en-USur-PK
  |  
04

قربانی

posted on
قربانی

قربانی

Sacrifice

قربانی کا تصّور دنیا کے تقریباً تمام مزاہب اور اقوام میں پایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اقوام بھی جہاں کسی الہامی مزہب کا تصّور نہیں، قربانی کے خیال سے خالی نہیں- انسان کو شروع زمانے ہی سے اِس بات کا احساس ہے کہ خدا اور اُس کے تعلقات کشیدہ ہیں اور اُنہیں معمول پر لانے کی ضرورت ہے- چنانچہ ابتدا ہی سے لوگ خدا کے ساتھ اپنے تعلقات دُرست کرنے کے لئے کسی جانور کو قربان کرتے آئے ہیں-

ایک لحاظ سے سب پہلی قربانی خود خدا نے دی- چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب آدم اور حوا سے گناہ سرزد ہُوا اور اُنہوں نے خود کو ننگا محسوس کیا تو خدا نے اُن کے ننگے پن کو ڈھانپنے کے لئے کِسی جانور کی کھال کھینچی اور اُن کے لئے لباس تیار کیا- اِس کا ذکر ہم پیدائش 3 :21  میں یُوں پڑھتے ہیں:

          اور خداوند خدا نے آدم اور اس کی بیوی کے واسطے چمڑے کے کُرتے بنا کر اُن کو پہنائے-

یہ گناہوں کی معافی کے لئے قربانی کا پہلا تصور تھا جو خدا نے دیا- یہ ایک واضح اشارہ تھا کہ خُدا آئندہ گناہوں کی معافی کے لئے کو نسا طریقہ اِختیار کرے گا- لیکن قربانی صرف گناہوں کی معافی کے لئے ہی نہیں دی جاتی تھی بلکہ اس کے ذریعہ خدا کی پرستش بھی کی جاتی تھی، کیونکہ اُس وقت تک پرستش کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں تھا- مثلا جب حضرت نوح کشتی سے باہر آئے تو اُنہوں نے شکر گزاری کے طور پر سوختنی قربانیاں چڑھا کر خدا کی پرستش کی-

          تب نوح نے خداوند کے لئے ایک مزبح بنایا اور سب پاک چوپایوں اور پاک پرندوں میں سے تھوڑے سے لے کر اُس مزبح پر سوختنی قربانیاں چڑھائیں )پیدائش – (20 :8

حضرت ابرہام اور دیگر بزرگ بھی اِسی طرح خدا کی پرستش کیا کرتے تھے:

وہاں اُس )حضرت ابرہام ( نے خُداوند کے لئے ایک قربان گاہ بنائی اور خداوند سے دُعا کی ) پیدائش  ; 8 : 12مزید دیکھئے پیدائش – (20 : 33

لیکن جب خدا نے بنی اسرائیل کو شریعت دی تو واضح طور پر بتادیا کہ گناہوں کی معافی کے لئے کس طریقے سے اور کِس قسم کے جانور کی قربانی دی جائے- چنانچہ ہم توریت کی کتاب احبار میں پڑھتے ہیں کہ:

خداوند نے خیمہ اجتماع میں سے موسٰی کو بلا کر اُس سے کہا بنی اسرائیل سے کہہ کر جب تم میں سے کوئی خداوند کے لئے چڑھاوا چڑھائے تو تم چوپایوں یعنی گائے بیل اور بھیڑ بکری کا چڑھاوا چڑھانا-

اگر اُس چڑھاوا گائے بیل کی سوختنی قربانی ہو تو وہ بے عیب نرکولا کر اُسے خیمہ اجتماع کے دروزے پر چڑھائے تاکہ وہ خود خداوند کے حُضور مقبول ٹھہرے- اور وہ سوختنی قربانی کے جانور کے سر پر اپنا ہاتھ رکھے- تب وہ اُس کی طرف سے مقبول ہوگا تاکہ اس کے لئے کفّارہ ہو )احبارا – (4-1:1

توریت کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہر قسم کا جانور قربانی کے طور پرستش نہیں کیا جاسکتا تھا، بلکہ اس کے لئے مضوص شرائط تھیں- اور جو جانور اُن شرائط پر پُورا نہ اُترتا اور کوئی اُسے قربانی کے طور پر چڑھاتا تو یہ ایک مزہبی جرم تھا- توریت مُقدّس میں لکھا ہے:

اور خداوند نے موسٰی سے کہا ہارون اور اُس کے بیٹوں اور سب بنی اسرائیل سے کہہ کہ اسرائیل کے گھرانے کا یا اُن پردیسیوں میں سے جو اسرائیلیوں کے درمیان رہتے ہیں جو کوئی شخص اپنی قربانی لائے خواہ وہ کوئی منّت کی قربانی ہویا رضا کی قربانی جسے وہ سوختنی قربانی کے طور پر خداوند کے حضور گزرانا کرتے ہیں تو اپنے مقبول ہونے کے لئے بیلوں یا بّروں یا بکروں میں سے بے عیب نَر چڑھانا- اور جس میں عیب ہو اُسے نہ چڑھانا کیونکہ وہ تمہاری طرف سے مقبول نہ ہوگا- اور جو کوئی اپنی منت پوری کرنے کے لئے یا رضا کی قربانی کے طور پر گائے بیل یا بھیڑ بکری میں سے سلامتی کا ذبیہ خداوند کے حضور گزرانے تو وہ جانور مقبول ٹھہرنے کے لئے بے عیب ہو- اُس میں کوئی نقص نہ ہو- جو اندھایا شکستہ عضویا لُولا ہویا جس کے رسولی یا کھُجلی یا پپڑیاں ہوں، ایسوں کو خداوند کے حضُورنہ چڑھانا اورنہ مزبح پر اُن کی آتشین قربانی خداوند کے حضور گزراننا- جس بچھڑے یا بّرے کا کوئی عضور زیادہ یا کم ہو اُسے تو رضا کی قربانی کے طور پر گزران سکتا ہے پر منّت پوری کرنے کے لئے وہ مقبُول نہ ہوگا- جس جانور کے خُصئے کچلے ہوئے یا چُور کئے ہوئے یا ٹوٹے یا کٹے ہوئے ہوں اُسے تم خداوند کے حضور نہ چڑھانا اور نہ اپنے ملک میں ایسا کام کرنا- اور نہ اِن میں سے کسی کو لیکر تم اپنے خدا کی غذا پردیسی یا اجنبی کے ہاتھ سے چڑھوانا کیونکہ ان کا بگاڑ اُن میں موجود ہوتا ہے- اُن میں عیب ہے- سووہ تمہاری طرف سے مقبول نہ ہوگا )احبار – (25-17 :22

اِن آیات سے ظاہر ہے کہ قربانی کے جانور کو ہر عیب، ہر نقص سے پاک ہونا ضرور تھا، ورنہ وہ مقبول نہیں ہوسکتی تھی- بعینہ جب خدا نے انسان کے گناہوں کا کفّارہ دیا تو ایک بے عیب اور بے گناہ ہستی کو چُنا- اُس ہستی کا نام یسوع مسیح ہے- لہزا اُس بے گناہ ہستی اور خدا کے بّرہ نے جس میں گناہ کا شائبہ تک نہیں ہم گنہگاروں کی خاطر قربانی دی-

Posted in: مسیحی تعلیمات, خُدا, بائبل مُقدس, یسوع ألمسیح, نجات | Tags: | Comments (0) | View Count: (12118)

Post a Comment

English Blog