en-USur-PK
  |  
26

نبوت

posted on
نبوت

Prophecy

نبوت

وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا

بخشاہم نے اُس کو اسحاق اور یعقوب اور قائم کیا نبوت اور کتاب کو اسکی اولاد میں۔(سورہ العنکبوت آیت ۲۷)

وہ اپنا کلام یعقُوب پر ظاہِر کرتا ہےاور اپنے آئِین و احکام اِسرائیل پر۔اُس نے کِسی اَور قَوم سے اَیسا سلُوک نہیں کِیا

(زبور شریف ۱۴۷آیت ۱۹)

حمدوثنا اُس خدائے ذوالجلال کے لئے مخصوص ہے جواپنے تمام بندوں پر فضل وبخشش کرنے والا ہے۔ ہم اپنے معزز قارئین کی توجہ آج اس امر کی جانب مبذول کرنے کی جسارت کرتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے تمام جہان میں سے بنی اسرائیل  ہی کو کیوں نبوت وکتاب کے لئے مخصوص کیا س واضح ہوکہ اس انحصار وحفاظت حق کے ليے یہی طریقہ تھا کیونکہ جنس وزبان اور عادات ومدراج کے لحاظ سے یہی قوم صیانت حق اوراس کوتعطیل وتخریب سے بچانے کے لائق تھی کیونکہ سچائی ابھی شیر خواربچے کی مانند تھی اور لوگ بت پرستی وگناہ اورجہالت وحماقت کے سمندر میں غرق ہورہے تھے  نہ حق وباطل میں کچھ فرق تھا اور نہ حرام وحلال میں تمیز تھی ، پس حکمت الہی نے یہ چاہا کہ موجودہ لوگوں میں سےایک کا اظہار کیا جائے۔ چنانچہ ابراہیم منتخب کیا گیا اورپھر اُس کا بیٹا اسحاق اورپھر اُس کے بعد یعقوب اور بعد ازاں اُن کی اولاد میں سے بارہ اشخاص منتخب ہوئے پھر اُن کو ایک قوم بنایا اوراُن کی طرف انبیا ورسل کوبھیجا اورحقائق الہیہ اور شریعت مقدسہ کووحی اورالہام کے ذریعہ اُن پر ظاہر فرمایا کیونکہ اگر سچائی خالص اور بے لوث حالت میں صرف ایک ہی قوم میں موجود ہو تو اُس سے بدرجہا بہتر ہے کہ وہ خلط ملط اور آمیزش کی حالت میں عام طورپر تمام اقوام عالم میں موجود ہو۔

          اس میں شک نہیں کہ ابتدائے خلقت ہی سے حقانیت طبعاً عوام میں شائع تھی لیکن چونکہ کسی خاص گروہ سے مخصوص نہ تھی اس لئے لوگوں نے فساد کئے اور حق کے نشانات مٹ گئے اور انسان بت پرستی میں مبتلا ہوگیا ۔ نوح اوراُس کے خاندان کے سوا تمام بنی آدم بت پرستی میں مبتلا ہوگئے۔ پس خدا نے اُن کو طوفان سے ہلاک کیا اور اُس وقت سے حق سبحانہ تعالی نے بنی اسرائیل کواحکام وشریعت الہی کے لئے مخصوص کیا جو اُن کے لئے اورخود ہر زمانہ کے لئے باعث فضیلت تھا جیسا کہ زمانہ کے واقعات اورتجربہ بھی اسی پر دلالت کرتے ہیں۔

