گئیں۔ سلیمان رشدی ان آیات کے موجود نہیں۔ یہ تو ابتداءسے ہی قرآن میں موجود تھیں۔

حضرت محمد ﷺ سورة الحج ۳۵۔ ۲۵:۲۲ میں اس بات کا اقرار کرتے نظر آتے ہیں کہ الہٰی پیغام میں شیطانی کلام کی آمیزش ہوسکتی ہے۔ اور وہ ﷺ اس واقعہ کو دوسرے نبیوں کے سر ڈالنے کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا تمام پچھلے نبیوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔اسکے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی گذشتہ آیات کو منسوخ کر کے نئی آیت نازل کردیتا ہے اور مسلمانوںکی زندگیوں سے متعلق فیصلے ا ن نئی آیات کی روشنی میں کرتاہے۔ اسلام کا خدا ، شیطانی کلام سے کمزور مسلمانوں کے ایمان کا امتحان لیتا ہے، تاکہ سخت دل مسلمانوں کو الہٰی عذاب کا مزہ چکھنا پڑے۔

شیطانی آیات سے متعلق جو اہم نقطہءزیر ِ بحث ہے وہ یہ ہے کہ ، اگر حضرت محمد ایک مرتبہ ایسے سانحے سے گزرے جسمیں وہ ﷺ یہ اندازہ نہ کر پائے کہ جو الہام وہ ﷺ موصول کررہے ہیں آیا کہ وہ الہٰی ہے یا شیطانی، تو کیا یہ ممکن نہیں کہ قرآن میں ایسی کئی دوسری شیطانی آیات بھی موجود ہوں، جنہیں الہٰامی سمجھ کر قرآن میں درج کردیا گیا ہو؟باوجود اس کے کہ حضرت محمد ﷺ یہ مانتے رہے کہ یہ کلام منجانب اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ایک مقرب فرشتے حضرت جبرائیلؓ کے توسط سے ان پر نازل ہوتا ہے ، تمام کا تمام قرآن ہی شیطانی کلام ہو؟

اسلام میں جبرائیل ؓ کو روح اللہ تصور کیا جاتاہے ، جو اناجیل ِ مقدس میں موجود روح اللہ کے تصور کی عین ضد ہے۔مسلمانوں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ روح اللہ ، خدا کی مخلوقات میں سے ایک ہے، جس طرح فرشتے اور شیطانی ارواح کا شروع اور آخر ہے اسی طرح روح اللہ کو بھی تخلیق کیا گیا ہے اور اس کے آخر کا بھی ایک روز مقرر ہے۔ اسلام میں روح اللہ کے مسیحی تصور ِ اقنوم کا کوئی تصور موجود نہیں ، اسلئے اہل اسلام کے لئے روح سے ہدایت ، روحانی تسلی ، ہمیشہ کی زندگی اور سچائی کا روح جیسے ایمان افروز مسیحی تعلیمات مفقود ہیںکیونکہ اہل اسلام کے ہاں جبرائیلؓ (فر شتہ) ہی روح اللہ ہے۔ اسی لیے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ روح ِ اسلام حقیقی خدا کے جانب سے نہیں، بلکہ جسمانی خواہشات کی تکمیل یا پھر شیطانی قوت کی جانب سے ہے ، گو کہ ایک شدید دینی لگاو  ، باقاعدہ نماز ، بہت سی دعاو ں ، روزہ، زکواة ، حج کے باوجود بھرپور روحانی زندگی سے خالی ہے، کیونکہ اسلام میں روح اللہ موجود نہیں، صرف موت ہے۔ (غلاطیوں کے نام خط ۵۔ ۱:۳)

اسلام کا خدا ، خدا نہیں ایک شیطان ہے جس نے اپنی ذات کے ساتھ خدا کا لفظ جوڑ لیا ہے، جسنے گہری مذہبیت اور لگاو  کے ذریعے سے لاکھوں مسلمانوں کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے، اور مسیح یسوع کے ذریعے ان کی نجات کے راستے میں ایک عظیم رکاوٹ کا سبب ہے۔ بلکہ خداوند یسوع المسیح کے نجات بخش پیغام کی مخالفت کا زہر انکی رگوں میں گھولتا رہتا ہے۔

حضرت محمد ﷺ نے ایک ہی سال میں اپنے چچا ابو طالب ؓ اور زوجہ خدیجہؓ کو کھو دیا، اور ساتھ وہ پناہ جو ان باوثوق انسانوں کی بدولت مکہ میں انہیں حاصل تھی۔ انہوں ﷺ نے طائف ، جو ایک مکہ کہ پہاڑی علاقے میں واقعہ ایک گاو ں تھا، پناہ لینے کی کوشش کی۔ لیکن اہل طائف حضرت محمدﷺ کے ساتھ نہایت سختی سے پیش آئے ، حضرت محمد ﷺ دلبرداشتہ ، اور سخت مایوسی کے عالم میں صحرا میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ اور وہیں پر انﷺ کی ملاقات جنات سے ہوئی جو وہاں بستے تھے۔کچھ سائنسی علوم کے ماہرین ان بیانات پر صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں ، جبکہ بہت سے مفکر ان بیانات کو قابل توجہ نہ جانتے ہوئے یکسر رد کردیتے ہیں۔ اور کچھ حضرات کے نزدیک جنات ، نیک اور مددگار ارواح ہیں۔ قرآن میں دو مقامات پر ایسے وعظ موجود ہیں جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ حضرت جبرائیل ؑکے توسط سے حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئے۔

سورة جن

(اے پیغمبرلوگوںسے) کہدو کے میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوںکی ایک جماعت

نے (اس کتاب کو) سنا تو کہنے لگے کہ ہم نے ایک عجیب قرآن کو سنا

جو بھلائی کا رستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اور ہم اپنے پروردگارکےساتھ

کسی کو شریک نہیں بنائینگے۔

اور یہ کہ ہمارے پروردگار کی عظمت (شان)بہت بڑی ہے اور وہ نہ

بیوی رکھتا ہے نہ اولاد

اور یہ کہ ہم سے بعض بے وقوف خدا کے بارے میں جھوٹ افتراءکرتے ہیں

اور ہمارا(یہ) خیال تھا کہاکہ انسان اور جن خد ا کے نسبت جھوٹ نہیں بولتے

اور یہ کہ بعض بنی آدم جنا ت کی پناہ پکڑا کرتے تھے(اس سے) انکی سرکشی اور بڑھ گئی تھی

اور یہ کہ ان کا بھی یہی اعتقاد تھاجس طرح تمہارا تھا کہ خدا کسی کونہیں جلائے گا

اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تواس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروںسے بھرا پایا

اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات میں (خبریں)سننے کے لئے بیٹھا کرتے تھے۔

اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارہ تیار پائے

اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے

یاان کے پروردگار نے ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایاہے

اور ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے ہیں ۔ ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں

اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا ہے کہ ہم زمین میں(خواہ کہیں ہوں)خدا کو ہرا نہیں سکتے اور

نہ بھاگ کر اس کو تھکا سکتے ہیں

اور جب ہم نے ہدایت(کی کتاب)سنی اس پر ایمان لے آئے۔ تو جو شخص اپنے پروردگار پر ایمان لاتا ہے

اس کو نہ نقصان کا خوف ہے نہ ظلم کا

اور یہ کہ ہم سے بعض فرماںبردارہیں اور بعض(نافرمان)گنہگارہیں۔ تو جو فرمانبردار ہوئے

وہ سیدھے رستے پر چلے اور جو گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے

(۵۱۔ ۱:۵۷)

اسی واقعہ کو دوسری سورةالاءحقاف۹۲۔ ۲۳:۶۴ میں بھی بیان کیا گیا :

اور جب ہم نے جنوں میں سے کئی شخص تمہارے پاس طرف متوجہ کئے کہ قرآن سنیں۔ تو جب وہ اس کے پاس آئے

