en-USur-PK
  |  
15

زندہ مسیح اور مسیحی عقائد

posted on
زندہ مسیح اور مسیحی عقائد

Christ and Christian Faith

زندہ مسیح اور مسیحی عقائد

علامہ برکت اﷲ ایم۔اے

مسیحیت اور مسیحی عقائید میں بڑا فرق ہے۔ مسیحیت کا تعلق دل سے ہے۔ لیکن عقائد کا تعلق علم سے ہے ۔ مسیحیت انسان کا ذاتی تجربہ ہے۔ اور عقائد اس تجربے کے الفاظ کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسیحیت کے مطابق خداوند مسیح ہمارے دلوں میں بستا ہے۔ اور ہم کو نئی زندگی عطاکرتا ہے۔ عقائد اس امر کی تو ضیع کرتے ہیں ۔ مسیح آج اور کل اور ابد تک یکساں ہے۔ لیکن عقائد علم اور فہم سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہذا علم کی ترقی اور تبدیلی کے ساتھ ہی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مسیحی تجربہ ہمیشہ ذھنی چلا آتا ہے۔ لیکن ہمارے خیالات تصورات اور الفاظ وغیرہ جن کے ذریعے ہم اس تجربہ کو اوروں پر ظاہر کرنا چاھتے ہیں ۔ اپنی صورت کو بدلتے رہتے ہیں ۔ پس اگر اس تجربہ کی تشریح کرنے میں ہم کو ان عقائد کے الفاظ کو یا تصورات کو خیرباد کہنا پڑے ۔ تو اس سے مسیحیت پر کچھ اثر نہیں پڑسکتا کیونکہ اصل شے یعنی مسیحیت وہی رہے گی ۔ صرف اس تجربہ کو دیگر الفاظ میں ادا کرتا ہو گا۔ لفظ صرف ایک آلا ہے۔ جس سے ہم اپنے مسیحی تجربہ کو اوروں پر ظاہر کرتے ہیں۔ تجربے کی ماھیت وہی ہے۔ صرف پرانے اور نکمے آلات ترک کر کے ہم بہتر اور نئے ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔ جیسے سفر کے وقت ہم بیل گاڑی کو ترک کر کے موٹر اور ریل کو استعما ل کرتے ہیں۔ مسیحی تجربہ الفاظ اور انسانی تصورات سے بلند و بالا ہے اور الفاظ میں مقید نہیں ہو سکتا ۔ مسیحیت میں زور مسیحی تجربہ پر دیا گیا ہے۔ نہ کہ عقائد کے الفاظ کی صحت پر ۔ روح تو زندہ کرتا ہے۔ لیکن لفظ مار ڈالتا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم میں مسیح کا روح بسے۔ نہ کہ ہم طوطے کی طرح چند کلمات (جن نے اس سے نئی زندگی کی بخشش پائی۔ جس میں خدا کا روح نہیں ۔ ”مسیح کا روح“ مختلف زمانوں میں مختلف الفاظ میں اور مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ ہم کون میں جو اس کو زماں و مکاں کی زنجیروں میں جکڑیں؟

    ہمارے عقائد کا انسانی علم و فہم پر دارومدار ہے۔ اور انسانی علم چونکہ انسانی ہے الہی نہیں لہذا ابدی نہیں بلکہ تبدیلی پذیر ہے پس کسی شخص کو (خواہ وہ کتنا ہی عالم کیو ں نہ ہو) یا کسی جماعت کو (خواہ اس کے افراد علم کی بخشش سے کتنے ہی معمود کیو ں نہ ہوں) یہ کہنے کا حق نہیں کہ ایک عقیدہ جو انہوں نے اپنے مسیحی تجربے کو ادا کرنے کے لیے بنانا ہے ہمیشہ کے لیے برقرار رہے گا یا رہنا چاہے۔ انسان کے الفاظ گھاس کی مانندمرجھا جاتے ہیں۔ لیکن خدا کی ذات ابدی ہے۔