          لیکن اس کے علاوہ وہ ایک اور سبب بھی تھا جس کو سب سے بڑا سبب کہنا چاہیے کہ اللہ تعالی نے اس قوم کواس لئے اس فضیلت  سے سرفراز کیا کہ خدا کا مظہر اتم واکمل اس قوم میں ظاہر ہونے کو تھا اورچونکہ مسیح انجیل کے بیان کے مطابق ابن اللہ یا قرآن کے بیان کے موافق کلمتہ اللہ اور روح اللہ ہیں۔ اس لئے وہ خدا کے سرور اوراُس کی شادمانی کا منبع ہیں۔ اس لئے جس قوم میں وہ ظاہر ہونے والے تھے اُس کو خدا نے بہت سربلند کیا اور تمام اقوام عالم پر فضیلت بخشی۔ تمام دیگر قوام عالم کو چھوڑ کر اُن کو ایک خاص قوم بنایا ،اُن کو نور بخشا۔ اُن کے ساتھ روبرو کلام کیا۔اُن کے ا سم سے موسوم ہوا۔ان کی کیفیت اختیار کی اورانہیں کے ڈیروں کے وسط میں اپنے لئے پاک ترین مقام اختیار کیا۔ اُن کی خاطر مصریوں کے پہلوٹھے مارے اورفرعون کو اس کے لشکر سمیت برباد کیا۔ اُنہیں کی خاطر سات زبردست  بڑی بڑی اقوام کوہلاک کرکے اُن کے ملک ان کے درمیانی تقسیم کردئیے اوراُن کو ایسے دلپسند  اور مرغوب  وفرحت افزا باغوں میں بسایا جن میں نہری جاری تھیں۔

          اب ذرا غور وفکر کرکے دیکھئے کہ اس شریف قوم کے بارے میں آپ کی کتاب میں کیا مرقوم ہے۔ ممکن ہے کہ اس سے آپ پر وہ بھاری راز کھل جائیں جن کا اس سے پیشتر آپ نے کبھی خیال بھی نہیں کیا کیونکہ شاید اس عظیم الشان امر کا بیان آپ کی کتاب میں ایسا ہی ہو جیسا کہ ہماری کتاب میں ہے۔ ہمارے ہاں توریت شریف میں مرقوم  ہے کہ اللہ جل شانہ نے پہلے آدم کو چن لیا ، پھر اُس کے بعد شیت کو اوراُس کے بعد نوح کو پھر ابراہیم اوراسحاق اور یعقوب کو اور پھر اُن کی اولاد سے مسیح پیدا ہوئے۔ایسی قوم جس کے بعض افراد بعض کی نسل تھے اور آپ کی کتاب میں بھی یونہی مرقوم ہے" اللہ نے پسند کیا آدم اور نوح کو اور ابراہیم کےگھر کو اور عمران کے گھر کو سارے جہان سےکہ اولاد ہے ایک دوسرے کی اور اللہ سنتا جانتاہے"(سورہ آل عمران ) واضح ہو کہ آل عمران  آل مریم ہے چنانچہ سورہ آل عمران میں یو بھی مندرج ہے" مریم بیٹی عمران کی پس پھونکا ہم نے اُس میں اپنی روح سے" اورجب برگزیدہ کیا آل عمران کو تومریم کوبھی برگزیدہ کیا۔ چنانچہ اسی صورت میں مرقوم ہے کہ" کہا فرشتوں نے کہ اسے مریم اللہ نےتجھ کو پسند کیا اورپاک کیا اورتمام جہان کی عورتوں سے چن لیا"۔

          اس مقام پر ایک نہایت جلیل القدر قرآنی نکتہ ہے چنانچہ یوں مرقوم ہے کہ" اولاد ہے ایک دوسرے کی" یعنی یہ سب برگزیدہ گان ایزدی دونوجانب سے محدود ہیں۔ آدم  سے آغاز ہے اور مریم پرانتہا ہے اور ان میں نسبی اجنبیت کا کوئی درجہ پیدا نہیں ہوتا کیونکہ آدم سے نسبی شروع ہوکر مسیح کی والدہ مریم بنت عمران پر ختم ہوجاتاہے۔ پس کوئی باپ ایسا نہیں ہے جواپنے سے پیشتر کی گذشتہ پشتوں میں سے کسی کا بیٹا نہ ہو یا پشت ہائے بعد میں کسی کا والد نہ ہو۔ مسیح فی الحقیقت انبیائے سابقین کے نسب نامہ کے سلسلہ سے جدا ہیں۔ مثلاً قابیل آدم کی اولاد ہے اورحام ویافت نوح کی اولادسے ہیں۔ اوراسماعیل ابراہیم کی اولاد سے اور عیسو ویعقوب اسحاق کی اولاد ہیں کیونکہ یہ سب فی الحقیقت انبیائے سابقین کی اولاد ہیں لیکن پست ہائے بعد کے والدین نہیں ہیں بلکہ اس مبارک سلسلہ سے جدا ہوگئے اوردیگر اقوام میں خلط ملط ہوگئے اوراس لئے اُن میں یا اُن کی اولاد میں آئیندہ کے لئے کبھی کسی امر عظیم کی اُمید توقع رکھنا ممکن ہے۔ درحقیقت یہ باتی  نہایت ہی غوروخوض کے لایق ہے۔