تو (آپس میں)کہنے لگے کہ خاموش رہو۔ جب (پڑھنا)تمام ہوا تو اپنی برادری کے لوگوں میں واپس

گئے کہ (ان کو ) نصحیت کریں

کہنے لگے کہ اے قوم!ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ جو(کتابیں)اسے سے پہلے

(نازل ہوئی)ہیں ان کی تصدیق کرتی ہے(اور) سچا(دین)اور سیدھا راستہ بتاتی ہے۔

اے قوم!خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول کرواور اس پر ایمان لاو ۔ خدا تمہارے گناہ بخش دیگا

اور تمہیں دکھ دینے والے عذاب سے پناہ میںرکھیگا

اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی بات کو قبول نہ کریگاتو وہ زمین میں (خداکو)عاجز نہیں کرسکے گااور نہ اس کے سوا

اس کے حمایتی ہونگے۔ اور یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔

قرآن اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ حضرت محمدﷺ کی جنوں سے ملاقات ایک حقیقت ہے۔ انجیل کو اپنا معیار رکھتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ ان شیاطین نے حضرت محمد سے کیا کہا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضورﷺ پر ظاھر ہوا۔

سورة الجن ۳۔ ۱ : ۲۷، میں ہم لکھا ہے ’ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ©ہے ‘۔ قرآن کے مطابق ان ارواح وہ تما م باتیں سن سکتیں ہیں جو ہم سر عام یا پھر خفیہ طور پر کرتے ہیں اور مختلف لوگوں کے مختلف مسائل کے فرق کو واضح طور پر جانتی ہیں۔ وہ برملا اس بات کا اظہار کرسکتی ہیں کہ کون سی تلاوت اچھی ہے اور کون سے ب ری۔ اور اس سورة میں وہ (ارواح) اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ قرآن عظیم الشان ہے جو بنی نوع انسان کو سچائی کے راستے پر چلنے اور اخلاقی اقدار کو اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اقرار کیا ’ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں‘ ، اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ (ارواح) قرآن کو سمجھ پائیں، بلکہ اسے مددگار بھی پایا، اور اسکے ساتھ ساتھ اپنے تئیں اسکی (قرآن) کی بندگی بھی قبول کرلی۔ اور فوراً اصل مدعے پر آ گئیں کہ  ’ ہم اسکی (اللہ تعالیٰ ) کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے‘۔ کچھ مفسرین کے مطابق یہاں بتوں یا بتوں کی تصاویر مراد ہے ۔ بہرحال ، اگلی آیة کی روشنی میں یہ رائے غیر واجبی سی لگتی ہےَ ۔ کیونکہ یہ واعظ صاف طور پر خداوند یسوع المسیح کی ذات اقدس کے لئے کہے گئے ہیںَ ، ’ نہ اسکے کوئی بیوی ہے نہ کوئی بیٹا ‘۔ اکثر و بیشتر لفظ ’ولد‘ قرآن میں ہمارے خداوند یسوع المسیح کے لئے استعمال ہوا ہے لیکن یہ بد ارواح یہ جتانا چاہتی ہیں کہ خداتعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں۔ جو کہ ۱۔ یوحنا ۴۔۲:۴ کیمطابق مخالف مسیح ہے۔ بائبل مقدس صاف طور پرخداوند یسوع المسیح کی فرزندئیت اور خدا تعالیٰ کی پدریت کے منکر ین کو ملامت آمیز انداز میں سخت ترین الفاظ میںمذمت کرتی ہےَ ۔

خداوند المسیح کا ارشاد ِ مبارک ہے کہ کوئی نیک نہیں سوائے خدا تعالیٰ کے۔ اسلئے ہم جنات کو نیک نہیں کہہ سکتے گو کہ وہ اپنے آپ کو نیک جتاتے ہیں۔ وہ صرف جنات نہیں بلکہ مخالف ِ مسیح ارواح ہیں۔جو خدا تعالیٰ اور انکے پیارے بیٹے خداوند یسوع مسیح کے رشتے کے منکر ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ وہ سب جھوٹے لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے کوئی بیٹا ہے۔

چوتھی آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ ’ ہمارے درمیان کچھ بیوقوف ہیں جو اللہ تعالیٰ پر بہتان لگاتے ہیں‘۔ مسلمان مفسرین کے مطابق جنوں کے درمیان وہ جن جس نے یہ جھوٹ گھڑا وہ شیطان ہے، جس نے عوام الناس کو اس ناقابل معافی جھوٹ کے ذریعے خدا تعالیٰ کے اصل دین یعنی اسلام سے برگشتہ کردیاکہ خدا تعالیٰ کے کوئی اولاد ہے ۔اسی وجہ سے شیطان کو السفیہ بھی کہا جاتا ہے ، اس جھوٹ کی وجہ سے شیطان خداوند یسوع المسیح کی فرزندئیت کو خطرے میں ڈالتا ہے اور مسلمانوں کا مسیح خداوند کے خلاف بھڑکاتاہے ۔قرآن کے مطابق خدا کی ہرگز یہ منشا نہ تھی کہ خداوند یسوع المسیح کو خدا کو بیٹا سمجھا جائے، بلکہ یہ خیال شیطان کا ایجاد کردہ ہے کہ خدا کا بیٹا مجسم ہوا ، تاکہ مسیحیوں کو راہ ِ راست سے بھٹکا کر جہنم کا ایندھن بناڈالے۔ جنات خداوند یسوع مسیح کے خداتعالیٰ کے لے پالک بیٹے ہونے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ وہ خداوند یسوع مسیح کے خلاف عداوت کے عنصر کو جنم دیتے ہیں اور مسلمانوں کو خداوند کے نجات بخش منصوبہ کے خلاف بے حس بنا دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ کہ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ انسان اور جن اللہ تعالیٰ سے کوئی جھوٹ منسوب نہیں کرسکتے۔

          قرآن کے مطابق یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے کہ شیطان یہ اقرار کرے کہ مسیح خداوند اللہ تعالیٰ کے فرزند ہیں۔ جنات شیطان کو ایک گستاخ بیوقوف قرار دیتے ہیں ؛ شیطان نے ایک سچ کو جھوٹ کا لبادہ اوڑھا دیااور اب اس (شیطان) کے الفاظ مسلمانوں کو سچ کے خلاف زہر آلودہ کرتے ہیںَ ۔ یہ ایک اختراع ہے ، اور خداوند یسوع المسیح کے اس قول کی تائید کرتی ہے کہ جب انہوں نے کہا تھا کہ شیطان جھوٹوں کا سردار ہے جنات اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ہیں جو تہہ دل سے حق کی تلاش میں ہیں اور ان میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے روابط جنات سے ہیں۔ وہ (متلاشیان ِ حق) اس بات پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہیں کہ لوگ شیاطین سے کیوں روابط رکھنا چاہتے ہیں ، جیسا کہ حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں نظر آتا ہے۔بمطابق قران اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ کسطرح ممکن ہے کہ لوگ ابلیس کی اس بات کا یقین کریں کہ خدا تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے؟

تب وہ اپنے اصل مدعا پر آتے ہیں ’ وہ بھٹکے ہوئے لوگ سوچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی پیغمبر کو نہیں بھیج سکتا‘ یہ حضرت محمدﷺ کی طرف ایک اشارہ ہے۔ سورة البقرة ۴۱:۲ میں یہودی عمائدین کو شیاطین کہا گیا ہے۔ علاوہ ازیں امام خمینی امریکیوں اور روسیوں کو چھوٹے اور بڑے شیاطین میں تقسیم کرتا ہے۔ یہودیوں کے متعلق قرآن میں آیا ہے کہ ’ اور جب وہ ان سے ملتے ہیں جو ایمان لا چکے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لاتے ہیں، لیکن جب وہ اکیلے میں اپنے شیاطین (یہودی عمائدین) سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں ، ہم تو ازراہ مذاق ایسا کہتے ہیں ‘ ۔ ایسی آیات اس بات کی شاہد ہیں کہ یہودیوں نے قرآن کی مخالفت کی اور اس سے متاثر نہ ہوئے اور نہ ہی تسلیم سرخم کیا۔ حضرت محمدﷺ یہ تصور کرتے تھے کہ اہل یہود شیاطین کے زیر اثر ہیں اور اسی لئے انہیں نبی تصور نہیں کرتے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا۔ اہل اسلام کے مطابق وہ تمام لوگ جو قرآن اور حضرت محمدﷺ کی رسالت کے منکر ہیں وہ شیاطین کے زیر اثر ہیں اور راہ ِ راست سے بھٹک چکے ہیں۔

