en-USur-PK
  |  
20

سیدنا عیسیٰ مسیح ابن اللہ

posted on
سیدنا عیسیٰ مسیح ابن اللہ

Jesus the Son of God

Dr.M.H.Durrani

سیدنا عیسیٰ مسیح ابن اللہ

ازجناب علامہ ڈاکٹر ایم۔ ایچ دُرانی صاحب کراچی

فیوض وبرکات

            تاریخ شاہد ہے کہ کلمتہ اللہ کے تجسم کے وقت سے وہ تمام خوبیاں اور اُمیدیں نمودار ہوئیں جوموجودہ زمانہ کی تہذیب کے سب سے زیادہ خوبصورت زیور ہیں۔ اگرچہ بعض صحت بخش قوانین آپ کے ظہور سے پہلے ہی دنیا میں رائج تھے۔لیکن " ترقی " کا لفظ اُن کی لغت میں نہیں ملتا۔ مگر کلمتہ اللہ کا کلام ایسا موثر اور ترقی پذیر ہے کہ جس نے نہ صرف ماضی میں مُردہ قوموں کے دلوں میں نئی جان ڈالی بلکہ آج بھی وہ چشمہ حیات رواں ہے۔

            کلمتہ اللہ کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے انسانی شخصیت کی عظمت کا سبق تاریخ عالم میں سب سے پہلے دیا۔ آپ سے پہلے ساری مہذب دنیا پر نظر دوڑائیے ۔ یونان کا فلاسفر ارسطو یہ کہتاہوا نظر آئے گا کہ یونانیوں کے لئے غیر ملکیوں کے ساتھ وہی برتاؤ واجب ہے جو وہ حیوانات کے ساتھ کرتے تھے۔ رومی شوکت اور تمدن کے علمبردار نوع انسان کو غلام بنانے اوراُن کو خونخوار درندوں سے پھڑوادینے کے لئے تقریریں کرتے ہوئے نظر آئیں گے ۔ ہندوستان کے کرشن مہاراج نہایت استقلال  ومتانت سے ارجن کو اپنے ہی بھائیوں کے خلاف تلوار چلانے کے لئے اُبھارتے اور اشتعال دلاتے نظر آئیں گے نیز ملاحظہ ہو ۔ سورہ تحریم آیت 9 میں یو مرقوم ہے: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۚ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ

 ترجمہ: اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت بری جگہ ہے۔

            اور اسی طرح سورہ انفال کی آیات 66سے 69 میں یوں مرقوم ہے:

            مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ  تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ  وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ  لَّوْلَا كِتَابٌ مِّنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ  فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا  وَاتَّقُوا اللَّهَ  إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّمَن فِي أَيْدِيكُم مِّنَ الْأَسْرَىٰ إِن يَعْلَمِ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّا أُخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ  وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

            ترجمہ: پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے ۔اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔تو جو مالِ غنیمت تمہیں ملا ہے اسے کھاؤ (کہ وہ تمہارے لیے) حلال طیب رہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔اے پیغمبر جو قیدی تمہارے ہاتھ میں (گرفتار) ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو (مال) تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

            اس کے برعکس کلمتہ اللہ نہایت عدیم اور شفقت آمیز لہجے میں فرماتے ہیں کہ " تمہارے آسمانی باپ کی یہ مرضی کہ ان چھوٹوں میں سے کوئی ہلاک ہو"(انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت متی رکوع 18آیت 14)۔ سچ تویہ ہے کہ خود اذیتیں سہیں مگر مدافعت کے لئے ہاتھ نہ اٹھایا۔ ستم سہے کرم کئے۔ گالیاں سنیں اور دعائیں دیں۔ کسی کا گلا کاٹنے کا کیا ذکر اپنی جان دوست ودشمن کے فدیہ میں دے دی۔