          گو کہ قرآن نے کسی ایک مقام پر مسیح کے آباؤ اجداد کا ذکر اس ترتیب سے نہیں کیا جس سے وہ انجیل میں مذکور ہیں توبھی ایسی صورت میں بیان کیا ہے جس سے کافی اور شافی اشارات ملتے ہیں چنانچہ مذکورہ بالا آیت میں آدم ونوح اورابراہیم وآل عمران کا ذکر کیا ہے۔اورایک اور مقام پر اسحاق ویعقوب کا اور کسی جگہ پر داؤد وسلیمان کا اور پھر ایک موقع پر مریم کا ذکر کیا ہے اور یہ شہادت دی ہے کہ "وہ ایک دوسرے کی اولاد ہیں" اور خدا کے پاک بندے اورتمام جہان سے پسندیدہ ہیں۔ اب ہم ان کی بعض بڑی بڑی فضیلتوں کا بالترتیب حسب آیات قرآنی بیان کریں گے۔

          اول: خدا نے اُن کواپنی رحمت وبرکات سے ممتاز فرمایا۔ چنانچہ سارہ زوجہ ابراہیم سے یوں خطاب کیا" توتعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے ؟ اللہ کی رحمت ہے اور برکتیں تم پر آئے گھر والو"(سورہ ہود)۔

          دوم: نبوت وکتاب سے اُن کو مخصوص کیا جیسا کہ مرقوم ہے"بخشا اُس (ابراہیم) کواسحاق اور یعقوب اور قائم کیا نبوت اور کتاب کواُس کی اولاد میں"(سورہ انعام )۔

          اس آیت سے نہایت صراحت کے ساتھ ثابت ہوتاہے کہ ابراہیم کی اولاد اسحاق اور یعقوب سے جاری ہے۔اسماعیل اور عیسو سے نہیں جیسا کہ آیت کے الفاظ سے عیاں ہے۔ اسی طرح کی اور بہت سی آیات ہیں چنانچہ سورہ مومن میں مرقوم ہے " ہم نے دی موسی کو راہ کی سوجھ اور وارث کیا بنی اسرائیل کوکتاب کا ۔ سمجھاتی اور سمجھاتی عقلمندوں کو"۔

          سوم: نبوت اور کتاب کے علاوہ اُن کو سلطنت سے بھی شرف اختصاص بحشا ۔ چنانچہ سورہ الجاثیہ میں مندرج ہے " اورہم نے دی بنی اسرائیل کوکتاب اور حکومت اور نبوت اور کھانے کودیں ستھری چیزیں اوراُن کو بزرگی دی تمام جہان پر"۔

          چہارم: اللہ جل شانہ نے اُن کو علم سے اختصاص  بخشا۔ چنانچہ سورہ الدخان میں مرقوم ہے" ہم نے پسند کیا اُن کو علم پر تمام جہان کے لوگوں سے"۔

          پنجم: اُن کو ارض مقدس کے وارث بنایا۔ چنانچہ سورہ مائدہ میں مرقوم ہے کہ موسی نے اپنی قوم سے یوں کہا" داخل ہو ارض مقدس میں جواللہ نے تمہارے واسطے لکھ دی " ۔