اس کے بعد ہمیں حقیقت پر مبنی ایک سچا بیان ملتا ہے جہاں جنات یہ کہتے ہیں ’ اور ہم (جنات) آسمان کو ٹٹولا تو اس کو مضبوظ چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا پایا‘۔ وہ (جنات) آسمانی مقاموں پر یلغار نہ کرپائے۔ یہ ایک اور ثبوت ہے کہ جنات ، فرشتوں کی مانند پاک ارواح نہیں کیونکہ وہ پاک آسمانی مقاموں میں داخل نہ ہو پائے۔ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ انہوں ان (پاک آسمانی) بزور بازو ، زبردستی داخل ہونیکی کوشش کی لیکن انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، اور ان پر داخلہ بند کردیا گیا اور سخت پہرہ بٹھا دیا گیا۔ پس ان کا سامنا خدا تعالیٰ کے پاک فرشتوں سے ہوا جنہوں نے ا ن ناپاک ارواح کو مار بھگایا۔

ان مسلمان روحوں کا بیان جاری رہتا ہے اور آگے کچھ یوں لکھا ہے، ’ اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات میں (خبریں) سننے کے لئے بیٹھا کرتے تھے۔ اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارہ تیار پائے۔ ‘ (سورة جن ۹:۲۷) ان جنات نے آسمان اور زمین کے درمیان ہونیوالے واقعات کی کھوج لگانے کی کوشش کی لیکن انہیں غیر متداخل مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ جنات بھی حضرت محمد ﷺ کی طرح غیر یقینی کیفیت کا شکار نظر آتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے کسی سیدھے راستے کا انتخاب کیا ہے یہ کوئی بدی کا منصوبہ باندھ رکھا ہے، جو انہیں جنت میں لیجائے یا پھر دوزخ میں!جناب الہٰی مرضی جاننے کی قوت سے مبرا ہیں۔ سورة ۱۱ کے مطابق جنات انارکی کا شکار ہیں، لکھا ہے ’ اور یہ کہ ہم میںکوئی نیک ہے اور کوئی اور طرح کے ۔ ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیں۔اس سے اس بات کابخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شیاطین آپس میں برسر پیکار رہتے ہیں ۔ کیونکہ کچھ کے مطابق وہ راہ راست پر ہیں جبکہ دوسرے بھٹک چکے ہیں۔ سورة ۲۱ میں لکھا ہے ’ اور ہم نے یقین کرلیا ہے کہ ہم زمین میں (خواہ کہیں ہوں)خدا کو ہرا نہیں سکتے اور بھاگ کر اسکو تھکا سکتے ہیں‘ ۔ وہ (جنات) خدا تعالیٰ کی پاک حضوری سے کسی طرح سے بھی بچ نہیں سکتے،ہر چیز خد ا کی دسترس میں ہے۔ سورة ۳۱ میں لکھا ہے ’اور جب ہم نے ہدایت(کی کتاب)سنی اس پر ایمان لے آئے۔ تو جو شخص اپنے پروردگارپر ایمان لاتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے نہ ظلم کا‘ ۔ وہ (جنات) قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اور سورة ۳۱ کیمطابق و ہ خداوند یسوع المسیح کی خدا تعالیٰ سے انبیت کے منکر ہیں اور اپنے اس عمل کو وہ اس طرح سے بیان کرتے ہیں گویا کہ یہ ایک گناہ عظیم ہے جس پر انہوں (جنات) نے قابو پالیا۔ اور سورة ۴۱ میں یوں لکھا ہے ’ اور یہ کہ ہم بعض فرمانبردار ہیں اور بعض (نافرمان) گہنگارہیں۔ تو جو فرمانبردار ہوئے وہ سیدھے رستے پر چلے....‘ یہ ایک حیرت انگیز اعتراف ہے ، کیونکہ قرآن کے مطابق کچھ جنات مسلمان ہیں، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت قبول کرلی ہے ۔ بہرحال بائبل مقدس کے مطابق جو کوئی خداوند یسوع المسیح کی انبیت کو قبول نہیں کرتا وہ خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اور سورة میں مذید لکھا ہے کہ جو سیدھی راہ سے ہٹ گئے....جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت قبول کرلی وہ سچائی کی تلاش میں ہیں۔ اور وہی ہیں جنہوں سیدھا راستہ پالیا۔ لیکن قرآن کے مطابق جو یہ کہتے ہیں کہ مسیح خداوند خداتعالیٰ کے بیٹے ہیں وہ جہنم کی آ گ کے وارث ہونگے۔ سورة ۲۳۔ ۹۲:۶۴ کیمطابق جنات اسلام کی تبلیغ میں بھی مشغو ل رہتے ہیں۔ جب انہوں نے حضرت محمدﷺ کی تلاوت سنی ، تو کہا ’ جب( پڑھنا )تمام ہو ا تواپنی برادر کے لوگوں کے پاس گئے کہ (ان ) کو نصحیت کریں۔ ‘قرآن کے اس حصے کو پڑھنے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر جن اور شیاطین کسی نہ کسی بات کے جوابدہ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان جنات میں سے کچھ نے یثرب (مدینہ) کی راہ لی اور لوگوں کو متاثر کیا کہ وہ قرآن کو سنیں، کیونکہ لکھا ہے، ’ ہم نے ایک کتاب( عربی) میں سنی ہے جو موسیٰ کے بعد اتری ہے، جو گواہی دیتی ہے اسکی (توراة) جو اس سے پہلے اتری ہے : یہ (قرآن) سچائی اور سیدھے راستے کی ہدایت کرتی ہے‘ ۔

وہ (جنات) حضرت محمدﷺ کی وکالت جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں، ’ اے لوگو! اللہ کے بھیجنے والے کی طرف مڑواور اس پر ایمان لاو ، وہ (اللہ) تمہارے گناہوں میں سے کچھ معاف فرمائیگا، اور آنیوالے عذاب سے تمہیں بچائیگا اگر تم اسلام پر آجاو ‘۔ آیت ۲۳ میں لکھا ہے کہ ’ اگر کوئی اللہ کے بھیجے ہوئے (محمدﷺ) پر ایمان نے لائے تو اس سے اللہ کوزمین پر کوئی عذر نہیں پہنچیگا۔ لیکن کوئی اس کی محافظت کے لئے موجود نہ ہوگا۔ ایسے لوگ ہی تو سخت غلطی پر ہیں‘ ۔ قرآن میں جنات لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے پیغام پر ایمان لے آئیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ روزِ آخرت میں خداوند المسیح کی شفاعت سے انکار بھی کرتے ہیں۔