احترامِ نفس

            مختصر یہ کہ کلمتہ نے احترام نفس کا سبق دے کر ہرقسم کی خون ریزی اور ایذارسانی کا دروازہ بند کردیا۔ آپ سے پہلے قابلِ قدرہستی وہ کہلاتی تھی جس نے زیادہ سے زیادہ انسانی زندگیوں کوموت کے گھاٹ اتارا ہو ۔ جس نے شہر کے شہر تاخت وتاراج کئے ہوں۔جس نے بے شمار تعداد میں غلام بنائے ہوں۔ چنانچہ جولیس سیزر نے معرکہ زیلا کی فتح کے بعد بڑے تکبر اور بڑی خود پرستی سے کہاکہ " میں آیا میں نے دیکھا اورمیں نے فتح کیا"۔ لیکن اس کے برعکس مسیحیت کا بانی اپنی ظفر مندی اور کامرانی کا صُور یوں پھونکتاہے۔کہ " ابن آدم اس لئے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اس لئے کہ خدمت کرے اوراپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیہ میں دے"(انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت متی رکوع 20آیت 28)۔ اوراعلان فرمایاکہ" جوکوئی اپنی جان بچائے گا وہ اُسے کھوئے گا اورجوکھوئے گا وہ اُس کو بچائے گا(انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت متی رکوع 16آیت 25)۔ اس فرمان کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسیحی جماعت میں خود نثاری کا جذبہ پیدا ہوگیا اوراُس نے دنیا کی بھلائی میں اپنا تن من دھن لگادیا۔ غرضیکہ مسیحیت کی رُو سے کامیاب شخص وہ ہے جو اوروں کی بہتری کے لئے سب کچھ حتی کہ اپنی قیمتی جان تک قربان کردے۔ کیونکہ بدی کا جواب نیکی ہو تو ایسا پروگرام افراد اور اقوام کی زندگی اور بقا کا موجب ہوتاہے ۔ لیکن اگر بدی کا جواب بدی سے دیا جائے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے ۔ توایسا لائحہ عمل افراد اور اقوام کے فنا کا باعث ہوتاہے۔ اس صداقت  کی مثال اپنے ملک کی دورِ حاضرہ  کی تاریخ سے ملے گی کہ کس طرح ہمارے محکوم ملک نے عدم تشدد کواختیار کرکے بقا اور آزادی حاصل کی اور ثابت کردیا کہ کلمتہ اللہ کے صبرو تحمل کے اُصول کے ذریعے ہی دنیا میں امن عامہ قائم رہ سکتاہے۔

رحمت اللعالمین

            یوں تو" خدا نے کسی قوم کے بے گواہ نہیں چھوڑا (انجیل شریف اعمال الرسل رکوع 14: 16تا 17آیت) اور خاص طورپر بنی اسرائیل میں بے شمار نبیوں کو بھیجا جنہوں نے اخلاق کا سبق بھی دیا اور سیدھی راہ بھی بتلائی بلکہ ایسا نظامِ عمل دیا۔ جس کی نظر اہل دنیا  پیش نہیں کرسکتے ۔ لیکن یہ سب مصلح اور انبیاء اپنے اپنے زمانے اوراپنی اپنی قوم کے درمیان روشن چراغ کے طورپر تھے۔ لیکن اُن میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جو منور ہونے سے پیشتر خود تاریک نہ رہا ہو اور عہد طفولیت ہی سے نوروہدایت کے انمول نعمتوں سے مالا مال ہو۔ نیز ملاحظہ حل القرآن جلد دوازدھم صفحہ 1544 ۔ غرضیکہ  کلمتہ اللہ کے سوا کوئی ہادی نبی یا رشی ایسا نہیں گزرا جس کے حق میں یہ کہا گیا ہو کہ وہ " عالم بالا کا آفتا ب ہو"( انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت لوقا رکوع 1آیت 78)۔ یایہ کہ" وہ خدا کے جلال کا پرتو اوراُس کی ذات کا نقش ہے"( انجیل شریف مکتوب الیہ اہل عبرانیوں رکوع 12آیت 8)۔ آپ درحقیقت  بنی نوع انسان کے درمیان ہادی نبی یا رشی کی حیثیت سے تشریف نہ لائے تھے بلکہ رحمت ہدایت اور نجات تھے۔آپ صراطِ مستقیم کے پیامبر نہ تھے یا صرف اپنے ساتھ سیدھی راہ اور چلنے کا کوئی ہدایت نامہ لانے والے نہ تھے۔ بلکہ آپ اپنے ساتھ خدا کو لائے تھے " جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کودیکھا"۔ آپ کا دعویٰ تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی مصلح پیغمبر یارشی نہ آئے گا۔ کیونکہ آپ ہی رہتی دنیا تک ہر شخص ہر قوم ہر ملک اورہرزمانہ کے لئے نجات ہیں"۔ کیونکہ خدا ایک ہے اورخدا اورانسان کے بیچ میں درمیانی بھی ایک ہے"۔( انجیل شریف مکتوب الیہ اول تمیتھس رکوع 2آیت 5)۔

چشمہ فیض

            سچ تویہ ہے کہ انبیائے کرام آپ ہی کے مختلف آئینے تھے اگرکسی میں صدق ظاہر ہوا یا کسی میں علم وحیا اگر کوئی عدل کا پیکر بنا یا اگرکسی میں شجاعت ظاہر ہوئی یا اگر کوئی  رشدوہدایت کی انمول نعمتیں لے کرآیا۔ یہ سب جلوے کلمتہ اللہ کی ذات یا برکات کے مختلف آئینے تھے۔ جیسے اگر کسی محل میں مختلف آئینے ہوں توہر آئینہ میں انسان کی صورت یکساں نہیں ہوتی۔ مختلف آئینے  مختلف ہستیوں اور کیفیتوں کوظاہر کرتے ہیں یعنی جس طرح شیش محل کا ہر آئینہ نئے حُسن نئے جلوے اور نئی شان کا حامل ہے۔ اسی طرح کلمتہ اللہ کے مختلف جلوے انبیاء میں نظر آتے ہیں۔