    میر ا اس مضمون کے تحر یر کرنے سے ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عقائد کو ہم غیر ضروری خیال کرکے پس پشت ڈال دیں۔ ہرگز نہیں۔ عقائد کی ہستی نہایت مفید ہے لیکن اس پر اتنا زور دیتا جتنا بعض اصحاب دیتے میں مضمر ہے۔ یہ صاحبان اس امر کو فراموش کر دیتے ہیں کہ اصلی اور بنیادی شے مسیحی تجربہ ہے جس کو ادا کرنے کے لئے یہ عقائد کسی زمانے میں وضع کئے گئے تھے۔ اور مسیحی تجربہ کو چھوڑ کر عقائد پر زور دینا ایسا ہی ہے جیسے گھوڑے کے آگے گاڑی کو جوتنا ۔ اس سے عقیدے کا اصلی مفہوم زائل ہو جاتا ہے۔ عقیدہ کا ر آمد اور مفید تب ہی ہو سکتا ہے جب وہ ایک زندہ شے ھو نہ کہ مردہ الفاظ کا مجموعہ جو کسی زمانے میں ہمارے بزرگوں میں رائج تھا۔ عقید ہ تب ہی زندہ کیا جا سکتا ہے جب اس میں زندگی کے آثا ر ہوں ۔ اور زندگی و مردہ بے حس اور ساکت رہتا ہے۔ ایک صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے کہ مسیحیت مردے میں زندگی پھونک دیتی ہے۔ لیکن عقیدے زندہ میں مردنی پھونکنے ہیں۔

    ہمارے عقائد میں جتنے ضروری الفاظ ہیں ۔ وہ ایسے ہیں کہ کوئی شخص خوا ہ وہ کتنا ہی عالم کیو ں نہ ہو ان کو نہیں سمجھ سکتا ۔ اس کا سبب یہ نہیں کہ وہ ”الہی راز“ ہیں جو موجودہ نسل کے فہم سے بالاتر ہیں اس کا اصلی سبب یہ ہے کہ جس معنوں میں وہ الفاظ اس زمانے میں مستعمل تھے۔ اب وہ ان معنوں میں رائج نہیں اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان متروک الفاظ کے استعما ل کنندوں کے دماغوں میں کیا تصورات تھے۔ جن کو ادا کرنے کے لئے انہوں نے یہ الفاظ وضع کئے ان بزرگون کے زمانے میں بے شک یہ الفاظ رائج تھے۔ اور وہ ان الفاظ کے ذریعے اپنے مسیحی تجریات کو ادا کر سکتے تھے۔ لیکن جو ں جوں زمانہ گزرتا گیا لوگ نئے اور بہتر الفاظ استعمال کرنے لگے اور رفتہ رفتہ یہ الفاظ متروک ہو گئے یہا ں تک کہ اب کوئی ان کے مطلب کو بھی نہیں جانتا لیکن وہ ہنگامی اور متروک ہو گئے یہاں تک موجود ہیں ۔ اور جب ہم اپنے دینی پیشواؤں سے ان کا مطلب دریافت کرتے ہیں تو ہم کو کہا جاتا ہے کہ یہ الہی راز ہیں جو ہماری عقل و فہم سے بالا تر ہیں ”او خود گمراہ است کرا رہبری کند “انگلستان کے مشہور فلاسفر بشپ بار کلے صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے۔ کہ ہم پہلے خوب گرد و غبار اڑاتے ہیں ہماری آنکھوں میں دھول پڑتی ہے اور اس پرہم شکایت کرتے ہیں ۔ کہ ہمیں کچھ دکھائی نہیں دیتا انہی عقائد کی بدولت ہے کہ جو مذہب اتنا سادہ تھا ۔ کہ بچوں کے لئے بھی سمجھنا آسان تھا۔ ایسا مشکل کر دیا گیا ہے۔ کہ علما بھی اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح | Tags: | Comments (0) | View Count: (9863)

Post a Comment

English Blog