en-USur-PK
  |  
18

انبیائے کرام اور پیشین گوئیاں

posted on
انبیائے کرام اور پیشین گوئیاں

انبیائے کرام اور پیشین گوئیاں

جناب دوست جالندھری

Prophets and Prophecies

Rev .Dost Jalandhri

                        یہ بات اکثر ہمارے مشاہدہ میں آئی ہے کہ لوگ مختلف مطالب کے لئے ایک ہی قسم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اوریہ بات خصوصیت سے اُس وقت وقوع پذیر ہوتی ہے جب ایک زبان سے دوسری میں تراجم کئے جاتے ہیں۔ اوردوسری زبان میں استعمال کیا گیا لفظ اصل زبان کا صحیح بدل نہیں ہوتا۔ ہاں اصل لفظ کے صحیح بدل سے کچھ کچھ ملتا جلتا ضرور ہوتاہے۔ مثال کے طورپر جب ایک ہندواورایک مسیحی انگریزی میں بات کرتے ہیں تووہ دونوں لفظ (Incarnation) انکارنیشن استعمال کرتے ہیں۔ لیکن دونوں کے نزدیک اس کا مفہوم مختلف ہوتاہے۔مسیحی کے نزدیک اس الہطی تجسم اور ہندواسی لفظ کو " اوتار" کے معنوں میں استعمال کرتاہے اور اسی لئے سمجھدار مسیحی ہندی زبان میں مسیح کی ذاتِ بابرکات کے لئے " اوتار" کے لفظ کوکبھی استعمال نہیں کرتے۔ اسی طرح ہندو اورمسیحی کے نزدیک تخلیقِ آدم کا تصورقطعی مختلف ہے گوکہ ایک سا لفظ اس مطلب کے لئے استعمال کیا جاتاہے۔

          دوسرا لفظ جومختلف الخیال لوگوں کی زبان میں مختلف مطالب کا حامل ہے وہ انگریزی لفظ (Prophet) پرافٹ ہے۔اوریہاں یہ مسیحیت اوراسلام کے درمیان (یہودیت) مستعمل ہے اورعزت اوراحترام کا بہت منصب قرار دیا گیا ہے۔ یہ امر واقعی ہے کہ اہلِ اسلام کی نگاہ میں پیغمبر کا منصف نہایت ارفع واعلیٰ ہے جو کسی برگزيدہ انسان کو عطا کیا گیا یا کیا جاسکتاہے۔ اب ہمیں اس امر پر غورکرنا چاہیے کہ مسیحی اس لفظ کے مطلب کو س طرح سمجھتے ہیں یااس لفظ کے کیا معنی لیتے ہیں۔ آئیے اب ہم اِن ہستیوں کی قابلیت یا خاصیت پر غورکریں جنہیں مسیحی پیغمبر یا انبیاء قرار دیتے ہیں۔

          انبیائے کرام اورپیغمبروں کے متعلق عام لوگوں میں پہلا تاثر اور گمان یہی ہوتاہے کہ یہ برگزیدہ ہستیاں روشن ضمیر اورمستقبل قریب وبعید کے حالات وواقعات سے باخبرہوتی ہیں اوراُن بزرگوں کی زبانِ مبارک کے اکثر وبیشتر مستقبل سے متعلق بیانات اظہار ہوتی ہیں اوران بزرگوں کی زبان مبارک کےا کثروپیشترمستقبل سے متعلق بیانات کا اظہار بھی ہوتا رہتاہے۔ لفظ "پیشین گوئی" کا اطلاق آج کل سرکاری محکمہ موسمیات کی قبل ازوقت اطلاعات کے معنوں میں بھی بے تکلفی سے استعمال کیا جاتاہے۔ بائبل مقدس کے بنگالی ترجمے میں لفظ" بھابادی" غالباً یہیں سے مستعار لیا گیا ہے۔ ہو سکتاہے کہ ملک کی دوسری بولیوں میں بھی اس سے ملتا جلتا کوئی لفظ مستعمل ہو۔

