en-USur-PK
  |  
14

راستی کیا ہے؟

posted on
راستی کیا ہے؟

WHAT IS TRUTH

BY PROF: LOOTFY LEVONIAN

TRANSLATED BY

REV.S.N.TALIB-U-DIN B.A


 

راستی کیا ہے؟

پروفیسر لطفی لیونیان

مترجمہ

ایس ۔ این طالب الدین صاحب بی۔ اے

                        یہ ایک ایساسوال ہےجو انسان برابر پوچھتا رہاہے۔ شخصیتِ بشر کے برترین مظاہر میں سے ایک راستی کے لئے اُس کا احترام کامل اور کشفِ حقیقت کو دریافت کرنے کا شدید اشتیاق ہے۔ انسان اس راز کو معلوم کرنا چاہتاہے۔ خواہ ایسا کرنے میں اُسے کچھ بھی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ ایک شرقی ضرب المثل کہتی ہے ۔"معرفت وحقیقت کو جستجو کروخواہ وہ ملک چین ہی میں کیوں نہ پائی جاتی ہو"۔ سلیمان کہتاہے " مبارک ہے وہ آدمی جوحکمت کو پاتاہے "۔ہم دانش ومعرفت کی تلاش کرتے ہیں اورجب اُس کو حاصل کرلیتے ہیں توخوش ہوجاتے ہیں ۔ حق تویہ ہے کہ کشفِ حقیقت سے بالاتر اورکوئی خوش بختی انسان کے لئے متصور نہیں ہوسکتی ۔ وہ عالم علیم کیمیا جواپنے دار التجزیہ میں مشغولِ آزمائش  ہے اور وہ اختر شناس جواپنی دُوربین کی مدد سے آسمانوں کی جستجو کرتاہے۔ اور وہ ماہر عضویات جواپنی خورد بین کے ذریعہ سے جسم انسانی کے خانوں یعنی سیلز کا معائنہ کرتاہے۔ یہ سب طالب وجویائے حقیقت ہیں۔ یعنی مادہ، ستاروں اور بدن انسانی کی حقیقت کے اور کشف حقیقت کے بعد خورسند وشادمان ہوتے اوراپنی محنتوں کا اجر پالیتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ آدمی کی نہاد میں حقیقت سے متعلق یہ اشتیاقِ سوزندہ کیا ہے؟

          انسانی طبیعت میں حسِ حقیقت جوئی موجود ہے۔ وہ صحیح وسقیم کے درمیان فرق معلوم کرسکتاہے۔ اوریہی ایک صفت ہے جو انسان اورجانوروں کے درمیان ممیز ہے۔ حقیقت انسانی دل میں ایک جلوہ مخصوص رکھتی ہے ۔ ا ورانسان اس کی جانب مائل ہوتاہے۔ آپ جانور کو یہ نہیں سکھاسکتے کہ دو اور دو چار ہوتے ہیں۔کیونکہ اُن میں یہ حس تشخیص موجود نہیں۔ لہذا وہ اس کے مطلب کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔برعکس اس کے تمام افراد بشر اس کو جانتے ہیں۔ اوراگر بالفرض کوئی اسے نہ بھی جانے توبھی اُس میں اس کے سمجھنے اور سیکھنے کی استعداد توموجود ہے۔اورجونہی وہ اسے یاد کرلیتے ہیں خوش ہو جاتے ہیں۔ آپ ذرا اُس بچے کی جوابھی تازہ ہی مدرسہ میں داخل ہوا ہو خوشی کا اندازہ لگائیے جبکہ وہ سائنس ، ریاضی ، جغرافیہ یعنی اعداد ، مادہ اور زمین سے متعلق حقائق معلوم کرتا اور رفتہ رفتہ نباتات ، حیوانات، کوہساروں اور ستاروں کی حقیقت کوبھی سیکھتاہے۔ دیکھئے وہ کس شوق سے ان مطالب کو دریافت کرتاہے۔ اورکس قدر خوشی وشادمانی اُسے ہوتی ہے۔ ہم سب حقیقت کومعلوم کرنا چاہتے ہیں اورہمیشہ اس کی جستجو میں رہتے ہیں۔ یہ ایک حسِ غریزی ہے جوکہ فطرت انسانی میں مکتوم ہے اور درحقیقت ہماری شخصیت کا جوہر ہے۔

          پس بالآخر حقیقت ہے کیا؟ راستی کیاچیز ہے؟ اس سوال کے پوچھنے سے دیگر مشکل سوالات رونما ہوتے ہیں۔ ہم ایک چمچہ کوایک پانی بھرے گلاس میں دیکھتے ہیں ۔ وہ چمچہ پانی میں ٹیڑھا نظر آتاہے ۔ ہم سوال پوچھتے اورکہتے ہیں کیا یہ واقعی ٹیڑھا ہے؟ کیا اُس کی کجی حقیقت ہے یا یہ فقط بظاہر یوں نظر آیا ہے۔ موسم گرما میں اگرہم صحرا کی جانب نظر اٹھائیں توہمیں دُور کوئی چیز پانی کے حوض کی مانند نظر آئیگی۔ہم پوچھتے ہیں کہ کیا درحقیقت پانی کا حوض ہے۔یا محض بظاہر ایسا نظر آتاہے ۔ ہم ہر روز آفتاب عالمتاب  کو مشرق سے مغرب کی جانب سیر کرتے دیکھتے ہیں۔ اور کہتے ہیں آیا واقعی آفتاب گردش کرتاہے یاکہ اُس کی گردش محض ہماری نظر کا فریب ہے؟ پس حقیقت کیا ہے؟

