en-USur-PK
  |  
25

حضرت مسیح۔ اُن کی زندگی اورتعلیمات

posted on
حضرت مسیح۔ اُن کی زندگی اورتعلیمات

Jesus Christ-His Teaching & Life

حضرت مسیح۔ اُن کی زندگی اورتعلیمات

(از قلم پروفیسر پریتم  سنگھ صاحب ایم۔ اے لاہور)

                        حضرت مسیح کی شخصیت ایک نہایت ہی برگزیدہ شخصیت ہے۔ اُن کو انجیل مقدس میں خداکا بیٹا ۔ اورابن آدم کہا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی اصطلاح ہے ۔ جو اس وقت مستعمل تھی ۔ بہآئی اصطلاح میں ان برگزیدہ ہستیوں کی مظاہر الہٰی یہ مظاہر الہٰی اُس شمس حقیقت کے مختلف آئینے ہوا کرتے ہیں۔ اورمامور من اللہ یا مبعوث ہوا کرتے ہیں۔ اور خدا اُن سے میثاق لیا کرتاہے۔ چنانچہ یوحنا کی انجیل میں خود حضرت مسیح فرماتاہے:

                        " میں اپنے آپ سے کچھ نہیں کرسکتا۔ جیسا سنتا ہوں عدالت کرتاہوں اورمیری عدالت بھی ہے۔ کیونکہ میں اپنی مرضی نہیں ۔ بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہوں۔ جو کام باپ نے مجھے پورے کرنے کو دئیے ۔ یعنی یہ ہی کام جومیں کرتاہوں وہ میرے گواہ ہیں۔ کہ باپ نے مجھے بھیجا ہے اُس نے میری گواہی دے ہے۔تم نے نہ کبھی اُس کی آواز سنی ہے۔ اورنہ اُس کی صورت دیکھی ہے۔ کیونکہ اگرتم موسیٰ کا یقین کرتے تومیرا بھی یقین کرتے "۔

                        اسی بات کی تائید قرآن کریم بھی کرتاہے:

                        " کہہ دو کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اوراُس حکم پر جوبھیجا گیا۔ اوراُس پر بھی جوکچھ اورانبیاء کو دیا گیا۔اُن کے پروردگار کی طرف سے۔ اس کیفیت سے کہ ہم اُن میں سے کسی ایک بھی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مطیع ہیں"۔

                        حضرت عبد اللہ مفاوضات میں فرماتے ہیں:

                        " حضرت مسیح نے خارق العادت قوت سے پُرانی شریعتِ موسوی کو منسوخ کیا اورتمام دنیا کی اصطلاح کا بیڑا اٹھایا۔ بنی اسرائیل کے لئے ایک دفعہ پھر عزت ابدی کی بنیاد ڈالی۔اورایسی تعلیمات پھیلائیں جوصرف بنی اسرائیل کے لئے ہی بفرض نہ تھیں۔ بلکہ تمام بنی نوع انسان کے لئے بہبودی کی بنیاد تھیں۔ حضرت مسیح بنی نوع انسانی کا حقیقی مربی تھا اورخدا ئی قوت سے موید اورمعرفق تھا۔ چنانچہ اہل بہاکسی بھی پیغمبر کو آخری پیغمبر یاکسی بھی پیغمبر کو ایک مکمل پیغام کا حامل نہیں مانتے۔ بلکہ وہ گیتا کے اس شلوک سے اتفاق رکھتے ہیں۔جہاں سری کرشن فرماتے ہیں" اے بھارت جب کبھی دھرم ،،،،،،، اورادھرم ترقی کرتاہے ۔ میں خود جنم لیتاہوں یعنی اوتار دھارن کرتاہوں۔ نیکوں کی حفاظت اور بدوں کی بیخ کنی کے لئے۔ نیز دھرم کودوبارہ قائم کرنے کے لئے میں ہرزمانے میں ظہور کرتا رہتاہوں" چنانچہ انجیل میں بھی لکھا ہے " مجھے تم سے اوربھی باتیں کہنی ہیں۔ مگراب تم اُن کو برداشت  نہیں کرسکتے۔ لیکن جب وہ  یعنی سچائی کی روح آئیگا۔ توتم کوتمام سچائی کی راہ بتائيگا۔ اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہیگا۔ لیکن جوکچھ سنیگا وہی کہیگا اورتمہیں آئندہ کی خبریں دیگا"(یوحنا ۱۶باب کی ۱۲، ۱۳)۔ پھر فرمایا ہے " یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یانبیوں کی کتابوں کومنسوخ کرنے آیاہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیاہوں"۔ اوراسی سلسلے  میں فرمایا ہے کہ" تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا۔ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔ لیکن میں تم سے یہ کہتاہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا"۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اہل بہا حضرت مسیح کو انبیائے کرام میں سے ایک مستقل پیغمبر یا نبی صاحب کتاب اورشریعت اورمالک عصمب کبرا سمجھتے ہیں۔ اوراُس کے کلام کوکلامِ الہٰی خیال کرتے ہیں۔ یہ تورہا مقام۔ اب مختصر طور پر حضرت مسیح کی زندگی کے حالات اوران کی تعلیمات پیش کی جاتی ہیں۔