          لیکن جب ہم بنگالی کے اصل نسخہ سے رجوع کرتے ہیں تووہاں لفظ "نبی" کے معنی" بولنے والا" یاخطیب آئے ہیں۔ یہ بات بھی قطعی صحیح اوربرحق ہے کہ بہت سے مواقع پر ، نبیوں اورانبیائے کرام نے مستقبل میں پیش آنے والے حالات وواقعات کی پیشینگوئیاں کی ہیں۔ خواہ انِ پیشین گوئیوں کا تعلق مستقبل قریب سے ہو یا مستقبل بعید سے۔ لیکن یہاں سوالات زیربحث یہ ہے کہ ان برگزیدہ ہستیوں کا بنیادی اور پہلا فرض محض پیشین گوئیاں کرنا ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام یاوحی کی قوت کے ذریعہ لوگوں تک خدا کے پاک کلام اوراُس کی مرضی کا پہنچانا ہے۔ بالخصوص دنیا کے بادشاہوں ، جابرحاکموں اوراختیاروالوں کے کانوں تک خدا کی آواز کوپہنچانا تاکہ یہ لوگ خدا کی مرضی اوراُس کے فرمان سے آگاہی حاصل کریں ۔

          دوسری صدی عیسوی میں جب یہودیوں کی کتابِ مقدس یعنی ہمارا پرانا عہدنامہ یونانی زبان سے ترجمہ کیا گیا توعبرانی نسخہ سے لفظ " نبی" بھی لے لیا گیا اوراس طرح یہ لفظ انگریزی زبان میں (Prophet) پروفٹ بن گیا۔

          اسی طرح یہ لفظ قدیم یونانی فرمانوں میں بھی استعمال کیا گیا ہے مثال کے طورپر ڈلفی کے مقام پر نرسنگا پھونکنے والے کو ، (جوکلامِ غیب کا اظہار مبہم اورسمجھ میں نہ آنے والے الفاظ میں کیا کرتا تھا) (Prophet)کہا گیا ہے۔ قدرتی بات ہے کہ جن محقیقین نے ان قدیم کتابوں سے استفادہ کیا۔ اُنہوں نے پیشین گوئیوں سے متعلق اس لفظ کو غلط معنوں میں لے لیا اوراس لفظ کواعلیٰ اورارفع معانی کو فراموش کردیا۔

غیب دان

          حتیٰ کہ اسرائیلیوں میں بھی انبیائے کرام کے اعلیٰ وارفع مقام کے مقبول تصور سے کہیں کہیں گریز پایا جاتاہے۔ مثال کےطورپر جب ساؤل نے اپنے باپ کے گم شدہ گدھوں کی تلاش کے لئے بھیجا جاتاہے اورتین دن کی مسلسل تلاش کے بعدبھی وہ اُنہیں ڈھونڈھ نہیں پاتا اور سمجھتاہے کہ شاید اب میرا باپ گدھوں کی فکر بھول بیٹھا ہواور اب میرے متعلق فکرمند اورپریشان ہوتووہ واپسی کاارادہ کرتاہے۔ تب وہ نوکر جوگدھوں کی تلاش میں اُ سکے ہمراہ تھا ساؤل کوصلاح دیتاہے کہ وہ سیموئیل نبی سے مل کر گدھوں سے متعلق معلوم کرلے ، جہاں سے اُن کو جواب ملتاہے کہ گم شدہ گدھے مل جائیں گے (۱۔ سیموئیل ۹باب)۔

          اسی بیان کے درمیان ایک اورقصہ بھی مرقوم ہے کہ سیموئيل جواپنے زمانے کا ایک نامور نبی تھا۔ اپنے ابتدائی ایام میں ایک غیب دان کے طورپر جانا جاتا تھا یعنی محض ایک روشن ضمیر انسان جو مستقبل کی باتیں باسکتاہے۔ ایسی باتیں جوایک عام آدمی نہیں بتاسکتا۔ (۱۔سیموئیل ۹: ۹)اوراس ادنیٰ تاثر سے انبیائے کرام کے متعلق بھی اسرائیلیوں میں یہ خیال رواج پاگیا۔ حتیٰ کہ حضرت ابرہام اورحضرت موسیٰ جیسی برگزیدہ ہستیوں سے متعلق جن کوخدا کی طرف سے غیب بینی کی عظیم قوت عطا کی گئی تھی ۔ یہی فرض کرلیا گیا۔