تکملہ ظہور

            چنانچہ کتاب مقدس سے یہ ثابت ہے کہ خدائے قادر مطلق نے اپنے سارے کام اپنے بیٹے ہمارے  آقا ومولا سیدنا عیسیٰ مسیح کے ذریعے انجام دئیے (انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت یوحنا رکوع 1آیت 3 اور مکتوب الیہ اہل عبرانیوں رکوع 1آیت 3)۔ حتٰی کہ سیدنا مسیح کا رُوح نبیوں میں رہ کر انسان کے فائدے کے لئے کام اور کلام کرتا رہا۔( انجیل شریف مکتوب الیہ اول حضرت پطرس رکوع 1آیت 11)۔ اور بصورت فرشتہ حضرت یوسف کو ساری آفتوں سے بچایا(توریت شریف کتابِ پیدائش  رکوع 48آیت 16)۔ اور حضرت موسیٰ کو اسرائیل  کی قیادت کے لئے بلایا(توریت شریف کتابِ خروج رکوع 14آیت 19۔ رکوع 23آیت 20تا 23۔ رکوع 33آیت 2 ۔12۔ 15 +33+34۔ کتابِ گنتی رکوع 20آیت 16۔ گنتی رکوع 2: 1)۔ پھر جدعون کواسرائیل  کی رہائی کے لئے مقرر کیا (گنتی 6: 11۔ 23)اور سمسون کو پیدائش ہی سے عجیب وغریب طاقت سے نوازا (قضات 13: 3۔ 25)۔ حتیٰ کہ دانی ایل کے ساتھیوں کو آگ سے بچانے کے لئے جلتی بھٹی میں ظاہر ہوا (دانی ایل 3: 25)۔ پھر دانی ایل کو شیروں سے چھڑایا۔(دانی ایل 6: 22) اور اسرائیل کو ساری مصیبت سے بچایا (زبور شریف رکوع 34: آیت 7۔صحیفہ حضرت یسعیاہ رکوع 63: 9)۔ اور وہ کوہ سینا پر اسرائیل کوشریعت دی (اعمال الرسل 7: 38) الغرض کلمتہ اللہ حصہ بہ حصہ اور طرح بہ طرح نبیوں کی معرفت کام وکلام فرماتے رہے(مکتوب الیہ اہل عبرانیوں 1: 1+ امثال 31: 8)۔ اور اس زمانہ کے آخر میں بصورتِ مسیح ظاہر ہوناآپ کے مختلف  ظہوروں  کا تکملہ ہے پس"ہمارے نزدیک توایک ہی خدا ہے یعنی باپ جس کی طرف سے سب چیزیں ہیں اورہم اُسی کے لئے ہیں اورایک ہی خداوند ہے یعنی عیسیٰ مسیح جن کے وسیلہ سے سب چیزیں موجود ہوئیں اورہم بھی اُسی کے وسیلہ سے ہیں"۔(انجیل شریف مکتوب الیہ اول اہل کرنتھیوں رکوع 8آیت 6)۔

مسیحی فضائل

            آمدم برسرمطلب ؛ تجسم سے پہلے انسانیت کی چند جماعتیں جن کی زندگی اور مال وجان کے ساتھ ہر قسم کا بُرا سلوک جائیز سمجھا تھا اور وہ ظلم وتشدد نیز عیاشی کےلئے تختہ مشق بنائے جاتے تھے۔ اس مظلومیت میں وہ گروہ بھی شامل تھا جسے عورت کہا جاتاہے ۔

            چنانچہ کلمتہ اللہ سے پہلے بنی اسرائیل کے درمیان عورت مرد کی خادم تصور کی جاتی تھی۔ بت پرستوں کے درمیان وہ کلیہ طور پر مرد کی داسی سمجھی جاتی ہے اور اسلام میں عورت کو" کھیتی" سے تعبیر کیا گیا ہے۔

نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ  ترجمہ:تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ۔(سورہ بقرہ آیت 223)۔

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ  ترجمہ :مرد عورتوں پر مسلط وحاکم ہیں اس لئے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے(سورہ نساء آیت 34)۔

