en-USur-PK
  |  
28

اقانیم ِ تثلیث میں سے بیٹا کیوں متجسد ہوا؟

posted on
اقانیم ِ تثلیث میں سے بیٹا کیوں متجسد ہوا؟

In Trinity Why was Son Incarnated?

Allama Paul Ernest

اقانیم ِ تثلیث میں سے بیٹا کیوں متجسد ہوا؟

مسیحیت کی تعلیم یہ ہے کہ انسانوں کو گناہ اور دوزخ سے بچانے کیلئے خدا کا بیٹا متجسد ہوا اور اس  متجسد کا نام یسوع مسیح ہوا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے یا تیسرے اقنوم کی بہ نسبت دوسرا اقنوم یعنی خدا بیٹا کیوں متجسدہوا۔ انسانی عقل اس کی وجہ اور کہنہ کو پورے طور سے تو نہیں سمجھ سکتی ۔ کیونکہ خدا کی حکمت کے فیصلے انسانی ادراک سے بہت ہی پرے ہیں۔ لیکن یہ اس قدر تو بخوبی ظاہر کرسکتی ہے کہ تجسد محض بیٹے ہی کے لئے پورا پورا موزوں تھا۔ بیٹا باپ کا ازلی کلمہ ہے جو خدا کا شخصی یا اقنومی صورت میں اظہار ہے۔ کلمہ خدا کا مظہر ہے۔ وہ خدا کو ظاہر کرنیوالا ہے وہ سب الہٰی خیالات یا تصورات کی بہترین اور کامل ترین شخصی صورت ہے۔ جس کے مطابق دنیا خلق کی گئی اور جس کے مطابق خصوصاً انسان خلق کیاگیا وہ تمام مخلوقوں کی شباہت اور نمونہ ہے۔

انسان کی فطری اور فوق الفطرت صورت اس کی صور ت پر بنائی گئی ۔ جو باپ کا نقش ہے پس مناسب یہ تھا کہ وہ انسانی صورت جو بیٹے کی صورت پر بنائی گئی تھی جب وہ گناہ کے باعث بگڑگئی تو یہ پھر بیٹے میں یعنی ازلی کلمہ ہی میں بحال کی جائےا اور اس کی تجدید کی جائے یعنی اسے ازسر نو بنایا جائے چونکہ تخلیق کلمہ کے ذریعے سے اور اس کی مشابہت میں تکمیل کو پہنچائی گئی پس موزوں اور مناسب یہی تھا کہ نئی تخلیق بھی کلمہ ہی کے ذریعے سے اور اسی کی مشابہت میں پایہ تکمیل کو پہنچائی جاتی ۔ اس کا تعلق اس تصور سے ہے کہ کلمہ خدا کا بے مثل معنوں میں بیٹا ہے یعنی اس کا ذاتی اور حقیقی بیٹا ہے جہاں تک نئی تخلیق کی غرض و غائیت یہ تھی کہ انسان کی الہٰی فرزندیت کو نجات دے، انسان نے گناہ سے خدا کے فرزند ہونے کا درجہ کھو دیا تھا۔ جہاں تک نئی تخلیق کا مقصد انسان کو پھر خدا کا فرزند بناناتھا اس کی الہٰی فرزندیت کو بحال کرنا تھا اور اسے خدا کا فرزند ہونے کے درجے تک بلند کرنا تھا۔ وہاں تک یہی مناسب اور موزوں تھ اکہ جو شخص انسان کی الہٰی فرزندیت کو بحال کرے اور اسے خدا کا فرزند ہونے تک بلند کرے وہ خود خدا کاازلی بیٹا ہوناچاہئے۔ یعنی بیٹے کے ذریعے سے انسان خدا کے بیٹے بنائے جائیں۔ پس ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ مناسب یہی ہے کہ محض کلمہ ہی جو تمام انسانی اور دیگر مخلوقات کا کمال ِ نقش اور اس کی صورت اور تصویر ہے اور تثلیث ِ اقدس میں باپ کے ساتھ بھید سے پر ہے ابنیت یا بیٹا ہونے کا رشتہ رکھتا ہے وہی وہ الہٰی شخص ہونا چاہئے جو خدا کے ساتھ انسانوں کی کھوئی ہوئی مشابہت اور فرزنیت کو بحال کرے۔