مردِ ان خدا

انبیائے کرام کا ابتدائی منصب اورفریضہ ہی یہ تھا کہ وہ اپنی نیک اورپاکیزہ شخصیت اورعظیم قوتِ الہٰی کے ذریعہ جواُنہیں ودیعت کی گئی تھی اعلیٰ مقام اورشخصیت کے حامل تھے اورعام معنوں میں خدا کی طرف سے بولنے والے یا اُس کے ترجمان تھے جواس منتخب بندوں تک اُس کلا کلام پہنچاتے تھے۔ مثال کے طورپر جنابِ موسیٰ جنہیں خدا کی جانب سے شریعت ملی کہ وہ اُس کے بندوں تک پہنچائے اوراُنہیں نصیحت کرے کہ وہ کس طرح خدا کے فرمانوں کی تعمیل بجالاسکتے ہیں ۔ حقیقتاً حضرت موسیٰ کوخداتعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم الشان اعزاز بخشا گیا جودوسرے نبیوں کو نہیں دیا گیا ۔ کہ خدا نے موسیٰ پر اپنا جلال ظاہر کیا اور اُسکے ساتھ رُوبرُو کلام کیا جس طرح ایک شخص اپنے دوست سے باتیں کرتا ہے(خروج۳۳: ۱۱)۔

          یہاں ہمیں ایک فقرہ " مردانِ خدا" بھی ملتاہے جوبہت سے نبیوں کےمتعلق استعمال کیا گیا ۔مثلاً سیموئیل ، موسیٰ ، ایلیاہ ، الیشع اورکئی دوسرے اوریہ سب برگزیدہ لوگ تھے جنہیں کسی نہ کسی شکل میں الہٰی قربت حاصل تھی، الہٰی عرفان تھا، نیکی بدی اوربُرے بھلے کی تمیز بدرجہ اتم تھی۔ نیکیوں کی تلقین کرنا، الہٰی فرمانوں کی تعمیل میں کوشاں رہنا اورخدا کی خوشنودی کے حصول کی خواہش اُن سب کا اولین فریضہ تھی۔

سماجی انصاف

                        اسرائیل میں انبیائے کرام کے لئے ایک عظیم ترین کام یہ بھی تھا کہ وہ انسان کو اُن کا یہ فریضہ بھی بتائیں کہ اُنہیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کس طرح رہنا چاہیے اور اُن کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے اوریہ کہ مذہب اور ذاتِ خود رسم ورواج سے بہت بلند ترین چیز ہے۔ عبادت دعا اور ایثار کے ذریعہ ہمارا راستہ خدا سے مستحکم ہوتاہے ۔ مقدس یعقوب اپنے خط میں رقم طراز ہے کہ" ہمارے پروردگار کے نزدیک خالص اور بے عیب دین داری یہ ہے کہ یتیموں اور بیواؤں کی مصیبت  کے وقت  ان کی خبر لیں اور اپنے آپ کو دنیا سے بے داغ رکھیں۔(خطِ یعقوب ۱: ۲۷)۔

          پرانے عہدنامے میں سب سے زیادہ نڈر بے باک اور دبنگ بنی حضرت ایلیاہ تھے جو اسرائیل کے جابر بادشاہ اخی اب کے آگے سینہ تان کر کھڑے ہوجاتے اورللکارکہتے ہیں کہ وہ غیر ازخدا کی پرستش ترک کردے  اورسوائے خداتعالیٰ کے اورمعبودوں کی پرستش نہ کرے۔ دوسری مرتبہ جب اخی اب ای آدمی سے خطہ زمین حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے کہ وہ اپنی موروثی زمین بادشاہ کے حوالے کردے ورنہ شائد اُسے قتل بھی کردیا جائے۔ اُس وقت ایلیاہ نبی ہی تھا جو اخی اب بادشاہ کے سامنے ڈٹ گیا اورکہنے لگا تیرا یہ فعل خدا کی نظر میں مکرو اورقابلِ مواخذہ ہے۔ قطع نظر اس سے کہ دنیادار انسان خواہ وہ کتنی بڑی ہی شخصیت کیوں نہ ہو، جابرحاکم یاظالم بادشاہ ، مردانِ خدا ،انبیائے کرام اورحق گوہستیاں اعلائےکلمتہ الحق اورحقیقت کے اظہار میں کبھی نہیں ڈریں ، خواہ اُن کے ایسا کرنے سے اُن پر حاکم نے مصبتیں ،دکھ اورصعوبتیں کھڑی کردیں حتیٰ کہ موت بھی اُن پاکیزہ اوربرگزیدہ لوگوں کومرعوب نہ کرسکی۔ عاموس نبی نے اُن قاضیوں کوسخت ملامت کی اور ڈانٹا جوغریبوں کے خلاف امیروں کے حق میں مقدمے کا فیصلہ دیا کرتے تھے اوررشوت خورتھے۔ اسی طرح یسعیاہ اورعاموس نبی نے عیاشوں اورشرابیوں کی بھی مذمت کی۔ تمام صحائف انبیاء کوپڑھ جائیے شروع سے آخرتک آپ دیکھیں گے کہ جہاں بھی حاکمانِ وقت نے ، جابربادشاہوں نے ، غریبوں پر زیادتی کی ،ظلم کئے وہاں وہاں انبیائے کرام نے ان کوسختی سے ٹوکا اورتنبیہ کی۔ ہمیشہ سچائی اورنیکی کی تلقین  کی کہ انسان خواہ چھوٹا ہویا بڑا، امیر یا غریب ، اُن کے درمیان بے انصافی گوارا نہ کی۔ کوئی ناجائیز مزاحمت  جائز قرار  نہ دی اورہمیشہ خوفِ خدا کو ملحوظ رکھا۔