شوہر اپنی بیوی کومارپیٹ سکتاہے۔ ایک کے بجائے دوسری بدل سکتاہے۔(نساء ع) طلاق دے سکتاہے(نساء2)چار بیویاں نکاح میں لاسکتا ہے اور لونڈیاں بھی رکھ سکتاہے(سورہ نساء آیت 2۔ 3) اگرچہ بعض عورتیں اپنی لیاقت اور خاندانی عزت کے باعث اپنے درجہ سے بڑھ کر مردوں کے پہلو بہ پہلو نظر آتی ہیں۔ لیکن عام طورپر مرد کا کھلونا سمجھی جاتی ہیں۔ مگر جب کلمتہ اللہ بنی آدم کے چھٹکارا کے لیۓ مجسم ہوئے توآپ نے " مریم کنواری کے رحم سے نفرت نہ کی جس کے باعث مقدسہ مریم میں دنیا جہاں کی عورتوں کا درجہ بلند ہوا اوراُسے وہ درجہ ملا جوکبھی کسی کے وہم وگمان میں نہ تھا۔ ایسا اعلیٰ درجہ اب کوئی اس سے چھین نہیں سکتا ۔ غرضیکہ مسیحی فضائل  کا دائرہ میدان جنگ نہیں بلکہ غربا کی مدد بیمار کی تیمارداری اور مظلوم ومتروک کی خبر گیری ہے۔ مسیحیت کا ایک خاص کارنامہ یہ ہے کہ اُس نے تسلی غرور اور لڑا کا پن فنا کرکے اس کی جگہ علم  انکساری  خلق وتپاک تسلیم ورضا الفت محبت کے جذبات کوروز مرہ زندگی کے فرائض کے ساتھ وابستہ کردیا۔

انسانیت کی بلندی

            یہ صرف کلمتہ اللہ کی تعلیم کے بیرونی نتائج  ہیں ممکن تھا کہ ایسے مفید نتائج کسی زبردست  دینی مدبر اور مصلح کی حکمت سے برآمد ہوئے ان باتوں کے لئے خدا کے مجسم ہونے کی ضرورت  نہ تھی۔ کلمتہ اللہ کے تجسم نے انسانی احترام کے علاوہ جو بہت بڑا کام انجام دیا۔ وہ ہے" انسانیت کا درجہ بلند ہونا"۔آپ اس لئے مجسم ہوئے کہ وہ دیوار  جو خدا اورانسان کے درمیان ہے اٹھ جائے۔ اگرایک بھکاری دُوسرے بھکاری کا ہاتھ پکڑے تویہ امرباعث تعجب نہ ہوگا۔ لیکن اگر بادشاہ کسی بھکاری کا ہاتھ پکڑے تویہ بھکاری کے لئے باعثِ فخر ہوگا۔ خدا بھی اسی قسم کا بادشاہ ہے جو ہم بھکاریوں کو اپنی رفاقت میں لینے سے ہرگز نہیں شرماتا۔

            خدا جوآسمان پر ہے وہ ایک غیرمرئی اوراندیکھی ہستی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ایسا معلوم ہوتاہے کہ خدا ہم سے کسی طرح کا کوئی علاقہ نہیں رکھتا۔ حالانکہ وہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہے۔ لیکن چونکہ انسان ظاہربین اور ظاہرپسند ہےاورخدا ہی نے ہمارے اس احساس کے مدنظر یہ پسند کیاکہ وہ اپنے آپ کو آدم کی صورت پر جسے اُس نے اپنی صورت پر خلق کیا"ظاہر فرمائے تاکہ بنی آدم  اس جانی پہچانی  صورت کے ذریعے اپنے خالق کی صورت کا تصور حاصل کریں۔ گویاکہ خدا کی محبت کا تقاضا تھا کہ وہ انسان کے فائدے کے لئے انسان بنے اور ہمارے درمیان رہ کر یہ پُرفضل کام انجام دے تاکہ ہم خدا باپ کی معرفت حاصل کریں۔ پس جس طرح خدا باپ کی ہستی کا یقین مخلوق سے حاصل ہوتاہے۔ اُسی طرح خدائے مجسم کے دیکھنے سے باپ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ خدا کو کسی نے کبھی اکلوتا بیٹا جوباپ کی گود میں سے اسی نے ظاہر کیا"۔(انجیل شریف بہ مطابق راوی حضرت یوحنا رکوع 1آیت 18)۔

            ہم جانتے ہیں کہ جب تک محبت ظاہر نہیں ہوتی اُس وقت تک محب کی حد تک رہتی ہے اوراُسی کے واسطے ہوتی ہے۔لیکن جب ظاہر ہوتی ہے تب وہ دوسروں یعنی محبوب کے واسطے ہوتی ہے"۔ خدا کی محبت کا بھی یہی حال ہے"۔ خدا نے جہان کو ایسا پیار کیا کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخشدیا"۔ جب وہ حقیقی  جسم میں ظاہر ہوکر محبت کے کام انجام دیتا رہا توہم نے جانا کہ وہ محض انسان نہیں بلکہ"ابد تک خدائے محمود " (انجیل شریف مکتوب الیہ اہلِ رومیوں رکوع 9آیت 5)اسی سبب سے ہرایماندار کا یہ نعرہ ہے کہ" اب ہم تیرے کہنے ہی سے ایمان نہیں لائے کیونکہ ہم نے خود سن لیا ہےاورجانتے ہیں کہ یہ فی الحقیقت دنیا کا منجی ہے۔(انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا رکوع 4آیت 42)۔