          اسی قسم کے سوالات ہم تاریخ ، اخلاق اور مذہب سے متعلق بھی کرسکتے ہیں۔ تاریخ کیا ہے؟ انسانی زندگی کے معنی کیا ہے؟ مقدراتِ انسان کیا ہیں؟ زندگانیِ خوب ونیک کا کیامطلب ہے؟ زندگی کے ماوراءکیا ہے؟ کیا زندگی جاوید اور غیرفانی ہے؟ کیا کوئی خدا ہے؟ فکر انسانی اس قسم کے سوالات کے پوچھنے میں مشغول رہاہے اور اشتیاق عام رکھتارہاہے کہ ان مسائل کی حقیقت کومعلوم کرلے۔ حقیقت سے متعلق یہ جستجو محض کنجکادی کی حس کو پورا کرنے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ خودہماری زندگی پر اثر کرتی ہے۔ یہ ہمارے مقدرات  کو معین کرتی ہے۔ یہ مسائل حیاتی ہیں۔ حقیقت ہمارے لئے بڑی قیمتی چیز ہے۔ کیونکہ حقیقت  دنیا میں ہم کو رفتار واعمال کا طریقہ بتاتی ہے ۔ ممکن ہے کہ کوئی میکرب یا جراثیم  سے متعلق کشفیاتِ ذرہ بینی کو ناچیز سمجھے یا اس کی اہمیت کو نہ معلوم کرسکے۔ لیکن اس کے ذریعہ سے ہماری صحتِ خطرہ میں پڑجاتی ہے۔ اسی طرح  ہم اخلاق اورخدا کی حقیقت کو بنظر  استحقار دیکھ سکتے ہیں ۔ لیکن ایسا کرنے سے ہماری  اپنی روح ہلاک ہوجاتی ہے۔ زندگی  کے کسی شعبہ یا مرحلہ میں ہم حقیقت  کونظر انداز نہیں کرسکتے۔ چاہیئے کہ ہم اُس کی جستجو کریں اوراُس کے ظاہر ہوجانے پر نہایت تقدس واحترام سے اس کی حفاظت  وحراست کریں۔ جوحقیقت کے وُجود کے کلیتہً قائل نہ تھے ان میں سے بعض زندگی کے کسی مرحلہ میں بھی حقیقت کی موجودگی کے  یکسر منکر تھے۔  شکت پرست کہتاہے کہ حقیقت ہے ہی نہیں لا ادری کہتاہے کہ حقیقت موجود تو ہے لیکن قابل فہم نہیں۔ بعض نے انکار وجود حقیقت سے متعلق ایک روش معتدل تراختیار کرلی ہے۔ لیکن حقیقت  سے متعلق اس قسم  کے خیالات وتصورات  کافی نہیں۔ آئین لا ادریت متناقص اور بے اُصول ہیں ۔ کیونکہ وہ ایک ایسی چیز کی ہستی کا اعتراف کرتے ہیں جو قابل فہم نہیں یا جس تک انسانی عقل کی رسائی نہیں۔ اُن کا یہ کہنا کہ حقیقت ہے تولیکن وہ دریافت نہیں کی جاسکتی  بے معنی اور فضول ہے۔ دوسری طرف محض شک پرستی بھی سلیم العقل انسان کے لئے ناممکن ہے۔ یہ ممکن ہے کہ میں بعض مسائل نظری وفرضی کے متعلق شک کروں۔

          لیکن اگرمجھے دنیا میں رہ کر زندگی بسر کرنا اور عقل سلیم کا مالک ہونا ہے تو ضرور ہے کہ میں چند ایک اُصول کی اپنی کردار اوراپنی زندگی کی اساس یا بنیاد قرار دوں ۔ ممکن ہے کہ کوئی نظریہ غلط یا نامکمل وناقص ہو۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتاہے ۔ کہ اُس میں کچھ بھی حقیقت نہیں۔ یقیناً ہم چیز کی پُوری پوُری  حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ لیکن اُن سے متعلق بعض باتیں ہیں جو ہم مانتے ہیں۔ کم از کم شک پرست اپنی ہستی سے تومنکر نہیں ہوسکتا خواہ وہ اورکسی حقیقت کا اعتراف کرےیا نہ کرے۔ شک پرستوں میں سے بعض آئین شک کو حقیقت تسلیم کرتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنی اوراپنے خویش واقارب یا دیگر افراد بشر کی ہستیوں کا انکار کریں۔ شک پرستی خود کوئی نظریہ مشتبی نہیں۔ وہ فقط موجودہ نظریوں کی تنقید یا نُکتہ چینی کرتی ہے۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ حقیقت دنیا میں موجود ہے۔ ممکن ہے کہ ہماری معلومات اور ہمارا علم ناقص ، کم یا یک طرفہ ہولیکن اتنی حقیقت  توضرور ہے کہ ہم اُس کواپنی زندگی کی بناء قائم کرکے اپنی زندگی کواستوار اور محکم بناسکیں۔

          پس  حقیقت  اگر کوئی وجود رکھتی ہے تووہ کیا ہے؟

          اس سے متعلق اور پریشان کن تصورات مروج رہے ہیں۔ مادہ پرست کہتاہے کہ فقط  وہ اشیاء جوہاتھوں  سے چھوئی جاسکتی یا آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہیں حقیقی ہیں۔ فقط مادہ  ہی ایک حقیقت  ہے اور دیگر تمام باتوں کی توضیح اُسی کے وسیلہ سے ہوسکتی ہے۔ طبیعت یا فطرت  پرست بھی اسی نظریہ کو تسلیم کرتے ہوئے طبیعت کو کل وتمام حقیقت کہتاہے۔ وہ طبیعت کے علاوہ اور سب کا انکاری ہے۔ ان نظریات کےمطابق تومادہ اور طبیعت کے سوا اور کچھ ہے ہی نہیں۔ یعنی زندگی  میں نہ تو کوئی  مقصد ہے نہ کوئی دلیل اور نہ اخلاق  کی کچھ قدروقیمت ہے۔ نہ کوئی خدا ہے۔ نہ کوئی غیر فانی زندگی ہے اورنہ کوئی روح ہے۔ نہ کوئی آزادی واختیار ارادہ ہے۔ فقط علل وجہات  طبیعی  ہیں اور ہر چیز کی تشخیص اُنہی کے وسیلہ سے ہوسکتی ہے۔