          ان آیات سے صاف واضح ہوتاہے کہ تمام جہان کے لوگوں کو بنی اسرائیل  کی سرزمین سے برکت ملتی ہے اورکسی آیت سے کوئی ایسا مقام روئے زمین پر ثابت نہیں ہوتا جس سے برکت ملتی ہے اورکسی آیت سے کوئی ایسا مقام روئے زمین  پر ثابت نہیں ہوگا اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل عالم اس زمین کے باشندوں یعنی بنی اسرائیل کے وسیلہ سے برکت پاتے ہیں۔ کیونکہ زمین بذات خود اہل عالم کے لئے برکت نہیں ہوسکتی اوراس بشارت سے خداکا وہ وعدہ جو اس نے ابراہیم سے فرمایا اورپھر اسحاق ویعقوب کے لئے دہرایا پوری واقفیت رکھتا ہے چنانچہ مرقوم ہے " تب خداوند کےفرشتہ نے دوبارہ آسمان پر سے ابراہیم کو پکارا اورکہا خداوند فرماتاہے کہ اس لئے کہ تونے ایسا کام کیا اوراپنی بیٹا ہاں اکلوتا بیٹا دریغ نہ رکھا میں نے اپنی قسم کھائی کہ میں برکت دیتے ہیں تجھے برکت دونگا اور تیری نسل کوبڑھاؤنگا اور تیری نسل سے زمین کی ساری اقوام برکت پائیں گی۔"پھر کتاب مقدس میں ایک اورمقام پر آیا ہےاللہ جل شانہ نے یعقوب پر ظاہر ہوکر یوں فرمایا "میں خداوند تیرے باپ ابراہیم کا خدا اور اسحاق کا خداہوں۔ میں یہ زمین جس پر تولیٹا ہے تجھے اور تیری نسل کو دونگا اور تیری نسل ایسی ہوگی جیسی زمین کی گرد اور توپورب پچھم اتر دکھن کو پھوٹ نکلیگا اور زمین کے تمام گھرانے  تیری نسل سے برکت پائیں گے (پیدائش  ۲۲باب  ۱۸،۱۵۔ ۲۸باب ۱۴، ۱۳) اس سے وہ نہایت قابل غور باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔

          اول: یہ کہ نبوت وکتاب اور رسالت وحکومت اوراُن کے لوزام یعنی صراط المستقیم کی طرف بنی آدم کی ہدایت ورہبری اوراُن کے اخلاق وعادات کی تہذیب کو اللہ جل شانہ نے بنی اسرائیل  کےساتھ مخصوص کرکے اُن کو میراث مقرر کردیا۔

          دوم: یہ کہ بنی اسرائیل کو یہ تمام امتیاز وشرف اس بات سے حاصل ہوا کہ وہ اُس آبائی  سلسلہ میں شامل ہوئے جس سے مسیح جوتمام جہان کا نجات دہندہ ہے پیدا ہوا جس نے تمام جہان کی خطاؤں کے لئے اپنے کو قربان کردیا۔

 

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح | Tags: | Comments (2) | View Count: (11375)

Comments

  • شازیہ واجد صاحبہ، جناب مسیح کی سلامتی آپ کے ساتھ ہو ، آپ لوگوں کی جانب سے ہمت افزائی ہی وہ قوت ہے جو ہمیں خداتعالیٰ کی سچائی دنیا تک پہنچانے کے لئے کافی ہے۔ ہم آپ تمام لوگوں کو دعوت فکر دینا چاہتے ہییں کہ ہمارا ملک پاکستان دنیا کے بہترین اور مہذب معاشروں میں شامل ہوسکے اور زیادہ سے زیادہ لوگ خداوند مسیح کی توسط سے اپنی حقیقی نجات سے واقف ہو کر ، روح کے پھل ظاہر کرکے دنیا کے لئے امن و سلامتی کے سفیر کہلائیں، شکریہ!
    10/10/2014 9:04:25 AM Reply
  • It is very effective web site.I like it very much.It help us to understand our religion. https://www.facebook.com/Aashqanemustafa
    05/02/2014 8:50:47 PM Reply

Post a Comment

English Blog