حضرت محمد کی جنات سے ملاقات کے کچھ عرصے بعد مدینہ کے رہنے والوں(کافروں) میں سے بہت سے لوگ قرآن پر ایمان لے آئے۔ دو سال کے عرصے میں تقریباً ۳۷ لوگ اسلام پر ایمان لے آئے جبکہ حضرت محمد اب تک مدینہ نہ پہنچے تھے۔ یہ اس بات کا شاخسانہ ہوسکتا ہے کہ مدینہ کے کافروں نے ان (جنات) بدارواح کے زیر اثر اسلام کو قبول کیا۔ بینادی طورپر قرآن خود اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اسلام جنات کی مدد کے ذریعے سے بھی پھیلا اور یہ کہ جنات میں مسلمان بھی ہوتے ہیں۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ مسلمان روحوں کے وجود کے قائل ہیں۔ قرآن میں موجود سورة جن کے دو واعظ اس بات کا کھلا ثبوت ہیں اور قرآنی الٰہام کا ایک بینادی جز  ہے۔ ان شیاطین کا کلام اسلام میں اللہ تعالی کے الہام کے عین مطابق ہے۔ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ یسوع المسیح خدا تعالیٰ کے بیٹے نہیں ہوسکتے اور اس وجہ سے الہٰی شخصیت کے حامل نہیں۔ جنات اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ وہ پاک آسمانی مقاموں میں داخل نہیں ہوسکتے۔ ہر ذی عقل پر یہ بات روز رروشن کی طرح عیاں ہو جانی چاہئے کہ ان مسلمان بد ارواح کی آسمان میں داخلے پر پابندی ہے!۔

اسلام اور کالا جادو

جب حضرت محمد ﷺ مدینہ میں حکمرانی کررہے تھے تو وادیِ نجران کے شمال میں مقیم مسیحیوں کا ۰۶ رکنی وفد ان سے ملاقات کو پہنچا۔ ایک اسقف اور دیگر پاسبان جاننا چاہتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کے پیغام کی نوعیت کیا ہے ، انکی روحانی کیفیت کیا ہے؟انہوں نے دو سے تین دن تک حضرت محمد ﷺ سے مدینہ کی ایک مسجد میں مباحثہ بھی کیا۔ گو کہ حضرت محمدﷺ نے مسیحیت کی بہت سے باتوں سے قبول کیا لیکن خداوند یسوع المسیح کی الوہیت کے انکاری ہوگئے اور اسلام کے بنیادی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ انہوں (حضرت محمدﷺ) نے خدواند یسوع المسیح کی الوہیت اور انکی صلیبی موت کا یکسر انکار کرڈالا۔ نجران کے ان مسیحیوں کے لئے یہ بات ہرگز قابلِ قبول نہ تھی کہ اسلام کسی طور پر بھی خداوند یسوع المسیح کی الوہیت اور انکی صلیبی موت کا اقرار کرے۔ اس بات سے پریشان ہو کر حضرت محمدﷺ نے کہا کہ روز محشر میں اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ کون سیدھی اور سچی راہ پر ہے ! سورہ العمران ۱۶:۳ میں یوں لکھا ہے ’ اور پھر اگر یہ لوگ عیسٰی کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم کو حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چلی ہے تو ان سے کہنا کہ آو  ہم اپنے بیٹوںاور عورتوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلاو اور ہم خود بھی آئیںاور تم خود بھی آو پھر دونوں فریق(خداسے)دعا و التجا کریںاور جھوٹوں پر خدا کی لعنت بھیجیں‘ ۔

شاید حضرت محمد عہدنامہ ِ قدیم میں گنتی کی کتاب اسکے ۵۳۔ ۱:۶۱ میں درج حضرت موسٰی کے دور میں قورح اور اسکے آدمیوں کے احوال سے واقف ہو جنہیں خدا کی عدالت کا سامنا کرنا پڑا اور زمین ان ۰۵۲ نافرمانوں کو زندہ نگل گئی۔ لیکن یہاں ہمیں ایک بنیادی اختلاف کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اب ہم موسوعیٰ شریعت کے تحت زندگی نہیں گزارتے بلکہ خداوند المسیح کے توسط سے الہٰی فضل کے ماتحت ہیں۔

حضرت محمدﷺ نے سخت نافرمان لوگوں کے برخلاف پاک یہواہ کے روز محشر سے متعلق قواعد و ضوابط کو اسلامی طرز سے ڈھالا۔ اور سچ کے متلاشیوں کے حق میں یوں فرمایا: ’ جھوٹوں پر خدا کی لعنت بھیجیں‘ یہ دعا نہیں بدعا ہے جسکے نتائج تباہ کن ہوسکتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتی ہے۔ مسلمان حضرات اپنی دعاو ں کا استعمال جادو کے طور پر کرتے ہیں تا کہ اپنے دشمنوں کو جسمانی و معاشی نقصان پہنچاسکیں، جان سے مار سکیںاور تباہ و برباد کرسکیں۔ حضرت محمدﷺ کی یہ دعا ہمارے خداوند یسوع المسیح کے لبوں سے نکلے ان پاک کلمات سے کتنی مختلف ہے ’ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو، ان پر برکت بھیجو جو تم پر لعنت کرتے ہیں ، انکے لئے اچھا چاہو جو تمہارا برا چاہتے ہیں، اور ان کے لئے دعا کرو جو تم سے نفرت رکھتے اور تمہیں ستاتے ہیں‘ ۔ ( انجیل بمطابق جنابِ متی رسول ۴۴:۵)

ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے لعنت کا کوئی اثر نہیں ہوتا جو ہمارے خداوند یسوع المسیح کے پاک خون میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ اس بات کو سمجھنا اشد ضرور ی ہے کہ حضرت محمدﷺ نے یہ لعنت صرف ا  س بشپ اور ا نکے ساتھ دیگر مذہبی رہنماو ں کے لئے چاہی تھی بلکہ اس لعنت کا ہدف انکے بیوی اور بچے بھی تھے! اسلام نہ صرف یہ کہ مسیحی مبلغین کی تباہی کا خواہاں ہے بلکہ ان کے اہل و احباب کا بھی۔ اسلئے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ تمام مبلغین جو مسلمانوں میں تبلیغ کے فرائض انجام دے رہے ہیں وہ اپنے اہل خانہ کو ہر روز خداوند کے سپرد کریں۔ تاکہ وہ کسی بھی قسم کے خطرات اور ایمان کی دوری جیسی بیماری سے بچے رہیں۔ بشپ اور انکے وفد نے حضرت محمد ﷺ کی تجویز کو رد کردیا کیونکہ خداوند یسوع المسیح کا ارشاد ہے کہ ہم اپنے خدا کو مت آزمائیں (انجیل بمطابق متی رسول ۷:۴) ۔ لیکن مسیحیوں کو آج بھی مسلمانوں کا یہ قرآنی چیلنج کا سامنا روزانہ کی بنیادوں پر کرنا پڑتا ہے۔ ۹۸۹۱ میں برلن میں اس طرح کے مباہلہ کا اعادہ دوبارہ کیا گیا۔ بددعاوں اورلعنتوں سے بھرے طویل خطوط کے علاوہ دھمکی آمیز خط بھی موصول ہوتے ہیں جن میں ان لوگوں کو جو مسلمانوں میں خداوند یسوع المسیح کا پیغام مسلمانوں میں پھیلا رہے ہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اسلام کا نفرت پر مبنی پیغام ، خداوند المسیح کے پیغام سے بالکل جدا ہے۔ اسکے باوجود خداوند یسوع المسیح کی محبت ان مسلمانوں کو جو اس بوجھ کے تلے دبے ہوئے ہیں، موجزن ہے۔