          لیکن اس قسم کی تعلیمات غیر منطق ہیں ۔طبیعت پرست کس طرح ثابت کرسکتاہے کہ ماوراء جسم اور کچھ نہیں؟ دنیا میں کیفیت زندگی کی کیا توضیح  وتشریح پیش کرسکتاہے۔ غیر زندہ میں سے زندہ  کیونکر پیدا ہوسکتے ہیں ؟پھر فکر کی کیا شرح دے سکتا ہے؟ کیا مادہ سے فکر وخیال وجود میں آسکتے ہیں؟ مزید براں عالم میں انسان کی ہستی کی کیونکر تشریح کی جاسکتی ہے۔ انسان ورائے ارستہائے اُو حی ہے۔ یعنی وہ راستی وحقیقت ۔ حسن وجمال اور نیکی وخوبی کا مالک ہے۔ پس یہ چیزیں جو روحانی ہیں۔ ان کی تشریح و توضیح  کیونکر ممکن ہے؟ کیا مادہ سے روحانی چیزیں پیدا ہوسکتی ہیں؟

          علاوہ بریں جدید سائنس کی معلومات وکشفیات نے عالم موجودات سے متعلق مادی مفہوم کی کلی طورپر تردید کی ہے۔پیشتر  ازیں  مادہ کو ایک معلوم اور قابل اعتماد وجود  سمجھتےتھے۔ یہ یقین کیا جاتا تھا کہ مادہ آتومہای جامد سے مرکب ہے اورکہ یہ آتوم ابدی نشکستی یعنی غیر فنا پذیر ہیں۔ مادہ پرستوں کے خیال کے مطابق تمام عالم موجودات اس قسم کے ذرات یا آتوم سے مل کر بنا ہے اور یہ اُن کے نزدیک علم کی پختہ اورمحکم بنیاد تھی۔ جدید سائنس کے مطالعہ نے مادہ کے اس مفہوم کوبالکل تبدیل کرڈالا ہے۔ آتوم کے جامد ہونے کا نظریہ محض افسانہ ہے۔ مادہ پرستوں کا یہ دعویٰ کہ مادہ حقیقت  محض ہے متزلزل ہوگیا ہے۔ اب مادہ کو منبع نیروی الکتر یکی یا ضوریزی شعاع افشانی کا پُر راز چشمہ کہا جاتاہے۔ آج کل  عالم سائنس مادہ اور نیر ویاقوت کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں پاتا۔کیونکہ مادہ اور نیر وی تابندہ ایک دوسرے کی صورت میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ پہلے سائنس دان مادہ سے متعلق کل علم کی واقفیت کا دعویٰ کرتا تھا۔ لیکن اب وہ اپنی لاعلمی کا اعتراف کرتاہے ۔ سر آرتھر ایڈنگٹن جوکہ بزرگ ترین طبعی دانوں میں سے جو ہنوز زندہ ہیں ایک ہیں ۔ کہتے ہیں " کہ مادہ پرستی کی نسبت کچھ کہنے سے کیا فائدہ جبکہ آپ جانتے ہی نہیں کہ مادہ کیا ہے"؟ اس طرح پر جدید سائنس نے مادہ سے متعلق  مادہ پرستوں کے دعوےٰ کی قطعی تردید وتنسیخ کردی۔ پس مادہ پرستی اور طبعیت  پرستی انسان کی تفسیر وتشریح کیوں کرسکتی ہیں؟ انسان فقط جسم ہی جسم نہیں یعنی وہ صرف مادہ ہی نہیں ہے وہ روح بھی ہے۔ اختر شناس ان عظیم وبزرگ اجرام فلکی کے مقابلہ میں جو آسمان میں گردش کرتی ہیں محض ایک ذرہ سا ہے۔ لیکن اپنی عقلی ودماغی حیثیت سے وہ اُن تمام اجرام فلکی سے بزرگ تر ہے۔ ستارے ستارہ شناس کو نہیں جان سکتے ہیں لیکن ستارہ شناس ستاروں کا علم رکھتاہے اوراُن کے وزن اور اُن کی جسامت کا اندازہ لگاتا ہے۔ انسان عالم آفرینش سے بزرگتر ہے۔ انسان مادہ سے بلند ترہے۔ روح جسم سے اعلیٰ تر ہے۔ مادہ پرستی عالم موجودات کی تشریح نہیں کرسکتی ۔ حقیقت مادہ سے بڑھ کر ہے۔

          پھر بعض اشخاص حقیقت کو محض تصورات خیال کرتے ہیں۔ فلسفہ عینیت یاتصوریت کا نظریہ ہے کہ حقیقت  سواتصور، نظر یا عقیدہ کے اورکچھ نہیں۔ یونانی فلسفہ دانوں نے عقائد کی حقیقت  پر زور دیا اور افلاطون نے حقیقت جمال وخوبی کو بمنزلہ عقائد اساسی سمجھ کر اُسی کو اپنے فلسفہ کی بناء پر قرار دیا۔ یہ عقیدہ عقیدہ مادی کی نسبت  ہم کو عالم حقیقت کے نزدیک ترلے جاتاہے۔ یہ ایسے عقائد کی حقیقت کا اثبات کرتاہے جو غیر مادی ہیں۔ کم از کم ہم بعض چیزوں کا جوجسمی اورمادی نہیں یقین توکرسکتے ہیں۔

          یہ نکتہ صحیح ہے کہ عقائد واذکار حقیقت رکھتے ہیں۔ لیکن عقائد وجود عقلی پر دلالت  کرتے اوراُس کی تفسیر کرتے ہیں۔ کیونکہ بغیر عقل متفکر کے خیال پیدا نہیں ہوسکتے۔ اس بناء پر وجود عقائد وجود اشخاص کی دلیل میں کیونکہ اشخاص کے بغیر عقائد نہیں ہوسکتے ۔ درحقیقت نیکی بذات خود کچھ نہیں ہے۔ فقط نیک شخص حقیقت ہے کیونکہ نیک شخص کے بغیر جومظہر خوبی ہے خوبی بے معنی ہے۔ یہ بات موردِ حقیقت کے حق میں بھی صادق آتی ہے۔ حقیقت مجردات اورکلیات میں موجود نہیں۔ فقط ایک شخص باحقیقت ہوسکتاہے۔ پس ایک شخص باحقیقت کے جومظہر حقیقت ہے حقیقت مجرد بے معنی ہے۔ توحقیقت اورنیکی یا خوبی دارای صفت شخصی ہیں۔ایک ایسے عالم میں جس کی ساخت مادہ سے ہوئی ہو حقیقت یا خوبی پیدا نہیں ہوسکتی ۔عقائد وجود شخص پر دلالت کرتے ہیں۔ لہذا شخصیت قطعاً حقیقت ہے۔ دنیا میں" خود" یا " شخص" حقیقی تریں چیزیں ہیں۔ میں وجود رکھتاہوں۔ آپ وجود رکھتے ہیں ۔ دیگر اشخاص وجود رکھتے ہیں اورخدا وجود رکھتاہے۔ پس بزرگترین حقیقت وجود واقعی اشخاص ہیں۔