محبت کی خوُبی

            اس پہچان نے ہمیں یہ عرفان بخشا کہ ہمارا نجات دہندہ سیدنا مسیح ذات وماہیت کے اعتبار سے جیسا کہ ارشاد ہے"۔ میں اورباپ ایک ہیں"(انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا رکوع 10آیت 30)۔لیکن آپ نے ہماری نجات کی خاطر پسند فرمایا کہ آپ ایک مقدس کنواری کے بطن اطہر سے پیدا ہوکر(انجیل شریف بہ مطابق حضرت متی رکوع 1آیت 18) انسان کی طرح قدوقامت میں بڑھیں(حضرت لوقارکوع 2آیت 40) ۔

            یہ خدا کی محبت کی خوبی ہے کہ آپ نے انسان بن کر انسان کو اپنابنالیا اور بشریت کا لبادہ اوڑھ کر بشریت کی حالت بدل ڈالی ۔اورآپ نے فرمایا جس نے مجھے دیکھا اُس نے خدا کو دیکھا(انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا رکوع 14آیت 19) اور یوں وہ خدا جو" کل " کائنات کا مالک ہے وہی تجسم کے باعث "جز"  میں ظاہرہوا۔ لیکن جس شے کا اطلاق "کل" کے ساتھ آیاہے اُس کا " جز" کے ساتھ ہونا ناممکن ہے۔

احساس الوہیت

            مانا کہ تجسم کے اعتبار سے ابن اللہ کا دائرہ عمل محدود تھا جیسے روح بحیثیت روح ہر جگہ حاضر وناظر ہے۔ ویسے ہی آپ کا دائرہ عمل ہے جہاں دویا تین میرے نام پر اکٹھے ہوں"(انجیل شریف بہ مطابق حضرت متی رکوع 28 آیت 20) اور بحیثیت بیٹا کیونکہ جس طرح باپ مُردوں کواٹھاتا اور زندہ کرتاہے۔ اُسی طرح بیٹا بھی جنہیں چاہتاہے زندہ کرتا ہے"(انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا رکوع 5آیت 21)۔یا جیسے آفتاب زمینی اورفلکی اجرام سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی ذاتی خوبی سے الگ نہیں ہوتا  ویسے آپ بھی جسم میں ظاہر ہونے کے باوجود "میں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں ہے"(انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا رکوع 14آیت 19) غرضیکہ جسم آپ کے لئے روکاٹ کا باعث نہ تھا ۔(انجیل شریف بہ مطابق حضرت متی رکوع 4آیت 24۔ حضرت مرقس رکوع 6آیت 49۔حضرت یوحنا رکوع 6آیت 19) غیب دان ہونے کی حیثیت سے انسان کی ہرروش سے واقف تھے(حضرت یوحنا رکوع 1آیت 48 اور رکوع 6آیت 64۔ رکوع 13آیت 1اور رکوع 18آیت 4 اوررکوع 19آیت 28)۔ آپ کو زمین وآسمان کا سارا اختیار حاصل تھا۔(انجیل شریف بہ مطابق حضرت  متی رکوع 8 آیت 27 اور رکوع 28آیت 18) یہی وجہ ہے کہ آپ کو اس امر کا پورا احساس تھا کہ آپ کے قول وفعل خدا کے قول وفعل ہیں اورآپ کی ذات الوہیت کے ساتھ کامل اتحاد حاصل ہے۔ اسی بنا پر ارشاد فرمایا کہ" ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور برحق کو اور سیدنا مسیح کوجسے تونے بھیجا ہے جانیں (انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا رکوع 17آیت 3)۔

            بلاشبہ تجسم سے پیشتر بھی انسان خدا کی نسبت سوچتا اوراس کی عبادت کرتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود خالق اورمخلوق کے درمیان ایک دیوار تھی۔ انسان کوشش کے باوجود ملاپ خداوندی حاصل نہ کرسکا۔اس ناکامی نے انسان کے حوصلے پست کردئیے ۔اس لئے وہ مجسم ہوا تاکہ لوگ قربت الہٰی  حاصل کریں۔مقام شُکر ہے کہ وہ ہمیں اس قابل بناتاہے کہ ہم خدا کو اباکہہ کر پکاریں(انجیل شریف بہ مطابق حضرت متی رکوع 4آیت 5تا6)۔ بدیں وجہ اب ایماندار کے لئے آسمان اور زمین میں کوئی فرق نہیں رہا۔ لہذا ربنا المسیح کی عظمت  صرف اسی کی تعلیم ہی کے سبب سے نہیں بلکہ اس کی ذاتِ اقدس سے ثابت ہے ۔ سچ تویہ ہے کہ وہ "بذاتِ خود مجسم تعلیم تھا۔ وہ محض نئے خیالات کا فیلسوف نہ تھا بلکہ خود سرپا مکاشفہ تھا۔ وہ صرف خوشخبری دینے والا نہ تھا ۔ وہ صرف خدا کا پیغام دینے والا پیغمبرنہ تھا۔ بلکہ خود خدا کاکلام تھا۔ وہ صرف انجیل لے کر دنیا میں نہ آئے تھے بلکہ خدا کولے کرآئے تھے ۔درحقیقت وہ بشریت کے پردے میں خدائے ذوالجلال تھا۔

وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم اُن کوکبھی اپنے گھر کودیکھتے ہیں

عدیم المثال

            یہاں یہ جتلادینا ضروری ہے کہ ہم نے اس مسئلہ کے حل کے سلسلے میں قصداً مختلف زاوئیے  پیش کئے ہیں۔مبادانکتہ چھوٹ نہ جائے اورہم پر یہ الزام عائد کیا جائے کہ ہم اس مسئلہ پر کامیاب روشنی ڈالنے سے قاصر رہے ہیں گوہمیں طوالت کا بھی ہمیں خوف ہے تاہم ہماری کوشش یہ ہے کہ خدا کی اس بڑی محبت سے کوئی محروم نہ رہے جواس کے کلمہ بیٹے ہمارے آقا ومولا سیدنا مسیح میں ظاہر ہے۔

            لیکن افسوس کہ ہم نے فرض کرلیاہے کہ خدا مجسم نہیں ہوسکتا کیونکہ اس سے پہلے وہ کبھی انسانی صورت میں ظاہر نہیں ہوا۔اس لئے ہرعدیم المثال واقعہ ہمارے لئے معمہ بن جاتاہے۔لیکن فرض کیجئے کہ خدا تعالیٰ مسیح کی صورت میں ظاہر ہوا ہوگا اور وہ ہماری سطح پر آکر ایک حقیقی انسان کی طرح رہا ہوگا توکیا وہ تصورجوانجیل میں پیشا ہواہے قابل قبول نہ ہوگا مانا کہ ہم یہ گمان نہیں کرسکتےکہ خدا مثل چوپان کھوئی ہوئی بھیڑ کو ڈھونڈھتاہے اورگنہگاروں کے فدیہ میں اپنی جان صلیب پر قربان کرتاہےلیکن جب ہم خدا کی محبت کا تصور کرتے ہیں توہمیں یہ یقین نہیں آتا کہ ضرور ایسا ہی ہوا ہوگا؟ ایمان ہی کے باعث ہماری ساری دماغی الجھنیں دوُر ہوجاتی ہیں اورہم یہ جان لیتے ہیں کہ خدا محبت ہے ۔ جس کے پیار کوبڑی قیمت ادا کرنی پڑی اورمرنے کے بعدہم ضرور اُس کے ساتھ آسمانی مقاموں پر ہوں گے۔ لیکن یہ اُسی وقت ممکن ہے کہ خدا خود سیدنا مسیح کی صورت میں ظاہر ہوکر کھوئے ہوؤں کوڈھونڈتاہے۔ تھکے ماندوں کو آرام دیتاہے بوجھ سے دبے ہوؤں کو بلاتاہے ۔تب سیدنا مسیح نہیں رہتے یا وہ ایک مقدس ہستی رہتا بلکہ ہم حضرت پطرس کی طرح محسوس کرتے ہیں کہ" سچ مچ آپ زندہ ابن اللہ ہیں"۔

انسانوں کے مشابہ

            اب تک ہم نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے تجسم میں خدا کی محبت کا سماں ہماری آنکھوں کے سامنے بندھ جاتاہے۔کہ کس طرح خدا نے مسیح میں ہمیں پیارکیا ہماری نجات کا بندوبست کیا۔ اب کس طرح سے اپنے پاس بلاتاہے اورکس طرح مسیح میں انسانی ذات صورت اور زبان اختیار کرتاہے۔ اگرہر برگ وثمر میں نقش کروگار نظر آتے ہیں توکیوں خدا کا انسانی جامہ پہننا غیر ممکن تصور کیا جائے ۔ جبکہ وہ اپنے کریکٹر کوظاہر کرنے کے لئے کرے۔