جناب پولوس رسول کے الفاظ بھی اس بات کے شاہد ہیں کے مسیحیت کا پیغام روحِ اسلام سے یکسر مختلف ہے۔ گلتیوں کے نام خط اسکے۱ :۔ ۸تا۹ میں پولوس رسول فرماتے ہیں کہ ’ لیکن اگر ہم یا آسمان کا کوئی فرشتہ بھی ( جیسا کے اسلام میں جبرائیل فرشتہ کا کلام)اس خوشخبری کے سواِ جو ہم نے تمہیں سنائی کوئی اور خوشخبری سنائے تو ملعو ن ہو ۔ ویسا ہی اب میں پھر کہتا ہوں کہ اس خوشخبری کے سوا جو تم نے قبول کی تھی اگر کوئی تمہیں اور خوشخبری سنائے تو ملعون ہو۔ پولوس غیرمسیحیوں اور حق کے متلاشیوں کو ملعون نہیں ٹھہراتااور نہ ہی مخالف یہودیوںاور دوسرے غیرمسیحیوں کے لئے کسی قسم کی نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ وہ (پولوس رسول) چاہتے تھے کہ نجات ہر شخص تک پہنچے، باوجود اس کے کہ انہیں دشمنوں نے سنگسار کرنے کی کوشش کی اور لعن طعن سے نوازا۔ پولوس رسول اس مخالف روح کے خلاف لڑ رہے تھے جو لوگوں کو ایکبار پھر شریعت کے بھاری بوجھ تلے دبانے چاہتے تھے اور فضل کی وہ شریعت جو انسانوں کو خداوند یسوع المسیح کے توسط سے حاصل ہوتی ہے ، محروم کرنا چاہتے تھے۔ جبکہ خداوند یسوع المسیح کے کفارہ کے ذریعے ہر خاص و عام کے لئے نجات کے دروازے کھل چکے ہیں ، اسلام ایک فرضی فرشتہ (جبرائیل) کے ذریعے ایک ارب مسلمانوں کو اسلامی شریعت کے بوجھ تلے دبا کر رکھنا چاہتا ہے۔ مبارک پولوس رسول کے الفاظ مسلمانوں کے تضحیک کرنے کے لئے نہیں بلکہ وہ اس مخالفِ روح ِ نجات کے خلاف ہیں جو اسلام کی روح ِ رواں ہے۔

اسلام میں جھوٹے خدا کی پرستش

بالعموم اسلام سے مراد کلی طور پر خدا تعالیٰ کی اطاعت لیجاتی ہے۔ مسلمان سمجھتے ہیں کہ وہ ایک سچے خدا کے پرستا ر ہیں ۔ ان میں سے کچھ صدق دل کیساتھ اپنے اس ایمان پر قائم ہیں بلکہ ان میں سے کچھ تو اس راہ میں جہاد بھی کرتے ہیں۔ لیکن حال یہ ہے کہ وہ ایک بدروح کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ اصولی طور پر اسلام پانچ اعزازی یا بنیادی اصولوں پر قائم ہے، دعویٰ ، دعا، روزہ، خیرات اور حج۔یہ اسلام کے پانچ بنیادی رکن ہیں۔ ان بنیادی رکن کے ذریعے مسلمان ، اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے تئیں جھکاتا اور اللہ کی غلامی قبول کرتا ہے۔ایک مسلمان کے لئے اللہ کی غلامی سے بڑا کوئی اور مقصد ہو نہیں سکتا۔

(۱) الشہادة میں مسلمان کہتے ہیں :

اللہ کے سوا کو ئی اور معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں

اپنے اس عقیدے کے ذریعے ، مسلمان پورے دل ، پوری جان سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ خداوند یسوع المسیح کی الوہیت ، اور روح القدس کی الوہیت کا کوئی وجود نہیں ۔اور اس قرآن کے مطابق جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا، صرف اور صرف اللہ اکیلا معبود ہے۔ ہر وہ شخص جو گواہوں کی موجودگی میں اس بات کا اقرار کرتا ہے وہ مسلمان ہے۔ اور جو اس بات کا اقرار نہیں کرتے وہ واصل جہنم ، کفار ہیں۔ یہ عقیدہ ہر مسلمان کو خداوند یسوع المسیح کی محبت سے جدا کرکے اللہ کی غلامی میں داخل کردیتا ہے۔ ایک بار مسلمان ہو جانیکے بعد واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا، منکردین ہونیکے صورت میں آپ واجب القتل ہو جاتے ہیں۔ الشہادة کی وجہ سے مسلمان ہر وقت حالت ِ غلامی میں رہتے ہیں۔ پانچ وقت کی نمازوں کی بدولت ، مسلمان ہر روز اپنی غلامی کی تجدید کرتا ہے۔ مخصوص الفاظ و سکنات کے ذریعے ، اپنی ۷۱ عبادتوں کے طفیل ۲۰۱ مرتبہ وہ (مسلمان) اللہ کو اونچے مرتبہ پر فائز کرتا اور اللہ کی اطاعت گزاری کرتاہے۔ اس پرستش کے ذریعے وہ اپنے شعور کی گہرائیوں سے اللہ سے مرعوب ہو جاتا ہے۔ جسکی وجہ سے کسی اور مذہب کے لئے اس کی برداشت ختم ہو جاتی ہے ۔ ایک مسلمان دن میں ۴۳ مرتبہ اپنے گھٹنوں کے بل اللہ سے دعا کرتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ جیسے کہہ رہا ہو ’ اے اللہ ! میں تیرے حضور ایک غلام کی حیثیت سے آیا ہوںاور تیرے ہی رحم و کرم کا متلاشی ہوں، جیسا تو چاہے مجھ سے سلوک روا رکھ‘ یہ نمازیں ایک مسلمان اور اللہ کے درمیان ایک مضبوط رشتہ استوار کرتی ہیں جو ہماری سمجھ سے کہیں بالا تر ہے۔ ایک عام مغربی کے لئے یہ ایک ناقابل یقین کیفیت ہے۔

(۲) الصوم :

روزہ کے ذریعے دعا یکسوئی اور شدت اختیار کرلیتی ہے۔ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنیکے لئے مسلمان دن (جب تک سورج موجود ہو)دن کی روشنی میں ایک ایسا روزہ رکھتے ہیں جس کی ضرورت ہ اہمیت سے وہ خود بھی واقف نہیں ہوتے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ اللہ چاہتا ہے۔ گرم اور خشک علاقوں میں رہنے والوں کی ، خالی پیٹ اور سوکھے لبوں سے اپنے اللہ کے لئے یہ ایک اندھی تقلید ہے۔ دراصل مسلمان، قرآن کے رمضان کے مہینے میں اترنے کی یاد میں روزہ رکھتے ہیں۔ رمضان کی دنوں میں سے ایک دن خاص اہمیت کا حاصل ہے جو سورة القدر میں ’ وہ رات جو ہزار راتوں سے بہتر ہے‘ کے عنوان سے آیا ہے۔

(۳) الزکاة :

مسلمان زر (ٹیکس )کی شکل میں اپنا مال و اسباب اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں۔ بغیر قیمت کے لفظوں کے قربانی بیش قیمت ہے۔ مسیحیوں میں سے بہت ہی کم ایسے لوگ موجود ہونگے جو خداوند مسیح کے لئے اپنے مال و اسباب کو داو  پر لگادیں ، کیونکہ وہ ان پر تکیہ کرتے ہیں۔ جب کوئی قربانی کے طور پر خدا کے لئے اپنے مال و اسباب کو نذر کرتا ہے تو اسے اس بات کا احساس ہوسکتا ہے کہ اسلام میں اسکی کی کیا اہمیت ہے۔ یہ عمل اللہ کی ذات میں مکمل اعتماد کا اظہار ظاہر کرتی ہے کہ وہی رازق ہے اور قربان کے بدلے انسان کو انعامات سے نوازتا ہے۔

مسلمان اپنے مال سے ٪۵اللہ کے لئے نکالتا ہے جو تیل سے مالا مال عرب ریاستوں کے توسط سے اربوں روپے بنتا ہے۔ زکواة ، روزہ، دعا، حج اور دعویٰ ، بغیر آزاد مرضی کے ایک مسلمان پر فرض کی صورت میں اسلامی شریعت کی طرف سے عائد کردئیے گئے ہیں۔ ہر عمل ایک جواز پیدا کرتا ہے ، اسلام میں نیک اعمال کے ذریعے برے اعمال مٹائے جاسکتے ہیں (سورة ہود)۔حتیٰ کہ ایمان، اطاعت ، قرآن کا ازبر یاد ہونا ، ختنہ ان سب کا صلہ ملتا ہے (سورة فاطر ۰۳۔ ۹۲:۵۳)