          مادہ حقیقت ہے۔ عقائد حقیقت ہیں۔ لیکن اشخاص اعلیٰ ترین حقیقت ہیں۔ لہذا  چاہئے کہ اسی شخص کی حقیقت کی بناء پر ہماری زندگیوں کو قائم وبرقرار ہونا چاہئے۔

          ہم اس مسئلہ پرایک اور نقطہ نگاہ یعنی معنی کے لحاظ سے غور کرسکتے ہیں ۔ اگر حقیقت کوئی وجود رکھتی ہے تواُ س کے معنی کیا ہیں۔ پس اشیاء، حوادث اور مواقع اور دیگر موجودات کے معنی کیا ہیں؟ فرض کیجئے کہ میں ایک گل خوشرنگ کواپنے ہاتھ میں لے کر یہ سوال کروں کہ یہ کیا ہے؟ سب سے پیشتر تو سائنس کا جواب ہوگا۔ جو گلِ خوشرنگ کی تفسیر وتوضیح کرتے ہوئے بتائیگا کہ اس کی کیمیائی ترکیب کیا ہے۔ پھر یہ کہ نباتات یا گیاہ شناسی کی رُو سے اُسے کس طبقہ میں رکھا جاتاہے ۔ یہ سب قسمت نباتیات کا وظیفہ علم یا عمل خاص ہے۔ لیکن کیا اس کل خوشرنگ کے تمام اور کل معانی کی وضاحت ہوتی ہے؟

          ہم گل خوشرنگ کودیدہ تحسین سے دیکھتے اوراس سے محبت کرتے ہیں۔ ہم اُس کو اُس کی کیمیائی ترکیب  اور نباتیات کے درجہ یا طبقہ بندی کے علاوہ ایک مفید چیز سمجھتے ہیں۔ پھول ہماری حسِ زیبائی کا جاذب توجد ہے۔ لیکن گُلِ خوشرنگ ایک اور معنی بھی رکھتاہے۔ شاعر خوش گواس میں صانع حقیقی کی صنعت کودیکھتاہے۔ پس شاعر کا مفہوم یا اُس کی نظر اس کے فکرکو اس کے وجود فانی اوراُس کی توضیح سے آگے لے جاتاہے۔ حتیٰ کہ وہ اُس کے اصلی معنیٰ اور منبع تک پہنچادیتا ہے۔ جب ہم طبعیت یعنی نیچر پر نظر ڈالتے ہیں توہم اصلی معانی کی تلاش کرتے ہیں۔ مثلاً ستارے کیا معنی رکھتے ہیں۔ جوکچھ کہ علم نجوم نے فضا کی وسعت وعظمت اور کثرتِ عالمہائے موجودات کی نسبت ہم کو بتایا ہے  اُس سے ہمارے اسباب حیرت واعجاب اور بڑھ جاتے ہیں۔ ستارہ شناس ستاروں کا عکس لے سکتاہے  اورایک دُوسرے سے اُن کی دوری اورمسافت کی تعین کرسکتاہے ۔ لیکن وہ ہم کو اُن کی ماہیت اُن کے معانی اوراُن کے مقصود کی نسبت کچھ خبر نہیں دے سکتا۔ کانت فیلوسف نے جس وقت آسمان کی جانب نگاہ کی توبنظر اعجاب وتحسین اُن کو دیکھا اوراُن میں ایک بڑے اور بزرگ معنی کودیکھا۔ شعرا نے آسمانوں کی تعریف کرتے ہوئے خدائے خالق وبرحق  کی حکمت وقدرت کا بیان کیا۔ طبعیت میں یہ حقائق بزرگ موجود ہیں اوریہ ہر گز ممکن نہیں کہ جو کچھ علم وسائنس نے اُن کے بارے میں کہا ہے ہم اُس پر اکتفا کریں۔ پس ہم چاہتے ہیں کہ اُن عالی ترحقائق کو جو طبعیت میں موجود ہیں اُن کو معلوم کرکے اُن کے ابدی معانی کو سمجھ سکیں۔ سقراط  ایک فرد بشر تھا اور سائنسدان ہم کو اُس کی ہڈیوں اور گوشت پوست کے متعلق بتاسکتاہے۔ لیکن سقراط اخلاقی فضائل کا مالک بھی تھا۔ سقراط مرد نیک تھا اوریہ حقیقت ہم کو مادی اورجسمانی پہلوؤں سے آگے لے جاکر اخلاقی اور رُوحانی پہلوؤں تک پہنچاتی ہے۔ ہم ایک اور قدم آگے بڑھ کر سقراط  کے عقائد اوراُس کی بزرگ شخصیت کی طرف اشارہ کرکے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ سقراط زندہ جاوید ہے۔ پس حقیقت کی قدروقیمت اخلاقی اور روحانی عالموں میں سائنس سے زیادہ ہے۔ اوریہ اخلاقی اور روحانی قیمت وارزش تمام دی گر اشیاء سے بالا تر ہے۔

سیدنا مسیح اور راستی

                        ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ راستی مجرد نہیں ہے بلکہ وہ صفت شخصیت ہے۔ اس لحاظ سے راستی کی بہترین دلیل شخصیتِ حقیقی ہے یعنی وہ شخص جوراستی کی گواہی دیتا اور اپنی زندگی اور رفتار وگفتار میں اس کا اظہار کرتاہے۔ جوکہ راستی کی جدا جستجو کرتا اوراپنی زندگی کواس کی تلاش اوراس کے اظہار کے لئے وقف کردیتاہے۔ اور جوراستی کی پیروی کرتاہے خواہ اس کی قیمت اُسے کتنی ہی گراں کیوں نہ معلوم ہو۔ ایسے شخص کی زندہ شہادت جس نے اپنی تمام عمر راستی کی گواہی دی ہو۔ اور بلآخر  اپنی جان کو بھی راستی کے لئے قربان کردیا ہو شک پرستی کا بہترین جواب ہے۔ تاریخ میں ایسے اشخاص کا ذکر ہے جنہوں نے راستی سے متعلق تازہ کشفیات کی۔ اور دیگر مصالح ومنافع کونظر انداز کرکےاُن کا اعلان کیا ہے۔