                        آپ بیت لحم میں پیدا ہوئے۔ یہ گاؤں شہر یروشلیم دارالحکومت فلسطین سے ۷میل کے فاصلے پر ہے۔آپ کی پیدائش کے دن سے ہی عیسوی سنہ کا آغاز ہوتاہے۔ آپ کی والدہ کا نام مریم اوروالد کا نام یوسف تھا۔ جوبڑھئی کا کام کرتا تھا۔ پیدا ہونے کے وقت آپ کی والدہ سرائے کے باہرٹھہری ہوئی تھی۔ اورکمرہ خالی نہ ہونے کی وجہ سے اصطبل میں جنم ہوا۔ اس وقت فلسطین  میں روماوالوں کی حکومت تھی اور بادشاہ کا نام ہیرودیس تھا۔ اُس وقت عام روایت تھی کہ یہودیوں کے بادشاہ کا جنم ہوگا۔ اورلکھا تھاکہ آسمان میں ایک ستارہ دکھائی دیگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اورہیرودیس نے حکم دیاکہ بیت الحم میں خاص دنو ں میں جو بچے پیداہوں۔ اُن کوماردیا جائے۔ جنابِ مسیح کے والدے نے ایک خواب دیکھا جس میں اُسے کہا گیا۔ کہ بچے اوراُس کی ماں کو فوراً مصر میں لے جاؤ ۔ چنانچہ مسیح بچپن میں مصر میں پرورش پاتا رہا۔ اورہیرودیس کی وفات کے بعد وہ اپنے والدین کے ساتھ مصر سے واپس آیا اورشمالی فلسطین میں ناصرت میں رہتا رہا۔ اوربارہ برس کی عمر میں یروشلیم میں آکر رہنے لگ گیا۔ وہاں  ۱۲سال کی عمر سے لے کر ۳۰ سال کی عمر تک کے حالات نہیں ملتے۔ اُن ہی ایام میں یوحنا کو ایلیاہ بھی کہتے ہیں۔ خدا کی بادشاہت کی نزدیکی کی خبردیتا تھا۔ لکھا ہے کہ وہ اونٹ  کے بالوں کا لباس پہنے اورچمڑے کا پٹکا اپنی کمر سے باندھے اورٹڈیاں اورجنگلی شہد کھاتا تھا۔ اوریہ مناید کرتا تھا کہ توبہ کرو۔ کیونکہ خدا کی بادشاہت نزدیک ہے۔ اورلوگوں کویردن  کے پانی سے بپتسمہ دیتا تھا۔ مگرساتھ ہی یہ بھی کہتا تھا کہ میرے بعد ایک شخص آنے والا ہے جوتمہیں روح القدس سے بپتسمہ دیگا۔ مگر یہودیوں نے وہی غلطی کی جس کے متعلق  انجیل میں لکھا ہے۔