اسلام ایک ایسا دین ہے جو شریعت کا مطیع ہے نہ کہ فضل کا ماتحت۔ نیک اعمال کے ذریعے نجات اسلام کے لٹریچر میں تقریباً ہر جگہ ملتے ملتا ہے۔ جناب مقدس پولوس رسول( غلاطیوں کے نام خط ۴۱۔ ۰۱:۳) میں فرماتے ہیں کہ ’ کیونکہ جتنے شریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب لعنت کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ جو کوئی ان سب باتوں کے کرنے پر قائم نہیں رہتا جو شریعت کی کتاب میں لکھی ہیں وہ لعنتی ہے ۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ شریعت کے وسیلہ سے کوئی شخص خدا کے نزدیک راستباز نہیں ٹھہرتا کیونکہ لکھا ہے کہ راستباز ایمان سے جیتا رہیگا۔ اور شریعت کو ایمان پر کچھ واسطہ نہیں بلکہ لکھا ہے کہ جسنے ان پر عمل کیا وہ انکے سبب سے جیتا رہیگا۔ مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا اس نے ہمیں مول لیکر شریعت کی لعنت سے چھڑایا ....‘ عہد نامہ قدیم میں موجودشریعت کا موجود خود یہواہ پاک خدا ہے، جبکہ اسلامی شریعت اللہ کے نازل کردہ الہامی کتاب میں نہیں۔ اسلامی شریعہ ان بہت سی ضروری فرائض کے ذریعے مسلمان کی آزادی کو سلب کرتی او رانہیںاس رورح کی غلامی پر مجبور کرتی ہے۔

(۵) حج :

مکہ میں حج کے دوران وہ مسلمان جو عربی زبان سے واقف ہیں لبیک کے نعرے بآواز بلند دہراتے ہیں جسکے لفظی معنی ہیں کہ ’ میں تیرے لئے حاضرہوں، میں بغیر کسی حیل و حجت تیرے سامنے اپنے تئیں جھکاتا ہوں‘ یہ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی کنیزہ پردے کے دوسری طرف اپنی مالکہ کی مرضی بجالانے کے لئے بیتا ب ہو۔ حاجی حضرات حجرہ اسود کے ارد گرد چکر لگا تے ہیں تاکہ وہ اس سے نکلنے والے اثرات کے ذریعے سے اپنے اللہ سے اپنا رشتہ استوار کرسکیں۔ حج یافتہ اشخاص ، حج کرنے کے بعد یکسر تبدیل ہوجاتے ہیں ، جس طرح و ہ پہلے نظر آتے تھے ، اب وہ ویسے نہیں رہتے۔ اگر آپ غور کریں تو حج سے پہلے جب وہ بسوں میں مکہ کی رواں دواں ہوتے ہیں تو انتہائی خوش دکھائی دیتے ہیں وہ تالیاں بجاتے ہوئے اس سفر پر گامزن ہوتے ہیں ، لیکن حج ادا کرنے کے بعد ان کے چہروں پر پتھروں کی سی سختی آجاتی ہے۔ ایک مسلمان بھائی جو مکہ کا رہائشی ہے ایکدن مجھ سے کہا کہ ہمیں آپ کی دعاوں کی ضرورت ہے خاصکر حج کے دنوں میں۔ ہم جو مکہ کے رہائشی ہیں ، ہمیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حج کے دنوں میں شیاطین اور بدروحیں مکہ کی گلیوں میں گھومتی ہیں۔کوئی بھی شخص ان دنوں میں شیطان کو دیکھ سکتا اور محسوس کرسکتا ہے۔

یہ پانچ بنیادی اراکین ِ اسلام ، ہی دراصل اسلامی اخوت کی روح ِ رواں ہے جو مسلمانوں کواللہ کیساتھ منسلک رکھتی ہے۔ اب چونکہ اللہ ، حقیقی خدا نہیں اور اسکی روح ، روح القدس نہیں ، تو ہمیں اس بات کا اندازہ بخوبی ہوجانا چاہئے کہ ان مذہبی رسومات کے ذریعے مسلمان اللہ کے سامنے سرنگوں ہوتے ہوئے اسکی (اللہ) غلامی قبول کرتے ہیں اور اللہ ان بدعتی رسومات کے ذریعے انہیں اپنے قابو میں رکھتا ہے۔

مسلمانوں کوبدعت کی غلامی سے آزاد کروانا

ایک مسلمان شوہر نے اپنی بیوی کو قتل کردیا۔ اب اس عورت کی روح اسے خوابوں میں آکر مسلسل پریشان کیا کرتی تھی جس کی وجہ سے اس کا سکھ چین برباد ہو چکا تھا۔ زندگی سے مایوس وہ شخص کچھ بھی ماننے یا قبول کرنے کو تیار تھاجو اسے اس ذہنی و روحانی پریشانی سے نجات دلا سکے۔ ہمیں گناہوں سے معافی سے متعلق گفت و شنید کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔ اس نے اقرار کیا کہ ’ میں ایک گنہگارہوں‘ اور کہا کہ مجھے مر جانا چاہئے۔ لیکن وہ روح مجھے جان سے نہیں مارتی، لیکن مجھے اذیت پہنچاتی ہے۔ وہ مدد کا متلاشی تھا،تب ہم نے اس شخص کو خداوند یسوع مسیح کے خون کی قدر و منزلت سے آگاہ کیا۔ اس نے انجیل مقدس کو اس طرح سنا جیسے کلام کو پی ہی لیا ہو۔ ہم نے اس سے کہا کہ کیوں نے وہ اپنی زندگی خداوند یسوع مسیح کے سپرد کردے اور اسکے(خداوند یسوع) حضور دعا کرے۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم کہ دعا کیسے کی جاتی ہے۔ میں نے قواعد و ضوابط کے بغیر کبھی دعا نہیں کی۔ تب ہم خداوند کے حضور سرنگوں ہوئے اور دعا کی۔ اس نے ہر ایک لفظ کو ہمارے پیچھے دہرایا، اپنے گناہوں کا اقرار کیا، خداوند یسوع پر اپنے ایمان کا اظہار کیااور تمام شیطانی ارواح سے اپنا تعلق قطع کرنے کا اعادہ کیا۔ اورجب ہم سجدہ کی حالت سے لوٹے اور اپنے پاوں پر کھڑے ہوئے تب اس کے دل میں چھپے اسلامی کلمہ شہادة اس کے لبوں سے جاری ہوا، لا الہٰ ال اللہ، محمد ال رسول اللہ۔اس اسلامی روح نے اس کے دل سے وہ سب کچھ مٹا ڈالا جو ہم نے اس سے کہا تھا، جو اس کے وجود کے اندر بری طرح سے حلول کرچکی تھی۔ وہ تہہ دل سے اپنی تکلیف سے نجات پانا چاہتا تھا، لیکن وہ اس قابل نہیں تھا کہ اپنے آپ کو روحِ اسلام کی غلامی سے نجات دلا سکتا۔ وہ مجبور تھا کہ اس کلمہ کو پھر سے دہرائے جو وہ ساری عمر پڑھتا چلا آرہا تھا۔ تب ہماری سمجھ میں آیا کہ سحرزدہ ہونا کسے کہتے ہیں۔

بعض اوقات آپ بآسانی اس بات کا اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کون سا شخص بدارواح کے شکنجہ میں ہے۔ انہیں مکمل آرام میسر نہیں ہوتا، وہ سکون کی تلاش میں ہوتے ہیں لیکن انہیں کہیں آرام نہیں ملتا۔ وہ سننا چاہتے ہیں لیکن سن نہیں پاتے۔ وہ خاموشی سے خائف ہوتے ہیں۔ ان میں سے تو بعض جب خمینی کا پیغام سنتے ہیں تو فرش پر پٹخ دیئے جاتے ہیں۔ وہ خدا کا زندہ کلام پڑھنا اور سیکھنا چاہتے ہیں لیکن اسے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ انکی ذات کے پوشیدہ حصوں تک کلام کی رسائی نہیں ہوتی، جیسے کسی بھری ہوئی بوتل کو مزید بھرا نہیں جاسکتا۔ وہ شیطان کو خداوند مسیح پر زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ مخلصی پانا اتنا آسان نہیں۔