          حضور مسیح ایسے ہی اشخاص میں سے تھے۔ آپ کوئی فیلسوف نہ تھے جنہوں نے حقیقت پر بطور مجرد بحث کی اورنہ ہی آپ نے اثبات حقیقت کے لئے دلائل پیش کی۔ اورنہ ہی آپ کوئی سائنسدان تھے کہ مادہ کی ترکیب اور عالم موجودات کی طبعیت سے متعلق بحث کرتے ۔ لیکن آپ نے اقلیمِ روحانی کی حقیقت کا انکشاف ایسے کامل طورپر کیا جو نہ فقط مائل ہی کردینے والا تھا بلکہ آپ کی شخصیت تاریخِ عالم کی اعلےٰ ترین یادگار ایستادہ ہے۔

          سیدنا مسیح حقیقت  کے معتقد تھے۔ آپ میں شک پرستی کی بُو تک نہ تھی۔ آپ کا ایمان تھا کہ حقیقت ہے اورکہ زندگی کواس کی بناء پر قائم کرنا چاہئے۔ آپ کا کلام قائلیت کی مُہر  ہے۔ آپ کا کلام صاف وصریح ہے۔ اس میں ابہام وایہام کی گنجائش نہیں۔ جب آپ رُومی حاکم کے رُوبرو اپنے آخری مقدمہ کے دوران میں کھڑے تھے توحاکم نے جوراستی سے متعلق شک رکھتا تھا۔ حقیقت سے متعلق آپ سے مذاقیہ سوال کیا اور کہا" حق کیا ہے"؟سیدنا مسیح نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا اور فرمایا" میں اس لئے پیدا ہوا اوراس واسطے دنیا میں آیا ہوں کہ حق کی گواہی دوں جو کوئی حقانی ہے۔ میری آوازکوسنتا ہے"۔ راستی اورحق سے متعلق آپ کا کلام بلور سا صاف اور آبدار تھا کہ سادہ ترین شخص بھی اُس کو سمجھ سکتا تھا۔

          فریسیوں اور فقیہوں اور صدوقیوں کے ساتھ سیدنا مسیح کا یہی تنازعہ تھاکہ وہ حق کوعوام کے لئے وسیلہ فریب بناکر روایات قدیم کے لفظی طورپر پابند ہوکر معنی اور حقیقت سے غافل رہتے اور چشم بصیرت نہ رکھتے تھے کہ حق کودیکھ سکیں ۔ جب کبھی دیکھ بھی لیتے تھے تواُسے قبول نہ کرتے تھے۔ سیدنا مسیح فرماتے تھے کہ چاہیئے کہ حق کی کامل جستجو کی جائے اوراُسے قبول کیا جائے خواہ نتیجہ کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ فقیہہ حق اور راستی سے متعلق بڑی دقیق  موشگافانہ بحث کرتے تھے۔ لیکن اُس کی آزادانہ جستجو اخلاص کے ساتھ  نہ کرتے تھے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ وہ سونف ، زیرہ، پودینہ وغیرہ سی ارزاں اشیاء پر باضابطہ دہ یکی سے متعلق توسب کچھ جانتے تھے ۔ لین رحم عدل وانصاف ایسے اہم معاملات  کو انجام تک پہنچانے میں قاصر رہ جاتے۔ وہ سیدنا مسیح کے کلام کے مطابق اندھے راہ بتانے والے تھے (انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت متی رکوع ۲۳ آیت ۲۳)۔

          پھر سیدنا مسیح اخلاق کی برتری وامتیاز کے معتقد تھے اوراُس کو سب چیزوں سے بالا تر سمجھتے تھے۔ آپ کا اعتقاد تھا کہ زندگی بنیادِ اخلاقی ہے۔ اوراس کی انتہائی آزمائش بھی اخلاق ہی کے ذریعہ سے ہے۔ پس چاہئےکہ فوائد اخلاقی سب چیزوں سے برتر سمجھے جائیں۔ آپ نے فرمایا" جان خوراک سے بڑھ کر ہے"۔ (انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت متی رکوع ۶: آیت ۲۵۔ پھر کہا "۔ اگر تیرادہنا ہاتھ تجھے ٹھوکر کھلائے تواس کو کاٹ کراپنے پاس سے پھینک دے"۔ متی ۵: ۳۰۔ آپ کا مطلب یہ تھاکہ حفظِ جسمانی صحت کی نسبت  حفظِ روحانی صحت ہم تر ہے۔ توبھی سیدنا مسیح مرتا ض نہ تھے اورجسمانی صحت کے فوائد سے بخوبی واقف تھے ۔ کیونکہ آپ نے بہت سے بیماروں کو شفا بخشی۔ لیکن آپ کو معلوم تھا کہ گناہ جومرض اخلاقی ہے جسمانی امراض سے بہت زیادہ بدتر ہے۔ لہذا آپ نے ہمیشہ لوگوں کو یہ تعلیم دی کہ اپنے آپ کو جسمانی بیمارویوں کی نسبت گناہ یعنی اخلاقی اور روحانی بیماری سے بچائے رکھیں۔