                        " اے ریاکارو تم پر افسوس ہے کہ نبیوں کی قبریں بناتے اور راستبازوں کے مقبرے آراستہ کرتے ہو۔ اورکہتے ہو کہ اگر تم اپنے باپ دادوں کے زمانے میں ہوتے تونبیوں کے خون میں اُن کے شریک نہ  ہوتے۔ اس لئے دیکھو میں نبیوں کو تمہارے پاس بھیجتاہوں ۔ اُن میں سے بعض کو قتل کروگے اور صلیب پر چڑھا ؤ گے۔ اوربعض کو اپنے عبادت خانوں میں کوڑے ماروگے اورشہر بشہر ستاتے پھروگے"۔

                        چنانچہ ویسا ہی ہوا۔ اورقرآن کریم میں بھی لکھاہے" افسوس ہے لوگوں کے حال پر کہ نہیں آتا رسولوں میں سے کوئی رسول اُن کے پاس جس پر وہ ہنسی ٹھٹھا اورقبول نہیں کرتے"۔ مگرباوجود ان سختیوں کے حضرت مسیح کامیاب رہا۔ اورلوگوں سے کہتا رہا۔ کہ تم جوتھکے ماندے ہو۔ اوربوجھ سے دبے ہوئے ہو ۔ میرے پیچھے آؤ اور میں تم کو آرام دونگا" خیال فرمائیے کہ معمولی ماہی گیر اور ٹیکس لینے والے اپنے جالوں اورکاموں کو چھوڑ کر اُ سکے پیچھے ہولیتے ہیں۔ اورآج روئے زمین کے بادشاہ اُن حوارئین کے متبرک ناموں کے سامنے سربسجود ہوتے ہیں۔ لکھاہے کہ حضرت مسیح اندھوں کو بینائی دیتے ۔ اپاہجوں کو تندرست کرتے ۔ بیماروں کو صحت بخشتے اورمُردوں کوزندہ کرتے تھے۔ یہ معجزے جسمانی معنوں میں نہیں بلکہ اہل بہا کا عقیدہ ہے۔ کہ روحانی کاموں میں بالکل درست اوربجا ہیں۔

                        معلوم رہے کہ حضرت مسیح تمثیلوں کے ذریعے تعلیم دیتے تھے اورجب حوارئین کی سمجھ میں کوئی بات نہ آئی توتمثیل کوواضح کرتے تھے۔

                        چنانچہ بیج بونے والے کی تمثیل بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح نے کہا:

                        اور آپ نے ان سے بہت سی باتیں  تمثیلوں میں فرمائیں کہ دیکھو ایک بونے والا بیج بونے نکلا ۔ اوربوتے وقت  کچھ دانے راہ کے کنارے گرے اور پرندوں نے آکر انہیں  چگ لیا۔اور کچھ پتھریلی  زمین پر گرے جہاں ان کو بہت مٹی نہ ملی اور گہری مٹی نہ ملنے کے سبب سے جلد اگ آئے۔ اور جب سورج نکلا تو جل گئے اور جڑنہ ہونے کےسبب سےسوکھ گئے۔اورکچھ جھاڑیوں میں گرے اور جھاڑیوں نے بڑھ کر ان کو دبالیا۔اورکچھ  اچھی زمین میں گرے اورپھل لائے ۔ کچھ سوگناہ ساٹھ گنا کچھ تیس گنا۔ جس کے کان ہوں وہ سن لے۔

                        صحابہ کرام نے پاس آکر آپ سے کہا آپ ان سے تمثیلوں میں کیوں باتیں کرتے ہیں؟ آپ نےارشاد فرمایا اس لئے کہ تم کو آسمان کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے مگر ان کونہیں دی گئی ۔  کیونکہ جس کے پاس ہے اسے دیا جائے گا اور اس کے پاس زیادہ ہوجائے گا اور جس کے پاس نہیں ہے  اس سے وہ بھی لے لیا جائے گا جس کا اسے گمان ہے کہ  اس کے پاس ہے۔ میں ان سے تمثیلوں میں اس لئے باتیں کرتاہوں کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سنتے ہوئے نہیں سنتے اور نہیں سمجھتے ۔ اور ان کے حق میں یسعیاہ نبی کی پیشین گوئی پوری ہوتی ہے کہ