اگر کسی شخص کو اس بات کا احسا س ہو کہ اس کا تعلق عالم ارواح سے رہا ہو اور کوئی عہد و پیمان کئے ہوں یا پھر اسے یہ سب کچھ اپنے والدین سے ورثے میں ملا ہویا دادپرداد کیوجہ سے اس کی زندگی میں یہ سب کچھ ہورہا تو چاہئے کہ وہ شخص دعاکے ذریعے مخالفِ مسیح کی روح(اسلام) کے اس گھن چکر سے آزادی حاصل کرے۔ اسے مکمل طور پر اپنے آپ کو مخلصی دینے والے نجات دہندہ خداوند یسوع المسیح کی ذات کے سپرد کردینا ہوگا۔ یہ بہت ضروری ہے کہ جب مسیحی جماعت دعا میں مشغول ہوں تو ایسے شخص کو جس کا ماضی ایسی خرافات سے پر ہو ، اور وہ شخص خداوند یسوع مسیح سے اپنا رشتہ استوار کرناچاہتا ہو تو جماعت کے سامنے دوران پرستش خداوند کے سامنے اس بات کا اقرار کرے تاکہ اسے مکمل خلاصی مل سکے۔

ہرایک نوزائیدہ مسیحی کو چاہئے کہ وہ خدا کے زندہ کلام (بائبل مقدس) کا مطالعہ جاری و ساری رکھے۔ اگر کوئی مسلمان بائبل مقدس پڑھنے میں دلچسپی کا اظہار کرے تو اسے بلاوجہ قرآنی موضاعات پر بحث میں الجھا کر اس کے وقت کا ضیاع نہیں کرناچاہئے۔ زندگیوں کو تبدیل کرنے کا معجزہ صرف خدا کے کلام کے ذریعے سے ہی ممکن ہے، جیسا کہ ہمارے مالک خداوند یسوع المسیح نے فرمایا ، ’ اب تم اس کلام کے ذریعے جو میں نے تم سے کیا پاک ہو‘ (یوحنا ۳:۵۱) ۔ غیر مسیحی تاثیروں سے چھٹکارا پانے کے بعد ضروری ہے کہ پاک کلام کا مطالعہ روزانہ کی بنیادوں پر جاری رکھا جائے۔ اگر خدا کا کلام ایک مسلمان کے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے اور اس کے شعور پر نقش ہوجائے تو وہ بھی نجات پاسکتا ہے۔

مسلمان ، اہل مغرب کی طرح نہیں سوچتے۔ وہ قرآن کو حفظ کرنے کو ترجیح دیتے نہ کہ اس کے مطلب کو۔ پس وہ الفاظ انکے ذہنوں ، دلوں پر بری طرح نقش ہو جاتا ہے۔ یہ ایک مجہول کیفیت ہے جس میں ذہنی مرضی اور ارادہ کی کوئی گنجائش یا عمل دخل نہیں۔ بہت سے لوگوں کو کلام ِ خداوندی پڑھنے یا بیان کرنے کے باوجود سمجھ میں نہیں آتا۔ اسی لئے ضروری ہے کہ ایسے افراد کو بائبل کی خاص الخاص آیات زبانی یاد کرانے کی سعی کی جائے تاکہ وہ انکے شعور کا حصہ بن جائے اور انکی روحانی زندگی اور ایمان کی پرورش میں کارگر ثابت ہو۔ وہ خاص الخاص آیات ایک ایسا آلہ ثابت ہو تی ہیں جو انہیں کلام مقدس کو سمجھنے میں معاون و مددگار ہونیکے علاو ہ انکے اذہان اور دلوں کو الہٰی نور سے منور کرسکتی ہیں۔

پرانے خمیر سے قطع تعلق کا یہ سفر مکمل طور پر ہونا چاہئے کیونکہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جسکا گودہ گودہ زہر آلودہ ہے۔ایک نئے مسیحی شخص کو چاہئے کہ وہ پرانی طریق پر عبادتوں اور دیگر رسومات کو مکمل طور پر ترک کردے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنے آپ کو خداوند یسوع مسیح کے سپرد کردے، اسکے علاوہ اس کی مدد کا کوئی اور راستہ میسر نہیں۔ جب پولوس رسول نے یہ کہا ’ یسوع مسیح میری زندگی ہے‘ تو اس سے انکی مراد یہ تھی کہ اب یسوع مسیح کے علاوہ میری زندگی میں کچھ بھی نہیں، وہ میری طاقت اور پناہ ہے، میں انہیں (یسوع مسیح) کو لباس کی مانند اوڑھتا ہوں، میری انا مجھ میں سے جاتی رہی ، میں ، میں نہ رہا ، بس یسوع ہے جو مجھ میں مقیم ہے ، اور میں یسوع میں۔ اگر اس شخص کی زندگی میں خداوند یسوع مسیح کی موجودگی حقیقی نہیں تو شیطانی قوتیں اسے تباہ برباد کرکے رکھ دینگی۔

ایک مرتبہ نوجوانوں(مبلغین) کے لئےO.M. کی طرف سے ایک کانفرس کا انعقا د کیا گیا۔ نوجوان ایک بزرگ مبلغ کی یہ بات ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھے کہ تمام مسلمان حالت غلامی میں مبتلا ہیں۔ تب ہی اچانک ایک اور قدرے بڑی عمر کی ایک خاتون کانفرس روم کے انتہائی گوشے میں اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنی گواہی دی اور کہا کہ آپ کے استاد محترم صحیح کہہ رہے ہیں! بذات خود میں ایک ایماندار مسلمان تھی اور اپنی مرضی سے میں نے مسیحیت کو قبول کیا۔ اس فیصلہ کی وجہ سے مجھے میرے گھر والوں کی جانب سے سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے بپتمسہ لیا اور اپنے چرچ کی ایک فعال رکن بن گئی، لیکن اس کے باوجود میں خداوند یسوع کو اپنا نجات دہندہ نہ کہہ سکی۔ میں مکمل طور پر آزاد نہیں تھی۔ بارہ سال کا ایک طویل عرصہ گزارنے کے بعد، ایکدن میں نے بہت زیادہ وقت دعا میں صرف کیا تاکہ میں مکمل طور پر اپنی غلامی سے نجات پاسکوں اور پاک ہوسکوں۔ تب اچانک ایک رات ، ایک شخص چمکدار پوشاک پہنے ہوئے میرے سامنے آکھڑا ہوا۔ اس روشنی کی بدولت میں اس قابل ہوئی کہ دیکھ سکوں کہ میرا جسم زنجیروں میں اب تک جکڑا ہواہے۔ تب اس شخص نے مجھے چھوا اور وہ تمام زنجیریں بکھر گئیں۔ تب میں نے آنسوو ں سے لبریز آواز میں کہا کہ ’ یسوع تو خدا کا بیٹا ہے‘۔ دماغی طور پر مسیح خداوند کو قبول کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کا دل بھی اسے قبول کرے۔ بلکہ ایک مسلمان کی نجات کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے نجات دہندہ خداوند یسوع مسیح کا شخصی تعلق بھی اس نجات کے متلاشی شخص کی زندگی میں نظر آئے۔