          سیدنا مسیح نے مادہ پر روح کی فوقیت کا بہت زورد یا۔ آپ نے فرمایا" اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ جہاں تیرا مال ہے وہاں تیرا دل بھی رہیگا"(متی ۶: ۱۹، ۲۰)۔ پھر فرمایا " کوئی آدمی دومالکوں کی خدمت نہیں کرسکتا۔ ۔۔۔۔۔۔تم خدا اوردولت دونوں کی خدمت نہیں کرسکتے"(متی ۶: ۲۴ اوریہ بھی کہ" خبردار ! اپنے آپ کو ہر طرح کے لالچ سے بچائے رکھو(لوقا ۱۲: ۱۵) اسی طرح یہ بھی فرمایا "تم پہلے اُس کی (یعنی خدا کی ) بادشاہی اوراُس کی راستبازی کی تلاش کرو"(متی ۶: ۳۳)۔ آپ کے نزدیک چیزوں کی نسبت اشخاص زیادہ قدرومنزلت رکھتے تھے۔ آپکے نزدیک دنیا میں سب سے زیادہ پر معنی حقیقت انسانی زندگی ، خود بنی نوع انسان اوراُن کی روحیں تھیں۔اہلِ یہود شریعت کوافراد بشر ، پر ترجیح دیتے تھے۔ لہذا وہ ان کو شریعت کے مذبح پر قربان کردیتے تھے۔ یہودی فقیہ سبت کے دن کام کرنا روانہ تھا۔ وہ شریعت کے الفاظ کی پابندی کرکے بیمار کو تکلیف ومصیبت میں مبتلا پڑا رہنے دیتا تھا۔سیدنا مسیح شریعت کا خیال نہ کرکے بیمار کو شفا عنایت فرماتے تھے۔ آپ مصیبت زدہ انسان کی احتیاج کودیگر تمام ملاحظات سے بالا تر سمجھتے تھے۔ انسانی زندگی خواہ وہ کتنی ہی ناچیز ومحقیر کیوں نہ ہو تمام دیگر اشیاء سے زیادہ قیمتی تھی۔ آپ کا یقین تھاکہ کم سن بچے بھی بزرگوں اور بالغوں کی خدمت کے لائق تھے۔ آپ کا کلام ہے کہ" جو کوئی ۔۔۔۔۔ ان چھوٹوں میں سے کسی کوصرف ایک پیالہ ٹھنڈا پانی ہی پلائیگا میں تم سے سچ کہتا ہوں وہ اپنا اجر ہرگز نہ کھوئیگا"(متی ۱۰: ۴۲)۔

          لیکن عالمِ حقیقت میں سیدنا مسیح کی تعلیم کی نسبت خود آپ کی شخصیت بدرجہا بہتر اور پرُمعنی ترتھی۔ آپ نے فرمایا " میں جوسچ بولتا ہوں"۔یوحنا۸: ۴۵۔ اور " سچائی سے واقف ہوگے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی"(یوحنا ۸: ۳۲)ممکن ہے کہ ایسے کلمات زمانہ گذشتہ میں دیگر بزرگ اشخاص نے بھی کہے ہوں۔لیکن آپ اس سے ایک قدم اور آگے بڑھے اور فرمایا" حق۔۔۔ میں ہوں"(یوحنا ۱۴: ۶)۔ آپ کا یہ کلمہ نہایت ہی پرعظمت ہے۔ کسی شخص کا سچائی اور راستی کی تعلیم دینے کا دعویٰ کرنا بڑی بات ہے ۔ لیکن یہ کہنا کہ"میں حق ہوں" اس سے بزرگ تر ہے اور عالی تر ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کہنے والا خود مظہر حقیقت ہے اور راستی کواپنی شخصیت میں آشکارا کرتاہے۔ یہ خدا کے ساتھ اُس کی وحدت ویگانگی کی دلیل ہے۔ اسی میں سیدنا مسیح کی شخصیت  کی یکتائی موجود ہے ۔خود حضور میں راستی کا انکشاف ہوتاہے وہ انسان کے لئے خدا کا مکاشفہ میں خدا کا کوئی مجردی امر نہیں۔ نہ ہی وہ کوئی کتاب یا قوانین تازہ کا کوئی دستہ ہےبلکہ وہ سیدنا مسیح کی شخصیت  میں خداکا آشکارا ہوناہے۔آپ" فضل اور سچائی سے معمور ہوکر" دنیا میں وارد ہوئے اوراس صورت میں وہ خدا  وہ خدا کے ساتھ پیوستگی رکھتے تھے۔ شاید ہم آپ کی زندگی سے متعلق بعض باتوں کویقینی طورپر نہ جانتے ہوں۔ لیکن یہ بالکل صحیح ودرست کہ آپ کی زندگی خدا کے ساتھ پیوستہ تھی اورآپ خدا کے ساتھ ایک تھے ۔ اورآپ کی شخصیت سے راستی اورحق کا اظہار ہوا۔

          مذکورہ بالا حقیقت آپ کے اوصافِ حمیدہ اورکرامات اخلاقی سے ہویداتھی۔ آپ کی زندگی بے نقص اور ہرنوع کے عیوب وشائبہ سے عاری تھی۔ سیدنا مسیح کے درپیش مختلف اقسام کی آزمائش ہائے اندرونی آئیں۔ مثلاً ثروت، قدرت، عظمت ، شہرت وغیرہ وغیرہ۔ لیکن آپ ان سے ایک ذرہ بھی مغلوب نہ ہوئے۔ بیرونی آزمائشیں بھی آپ کے سامنے آئیں۔ مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا۔ بلآخر آپ گرفتار ہوکر مصلوب ہونے کے لئے لے جائے گئے۔لیکن آپ نے کبھی کسی قسم کی تدبیر وتجویز کواپنی رہائی کے لئے استعمال نہ کیا۔ آپ کا واحد حربہ دماغ خود صبر وتحمل شکیبائی وسکوت۔ احسان ونیکوکاری حتیٰ کہ دشمنوں کومعاف کردینے کی روح تھا۔ آپ نے بغض وکینہ کا مقابلہ حسنِ نیت، ایذا کا صبر اور لعنت کا برکت کے ساتھ کیا۔ سیدنا مسیح کادل خدا کی مانند محبت سے پُرتھا۔ آپ خدا کے ساتھ ایک تھے لہذا آپ اس قابل تھے کہ حقیقی طورپر خدا کا انکشاف کرسکیں۔