تم کانوں سے سنوگے پر ہرگز نہ سمجھوگے اورآنکھوں سے دیکھوگے پر ہرگز معلوم نہ کرو گے ۔کیونکہ اس امت کے دل پر چربی چھاگئی ہے اور وہ کانوں سے اونچا سنتے ہیں ۔اور انہوں نے  اپنی آنکھیں  بند کرلی ہیں  تا ایسا نہ ہو کہ آنکھوں سے معلوم کریں۔ اور کانوں سے سنیں اور دل سےسمجھیں  اور رجوع لائیں اور میں ان کو شفا بخشوں۔لیکن مبارک ہیں تمہاری آنکھیں  اس لئے کہ وہ دیکھتی ہیں اور تمہارے کان اس لئے کہ وہ سنتے ہیں۔

کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بہت سے نبیوں اور دیانتداروں کو آرزو تھی کہ جو کچھ تم دیکھتے وہ دیکھیں مگر نہ دیکھا اور جو باتیں تم سنتے ہوسنیں مگر نہ سنیں۔

    پس بونے والے کی تمثیل سنو۔جب کوئی بادشاہی  کا کلام سنتاہے اور سمجھتا ہے تو جو اس کے دل میں بویا گیا تھا اسے وہ شریر آکر چھین لے جاتا ہے۔ یہ وہے جو راہ کے کنارے بویا گیا تھا۔ اور جو پتھریلی زمین میں بویا گیا یہ وہ ہے جوکلام کو سنتاہے اسے فی الفور خوشی سے قبول کرلیتاہے ۔ لیکن اپنے اندر  جڑ نہیں رکھتا بلکہ  چند روزہ ہے اورجب کلام کے سبب سے مصیبت یا ظلم برپا ہوتاہے  تو فی الفور ٹھوکر  کھاتا ہے ۔اور جو جھاڑیوں  میں بویا گیا  یہ وہ ہے جو کلام کو سنتا ہے  اور دنیا کی فکر اور دولت کا فریب اس کلام کودبا دیتا ہے اوروہ بےپھل رہ جاتا ہے۔اور جواچھی زمین  میں بویا گیا یہ وہ ہے جو کلام کو سنتا ہے اور سمجھتاہے اور پھل بھی لاتاہے ، کوئی سو گنا پھلتاہے کوئی ساٹھ گنا کوئی تیس گنا۔

                        اُن کی تعلیمات نہایت ہی معقول اورہر طرح سے نیکی کی زندگی کی تلقین کرتی ہیں۔ پہاڑی وعظ میں جونہایت ہی مشہور ہے فرمایاہے:

                        "مبارک ہوجوتم غریب ہو۔ کیونکہ خدا کی بادشاہت تمہاری ہے"۔

                        "مبارک ہوجوتم بھوکے ہو۔ کیونکہ آسودہ ہوگے"۔

                        "مبارک ہوتم جو اب روتے ہو ۔کیونکہ ہنسو گے۔

                        "مبارک ہیں وہ غمگین ہیں کیونکہ وہ تسلی پائینگے"

                        " مبارک ہیں وہ جو رحمدل ہیں کیونکہ اُن پر رحم کیا جآئیگا۔

                        " مبارک ہیں وہ جوپاک دل ہیں کیونکہ وہ خدا کودیکھیں گے"۔

                        اس قدر انکساری اورایثار اورقربانی کی تعلیم کیوں نہ پھل لاتی۔ آج یورپ امریکہ اورآسٹریلیا کی مسیحی قومیں کیوں نہ ایسے بڑے مربی عالم پرنازاں ہوں۔ اورعید نہ منائيں۔ یہ دن صرف اُن کے لئے ہی خوشی اورمبارک دن نہیں ہے ۔ بلکہ اُن کو جومسیحیت کے دائرے سے باہر ہیں۔ چاہیے کہ اُس خوشخبری میں شریک ہوں۔ کیونکہ مظاہر الہٰی اُس سورج کی طرح ہیں جوسب پریکساں چمکتاہے۔حضرت عیسیٰ صرف عیسايئوں کی ملکیت نہیں۔ وہ ساری دنیا کے نجات دہندہ ہیں اوراُن کا پیغام سب اہل عالم کے لئے ہے۔ 
Posted in: مسیحی تعلیمات, یسوع ألمسیح | Tags: | Comments (0) | View Count: (8989)

Post a Comment

English Blog