ہر وہ مسلمان جو اسلامی مملکتوں میں رہائش پذیر ہیں وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں۔ بہرحال ، انہیں چاہئے کہ وہ ان مخفی قوتوں اور انکے ساتھ اپنے قدیم روحانی رشتوں سے قطع تعلق کریں، اور مکمل طور پر خداوند یسوع المسیح کی پناہ میں آجائیں۔ وہی (جناب المسیح) انہیں مکمل آزادی دلوا سکتے ہیں۔ کچھ ایسے مسیحی مبلغین اور ماہر الہٰیات بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایک نو مرید مسیحی کو مکمل طور پر اسلام چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ایسے لوگ جو اسلام سے مسیحیت میں داخل ہوں انہیں ان کے گھر والوں کی طرف سے ایذارسانیوں کا سامنا کرنا پڑے، اس مسئلے کے حل کے لئے وہ ایسے مسلمان۔ مسیحی ، کا تصور پیش کرتے ہیں۔ یہ اصطلاح اس خیال کی مرہونِ منت ہے کہ اسلام کا اللہ اور خداوند یسوع المسیح کے پدر ، ایک ہی ذات کے دو نام ہیں ۔ ایسے لوگ کسقدر بھٹکے ہوئے ہیں!اسلام تو اپنی پیدائش کے دن ہی سے مخالف ِ مسیح کی روح کا کردار سنبھالے ہوئے ہے، جسنے اہل اسلام پر غاضبانہ قبضہ کیا ہوا، کسی پر کم کسی پر زیادہ۔ ایسی بدارواح سخت دعا، روزہ اور ایمان کی بدولت ہی کسی کی جان چھوڑتی ہے۔ یہ ایک غیرذمہ دارانہ فعل ہے کہ کسی ایسے شخص کو دوبارہ اس دلدل میں دھکیلا جائے کہ وہ مسجدوں میں جاکر دوبارہ سے شہادة پڑھے، ماہ ِ رمضان میں روزے رکھے، جو کہ خداوند یسوع المسیح کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔

جن مسیحی حضرات کا تعلق یہودیت سے ہے ان کا موازنہ ایسے مسیحی حضرات سے کرنا کہ جن کا تعلق اسلام سے رہا ہو ، قطعی غیر منطقی ہے۔ عہدنامہ ِ قدیم کا خدا، پدرِ خداوند یسوع المسیح ہے، جبکہ اسلام کا اللہ اس حقیقت کے خلاف اور مسیح مصلوب کے خلاف جہاد کا علم کھڑا کئے ہوئے ہے۔اسلئے نہ صرف یہ کہ ہم اسلام میں اسرارئیت کو تنقید کا نشانہ بنائیں کیونکہ اسلام اور کچھ نہیں بس اسرارئیت یا بدعت

ہی ہے۔ ہمیں اس امر کا اندازہ ہے کہ ہر مسلمان شیاطین کے قبضہ میں نہیں جو اسے فرش پر پٹخ دے، بہرحال روحِ اسلام ، اسلامی معاشرے کو اس حدتک متاثر کرچکی ہے کہ ان تباہی ان کے کردار کا حصہ بن چکی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ انہیں خود بھی اس بات کا احساس نہیں۔ اسلام ایک ایسا ضابطہ ہے جو زندگی کے تمام پہلوو ں کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور مسلمانوں کی زندگیوں کو مکمل طور پر کنٹرول کرتا ہے۔ اسلام کی عاجزانہ عبادتیں ، حقیقتاً شیطان کے سامنے سجدہ ریزی کے سوا کچھ نہیں۔ مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک سچے خدا کی پرستش کرتے ہیں جو کہ دنیا کا تخلیق کرنیوالا اور نسل ِانسانی کو سنبھالے ہوئے ہے۔ لیکن حقیقتاً مسلمان ایک بدروح کے قبضہ میں ہے جو ان میں سے کسی ایک کو بھی کھونا نہیں چاہتی۔

اسلام کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہ خدا کی وحدانیت کا قائل ، اور حکومت ِ الہیہ اس کا مرکز ہے۔ لیکن اسلام کا اللہ ، خداوند یسوع المسیح کا آسمانی باپ نہیں بلکہ ایک شیطانی روح ہے۔ اسلئے ہمارے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ یہ بات اپنی گرہ سے باندھ لیں کہ اسلام بدعت کی ایک انتہائی شکل ہے جس نے ۰۵ دہائیوں سے دنیا میں سے ہر چھٹے شخص کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔

ہم مسیحیوں کو اسلام میں موجود مخفی قوتوں (اسرارئیت) سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے درمیان ہماری تبلیغ کے متوقع ثمر کے مقابلے میں نسبتاً قلیل نتائج سے ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔جس طرح کہ آبائے کلیسیاءسمجھتے تھے، ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ، کہ خداوند یسوع المسیح کی صلیبی موت نے مسلمانوں کو بھی خدا باپ کے سامنے ایمانداروں کی فہرست میں کھڑا کردیا ہے۔ فرق صرف اتنا سا ہے کہ انہیں (مسلمانوں) کو یہ معلوم نہیں۔ خداوند یسوع مسیح کو مسلمانوں کے لئے دوبارہ سے مصلوب ہونے کی ضرورت نہیں۔ جناب ِ مسیح نے نجات کے دروازے سب لوگوں کے لئے کھول دئیے ہیں۔ خداوندیسوع مسیح کے خون میں وہ قوت موجود ہے کہ جو مسلمانوں کو بھی آزادی دلوادے۔ یہ خداوند یسوع المسیح کا پاک خون ہی ہے جو مسلمانوں کو اسلام کی غلامی سے نجات دلا سکتا ہے۔

دوبارہ سے اس یاد دہانی کی ضرورت ہے کہ خداوند مسیح جو خدا کا برہ ہیں اصل میں فاتح ٹھہرے، یسوع مسیح ہی خداوند ہیں ۔ اور انکے آسمانی پدر نے انکے تمام دشمنوں کو انکے(جنابِ مسیح) کی پاو ں کی چوکی کردیا ہے۔ خداوند یسوع مسیح شیطان کے کاموں کو نیست و نابود کرنے کے لئے آئے تھے۔ اور جب انہوں نے صلیب پر پرزور آواز میں یہ نعرہ بلند کیا کہ ’تمام ہوا‘ تو خداوند اسلام پر بھی فتحیاب ہو چکے تھے۔

خداوند نے ہمیں دعا پڑھنا سکھایا، اے ہمارے آسمانی باپ، ہمیں شیطان کی پناہ سے محفوظ رکھ.... ہم اکثر یہ دعا بغیر سوچے سمجھے پڑھتے ہیں۔ یہ دعا انکے راستبازوں اور پاک کئے ہوئے مسیحیوں کےلئے بھی ہے جنہیں نئی پیدائش کا تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ وہ اپنے تئیں شیطان سے کے تیروں سے بچ نہیں سکتے۔ وہ ہم سے پہلے سے ہے اور بہت چالاک ہے۔ عرصہ دراز سے انسان اسکے (شیطان) کے مشاہدے میں رہے ہیں اور ہماری تمام کمزوریوں سے واقف ہے اور ہر طرح کے شر سے پر  ہے۔ ہمیں فوراً اس دعا کو پڑھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے دشمن کو ہم پر کسی طرح سے بھی فوقیت حاصل نہ ہونے پائے۔ دعائے ربانی کا تعلق انفرادی طریق پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر ادا کرنے کے لئے سکھائی گئی ہے۔ یہ دعا ہمارے لئے ایک امتحان کےطور پر لیجاسکتی ہے کہ ہم مسلمانوں کے لئے بھی دعا کریں۔ ہر ایماندار مسیحی کو راہبانہ روح بھی عطا کی گئی ہے تاکہ ہم مسیح خداوندہمارے کاہن اعظم (خداوند یسوع مسیح) کیساتھ ملکر گنہگاروں کے لئے دعا کریں۔ ہم خدا سے احتجاج کرسکتے اور کہہ سکتے ہیں کہ اے مالک ! ہم تیرا دامن تب تک نہ چھوڑینگے جب تو مسلمانوں کو شیطان مردود سے نہیں بچاتا

Posted in: مسیحی تعلیمات, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, خُدا, نجات, اسلام, مُحمد, غلط فہمیاں, تفسیر القران | Tags: | Comments (0) | View Count: (10237)

Post a Comment

English Blog