اس سے ہمیں یہ ٹھیک اور معقول نظرِ بصیرت حاصل ہوتی ہے جس سے ہم تجسد کے بھید کے فوق الفطرت مقصد اور خدا کے خیالات کو دیکھ سکتے ہیں۔ جو کلمہ کے آدمی بننے کا باعث ہوئے۔ جب ہم مسیح کے توسط یعنی درمیانی ہونے کا ذکر کرتے ہیں تو پہلی بات جو پیش نظر آتی ہے وہ گنہگار بنی نوع انسان کا خدا کے ساتھ میل کرانے کا کام ہے مگر یہ کام الہٰی توسط کے سارے اور پورے خیال میں سے صرف ایک تاثیر ہے۔ مسیح کے درمیانی ہونے سے گنہگار انسانوں کا خدا سے میل ہی نہیں ہوتا بلکہ فی الحقیقت خدا کے اپنے مخلوق سے اتحاد کی حیرت انگیز قربت کا انتقال ہے یعنی اس سے خدا اور انسانوں کا صرف میل ہی نہیں ہوتا بلکہ اتحادہوتا ہے۔ مخلوق ہستیوں کا خدا سے میل تو اس اتحاد کے اندر صرف ایک کام ہے بیحثیت انسان ہونے کے مسیح بنی نوعِ انسان کے ساتھ ایک ہے یقیناً وہ ساری کائنات کے ساتھ ایک ہے جس کا وہ سر ہے ۔ بحیثیت خدا ہونے کے اسے اپنے باپ کے ساتھ ذاتی اتحاد حاصل ہے جس سے وہ آتا ہے اور روح القدس کے ساتھ بھی متحد ہے جس کے ذریعے وہ باپ سے ملاقی ہوتا ہے دنیا  میں کھڑے ہوئے اور دنیا سے ایک ہوتے ہوئے بھی وہ الوہیت کے عین دل تک اونچا ہے ۔ وہ خود خدا ہے اور باپ اور روح القدس کے ساتھ ایک ہے اس لئے اپنی شخصیت میں وہ دنیا کو ازلی باپ کے بالکل پڑوس میں لے آتا ہے۔ دوسری طرف وہ  ساری دنیا پر وہ اتحاد صادر اور جاری کرتا ہے جو اسے باپ کے ساتھ حاصل ہے وہ خدا اور اس کی مخلوقات کو ایسے قریبی باہمی رشتہ سے باندھتا اور متحد کرتا ہے کہ خدا ور اس کی مخلوقات کے درمیان کے ہرگڑھے اور ہر رخنے کو محض پرہی نہیں کرتا اور اس پر غالب ہی نہیں آتا بلکہ اس لامحدود ناموافقت اور فرق کو بھی مٹاتا اور اس پر غالب آتا ہے جو ناموافقت اور فرق خدا اور مخلوقات کی ذاتیں خدا ور مخلوقات میں پیدا کرتی ہیں مسیح صرف مذہبی اور اخلاقی دوری اور بعد ہی پر فتح نہیں پاتا بلکہ وہ وجودی دوری پر بھی غالب آتا ہے۔  خدا انسان یسوع مسیح دونوں طرح کی دوریوں کو مٹا تا ہے۔ اس دوری کو بھی جو محض مخلوق ہونے کے باعث خدا اور مخلوقات میں ہے خدا کا وجود واجب اور خود ہست ہے اور کائنات کا وجود مخلوق اور ممکن ہے۔ اور یوں خدا کا وجود کائنات کے وجود سے بے حد اعلیٰ اور اونچا ہے یا یوں کہو کہ خدا اور کائنات کے وجود کی قسم میں بے حد فرق ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ خدا اور کائنات کے وجودوں میں بے حد وجودی دوری ہے۔ اور دوسری دوری اخلاقی دوری ہے۔ خدا بے حد پاک ہے وہ عین پاکیزگی ہے۔ اس کی ذات عین تقدس ہے مگر بنی نوع انسان اور خدا میں تقدس کی بے حد دوری ہے۔ یا بے حد فرق ہے پاکیزگی کے لحاظ سے خدا انسان سے بے حد زیادہ پاک ہے ۔ اگر انسان گنہگار نہ ہوتا بلکہ بے گناہ ہوتا۔ نہ پاک ہوتا نہ ناپاک بلکہ بے پاک ہوتا تو پھر بھی خدا اس ے بے حد پاک ہوتا اور اگر انسان محض بیگناہ ہی نہ ہوا بلکہ پاک ہوتا تو پھر بھی خد اکی پاکیزگی اور انسان کی پاکیزگی میں بے حد فرق ہوتا ۔ انسان کی پاکیزگی کسبی یعنی حاصل کی ہوئی پاکیزگی ہوتی اور مخلوق اور محدود ہوتی۔ لیکن خدا کی پاکیزگی ذاتی اور لامحدود ہے پس کلمہ اپنے اس اتحاد سے جو اسے باپ اور روح القدس کے ساتھ حاصل ہے اس اتحاد کو کائنات اور انسان پر صادر کرکے یہ دونوں قسم کی دوریا ں دور کرکے کائنات اور بنی نوع انسان کو خدا سے متحد کرتا ہے ۔ مسیح وہ ذاتی اصلی حقیقی اور محکم بندھن ہے جو نہایت مختلف فرقوں کو اکٹھا کردیتا ہے ۔ خداوند یسوع کی وہ عظیم الشان دعا کہ بنی نوع انسان ایک ہوں جیسے ہم ایک ہیں ، میں ان میں اور تو مجھ میں تاکہ وہ اتحاد میں کامل ہوں۔ خدا انسان یعنی متجسد خدا یسوع مسیح ہی میں کامل طور پر پوری ہوتی ہے۔

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (8549)

Post a Comment

English Blog