          یہ راز  آپ کے اُس سلوک سے جوآپ اُن لوگوں کے ساتھ کرتے جو آپ سےملتے یا آپ کے نزدیک آتے تھے عیاں ہوتا ہے۔ یہ لوگ آپ کی حمدو ستائش کرتے آپ کی پیروی کرتے اورآپ کےا ندر خدا کودیکھتے تھے۔ سیدنا مسیح نے خدا کی ہستی کے موضوع پر کسی سے بحث مباحثہ نہ کیا۔ آپ نے کبھی یہ کوشش نہ کی کہ خدا کوبذریعہ توضیح وتشریح اُن پر ظاہر کریں۔ آپ نے خدا کوان پر نمایاں کردیا۔جن جن اشخاص کوآپ کی رفاقت وصحبت نصیب ہوئی وہ خدا کی حقیقت کے قائل ہوگئے۔ آپ کی حضوری میں وہ گویا اپنے تئیں خدا کے حضور حاضر سمجھتے تھے۔ سیدنا مسیح کی تصلیب کے وقت رومی صوبہ دار نے جو بُت پرست تھا آپ کی صورت کودیکھتے ہوئے لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر بے ساختہ یہ الفاظ  کہے" بیشک یہ آ دمی خدا کا بیٹا تھا"(مرقس ۱۵؛ ۳۹) یہ شہادت  محض صوبہ دار ہی نے نہ دی بلکہ اور بے شمار اشخاص نے یہی اعتراف کیا۔

          یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ سیدنا مسیح نے اپنی بے نظیر شخصیت  کے وسیلہ سے لوگوں کی توجہ کوکنہ معنی حقیقت تک پہنچادیا ہے۔ فکرِ بشر مادیت  میں مصروف تھا۔ سیدنا مسیح اُس کو روحانیت  کی جانب لے گئے۔ بنی نوع انسان دینوی اشیاء میں محو تھے آپ نے اُن کی توجہ کو ابدیت پر مرکوز کیا۔ انسان فقط  طبعیت دیکھ سکتا تھا۔لیکن آپ اُس کی نگاہوں کوماوراء الطبعیت  لے گئے۔آپ نے فرمایا" مبارک ہیں وہ جو پاک دل ہیں کیونکہ وہ خدا کودیکھیں گے " (متی ۵: ۸)۔ پاکی دل اور دیدار خدا اُس وقت تک انسان کے ذہن میں روحانی تجربات کے طورپر نہ آیا تھا۔

ارتباطِ سیدنا مسیح بہ عصر حاضر

                        کیا ہماری موجودہ روز مرہ کی زندگی اور سیدنا مسیح کے درمیان کوئی ارتباط اساسی ہے؟ کیا آپ کی زندگی اور موضوع حقیقت س متعلق آپ کی تعلیمات ہمارے مسائل زندگی کے لئے کچھ معنی رکھتی ہیں ؟ دنیا پریشانی وابتری  کی حالت میں ہے۔ اورہرسوتشویش اور اضطراب حکم فرما ہیں۔ افرادِ بشر عالی تر اور بہتر چیزوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ہم سب  صلح، آشتی اور آرام کے بھوکے ہیں۔ ہم کو یہ خواہش دامنگیر ہے کہ ہم دیگر اقوام دنیا کے ساتھ روابط وتعلقات میں خوشی وشادمانی حاصل کریں۔ ہمارا اہم ترین اور بزرگ ترین مسئلہ فی زمانہ یہی ہے۔ کیا سیدنا مسیح ہم کو کوئی ایسی راہ بتاسکتے ہیں جس کے ذریعہ سے ہم اپنی تمنا وخواہشِ حُصول میں کامیاب ہوسکتے ہیں؟

          مصائب دنیا کے مختلف اسباب ووجود بتائے جاتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ وہ زندگی کے اجتماعی یا معاشری پہلو میں ہے۔ بعض کا خیال  ہے کہ یہ تکلیف حکومتوں کے سیاسی انتظام میں موجود ہے۔ پھر بعض کی رائے ہے کہ دنیا کے اقتصادی سلسلہ میں اس کا سبب موجود ہے۔ اور یہ تمام اشخاص ہمنوا ہوکر زندگی کے ایک تازہ نظم ونسق اور تجدید واصلاح نوکے نعرے بلند کرتے ہیں۔ ان معاملات میں بہت سی باتیں غور طلب  ہیں ۔ لیکن ہماری  تکلیف اور مصیبت تواس سے عمیق تر ہے۔ ہم میں سے حقیقت کا احساس ہی جاتارہاہے ۔ ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم جو چاہیں کرسکتے ہیں خواہ وہ دُرست ہو یا نادُرست  ، خواہ وہ عادلانہ ہو یا نہ ہو۔ ہم کو آزادی ہے کہ ہر معاملہ میں اپنی مرضی کو پورا کریں لہذا دنیا میں ہماری مصیبت  کی اساس وبنیاد  یہی ہے۔زندگی ایک ایسی زبردست  کشمکش  بن گئی ہے کہ بنی نوع انسان نے تنگ آکر راستی وناراستی  ، نیکی وبدی اور محبت ونفر ت کی تمام تفاوتوں اور اختلاف کو بالا ئے طاق رکھ کر ذاتی منافع کے درپے ہوگئے ہیں۔ بعض تو سرے سے شک پرست ہی ہوگئے ہیں اور زندگی کے ہر پہلو اور مرحلہ میں حقیقت کےتمام تصورات کا انکار کرتے ہیں بلکہ خود خدا کی ہستی اور جملہ فوائد روحانی سے بھی منکر ہوگئے ہیں ۔ نیٹشے بآواز بلند یہ پکار رہا ہے کہ خدا مرگیا ہے اور ہر کام کی اجازت ہے"۔