            یہ نہیں کہ تجسم میں خدا خدا نہیں رہتا اورنہ ہی وہ منقسم ہوتاہے بلکہ یہ کہ" خدا کی اندیکھی صفتیں صاف نظر آتی ہیں۔ کیونکہ الوہیت کی ساری معموری کلمتہ اللہ میں مجسم ہوکر سکونت  کرتی ہے"(انجیل شریف مکتوب الیہ اہلِ کلسیوں رکوع 2آیت 9) پس تجسم میں خدا نے اپنی لاانتہا صفات کو جوہماری سمجھ میں نہ آسکتی تھیں اُن کوبرطرف کیا اورہماری مانند بشربن کر ہم پر اپنی محبت اور رحم کوظاہر کیا۔جیسے دُوربین  ایسے ستاروں کوظاہر کرتی ہے جودوری کی وجہ سے ہمیں دکھائی نہیں دیتے ۔یا جیسے سُورج اپنی چمک اور تیز روشنی سے ہماری آنکھوں کوچند ھیادیتاہے۔ لیکن اب ایسے آلے ایجاد ہوئے ہیں جن کے باعث ہم سورج کوبڑی صفائی سے دیکھ سکتے ہیں ۔اسی طرح کلمتہ اللہ بھی اپنے جاہ وجلال کوچھوڑکر عام آدمیوں کی طرح ہمارے درمیان رہے اور ایسے عجیب نشانوں سے ثابت کیاکہ وہ محض انسان نہیں بلکہ باپ کا کلمہ اورساری کائنات کاحاکم اور بادشاہ ہے۔ جو وہ مضافات کے بغیر بنائے عالم سے پیشتر باپ کے ساتھ رکھتا تھا ۔(انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا رکوع 17آیت 5)۔

            ہومر ایک واقعہ بڑی دلچسپی سے لکھتاہے کہ میدانِ جنگ میں جانے سے پہلے ہیکٹر ٹرائے جنگی لباس پہنے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر اپنے بچے کی طرف بڑھا کہ اُسے گود میں اٹھائے۔ مگربچہ اپنے باپ کی پیتل کی زرہ بکتر چمکتی ہوئی خود آورہوا میں اڑتا ہوا پھندنا دیکھ کر اس قدر ڈراکہ چیخ مارکراپنی دایہ سے چمٹ گیا۔ تب ہیکٹر ٹرائے نے جنگی لباس اُتارا اور بڑے پیار سےاپنے بچے کو بلایا۔ جوُں ہی بچہ نے باپ کو عام لباس میں دیکھا اورپہچان کر ہنستے اور کھلکھلاتے باپ کی گود میں لپک پڑا۔اسی طرح بنی اسرائیل خدا کے اس جلال کو جوکوہ سینا پر ظاہر ہوا ۔ دیکھ کر ڈرگئے(عبرانیوں 12: 18) لیکن اب وہی خدا جس کے بے پایاں جاہ وجلال سے آنکھیں چندھیا جاتی تھیں۔ بیت لحم کی چرنی میں ایسے خوش پیرایہ میں نظر آتا ہے جیسے سورج کی کرن قو س وقزح میں خدا کی لاانتہا محبت ابن آدم میں ایسی ظہور پذیر ہے جسے ہم آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کانوں سے سن سکتے ہیں اوردل سے محسوس کرسکتے ہیں۔گویاکہ وہ خدا اب ہم سے محبت کرتاہے حالانکہ ہم محبت کے لائق نہ تھے ۔ وہ خدا جس کی شان وشوکت پر نظر نہ ٹھہرتی تھی۔ اب وہی اپنے آپ کو خالی کرکے انسانوں کے مشابہ ہوگیاکہ اُنہیں اپنے جلال میں داخل کرے۔ سچ تو یہ ہے کہ

عام ہے یار کی تجلی میر

خاص موسےٰ و کوہ طور نہیں

غفور ورحیم

            مانا کہ خدا غفور ورحیم ہے۔ لیکن کس طرح یقین آئے کہ وہ رحیم وکریم ہے ۔اگروہ آسمانوں پر جلوہ گر رہ کر ہمارے پیچھے سی۔ آئی ۔ڈی جسے شرعی زبان میں کراماً کا تبین" کہتے ہیں  بھیج دے کہ لوگوں کے نامہ اعمال لکھیں۔ کیا خدا کا یہی کام ہے کہ کسی کو سزا دے اورکسی کو جزا؟ اگرخدا واقعی رحیم وغفور ہے ضرور ہے کہ ہماری کمزوریوں کا چارہ ساز ہو۔ایک نوکر کواس سے بحث نہیں ہوتی کہ آیا مالک حسین ہے نہیں بانکا ہے یا ترچھا اُس کا کتنا اقتدار ہے ؟ دولتمند ہے کہ نہیں بلکہ وہ یہ دیکھتاہے کہ مالک کا سلوک کس قسم کا ہے ؟ اس کا برتاؤ کیسا ہے؟ آیا محبت پر مبنی ہے یا سختی پر۔