کل جہان کا حاکم

                        چونکہ ان برگزیدہ ، بندوں کو الہٰی عظمت اُس کی بزرگی اُس کی محبت اوراُس کی پاکیزگی کا عرفان بخشا گیا تھا۔ وہ مجبور ہوتے تھے کہ اپنی مرضی کی بجائے اُن لوگوں پر جن کی روز مرہ کی زندگیاں ان کے مطالعہ میں تھیں خدا کی مرضی اوراس کے فیصلے کو بیان کریں۔

          اورمنشائے الہٰی بھی یہی ہوتا تھاکہ خدا اپنے ان بندوں کے ذریعہ اپنا پیغام اپنے لوگوں تک پہنچائے۔ خدا تعالیٰ اُنہیں ایسی روشن ضمیری اورنگاہ حق بین عطا کرتا تھا جس کے ذریعہ منشائے الہٰی اُن پرمنکشف ہوجاتا تھا اوراکثر مرتبہ تکلیف دہ اورناگوار پیغامات بھی اُن گنہگار اُمتوں تک پہنچانے کی اہم خدمت انجام دیتے تھے جن کی طرف یہ نبی بھیجے جاتے تھے اورآج اس سائنسی اورایٹمی دور میں بھی ان انبیائ کرام کے وہ نوشتے ہمارے لئے لازوال برکتوں کے ساتھ ساتھ مشعلِ راہ بھی ہیں۔ آج بھی وہ کون سی اُمت ہے جودل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکے کہ وہ الہٰی مرضی بجالانے میں کامل ہے اوراُس کے درمیان بغض وحسد لالچ ،منافقت  اوررشوت جیسے عظیم گناہ نہیں ہیں۔ وہ صراطِ مستقیم جوپیغمبروں نے دکھایا ہے اُسے طے کرنا آسان بھی تونہیں۔لیکن سکون قلب اورابدی راحت سرچشمہ بھی تووہی ہے۔ نجات کا وہ کام جو دیانتداری اورفرمانبرداری  سے پُرانے عہدنامے میں اسرائیل کے درمیان شروع کیا گیا تھا اُسی کو نئے اسرائيل یعنی مسیحی کلیسیا کے ڈھانچے میں محفوظ رکھا جیساکہ عبرانیوں کے خط میں مرقوم ہے " اگلے زمانے میں خدا نے باپ دادا سے حصہ بہ حصہ اورطرح بہ طرح  نبیوں کی معرفت کلام کیا اوراس زمانے کے آخر میں ہم سے بیٹے کی معرفت کلام کیا" انسان کی آخری منزل کو نشان ہے جسے سنگِ میل کے طورپر ہرایک نے استعمال کیاتاکہ  ہم سمجھ سکیں ۔ تمام بنی نوع انسان کی اُمید اورنجات سیدنا عیسیٰ مسیح ہی کے وسیلہ سے ہے۔

(تلخیص وترجمہ از" ایپفنی" ۔کلکتہ)

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (8005)

Post a Comment

English Blog