          ایک اور گروہ ہے جو اُس فلسفہ کا پیرو ہے جس کا نظریہ یہ ہے کہ تمام حقائق نسبتی یا اضافی ہیں۔ لہذا جوکچھ مناسب حال یا مناسب زمانہ ہو اُسی کی پیروی کرنا چاہیے۔ دنیا میں کوئی حقیقت مطلق موجود ہیں۔ حقیقت وہ ہے جوعملی ہے۔ ممکن ہے کہ آج میرے لئے ایک اُصول درست ہو اور کل دوسرا۔ ہم تواُسی اصول کو اختیار کرینگے جومجھے پسند خاطر ہوگا یا مجھے اچھامعلوم ہوگا ۔ حقیقی روش وہ ہے جومقتضی و مصلحت زمانہ ہو۔ حقیقت انسان کے ماحول وکیفیات پر منحصر ہے۔ہر حالات وکیفیات۔۔۔۔۔۔۔میں ایک ہی روش کی قید نہیں ۔ بنی نوع انسان کے باہمی تعلقات ورابط سے متعلق کوئی اخلاقی اُصول نہیں جن کااحترام مطلق انسان پر واجب وضرور ہو۔ نیکی اورحق سے متعلق تمام تصورات نسبتی ہیں۔ ہم کوخود فیصلہ کرناہےکہ جوکچھ ہمارے لئے مفید اور سوُدمند ہے اُس کو حق  تسلیم کرکے اُس کی تقلید متابعت کرناہے۔

          بشری زندگی  کے ہر مرحلہ کے لئے خواہ وہ شخصی ہویاا جتماعی یہ غلط تعلیمات سخت مضر ہیں۔ اُنہوں نے ہمارے تمام روابط ومناسبات کوزہر آلود بنادیا ہے۔ یہ اخلاقی کمزوری ہے جوزندگی کی مجبوری اور بیچارگی کا نتیجہ ہے۔ چونکہ ہماری اُمید ضائع ہوچکی ہے۔ لہذا جو کچھ ہماری دسترس  ہیں ہم اس کو پھینک دیتے ہیں۔ لیکن اس سے ہماری فلاح وبہبود قائم رہ سکتی ہے؟ کیا زندگی کے تمام لازمی اُصول کو نظر انداز کرنے سے انسان کی ا جتماعی  خوشی حاصل ہوسکتی ہے؟ اگر بنی نوع انسان کی زندگی کی مشترکہ بنا ا یک نہ ہو تو وہ کیونکر باہم خوش وخرم رہ سکتے ہیں؟ اوراگر ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کی جاسکتا توکیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ انسانی جماعت  کوایک محکم واستوار بنیاد پر قائم کیا جائے؟اگر تمام کے تمام افراد بشردروغ گوہوں۔ توکیونکر داد ودستد  کے معاملات ممکن ہوسکتے ہیں۔ جب تک مجھے یہ یقین کُلی نہ ہو کہ طبیب  میرے مرض  سے متعلق مجھے تحقیق بتادیگا خواہ وہ مجھے خوشگوار گزرے یا نہ میں کیونکر اس کی ا صلاح سے مستفید ہوسکتاہوں اور تاوقتیکہ کہ اقوام اورحکومتوں کو یہ اطمینان  وتسلی نہ ہو کہ وہ اپنے باہمی تعلقات وفرائض کی ادائیگی میں راستی وحق سے کام لینگی وہ کیونکر صلح وحسن نیت وخلوص کے ساتھ باہم دیگر رہ سکتی ہیں؟

          یہ سوالات توپیچیدہ نہیں۔ بالکل آسان وسادہ ہیں۔ لیکن یہ ہماری اجتماعی زندگی کے اصل مرض کی جانب اشارہ رکرتے ہیں۔ اگر انسانی جماعت کی باہمی خوشی وخرمی کوبرقرار رکھنا ہے۔ تواس کے کذب ودروغ کے مرض کا تدارک کریں۔ چاہئے کہ بنی آدم راستی وحق سے محبت رکھیں اوراپنے باہمی افادہ کے لئے اُس کا احترام کریں۔ لازم ہے کہ ہم اخلاقی اور رُوحانی عالم میں نواُمیدی اور مسئلہ تقدیر سے نجات حاصل کریں اوراپنی زندگی کوراستی وحق کی مضبوط  اورمستحکم بناء پر قائم کریں۔ ہم کو فقط ایک اصلاح وتجدد کی ضرورت نہیں بلکہ ایک نئی زندگی یا بہ عبارت دیگر ازسر نوپیدا ہونے کی ضرورت  ہے ہمارے افکار واز سر تاسر تبدیل ہونا چاہئے ۔ ہم کو نئے انسان بنناہے یعنی حقیقت  شعار افراد بشر ہوناہے۔ یہی مسئلہ ہمارے درپیش ہے۔

          ہم کس کی پیروی کریں ؟ سیدنا مسیح کی مانند کس نے حق کی تعلیم دی اورآپ کی مانند کون۔۔۔۔۔۔۔ باحقیقت  تھا؟ سیدنا مسیح نے اپنی تمام زندگی سے حق کا اظہار کیا اورہر حالت میں بلاخوف وہراس حق کی تائید کی۔ آپ خود حقیقتِ مجسم ہیں۔ آپ راہ ، حق اور زندگی ہیں لہذا فقط آپ ہی  ہم کو حق کی اس نئی زندگی میں داخل کرسکتے ہیں۔ اور اس نومیدی، یاس، مصیبت اور بدبختی  سے ہم کو رہا کرسکتے ہیں۔ تنہا آپ ہی ہماری اخلاقی زندگی کو مرتب کرسکتے اور ہم کو از سر نوسلیم العقل بناسکتے ہیں۔ صرف آپ ہی اکیلے ہم کو حق وناحق، درست ونادرست کا احساس بخش کرشہوت وعیاشی سے نجات دے سکتے ہیں۔ آپ بنی آدم کے نجات دہندہ ہیں!

          سیدنا مسیح کی تعلیم بالکل سادہ ہے۔ آپ نے فرمایا " تمہارا کلام ہاں ہاں یا نہیں نہیں کیونکہ جواس سے زیادہ ہے وہ بدی سے ہے"۔ (انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت متی رکوع ۵آیت ۳۷)۔ آپ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ راہ نجات حق کا اقرار کرنا ہے"۔ سچائی سے واقف ہوگے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی"(یوحنا ۸: ۳۲)۔ آپ کے آخری الفاظ جو آپ نے پیلاطس رومی حاکم سے کہے جبکہ اُس نے خوف کی وجہ سے حق کوفروخت کردیا تھا۔ ہرزمانہ اورہرقسم کے لوگوں پر عائد ہوسکتے ہیں یعنی  جو کوئی حقانی ہے میری آواز سنتا ہے"۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (8035)

Post a Comment

English Blog