            عزیزو! ہمارا خدا صرف بلند مقاموں پر رہنے والا نہیں بلکہ وہ مجسم ہوکر ہماری زمین پر مارا مارا پھرا گویاکہ اسے اپنی پیاری مخلوق سے عشق ہے اگروہ کسی کوکبیدہ خاطر دیکھتا تو اس کے دل کوٹھیس لگتی۔ اگر کسی کی پیشیانی پر بل یا کسی چہرے کو پُر ملال پاتا تو بیقرار ہوجاتا گویاکہ وہ خود اپنے درد میں مبتلا ہے اورجب دکھ درد میں مبتلا اُس کے پاس آتے تووہ اُن کے سارے روگ دُور کردیتا۔جب اُس نے لعزر کی موت کی خبر سنی تووہ رویا اُس کے دل میں درد تھا گداز تھا ۔ اس کے پیار ومحبت  کا کون اندازہ لگاسکتاہے؟ وہ سراسر  محبت ہے خواہ ہم اس سے محبت رکھیں یا نہ رکھیں ۔ وہ ہر حال میں ہم سے محبت رکھتاہے"۔ خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتاہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تومسیح ہماری خاطر موا"۔(رومیوں 5: 8)۔

پدرانہ دل

            یہ سچ ہے کہ انسان نہایت  ناسپاس اور غیر منصف ہے۔ قرآن بھی انسان کا ناشکریہ پن ظلم وجہالت کی شکایت ان الفاظ میں کرتاہے إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ(انسان ناسپاس ہے) ایک اورجگہ ارشاد ہے ظَلُومًا جَهُولًا انسان ظالم اورجاہل ہے۔ ماناکہ انسان بڑا سرکش ہے لیکن خدا کا پدرانہ دل کب یہ گوارا کرسکتا تھا کہ جس انسان کواُس نے اپنی صورت پر خلق کیا وہ دوزخ کا ایندھن بن جائے۔ بدیں وجہ خدا انسانی ذات انسانی صورت اور زبان اختیار کرتاہے تاکہ ہمیں نئی زندگی دے کر آسمانی خوشیوں سے مالا مال کرے۔ کیونکہ خدا محبت ہے۔ اس لئے وہ اپنے آپ کو ہمارے بچانے کی خاطر پست کرتاہے اور خدا کا یہ فعل اسکے جلال کوچار چاند لگادیتاہے۔

            یہ محض ہمارا دعویٰ  ہی نہیں ذرا مسیحیت کی تواریخ کی ورق گردانی کیجئے ۔ وہ شروع ہی سے آج تک ناممکنات کی فتح ونصرت کے کارناموں سے لبریز ہے۔ گناہ آلودہ لوگ اس کے نور سے منور ہوئے۔ بیماروں نے شفا پائی ۔ جلوہ ہائے حقیقت دیکھے  اسرار معرفت سمجھے عالم روحانی کی سیر کی حیاتِ جاودانی پائی نغمہ ہائے محبت سے سرمست ہوئے۔

            دوستو! ہم صرف کلمتہ اللہ پر ایمان لانے کے باعث بچ سکتے ہیں"آسمان کے نیچے کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلہ سے ہم نجات پاسکیں"(اعمال الرسل رکوع 4آیت 12)۔ دنیا میں کوئی اور طاقت نہیں جو انسان کی مادیت کا انسداد  کرسکے۔ اس میں بلند نظری پیدا کرسکے۔ وہی ایک ایسے باغبان کی طرح ہے جوجنگلی  گلاب میں اصلی گلاب کی زندگی دوڑادیتاہے۔ کیونکہ کلمتہ اللہ انسان میں بستاہے۔ اس میں خیال کرتاہے ۔ اسے اپنی صورت پر تبدیل کرتاہے اوریوں اُس کے خیال ہمارے خیال ہوجاتے ہیں۔ اس کی زندگی ہماری زندگی ہوجاتی ہے۔ یہ کیسا بھاری فضل ہے کیسی اعلیٰ برکت ہے کون ہے جودنیا میں ذرہ کواٹھا کر آفتاب بنادے اورخاک کو اکسیر کردے۔

            " پر اتنی بڑی نجات سے غافل رہ کر ہم کیونکر بچ سکتے ہیں؟"(انجیل شریف مکتوب الیہ اہل عبرانیوں رکوع 2آیت 2)۔ اس لئے آؤ اوراپنی جبین نیاز کلمتہ اللہ کے آستانہ پر رکھ دو ۔ وہ تمہاری روحوں کو سکون بخشے گا۔ وہی تمہارے کلیئہ تاریک کوجگمگادے گا۔ وہ اس لئے ابن مریم بناتاکہ تمہیں آسمانی خوشیوں سے مالامال کرے۔ اُس نے اپنے آپ کو اس لئے پست کیا کہ آسمانی مقاموں پر پہنچائے۔ غرض اس سے باہر موت اورہلاکت کی وادی ہے چنانچہ اس ظلمت کدہ کے بسنے والوں میں جنہوں نے اُسے قبول کیا اُنہیں خدا کے فرزند بننے کا حق بخشا"(انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا رکوع 1آیت 12)۔

وَماَ عَلینا الا البلاغ

 


Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, نجات, اسلام, غلط فہمیاں | Tags: | Comments (0) | View Count: (8905)

Post a Comment

English Blog